یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏3 ص.‏ 4-‏7
  • حقیقی زندگی کو عزیز رکھیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • حقیقی زندگی کو عزیز رکھیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏حقیقی زندگی“‏ کا راستہ
  • اپنی موجودہ زندگی کو عزیز رکھنے کی ضرورت
  • خون کی بابت نہایت ہی اہم شرع
  • حقیقی زندگی کو عزیز رکھنا
  • زندگی کے بارے میں خدا کا نظریہ اپنائیں
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • زندگی کی نعمت کی قدر کریں
    پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
  • زندگی کو قیمتی خیال کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • خدا کی طرح زندگی کو بیش‌قیمت خیال کریں
    ہم خدا کی محبت میں کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟‏
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏3 ص.‏ 4-‏7

حقیقی زندگی کو عزیز رکھیں

کیا یہی زندگی سب کچھ ہے؟ ہمیں یہ حوصلہ‌افزائی دینے سے کہ ”‏حقیقی زندگی پر قبضہ کریں،“‏ بائبل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ اس سے کہیں زیادہ کچھ ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۷-‏۱۹‏)‏ اگر ہماری موجودہ زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟‏

مذکورہ‌بالا صحیفے کا سیاق‌وسباق ظاہر کرتا ہے کہ یہ ”‏ہمیشہ کی زندگی“‏ ہے جس پر ایک خداترس شخص کو قبضہ کرنا چاہئے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۲‏)‏ بڑی اکثریت کے لئے، اسکا مطلب زمین پر ہمیشہ کی زندگی ہے۔ پہلے انسان، آؔدم، کے پاس فردوسی زمین پر ہمیشہ زندہ رہنے کا امکان تھا۔ (‏پیدایش ۱:‏۲۶، ۲۷‏)‏ وہ صرف اسی صورت میں مریگا اگر وہ ”‏نیک‌وبد کی پہچان کے درخت“‏ میں سے کھائیگا۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۷‏)‏ لیکن آؔدم اور اسکی بیوی، حوؔا، کے نافرمانی سے اس درخت میں سے کھانے کی وجہ سے، خدا نے موت کی سزا سنائی۔ ’‏جس دن انہوں نے اس میں سے کھایا،‘‏ وہ خدا کی نظر میں مر گئے اور طبعی موت میں ان کا زوال شروع ہو گیا۔ انکی زندگی اب اس قسم کی نہ رہی تھی جس سے وہ شروع میں لطف‌اندوز ہو چکے تھے۔‏

‏”‏حقیقی زندگی“‏ کا راستہ

‏”‏حقیقی زندگی“‏ کو ممکن بنانے کی غرض سے، یہوؔواہ خدا نے نسلِ‌انسانی کو بچانے کیلئے ایک انتظام کِیا۔ اس انتظام کو سمجھنے میں مدد کیلئے، آئیے ہم ایک چھوٹے سے کارخانے کا تصور کریں۔ اس میں سب مشینیں خراب ہیں اور کاریگروں کیلئے مشکل پیدا کرتی ہیں کیونکہ پہلے کام کرنے والے نے سالوں پہلے کاریگر کی ہدایات کی امدادی کتاب کو نظرانداز کِیا تھا اور سب مشینیں خراب کر دی تھیں۔ موجودہ کاریگر جو کچھ انکے پاس ہے صرف اسی کیساتھ کام کرنے کی بھرپور کوشش کر سکتے ہیں۔ کارخانے کا مالک اپنے کارکنوں کی اعانت کے لئے مشینوں کی مرمت کرانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے ضروری فنڈز جمع کر رہا ہے۔‏

‏’‏مشین کے پہلے کاریگر‘‏ آؔدم نے اس زندگی کو عزیز نہ رکھا جو اسے عطا کی گئی تھی۔ لہٰذا، ایک خراب مشین کی طرح، اس نے اپنی اولاد میں ناکامل زندگی منتقل کی۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ کارخانے میں بعد میں کام کرنے والوں کی طرح، جو حالت کو بہتر نہ کر سکے، آؔدم کی اولاد بھی اپنے لئے حقیقی زندگی حاصل کرنے سے قاصر رہی۔ (‏زبور ۴۹:‏۷‏)‏ بظاہر اس نااُمید حالت کو درست کرنے کیلئے، یہوؔواہ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر بھیجا تاکہ نسلِ‌انسانی کیلئے ہمیشہ کی زندگی کو دوبارہ خریدے۔ (‏لوقا ۱:‏۳۵؛‏ ۱-‏پطرس ۱:‏۱۸، ۱۹‏)‏ نوعِ‌انسانی کی خاطر قربانی کی موت مرنے سے، خدا کے اکلوتے بیٹے، یسوؔع مسیح نے، فنڈز فراہم کئے—‏زندگی جو کہ اسکے برابر تھی جسے آؔدم نے کھو دیا تھا۔ (‏متی ۲۰:‏۲۸؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۲۲‏)‏ اس قیمتی قربانی کی بدولت، اب یہوؔواہ کے پاس حقیقی زندگی فراہم کرنے کی بنیاد ہے۔‏

فرمانبردار نوعِ‌انسان کے لئے، یسوؔع کی قربانی کا مطلب فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی ہوگا۔ (‏زبور ۳۷:‏۲۹‏)‏ یہ اُمید اُن تمام لوگوں کو پیش کی جاتی ہے جو ”‏قادرِمطلق خدا کی روزِ عظیم کی لڑائی“‏ سے بچ جاتے ہیں جس کا حوالہ بطور ہرمجدون دیا گیا ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۶:‏۱۴-‏۱۶‏)‏ یہ زمین پر سے تمام شرارت کو مٹا ڈالے گی۔ (‏زبور ۳۷:‏۹-‏۱۱‏)‏ وہ جو خدا کی یاد میں ہیں جو کہ اس وقت سے پہلے مر جاتے ہیں زمین پر بحال‌شُدہ فردوس میں زندہ کئے جائینگے اور انکے پاس اس حقیقی زندگی سے لطف‌اندوز ہونے کا امکان ہوگا جو کہ ان تمام کے لئے دستیاب ہوگی جو خدا کے تابع ہیں۔—‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

اپنی موجودہ زندگی کو عزیز رکھنے کی ضرورت

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم موزوں طور پر اپنی موجودہ زندگی کے تقدس کے لئے بے‌حرمتی ظاہر کر سکتے ہیں۔ کیا کارخانے کا مالک ایک ایسے کارکن کی خاطر مشین کی مرمت کرنے کے لئے وقت اور پیسہ خرچ کریگا جو اسکی حفاظت نہیں کرتا؟ اسکی بجائے، کیا آجر مرمت‌شُدہ مشین کسی ایسے شخص کے سپرد نہ کریگا جس نے پرانی مشین کو چلانے میں اپنی بھرپور کوشش کی تھی؟‏

زندگی یہوؔواہ کی طرف سے ایک گراں‌بہا بخشش ہے۔ اس بخشش کے فیض‌رساں ماخذ کے طور پر، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی قدر کریں۔ (‏زبور ۳۶:‏۹؛‏ یعقوب ۱:‏۱۷‏)‏ زمین پر لوگوں کی بابت یہوؔواہ کی فکرمندی کا ذکر کرتے ہوئے، یسوؔع نے کہا:‏ ”‏بلکہ تمہارے سر کے سب بال بھی گنے ہوئے ہیں۔“‏ (‏لوقا ۱۲:‏۷‏)‏ یہوؔواہ نے اسرائیلیوں کو حکم دیا کہ قتل نہ کریں، جس میں لازماً خود کو قتل نہ کرنا بھی شامل تھا۔ (‏خروج ۲۰:‏۱۳)‏ یہ بات ہمیں خودکُشی کو ایک انتخاب خیال کرنے سے گریز کرنے میں مدد دیتی ہے۔‏

اپنی فلاح‌وبہبود میں یہوؔواہ کی مشفقانہ دلچسپی کی بابت جانتے ہوئے، خداترس لوگ موجودہ کاموں میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سچے مسیحیوں سے ’‏اپنے آپ کو ہر طرح کی جسمانی اور روحانی آلودگی سے پاک کرنے اور خدا کے خوف کیساتھ پاکیزگی کو کمال تک پہنچانے‘‏ کا تقاضا کِیا جاتا ہے، اسلئے وہ تمباکونوشی اور ذہن کو تبدیل کرنے والی نشہ‌آور ادویات سے گریز کرتے ہیں۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱‏۔‏

انسانی زندگی میں خدا کی دلچسپی ”‏مطمئن دل“‏ قائم رکھنے کی اسکی مشورت سے مزید دکھائی دیتی ہے۔ (‏امثال ۱۴:‏۳۰؛‏ گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ ان اعلیٰ معیاروں کی پابندی کرنے سے، ہم صحت کے لئے مُضر غصے اور جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں جیسی چیزوں سے محفوظ رہتے ہیں۔‏

اپنے لوگوں کی زندگیوں کے لئے یہوؔواہ کی فکرمندی بسیار خوری اور بِلانوشی سے باز رہنے کی اسکی نصیحت سے واضح ہے۔ (‏استثنا ۲۱:‏۱۸-‏۲۱؛‏ امثال ۲۳:‏۲۰، ۲۱‏)‏ مسیحیوں کو متنبہ کِیا گیا ہے کہ لالچی اور شرابی اشخاص خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہونگے، یعنی وہ کبھی بھی حقیقی زندگی کا تجربہ نہیں کرینگے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹، ۱۰؛‏ ۱-‏پطرس ۴:‏۳‏)‏ اعتدال‌پسندی کی حوصلہ‌افزائی کرنے سے یہوؔواہ ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ خود کو فائدہ پہنچائیں۔—‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷‏۔‏

جب ہم خدا کے معیاروں پر قائم رہتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اپنی موجودہ زندگی کو عزیز رکھتے ہیں۔ یقیناً، حقیقی زندگی تو اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ چونکہ یہ ابدی ہے، اسلئے سچے مسیحی اسے اپنی موجودہ زندگی سے کہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جب یسوؔع مسیح نے اپنی زندگی قربان کی تو اس نے خود کو یہوؔواہ کی مرضی کے تابع کر دیا۔ اس کے لئے اپنے باپ کی فرمانبرداری کا مطلب زمین پر اسکی زندگی سے کہیں زیادہ کچھ شامل تھا۔ یسوؔع کی روش اسکے جی اٹھنے اور آسمان میں اسکے غیرفانی زندگی حاصل کرنے پر منتج ہوئی۔ (‏رومیوں ۶:‏۹‏)‏ اسکی موت فرمانبردار نوعِ‌انسانی کے لئے بھی ہمیشہ کی زندگی کا مطلب رکھتی ہے جو اسکے فدیے کی قربانی پر ایمان رکھتے ہیں۔—‏عبرانیوں ۵:‏۸، ۹؛‏ ۱۲:‏۲‏۔‏

خون کی بابت نہایت ہی اہم شرع

قابلِ‌فہم طور پر، یسوؔع کے پیروکار اسکی سوچ کو منعکس کرتے ہیں۔ جیسے کہ یسوؔع نے بھی کیا، وہ تمام معاملات میں خدا کو خوش کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ایک وجہ جو یہ واضح کرتی ہے کہ کیوں وہ انتقالِ‌خون سے انکار کرتے ہیں، جِسے بعض ڈاکٹر زندگی بچانے والا کہتے ہیں۔ آئیے ہم دیکھیں کہ کیسے ایک شخص انتقالِ‌خون سے انکار کرنے سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حقیقی زندگی کو عزیز رکھتا ہے۔‏

یسوؔع مسیح کی طرح، سچے مسیحی خدا کی نظروں میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اور یہ اسکی مکمل فرمانبرداری کا تقاضا کرتا ہے۔ خدا کا کلام مسیح کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے:‏ ”‏بتوں کی قربانیوں کے گوشت سے اور لہو اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور حرامکاری سے پرہیز کرو۔“‏ (‏اعمال ۱۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ مسیحیوں پر پابندی عائد کرنے والے احکام کے اندر خون کی بابت یہ شرع کیوں شامل تھی؟‏

اسرائیلیوں کو دی گئی شریعت خون سے پرہیز کا تقاضا کرتی تھی۔ (‏احبار ۱۷:‏۱۳، ۱۴)‏ مسیحی موسوی شریعت کے تحت نہیں۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ خون نہ کھانے کی بابت حکم شریعت سے پہلے کا تھا؛ یہ بہت پہلے سیلاب کے بعد نوؔح کو دیا گیا تھا۔ (‏پیدایش ۹:‏۳، ۴؛‏ کلسیوں ۲:‏۱۳، ۱۴‏)‏ یہ حکم نوؔح کی تمام اولاد پر عائد ہوتا تھا، جس کی نسل سے زمین کی تمام قومیں ہیں۔ (‏پیدایش ۱۰:‏۳۲‏)‏ مزیدبرآں، موسوی شریعت ہمیں خون کے تقدس کی بابت خدا کی تاکید کی وجہ جاننے میں مدد دیتی ہے۔ اسرائیلیوں کو ہر قسم کا خون کھانے سے منع کرنے کے بعد، خدا نے کہا:‏ ”‏جسم کی جان خون میں ہے اور میں نے مذبح پر تمہاری جانوں کے کفارہ کیلئے اُسے تم کو دیا ہے کہ اس سے تمہاری جانوں کے لئے کفارہ ہو کیونکہ جان رکھنے ہی کے سبب سے خون کفارہ دیتا ہے۔“‏ (‏احبار ۱۷:‏۱۱)‏ خون کو خدا کی طرف سے مذبح پر قربانی کے استعمال کے لئے مخصوص کِیا گیا تھا۔ خون کے تقدس کی بابت اسکی شرع زمین پر تمام زندگی پر اسکے اختیار کو آشکارا کرتی ہے۔ (‏حزقی‌ایل ۱۸:‏۴؛‏ مکاشفہ ۴:‏۱۱‏)‏ اپنی زندگی کو یہوؔواہ کے نقطۂ‌نظر سے دیکھنے سے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ہماری ملکیت نہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے ہمیں عطا کی گئی ہے۔‏

جیسے کہ ہماری تمثیل میں کاریگر مشین کے لئے ذمہ‌دار تھا ہمیں ہماری موجودہ زندگی سونپی گئی ہے۔ اگر آپکی مشین کو مرمت کی ضرورت ہوتی اور میکینک ایسے پُرزے استعمال کرنے سے مرمت کرنے کا مشورہ دیتا جو بالخصوص امدادی کتاب میں منع کئے گئے تھے تو آپ کیا کرینگے؟ کیا آپ دوسرے میکنیکوں سے مشورہ نہیں کرینگے تاکہ معلوم کر سکیں کہ آیا مشین امدادی کتاب کی ہدایات کے مطابق ٹھیک ہو سکتی ہے؟ انسانی زندگی ایک مشین سے کہیں زیادہ اہم اور پیچیدہ ہے۔ اپنی الہامی کتاب، انسانوں کو زندہ رکھنے والی امدادی کتاب میں، ہمارا صانع زندگی بچانے کے لئے خون کے استعمال سے منع کرتا ہے۔ (‏استثنا ۳۲:‏۴۶، ۴۷؛‏ فلپیوں ۲:‏۱۶‏)‏ کیا اس امدادی کتاب کے تقاضوں کی پیروی کرنا معقول نہیں ہے؟‏

مسیحی مریض جو اپنے معاملے میں خون کے بغیر علاج کی درخواست کرتے ہیں، درحقیقت وہ ہر طبّی طریقۂ‌علاج کو مسترد نہیں کر رہے ہیں۔ وہ تو صرف ایسے طریقۂ‌علاج کی درخواست کر رہے ہیں جو انکی موجودہ اور آئندہ—‏دونوں طرح کی زندگی کیلئے احترام ظاہر کرتا ہو۔ ڈاکٹر جو جرأتمندانہ طور پر مسیحیوں کے اختیارکردہ مؤقف کا احترام کرتے ہیں وہ انکی درخواست کے مطابق اُن کا علاج کرنے کے فوائد کی شہادت پیش کرتے ہیں۔ ایک سرجن جو خون کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا کرتا تھا کہتا ہے، ”‏یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ ملاقات نے اقدار کے ایک نئے سلسلے کی جانب میری راہنمائی کی ہے۔“‏ اب وہ ان کا علاج بھی خون کے بغیر کرنے کی کوشش کرتا ہے جو گواہ نہیں ہیں۔‏

حقیقی زندگی کو عزیز رکھنا

نئی اقدار کا وہ سلسلہ کیا تھا جو یہوؔواہ کے گواہوں کا علاج کرنے سے اس سرجن کو حاصل ہوا؟ اب وہ سمجھتا ہے کہ مریض کا علاج کرنے میں صرف اسکے جسم کا بیماری سے متاثرہ حصہ ہی نہیں بلکہ پورا شخص شامل ہوتا ہے۔ کیا ایک مریض کو اپنی جسمانی، روحانی اور جذباتی نگہداشت کے لئے درخواست کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے؟‏

۱۵ سالہ کومیکوؔ کے لئے، انتقالِ‌خون ہی اسکے جان‌لیوا لوکیمیا کے علاج کے لئے بدترین ممکن انتخاب تھا۔ اس ذریعے سے چند ہفتوں، مہینوں، یا سالوں تک بھی اپنی زندگی کو بڑھانے کی کوشش کرنا کسی بھی طرح سے اس آنے والے نقصان کے برابر نہیں تھا جو اسے بعد میں اُٹھانا پڑیگا۔ اپنی موجودہ زندگی کو یہوؔواہ خدا کے لئے اُسکے گواہوں میں سے ایک کے طور پر، مخصوص کرنے کے بعد، وہ زندگی اور خون کے تقدس کا احترام کرتی تھی۔ اگرچہ اسکے والد اور دیگر رشتہ‌داروں نے اسکے مؤقف کی سخت مخالفت کی، تو بھی کومیکوؔ ثابت‌قدم رہی۔ ایک مرتبہ اُسکے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا:‏ ”‏اگر آپ کا خدا خطاؤں کو معاف کرتا ہے تو کیا وہ آپ کو اس وقت بھی معاف نہیں کریگا جب آپ انتقالِ‌خون قبول کرتی ہیں؟“‏ یوں کومیکوؔ نے مصالحت کرنے اور بائبل پر مبنی اپنے ایمان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔ ”‏زندگی کے کلام پر مضبوط گرفت رکھتے ہوئے،“‏ وہ اپنے مؤقف پر قائم رہی۔ (‏فلپیوں ۲:‏۱۶‏، این‌ڈبلیو)‏ جیسے کہ اُسکی بے‌ایمان دادی نے کہا، ”‏کومیکوؔ اپنا ایمان نہیں چھوڑیگی۔“‏ جلد ہی اُسکے والد اور اُسکی دادی اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کا رویہ بدل گیا۔‏

یہوؔواہ خدا پر کومیکوؔ کے مضبوط ایمان نے جو کہ اُسے مُردوں میں سے زندہ کر سکتا ہے، بہتیرے دلوں کو تحریک دی۔ جبکہ وہ ابھی زندہ ہی تھی تو اُس نے اپنے والد سے التجا کی:‏ ”‏اگر میں مر بھی جاؤں تو بھی میں فردوس میں زندہ کی جاؤنگی۔ لیکن اگر آپ ہرمجدون پر ہلاک ہو جاتے ہیں تو میں آپ سے نہیں ملوں گی۔ اسلئے مہربانی سے بائبل کا مطالعہ کریں۔“‏ اُسکا والد کہتا رہا:‏ ”‏جب تم ٹھیک ہو جاؤ گی تو میں مطالعہ کرونگا۔“‏ لیکن جب کوؔمیکو اپنی سخت علالت کی وجہ سے مر گئی تو اُسکے والد نے اُسکے صندوق میں ایک پرچی رکھ دی جس پر لکھا تھا:‏ ”‏کومیکوؔ میں فردوس میں تم سے ملونگا۔“‏ جنازے کے بعد، اُس نے ان لوگوں سے بات کی جو جنازے پر حاضر تھے اور کہا:‏ ”‏میں نے کومیکوؔ سے وعدہ کیا تھا کہ میں اُسے فردوس میں ملونگا۔ اگرچہ میں ابھی تک اسکا یقین نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے کافی مطالعہ نہیں کیا، تاہم میں اس پر غوروخوض کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ مہربانی سے میری مدد کریں۔“‏ اُسکے خاندان کے دوسرے لوگوں نے بھی بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔‏

کومیکوؔ زندگی کے لئے حقیقی احترام رکھتی تھی اور زندہ رہنا چاہتی تھی۔ اُس نے ہر اس کام کی قدر کی جو اسکے ڈاکٹروں نے اس کی موجودہ زندگی کو بچانے کیلئے کِیا۔ تاہم، خالق کی امدادی کتاب کی ہدایات پر عمل کرنے سے، اس نے ثابت کر دیا کہ وہ حقیقی زندگی کو عزیز رکھتی تھی۔ لاکھوں لوگوں کیلئے، وہ فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ کیا آپ اُنکے درمیان ہونگے؟ (‏۴ ۱/۱۵ w۹۵)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں