مُردوں کا خوف بہت عام ہے
سورج کو غروب ہوئے کافی وقت گزر چُکا ہے۔ آپ خلافِ معمول کچھ دیر سے گھر واپس آ رہے ہیں۔ جونہی آپکا گزر مقامی قبرستان سے ہوتا ہے، آپکا دل قدرے تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔ اندھیری رات کی خاموشی میں ہلکی سی سرسراہٹ پر بھی آپکے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اچانک آپ دُور سے ایک تیز، چونکا دینے والی آواز سنتے ہیں۔ جب آپ گھر میں پناہ حاصل کرنے کیلئے آگے بڑھتے ہیں تو آپ اپنی رفتار بڑھا دیتے ہیں—آپکی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی ہے۔
کیا آپ کو کبھی کسی قبرستان کے اندر یا قریب سے گزرتے ہوئے پریشانکُن احساسات کا تجربہ ہوا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ اس مذہبی عقیدے کے زیرِاثر ہوں جو پوری دنیا میں عام ہے یعنی یہ کہ مُردوں کی روحیں زندہ لوگوں کی مدد کر سکتی یا انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
توہمپرستی کی بہتیری رسومات نے اس عقیدہ کے نتیجے میں ترقی پائی ہے کہ مُردوں کو زندہ لوگوں کی مدد درکار ہے یا یہ کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو ممکن ہے کہ وہ زندہ لوگوں کو نقصان پہنچائیں۔ مثال کے طور پر، لاطینی امریکہ کے بعض ممالک میں، بہتیروں کا یہ دستور ہے کہ جس جگہ پر کوئی شخص حادثے سے مر جاتا ہے وہاں چھوٹا سا مدفن کھڑا کرکے اُس پر ایک صلیب نصب کر دیتے ہیں۔ لوگ مُردہ شخص کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرنے کیلئے یا اُس کی جان یا روح کو سکون پہنچانے کیلئے وہاں پر موم بتیاں جلاتے اور پھول چڑھاتے ہیں۔ بعض حالتوں میں، دُعاؤں کے ”معجزانہ“ جوابات کی بابت افواہیں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ لوگ اینیمیتا یعنی مُتوَفّی شخص کی جان یا روح کے لئے بنائے گئے چھوٹے سے مدفن کی جگہ پر جانا شروع کر دیں۔ وہاں پر وہ منڈاس، یا منتیں مانتے ہیں کہ اگر مُردہ شخص کوئی کام کرنے یا کچھ حاصل کرنے میں اُن کی مدد کرے گا—شاید معجزانہ شفا—تو وہ ایک خاص طریقے سے اپنی شکرگزاری کا اظہار کریں گے۔ اس کے برعکس، ہو سکتا ہے کہ یہ اطلاع ملے کہ جو لوگ وہاں پر موجود ہوتے ہیں انکو خوفزدہ کرتے ہوئے، اس شخص کی روح رات کے اندھیرے میں نمودار ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ایسی روحیں پینانڈو ہوتی ہیں جو زندہ لوگوں کو ماضی کے واقعات کی وجہ سے پریشان کرتی ہیں۔
بہت سے ممالک میں لوگ مُردوں کی ”روحوں“ کو خوش کرنے کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں۔ بڑی بڑی ضیافتیں کی جاتی ہیں، قربانیاں چڑھائی جاتی ہیں، تسکینبخش الفاظ ادا کئے جاتے ہیں—یہ سب کچھ مُردہ شخص کی روح کے انتقام سے بچنے کی کوشش میں کِیا جاتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روح کا غصہ ٹھنڈا کر لینا پسماندگان کے لئے برکات اور بخششوں پر منتج ہوگا۔
افریقہ سے ایک رپورٹ بیان کرتی ہے کہ ”بہتیرے یہ یقین رکھتے ہیں کہ کوئی بھی واقعہ ’بالعموم یا قدرتی طور پر‘ رونما نہیں ہوتا۔“ ”کوئی بھی واقعہ—خواہ وہ بیماری، آفت، بانجھپن، معاشی مشکلات، زیادہ بارش یا دھوپ، حادثات، خاندانی نااتفاقی اور موت ہو—اس کی بابت خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مافوقالبشر قوتوں کی مالک نادیدہ روحیں کرواتی ہیں۔“ ایک اور رپورٹ کہتی ہے: ”لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اُنکے آباؤاجداد کی روحوں کو آسمان میں ایک مقام حاصل ہے اور یہ کہ وہ زمین پر اپنے رشتےداروں کو مسلسل دیکھتی رہتی ہیں۔ آباؤاجداد کی بابت یہ یقین کِیا جاتا ہے کہ وہ مافوقالفطرت قوتیں رکھتے ہیں، جنہیں وہ زمین پر اپنے رشتےداروں کو برکت دینے اور محفوظ رکھنے یا پھر انہیں سزا دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں، جسکا انحصار رشتہداروں کے مُردہ شخص کی عزت کرنے یا اُس سے غفلت کرنے پر ہے۔“
لیکن کیا یہ سب خدا کے کلام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟
[تصویر]
چِلی میں ایک ”اینیمیتا“