پرندوں اور پھولوں سے ایک سبق
آجکل لوگوں کو اکثر کسی بھی چیز سے زیادہ کس کی فکر ہوتی ہے؟ اکثریت کیلئے، یہ اپنے خاندان کی کفالت کیلئے کافی کچھ پاس ہونے یا پھر اپنے معیارِزندگی کو بہتر بنانے کے قابل ہونا ہے۔
جب یسوؔع مسیح زمین پر تھا اُس وقت بھی گزربسر کرنے کے قابل ہونا سب سے اہم فکر تھی۔ لیکن اُس نے آگاہ کِیا کہ روحانی چیزوں کو پسِپُشت ڈالتے ہوئے یہ جائز فکرمندی ایک مغلوب کرنے والی پریشانی بن سکتی ہے۔ اپنے نقطۂنظر کو سمجھانے کیلئے، یسوؔع نے اپنے شاگردوں کو پرندوں اور پھولوں کا قریبی جائزہ لینے کا حکم دیا۔
پرندوں کو اپنی انتہائی میٹابولک (جاندار خلیوں میں کیمیائی تبدیلیاں) شرح کی وجہ سے ہر روز ہم سے نسبتاً زیادہ—کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہازیں، وہ نہ تو بیج بو سکتے، نہ کاٹ سکتے یا مستقبل کیلئے خوراک جمع کر سکتے ہیں۔ اسکے باوجود، جیسےکہ یسوؔع نے بیان کِیا، ہمارا ”آسمانی باپ اُن کو کھلاتا ہے۔“ (متی ۶:۲۶) اسی طرح خدا، ”جنگلی سوسن کے درختوں کو“ شاندار پوشاک سے مُلبّس کرتا ہے۔—متی ۶:۲۸-۳۰۔
یسوؔع ہمیں یقیندہانی کراتا ہے کہ اگر ہم مادی ضروریات کو مناسب جگہ پر رکھتے اور روحانی چیزوں کو پہلا درجہ دیتے ہیں تو خدا اس بات کا خیال رکھیگا کہ ہمیں ضروری خوراک اور لباس بھی دستیاب ہو۔ اگر یہوؔواہ خدا پرندوں اور پھولوں کی پرواہ کرتا ہے تو وہ یقیناً اُن کی بھی فکر کریگا جو اُس سے محبت کرتے اور ’پہلے اُسکی بادشاہی اور اُسکی راستبازی کی تلاش کرتے ہیں۔‘ (متی ۶:۳۳) کیا آپ خدا کے بادشاہتی مفادات کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دے رہے ہیں؟ (۳۲ ۹/۱۵ w۹۵)