زندگی آپ کیلئے کسقدر گراںبہا ہے؟
ایک نوعمر لڑکا ایک رہائشی عمارت کی آٹھویں منزل سے چھلانگ لگا کر ہلاک ہو گیا۔ اُس نے ایک کتاب پڑھی تھی جس نے چھلانگ لگا کر خودکُشی کرنے کو ”درد یا پریشانی یا خوف سے آزاد، بلکہ، اچھا محسوس ہونے“ کے طور پر بیان کیا۔ جاؔپان میں شائع ہونے والی اس کتاب کے مصنف نے دعویٰ کِیا کہ وہ ”خودکُشی کو زندگی کے انتخابات میں سے ایک کے طور پر“ پیش کر رہا تھا۔
آجکل صرف خودکُشی کرنے والے لوگ ہی زندگی کے لئے بےقدری ظاہر نہیں کرتے۔ لاپروا ڈرائیور بھی زندگی کیلئے بہت کم احترام ظاہر کرتے ہیں۔ بعض شراب پیتے اور گاڑی چلاتے ہیں، بہتیرے جلدبازی کے باعث اپنے لئے جانلیوا حادثات کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔
دیگر اس اہمیت سے جو وہ عیشوعشرت کو دیتے ہیں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کی کتنی کم قدر کرتے ہیں۔ تمباکونوش سگریٹوں سے اپنا پیچھا چھڑانے سے انکار کرتے ہیں، اگرچہ تمباکونوشی موت کا سبب بن سکتی ہے اور اسے سُسترو خودکُشی کا نام دیا گیا ہے۔ جنسی جنون میں مبتلا اس دنیا میں پاکیزگی قائم رکھنے کی بجائے، بہتیرے آزاد جنسی تعلقات کی روش اختیار کرتے ہیں جو کہ اکثر موت کا باعث بنتی ہے۔
بعض تو بےخبری میں ہی، بسیار خوری، بلانوشی، ناکافی ورزش اور عیشوعشرت کی تلاش میں اپنی زندگی کے کئی سال گنوا بیٹھتے ہیں۔ جاپانی مصنف شنیاؔ نیشیمارو نے آگاہ کِیا: ”کھانے کی بےلگام عادات عضویاتی کارگزاری کو متاثر کرتی ہیں اور کسی اور چیز کے علاوہ صرف آرام طلبی اور عیشوعشرت کا حصول لوگوں کی قوتِحیات کو زائل کرتا ہے۔“ بعض قدیم زمانے کے اُن لوگوں کے نظریے کو اپناتے ہیں جنہوں نے کہا: ”آؤ کھائیں اور پئیں کیونکہ کل تو ہم مر [ہی جائیں] گے۔“—یسعیاہ ۲۲:۱۳؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۲۔
جیہاں، آجکل زندگی کیلئے احترام کی کمی قابو سے باہر ہے۔ لہٰذا، یہ پوچھا جا سکتا ہے، آپ کیلئے زندگی کسقدر گراںبہا ہے؟ کیا زندگی کو ہر قیمت پر بچایا جانا چاہئے؟ اور کیا کوئی چیز ہماری موجودہ زندگی سے زیادہ بیشقیمت ہے؟ (۳ ۱/۱۵ w۹۵)