ہماری زندگیوں میں یہوؔواہ کی پرستش کا درست مقام
”میں ہر روز تجھے مبارک کہونگا اور ابدالآباد تیرے نام کی ستایش کرونگا۔“—زبور ۱۴۵:۲۔
۱. جہاں تک پرستش کا تعلق ہے، یہوؔواہ کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟
”میں یہوؔواہ تیرا خدا بِلاشرکتِغیرے عبادت کا تقاضا کرنے والا خدا ہوں۔“ (خروج ۲۰:۵، اینڈبلیو) موسیٰؔ نے یہوؔواہ کی طرف سے اس اعلان کو سنا اور بعد میں اس نے اسرائیلی قوم سے خطاب کرتے وقت اس کو دہرایا۔ (استثنا ۵:۹) بلاشُبہ موسیٰؔ کے ذہن میں یہ تھا کہ یہوؔواہ خدا اپنے خادموں سے بِلاشرکتِغیرے پرستش کرنے کی توقع کرتا ہے۔
۲، ۳. (ا) کس چیز نے اسرائیلیوں کو قائل کر دیا کہ جو کچھ کوہِ سیناؔ کے قریب واقع ہوا وہ غیرمعمولی تھا؟ (ب) اسرائیلیوں اور آجکل کے خدا کے خادموں کے ذریعے پرستش کی بابت ہم کن سوالوں کا جائزہ لینگے؟
۲ کوہِ سیناؔ کے قریب خیمہزن اسرائیلیوں اور ”ایک ملیجلی گروہ“ نے جو ان کے ساتھ مصرؔ سے نکل آئی تھی ایک غیرمعمولی چیز دیکھی۔ (خروج ۱۲:۳۸) یہ مصرؔ کے دیوتاؤں کی پرستش سے کسی بھی طرح مشابہت نہیں رکھتی تھی جن کی اب دس بلاؤں یا آفتوں سے تذلیل ہوئی تھی۔ جونہی یہوؔواہ نے موسیٰؔ پر اپنی موجودگی کو آشکارا کِیا، ایک مہیب مظہر رونما ہوا: بادل کی گرج، بجلی کی چمک اور قرنا کی بلند آواز جس سے پوری لشکرگاہ کانپ اٹھی۔ اس کے بعد جب سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا تو آگ اور دھواں اُٹھا۔ (خروج ۱۹:۱۶-۲۰؛ عبرانیوں ۱۲:۱۸-۲۱) اگر کسی اسرائیلی کو مزید اس بات کے ثبوت کی ضرورت تھی کہ جو کچھ واقع ہو رہا تھا، غیرمعمولی تھا تو وہ جلد ملنے والا تھا۔ جلد ہی، موسیٰؔ خدا کی شریعت کی دوسری نقل حاصل کرنے کے بعد پہاڑ سے نیچے اترا۔ الہامی بیان کے مطابق، ”[موسیٰؔ] کے چہرے کی جِلد چمک رہی تھی اور [لوگ] اُس کے نزدیک آنے سے ڈرے۔“ واقعی، ایک ناقابلفراموش، مافوقالبشر تجربہ!—خروج ۳۴:۳۰، اینڈبلیو.
۳ خدا کی اس مخصوص قوم کے سلسلے میں، یہوؔواہ کی پرستش کو جو مقام حاصل تھا اسکی بابت کوئی شک نہیں۔ وہ اُنکا نجات دہندہ تھا۔ وہ اپنی زندگیوں کے لئے اس کے مرہونِمنت تھے۔ وہ انکا شریعت دینے والا بھی تھا۔ لیکن کیا انہوں نے یہوؔواہ کی پرستش کو مقدم رکھا؟ اور خدا کے دورِجدید کے خادموں کی بابت کیا ہے؟ یہوؔواہ کی پرستش ان کی زندگیوں میں کیا مقام رکھتی ہے؟—رومیوں ۱۵:۴۔
اسرائیل میں یہوؔواہ کی پرستش
۴. بیابان میں اُنکے قیام کے دوران اسرائیل کی لشکرگاہ کی ترتیب کیا تھی اور لشکرگاہ کے مرکز میں کیا تھا؟
۴ اگر آپ نے بیابان میں خیمہزن اسرائیلیوں پر طائرانہ نظر ڈالی ہوتی تو آپ نے کیا دیکھا ہوتا؟ شمال، جنوب، مشرق اور مغرب میں سہقبائلی تقسیم کے مطابق بانٹے گئے غالباً تین ملین یا اس سے بھی زیادہ لوگوں کی رہائشی خیموں کی بڑی، لیکن قرینے سے لگی قطاریں۔ اور قریب سے دیکھتے ہوئے، آپ نے ڈیرے کے بیچ میں بالکل نزدیک ایک اور جتھے کو بھی دیکھا ہوتا۔ خیموں کے یہ چار چھوٹے جھنڈ لاؔوی کے قبیلے کی رہائش تھی۔ ڈیرے کے بالکل درمیان میں، کپڑے کی دیوار کے پردے سے علیٰحدہ کِیا گیا ایک منفرد ڈھانچہ تھا۔ یہ ”خیمۂاجتماع“ یا مسکن تھا، جسے ”روشن ضمیر“ اسرائیلیوں نے یہوواہ کے نقشے کے مطابق تعمیر کِیا تھا۔—گنتی ۱:۵۲، ۵۳؛ ۲:۳، ۱۰، ۱۷، ۱۸، ۲۵؛ خروج ۳۵:۱۰۔
۵. اسرائیل میں مسکن نے کیا مقصد انجام دیا تھا؟
۵ بیابان میں طویل سفر کے دوران اپنے ۴۰ میں سے تقریباً ہر ایک پڑاؤ پر، اسرائیل نے مسکن کھڑا کِیا اور یہ انکی لشکرگاہ کا مرکز بن گیا۔ (گنتی ۳۳ باب) موزوں طور پر، بائبل یہوؔواہ کو اپنے لوگوں کے درمیان انکی لشکرگاہ کے درمیان سکونت اختیار کئے ہوئے بیان کرتی ہے۔ اُسکے جلال نے مسکن کو معمور کر دیا۔ (خروج ۲۹:۴۳-۴۶؛ ۴۰:۳۴؛ گنتی ۵:۳؛ ۱۱:۲۰؛ ۱۶:۳) کتاب آور لِونگ بائبل تبصرہ کرتی ہے: ”یہ آسانی سے اُٹھایا جانے والا مسکن انتہائی اہمیت کا حامل تھا، چونکہ اس نے قبیلوں کے لئے مذہبی اجتماع کے مرکز کو تشکیل دیا تھا۔ لہٰذا بیابان میں طویل سالوں کی اس مسافرت کے دوران اس نے انہیں متحد رکھا اور ایک متحدہ عمل کو ممکن بنایا۔“ اس سے بڑھ کر، مسکن نے اس مستقل یاددہانی کا کام انجام دیا کہ اسرائیلیوں کے لئے اپنے خالق کی پرستش انکی زندگیوں میں مرکزی حصہ تھی۔
۶، ۷. پرستش کے سلسلے میں کونسی عمارت نے مسکن کی جگہ لے لی اور اس نے اسرائیل کی قوم کے لئے کیا کام سرانجام دیا؟
۶ اسرائیلیوں کے ملکِ موعود میں پہنچ جانے کے بعد بھی مسکن اسرائیل کی پرستش کا مرکز رہا۔ (یشوع ۱۸:۱؛ ۱-سموئیل ۱:۳) وقت آنے پر، بادشاہ داؔؤد نے ایک مستقل عمارت تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ ہیکل ثابت ہوئی جسے بعد میں اسکے بیٹے سلیماؔن نے تعمیر کیا۔ (۲-سموئیل ۷:۱-۱۰) اُسکے افتتاح کے وقت اس عمارت کے لئے یہوؔواہ کی پسندیدگی کو ظاہر کرنے کے لئے ابر چھا گیا۔ سلیماؔن نے دعا کی ”میں نے فیالحقیقت ایک گھر تیرے رہنے کے لئے بلکہ تیری دائمی سکونت کے واسطے ایک جگہ بنائی ہے۔“ (۱-سلاطین ۸:۱۲، ۱۳؛ ۲-تواریخ ۶:۲) نئی تعمیرشُدہ ہیکل اب قوم کی عقیدت کا مرکز بن گئی۔
۷ سال میں تین مرتبہ تمام اسرائیلی مرد خدا کی برکات کی قدرافزائی میں ہیکل میں مسرورکُن تقریبات پر حاضر ہونے کے لئے یرؔوشلیم جایا کرتے تھے۔ موزوں طور پر، خدا کی پرستش پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ان اجتماعات کو ”یہوؔواہ کی عیدوں“ کا نام دیا گیا تھا۔ (احبار ۲۳:۲، ۴) مخلص عورتیں بھی اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ حاضر ہوا کرتی تھیں۔—۱-سموئیل ۱:۳-۷؛ لوقا ۲:۴۱-۴۴۔
۸. زبور ۸۴:۱-۱۲ کیسے یہوؔواہ کی پرستش کی اہمیت کا ثبوت دیتی ہیں؟
۸ مُلہَم زبورنویس نے پُرجوش طور پر تسلیم کِیا کہ پرستش کو ان کی زندگیوں میں کسقدر اہم تصور کِیا جاتا تھا۔ بنی قوؔرح نے گیت گایا کہ ”اے لشکروں کے خداوند! تیرے مسکن کیا ہی دلکش ہیں!“ وہ یقیناً محض شاندار عمارت کی حمدوثنا نہیں کر رہے تھے۔ اس کی بجائے، انہوں نے یہ کہتے ہوئے، یہوؔواہ خدا کی حمدوتعریف میں اپنی آوازیں بلند کیں: ”میرا دل اور میرا جسم زندہ خدا کے لئے خوشی سے للکارتے ہیں۔“ لاویوں کی خدمت نے انہیں بےپناہ خوشی بخشی۔ ”مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہتے ہیں!“ وہ پکار اُٹھے۔ ”وہ سدا تیری تعریف کرینگے۔“ درحقیقت تمام اسرائیلی یہ گیت گا سکتے تھے: ”مبارک ہے وہ آدمی جسکی قوت تجھ سے ہے۔ جسکے دل میں . . . شاہراہیں ہیں۔ . . . وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک صیوؔن میں خدا کے حضور حاضر ہوتا ہے۔“ اگرچہ ایک اسرائیلی کا یرؔوشلیم کی جانب سفر طویل اور تھکا دینے والا ہو سکتا ہے، جونہی وہ دارالسلطنت پہنچتا تو اسکی قوت بحال ہو جاتی تھی۔ جیسے ہی وہ یہوؔواہ کی پرستش کرنے کے اپنے استحقاق کی شکرگزاری کرتا اسکا دل خوشی سے معمور ہو جاتا: ”کیونکہ تیری بارگاہوں میں ایک دن ہزار سے بہتر ہے۔ میں اپنے خدا کے گھر کا دربان ہونا شرارت کے خیموں میں بسنے سے زیادہ پسند کرونگا۔ . . . اے لشکروں کے خداوند! مبارک ہے وہ آدمی جس کا توکل تجھ پر ہے۔“ ایسے اظہارات اُس اوّلیت کو آشکارا کرتے ہیں جو اسرائیلیوں نے یہوؔواہ کی پرستش کو دی۔—زبور ۸۴:۱-۱۲۔
۹. اسرائیل کی قوم کے ساتھ کیا واقع ہوا جب وہ یہوؔواہ کی پرستش کو پہلا درجہ دینے میں ناکام رہی؟
۹ افسوس کی بات ہے کہ اسرائیلی سچی پرستش کو پہلا درجہ دینے میں ناکام رہے۔ انہوں نے جھوٹے معبودوں کے لئے اپنی عقیدت کو اجازت دی کہ یہوؔواہ کے لئے ان کے جوشوجذبے کو کمزور کر دے۔ انجامکار، یہوؔواہ نے بابلؔ کی اسیری میں جانے کی اجازت دیتے ہوئے، انہیں اُن کے دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ ۷۰ سال بعد جب انہیں اپنے وطن میں بحال کیا گیا تو یہوؔواہ نے اسرائیل کو حجیؔ، زکرؔیاہ اور ملاؔکی جیسے وفادار نبیوں کی بیدار کرنے والی نصیحتیں فراہم کیں۔ عزؔرا کاہن اور گورنر نحمیاؔہ نے خدا کے لوگوں کو ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے اور سچی پرستش کو ازسرِنو بحال کرنے کے لئے جوش دلایا۔ لیکن جوں جوں صدیاں گزریں، سچی پرستش ایک بار پھر قوم کی نظر میں کم اہم بن گئی۔
پہلی صدی میں سچی پرستش کیلئے گرمجوشی
۱۰، ۱۱. جب یسوؔع زمین پر تھا تو اس وقت یہوؔواہ کی پرستش کو وفادار اشخاص کی زندگیوں میں کیا مقام حاصل تھا؟
۱۰ یہوؔواہ کے مقررہ وقت پر، مسیحا ظاہر ہوا۔ وفادار اشخاص یہوؔواہ کی نجات کے منتظر تھے۔ (لوقا ۲:۲۵؛ ۳:۱۵) لوقا کی انجیل کی سرگزشت خاص طور پر ۸۴ سالہ حناؔہ کو ایک بیوہ کے طور پر بیان کرتی ہے ”جو ہیکل سے جدا نہ ہوتی تھی بلکہ رات دن روزوں اور دعاؤں کے ساتھ عبادت کِیا کرتی تھی۔“—لوقا ۲:۳۷۔
۱۱ ”میرا کھانا،“ یسوؔع نے کہا، ”یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُسکا کام پورا کروں۔“ (یوحنا ۴:۳۴) یاد کریں کہ جب اس کا سامنا ہیکل میں صرافوں سے ہوا تو یسوؔع نے کیسا ردِعمل دکھایا۔ اُس نے اُنکے تختوں اور کبوتر فروشوں کی چوکیوں کو اُلٹ دیا۔ مرقسؔ بیان کرتا ہے: ”[یسوؔع] نے کسی کو ہیکل میں سے ہو کر کوئی برتن لے جانے نہ دیا اور اپنی تعلیم میں اُن سے کہا کیا یہ نہیں لکھا کہ میرا گھر سب قوموں کے لئے دعا کا گھر کہلائیگا؟ مگر تم نے اُسے ڈاکوؤں کی کھو بنا دیا ہے۔“ (مرقس ۱۱:۱۵-۱۷) جیہاں، یسوؔع نے تو شہر کے دوسرے حصے میں سامان لیجانے والے کسی شخص کو بھی ہیکل کے صحن میں سے گزر کر جانے کی اجازت نہ دی۔ یسوؔع کے افعال نے پہلے سے پیشکردہ اُسکی مشورت کی حمایت کی: ”بلکہ تم پہلے [خدا کی] بادشاہی اور اُسکی راستبازی کی تلاش کرو۔“ (متی ۶:۳۳) یسوؔع نے یہوؔواہ کو اپنی بِلاشرکتِ غیرے عقیدت پیش کرنے میں ہمارے لئے شاندار نمونہ چھوڑا۔ اُس نے واقعی جس چیز کی منادی کی اُس پر عمل بھی کِیا۔—۱-پطرس ۲:۲۱۔
۱۲. یسوؔع کے شاگردوں نے اس اوّلیت کو کیسے ظاہر کِیا جو انہوں نے یہوؔواہ کی پرستش کو دی تھی؟
۱۲ جس طرح سے یسوؔع نے کچلے ہوؤں، لیکن وفادار، یہودیوں کو جھوٹے مذہب کے کاموں کے بوجھ سے آزاد کرانے کے اپنے کام کو پورا کِیا اس سے بھی اُس نے اپنے شاگردوں کے لئے پیروی کرنے کے لئے ایک نمونہ قائم کِیا۔ (لوقا ۴:۱۸) شاگرد بنانے اور بپتسمہ دینے کے یسوؔع کے حکم کی فرمانبرداری میں، ابتدائی مسیحیوں نے اپنے قیامت یافتہ خداوند کے سلسلے میں یہوؔواہ کی مرضی کا دلیری سے اعلان کِیا۔ یہوؔواہ اُس اوّلیت سے نہایت خوش تھا جو انہوں نے اُسکی پرستش کو دی تھی۔ لہٰذا، خدا کے اپنے فرشتے نے معجزانہ طور پر پطرؔس اور یوؔحنا رسول کو قیدخانہ سے آزاد کرایا اور انہیں ہدایت کی: ”جاؤ ہیکل میں کھڑے ہو کر اس زندگی کی سب باتیں لوگوں کو سناؤ۔“ ازسرِنو قوت پا کر، انہوں نے تابعداری کی۔ ہر روز، یرؔوشلیم کی ہیکل اور گھرباگھر ”وہ تعلیم دینے اور اس بات کی خوشخبری سنانے سے کہ یسوؔع ہی مسیح ہے باز نہ آئے۔“—اعمال ۱:۸؛ ۴:۲۹، ۳۰؛ ۵:۲۰، ۴۲؛ متی ۲۸:۱۹، ۲۰۔
۱۳، ۱۴. (ا) ابتدائی مسیحیوں کے زمانہ سے لیکر، شیطان نے خدا کے خادموں کے ساتھ کیا کرنے کی کوشش کی ہے؟ (ب) خدا کے وفادار خادموں نے کیا کرنا جاری رکھا ہے؟
۱۳ جب ان کی منادی کی مخالفت بڑھ گئی، تو خدا نے اپنے وفادار خادموں کو بروقت نصیحت لکھنے کی ہدایت کی۔ ”اپنی ساری فکر [یہوؔواہ] پر ڈال دو کیونکہ اس کو تمہاری فکر ہے،“ ۶۰ س.ع. کے قلیل عرصہ کے بعد پطرس نے لکھا۔ ”تم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف اِبلیس گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔ تم ایمان میں مضبوط ہو کر اور یہ جان کر اُس کا مقابلہ کرو کہ تمہارے بھائی جو دنیا میں ہیں ایسے ہی دکھ اُٹھا رہے ہیں۔“ ابتدائی مسیحیوں نے یقینی طور پر ان الفاظ سے تسلی حاصل کی۔ وہ جانتے تھے کہ تھوڑی مدت تک دکھ اُٹھانے کے بعد، خدا ان کی تربیت کو مکمل کر دے گا۔ (۱-پطرس ۵:۷-۱۰) یہودی دستورالعمل کے اُن آخری ایام کے دوران، سچے مسیحیوں نے یہوؔواہ کی مشفقانہ پرستش کو حمدوثنا سے سربلند کِیا۔—کلسیوں ۱:۲۳۔
۱۴ جیسے کہ پولسؔ رسول پیشگوئی کر چکا تھا، برگشتگی، یعنی سچی پرستش سے انحراف واقع ہوا۔ (اعمال ۲۰:۲۹، ۳۰؛ ۲-تھسلنیکیوں ۲:۳) پہلی صدی کے آخری دہوں سے اس کی شہادت کا ثبوت فراہم ہو گیا۔ (۱-یوحنا ۲:۱۸، ۱۹) شیطان نے کامیابی کے ساتھ سچے مسیحیوں کے درمیان نقلی مسیحی پیدا کر دئے جنہوں نے گندم سے تشبِیہ دئے گئے مسیحیوں سے ان ”کڑوے دانوں“ کو فرق کرنا مشکل بنا دیا۔ تاہم، گزشتہ صدیوں کے دوران، بعض مسیحیوں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر بھی خدا کی پرستش کو پہلا درجہ دیا ہے۔ لیکن ”قوموں کی مقررہ معیاد“ کے اختتامی دہوں تک خدا نے سچی پرستش کو سربلند کرنے کے لئے اپنے خادموں کو پھر سے جمع نہیں کِیا تھا۔—متی ۱۳:۲۴-۳۰، ۳۶-۴۳؛ لوقا ۲۱:۲۴۔
موجودہ زمانے میں یہوؔواہ کی پرستش سربلند کر دی گئی
۱۵. ۱۹۱۹ سے لیکر، یسعیاہ ۲:۲-۴ اور میکاہ ۴:۱-۴ کی پیشینگوئیاں کیسے پوری ہوئی ہیں؟
۱۵ ۱۹۱۹ میں، یہوؔواہ نے ممسوح بقیے کو دلیری کے ساتھ عالمی پیمانے پر گواہی دینے کی مہم کو شروع کرنے کا اختیار بخشا جس نے خدا کی سچی پرستش کو سربلند کر دیا ہے۔ ۱۹۳۵ سے لیکر علامتی ”دوسری بھیڑوں“ کی آمد کے ساتھ، اُن لوگوں کا ہجوم جو ”خداوند کے گھر کے پہاڑ“ پر چڑھتا ہے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ۱۹۹۴ کے خدمتی سال کے دوران، ۴۹،۱۴،۰۹۴ یہوؔواہ کے گواہوں نے دوسروں کو اس کی بلند پرستش میں شامل ہونے کے لئے دعوت دینے سے یہوؔواہ کو جلال دیا ہے۔ یہ جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت بالخصوص دنیائے مسیحیت، کے فرقہوارانہ ”ٹیلوں“ کی روحانی بدحالی سے کس قدر مختلف ہے!—یوحنا ۱۰:۱۶؛ یسعیاہ ۲:۲-۴؛ میکاہ ۴:۱-۴۔
۱۶. جو کچھ یسعیاہ ۲:۱۰-۲۲ میں پہلے سے بتایا گیا ہے اُس کے پیشِنظر خدا کے سب خادموں کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
۱۶ جھوٹے مذہب کے حمایتی اپنے چرچز اور کیتھیڈرلز اور اپنے پادریوں تک کو پُرشکوہ القابات اور اِعزازات سے نوازتے ہوئے ”بلند نظر“ خیال کرتے ہیں۔ لیکن غور کریں کہ یسعیاؔہ نے کیا پیشینگوئی کی: ”انسان کی اونچی نگاہ نیچی کی جائیگی اور بنیآدم کا تکبّر پست کِیا جائیگا اور اس روز خداوند ہی سربلند ہوگا۔“ یہ کب ہوگا؟ سر پر منڈلاتی بڑی مصیبت کے دوران جب ”تمام بُت بالکل فنا ہو جائینگے۔“ اس خوفناک وقت کی نزدیکی کے پیشِنظر، خدا کے سب خادموں کو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہوؔواہ کی پرستش انکی زندگیوں میں کیا مقام رکھتی ہے۔—یسعیاہ ۲:۱۰-۲۲۔
۱۷. آجکل یہوؔواہ کے خادم اس اوّلیت کو کیسے ظاہر کرتے ہیں جو وہ یہوؔواہ کی پرستش کو دیتے ہیں؟
۱۷ ایک بینالاقوامی برادری کے طور پر، یہوؔواہ کے گواہ بادشاہت کی منادی کرنے میں اپنی گرمجوشی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انکی پرستش محض میکانکی مذہب نہیں ہے جو ہر ہفتے تقریباً ایک گھنٹے کے لئے مخصوص ہے۔ بلکہ یہ انکا طرزِ زندگی ہے۔ (زبور ۱۴۵:۲) یقینی طور پر، گزشتہ سال ۶،۳۰،۰۰۰ سے زائد گواہوں نے کُل وقتی مسیحی خدمتگزاری میں حصہ لینے کے لئے اپنے امور کو ترتیب دیا۔ یقیناً باقیماندہ بھی یہوؔواہ کی پرستش سے غفلت نہیں برتتے۔ یہ انکی روزمرہ کی گفتگو اور عوامی منادی دونوں کا ایک اہم حصہ ہے، اس وقت بھی جبکہ انکی خاندانی ذمہداریاں ان سے دنیوی ملازمتوں پر زیادہ کام کرنے کا تقاضا کرتی ہیں۔
۱۸، ۱۹. حوصلہافزائی کی ان مثالوں کو بیان کریں جو شاید آپ نے گواہوں کی سوانح عمریوں کو پڑھنے سے حاصل کی ہیں۔
۱۸ دی واچٹاور میں شائع ہونے والی گواہوں کی سوانح عمریاں ان طریقوں کی بابت بصیرت فراہم کرتی ہیں جن سے مختلف بھائیوں اور بہنوں نے اپنی زندگیوں میں یہوؔواہ کی پرستش کو مقدم رکھا ہے۔ ایک نوعمر بہن جس نے چھ سال کی عمر میں یہوؔواہ کے لئے اپنی زندگی کو مخصوص کیا مشنری خدمت کو اپنا نصبالعین بنایا۔ نوعمر بھائیو اور بہنو! آپ کونسے نشانوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جو آپکو اپنی زندگیوں میں یہوؔواہ کی پرستش کو اوّلیت دینے میں مدد دیں گے؟—دیکھیں دی واچٹاور یکم مارچ ۱۹۹۲ کے صفحات ۲۶-۳۰ کے مضمون ”چھ سال کی عمر میں قائمکردہ نصبالعین کے حصول کی کوشش میں۔“
۱۹ ایک عمررسیدہ بیوہ بہن یہوؔواہ کی پرستش کو درست مقام پر رکھنے کی ایک اور عمدہ مثال فراہم کرتی ہے۔ اُس نے برداشت کرنے کے لئے اُن سے بہت زیادہ حوصلہافزائی حاصل کی جنہیں اُس نے سچائی سیکھنے میں مدد دی تھی۔ وہ اُس کا ”خاندان“ تھا۔ (مرقس ۳:۳۱-۳۵) اگر آپ خود کو اسی طرح کے حالات میں پاتے ہیں تو کیا آپ کلیسیا میں نوعمروں کی طرف سے حمایت اور مدد کو قبول کرینگے؟ (مہربانی سے غور کریں کہ کیسے بہن وؔینیفرڈ ریمی نے دی واچٹاور یکم جولائی، ۱۹۹۲ کے صفحات ۲۱-۲۳ میں شائع ہونے والے مضمون ”میں نے کٹائی کے وقت میں جوابیعمل دکھایا“ میں اپنا اظہار کِیا۔) اے کُلوقتی خادمو! جہاں آپکو تفویض کِیا جاتا ہے فروتنی کے ساتھ وہاں خدمت کرنے سے، خوشی سے تھیوکریٹک راہنمائی کے تابع رہنے سے، یہ ظاہر کریں کہ یہوؔواہ کی پرستش آپکی زندگیوں میں واقعی پہلا درجہ رکھتی ہے۔ (مہربانی سے بھائی راؔئے رائین کے نمونے پر غور کریں، جیسے کہ دی واچٹاور یکم دسمبر، ۱۹۹۱، کے صفحات ۲۴-۲۷ میں مضمون ”خدا کی تنظیم سے جڑے رہنا“ میں بیان کِیا گیا ہے۔) یاد رکھیں کہ جب ہم یہوؔواہ کی پرستش کو اوّلیت دیتے ہیں تو ہمیں یقیندہانی حاصل ہے کہ وہ ہماری فکر کریگا۔ ہمیں اسکی بابت فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں کہ ضروریاتِ زندگی کیسے مہیا کی جائینگی۔ بہن اؔولیو اور سوؔنیا سپرنگیٹ کے تجربات اسے بیان کرتے ہیں۔—دی واچٹاور یکم فروری، ۱۹۹۴، کے صفحات ۲۰-۲۵ کے مضمون ”ہم نے پہلے بادشاہی کی تلاش کی ہے“ کو دیکھیں۔
۲۰. اب ہمیں خود سے کونسے برمحل سوال پوچھنے چاہئیں؟
۲۰ تو پھر، انفرادی طور پر، کیا ہمیں خود سے کچھ تیزفہم سوالات نہیں پوچھنے چاہئیں؟ یہوؔواہ کی پرستش کو میری زندگی میں کیا مقام حاصل ہے؟ کیا میں اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ خدا کی مرضی پوری کرنے کے لئے اپنی مخصوصیت کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہوں؟ میں زندگی کے کونسے حلقوں میں بہتری پیدا کر سکتا ہوں؟ بعد کے مضمون پر ہوشمندانہ غوروفکر اس چیز کو منعکس کرنے کا مواقع فراہم کریگی کہ ہم زندگی میں اپنی منتخب اولیت—اپنے شفیق باپ، حاکمِاعلیٰ یہوؔواہ کی پرستش—کے سلسلے میں اپنے وسائل کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔—واعظ ۱۲:۱۳؛ ۲-کرنتھیوں ۱۳:۵۔ (۸ ۱۲/۱ w۹۴)
اعادے میں
▫ جہاں تک پرستش کا تعلق ہے، یہوؔواہ کیا تقاضا کرتا ہے؟
▫ مسکن نے کس چیز کی یاددہانی کے طور پر کام کِیا؟
▫ پہلی صدی س.ع. میں، سچی پرستش کے لئے گرمجوشی کی نمایاں مثالیں کون تھے اور کیسے؟
▫ ۱۹۱۹ سے لیکر، یہوؔواہ کی پرستش کو کیسے سربلند کِیا گیا ہے؟