کیا آپ معاف کرنے والے ہیں؟
بلؔ اور اسکی ۱۶ سالہ بیٹی لیزؔا کی ایک دوسرے کیساتھ نہیں بنتی تھی۔ انکے درمیان معمولی اختلاف اکثر شوروغل میں تبدیل ہو جاتے تھے۔ آخرکار تناؤ اس حد تک جا پہنچا کہ لیزؔا سے کہا گیا کہ گھر چھوڑ دے۔a
کچھ عرصے بعد لیزؔا کو احساس ہوا کہ غلطی اس کی تھی اور وہ اپنے باپ سے معافی کی طلبگار ہوئی۔ لیکن لیزؔا کی گزشتہ غلطیوں کو نظرانداز کرنے کی بجائے، اسکے ناراض باپ نے اسکی صلح کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ ذرا تصور کریں! وہ اپنی ہی بیٹی پر رحم کرنے کیلئے تیار نہیں تھا!
صدیوں پہلے ایک بےعیب شخص کو ناکردہ جرم کی پاداش میں سزائے موت ہوئی۔ گواہوں نے جھوٹی شہادتیں دیں اور سیاسی اہلکاروں نے جان بوجھ کر انصاف کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بےگناہ شخص یسوؔع تھا۔ اپنی موت سے ذرا پہلے اس نے دعا میں خدا سے درخواست کی: ”اے باپ! انکو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں۔“—لوقا ۲۳:۳۴۔
یسوؔع نے اپنے دل سے بخوشی معاف کر دیا اور اپنے شاگردوں کو تاکید کی کہ اس سلسلے میں اسکی تقلید کریں۔ (افسیوں ۴:۳۲) تاہم، بلؔ کی طرح بہتیرے سنگدلی سے معاف کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ آپ کس حد تک اس پر پورا اُترتے ہیں؟ جب دوسرے آپ کے خلاف گناہ کرتے ہیں تو کیا آپ انہیں معاف کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں؟ اور سنگین گناہوں کی بابت کیا ہے؟ کیا انکو بھی معاف کرنا لازمی ہے؟
معافی ایک چیلنج
معاف کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ اور ان تشویشناک ایام میں انسانی تعلقات بہت زیادہ مسائل پیدا کرنے والے بن گئے ہیں۔ خاصکر خاندانی زندگی اکثر کشیدگی اور دباؤ سے پُر رہتی ہے۔ مسیحی رسول پولسؔ نے بہت عرصہ پہلے بیان کیا کہ ”اخیر زمانہ“ میں ایسی حالتیں عام ہوں گی۔ اس نے کہا: ”آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ . . . نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے . . . ہونگے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱-۴۔
تو پھر، ناگزیر طور پر، ہم سب کو بیرونی قوتوں کا سامنا ہے جو دوسروں کو معاف کرنے کی ہماری صلاحیت کو آزماتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اندرونی قوتوں کے خلاف بھی جدوجہد کرتے ہیں۔ پولسؔ نے نوحہ کیا: ”جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اسے کر لیتا ہوں۔ پس اگر میں وہ کرتا ہوں جس کا ارادہ نہیں کرتا تو اس کا کرنے والا میں نہ رہا بلکہ گناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے۔“ (رومیوں ۷:۱۹، ۲۰) نتیجتاً، ہم میں سے بہتیرے ہماری خواہش کے مطابق معاف کرنے والے نہیں ہوتے۔ بہرحال، موروثی ناکاملیت اور گناہ، بعضاوقات ساتھی انسانوں کیلئے رحم کو ہم سے چھین کر، ہم سب پر زوردار اثر ڈالتے ہیں۔
ایک چھوٹی سی غلطی پر دوسرے کو معاف کر دینے کیلئے حوصلہافزائی حاصل کرتے وقت ایک عورت نے جواب دیا: ”کوئی شخص اس کوشش کا مستحق نہیں جو معاف کرنے کیلئے درکار ہے۔“ سطحی طور پر ایسا تبصرہ شاید بظاہر بےحس، سخت، حتیٰکہ طنزآمیز دکھائی دے۔ تاہم گہرائی میں جانے سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اس مایوسی کو ظاہر کرتا ہے جو بہتیرے لوگ اس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ ایسی دنیا کا سامنا کرتے ہیں جسے وہ خودغرض، بےپرواہ اور دشمن خیال کرتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: ”جب آپ لوگوں کو معاف کرتے ہیں تو لوگ آپ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ ایک پائیدان کی طرح کا سلوک کئے جانے کے مترادف ہے۔“
تو پھر تعجب نہیں کہ معاف کرنے والا رویہ پیدا کرنا اس اخیر زمانہ میں مشکل ہے۔ پھر بھی بائبل ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے کہ مہربانہ انداز سے معاف کریں۔ (مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۲:۷۔) ہمیں معاف کرنے والا کیوں بننا چاہئے؟ (۳ ۹/۱۵ w۹۴)
[فٹنوٹ]
a نام تبدیل کر دئے گئے ہیں۔