بادشاہتی مُناد رپورٹ دیتے ہیں
اُس نے بائبل سے تربیتیافتہ اپنے ضمیر کی پیروی کی
اسرائیل کے بادشاہ داؔؤد نے یہوؔواہ کی مدد کیلئے درخواست کی جب اُس نے کہا: ”پر میں تو راستی پر چلتا رہونگا۔ مجھے چھڑا لے اور مجھ پر رحم کر۔“ (زبور ۲۶:۱۱) اُسکی راستبازی کو برقرار رکھنے کیلئے واقعی خدا نے اُس پر رحم کِیا۔ یہوؔواہ نے یسوؔع کو بھی برکت دی کیونکہ اُس نے اپنے آسمانی باپ کی مرضی پوری کی اور اُس نے کولمبیا کے ایک نوجوان کو بھی برکت دی جس نے بائبل سے تربیتیافتہ اپنے ضمیر کی پیروی کی، اور جو خدا کی مرضی کو پورا کرنے کا عزم کئے ہوئے تھا۔ یہ نوجوان آدمی بیان کرتا ہے:
”جب میں نے یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کِیا تو میں ایک کیتھولک سکول میں ایک طالبعلم تھا۔ تاہم، جب میں عشائے ربانی کی دعا میں حاضر ہوتا تو میرا ضمیر مجھے پریشان کرتا، لہٰذا میں اپنے سکول کے پرنسپل (جو ایک پادری تھا)، مشیر برائے ہدایات اور اپنے گروپ کے مانیٹر کے پاس گیا اور عشائے ربانی میں شامل ہونے سے مستثنیٰ کر دئے جانے کی درخواست کی۔ اگرچہ مجھے مستثنیٰ کر دیا گیا تو بھی بعض بچوں نے حاضر ہونے کیلئے مجھے مجبور کرنے کی کوشش کی۔ یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک کے طور پر بپتسمہ لینے کے فوراً بعد دباؤ بڑھ گیا۔ میرے والد نے مجھے دھمکی دی کہ اگر مجھے سکول سے نکال دیا گیا تو مجھے گھر سے دُور بھیج دیا جائے گا۔ اُنہوں نے میرے لئے یونیورسٹی کی تعلیم اور کوئی پیشہورانہ شعبہ سوچ رکھا تھا۔
”پرنسپل نے کیتھولک فرائض کو پورا کرنے میں ناکام ہونے والے ہر شخص کے متعلق بار بار انتباہ دئے۔ جب سال کی پہلی عشائے ربانی کا وقت آیا تو میں اسکے ختم ہونے تک چھپا رہا۔ پھر میں نے ایک ٹیچر (ایک پادری) کو سکول اینڈ جیہوواز وٹنسز بروشر کی ایک کاپی دی اور اُسے بتایا کہ یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک کے طور پر میں عشائے ربانی پر حاضر نہیں ہو سکتا۔ اُس نے کہا: ’بہتر ہے کہ تم کسی دوسرے سکول کی تلاش کرنا شروع کر دو۔‘ میں جانتا تھا کہ سکول سے نکال دئے جانے کا مطلب اپنے باپ کے ہاتھوں اپنے ہی گھر سے نکال دیا جانا ہوگا۔ تاہم، میں نے یہوؔواہ سے دعا کی اور اپنے ہممکتبوں کو مفصل گواہی دینا جاری رکھا۔
”چھٹیوں کا وقت آ گیا۔ اور پھر چھٹیوں کے بعد سکول میں دوبارہ عشائے ربانی کا وقت آیا۔ سکول کا پرنسپل اور دوسرے پادری ملحقہ گرجے (چیپل) کے باہر اعترافات کو سننے کیلئے کھڑے تھے۔ کافی حد تک مجھ پر خوف طاری ہو گیا۔ میں اندر گیا اور بیٹھ گیا، لیکن میرا ضمیر مجھے پریشان کرنے لگا۔ جب گیت شروع ہوئے تو میں نے سوچا ’میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟ یہوؔواہ میرا خدا ہے۔ میں بزدل نہیں ہو سکتا اور اُس سے دغا نہیں کر سکتا۔ میں اُسے مایوس نہیں کر سکتا۔ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔‘ میں نے ہمت کیلئے دعا کی۔ پھر، میں ملحقہ گرجے میں سے نکلا اور اعتراف کرنے والی قطار میں کھڑا ہو گیا۔ جب میں پرنسپل کے پاس پہنچا تو میں نے اُسے بتایا: ’ٹیچر، میں اعتراف نہیں کرونگا۔‘ اُس نے کہا: ’میرا یہی خیال تھا۔‘ میں نے اُسے بتایا کہ میں نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن میرا ضمیر مجھے عشائے ربانی میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ میں اُن باتوں کے خلاف نہیں چل سکتا تھا جو میں نے بائبل سے سیکھی تھیں۔
”اُس نے مجھے غور سے دیکھا، مسکرایا اور کہا: ’میں تم سے بہت خوش ہوں۔ تم سب گواہ تعریف کے مستحق ہو۔ تم لوگوں کیلئے خدا مقدم ہے اور خواہ کچھ بھی واقع ہو تم اُسکے قوانین کی اطاعت کرنے کیلئے تیار ہو۔ ایسا ہی کرتے رہو۔ تم بہت اچھا کام کر رہے ہو۔ میری یہ خواہش ہے کہ تمام کیتھولک تمہاری مانند بن جائیں، خدا کیلئے ایسا ہی جذبہ، ایسی ہی محبت ظاہر کریں۔ اب سے لیکر ہماری تمام مذہبی عبادات میں شریک ہونے سے تمہیں مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔‘ میں کتنا خوش تھا! بائبل سے تربیتیافتہ اپنے ضمیر کی بات ماننے کیلئے میرے عزم کو یہوؔواہ نے برکت بخشی تھی۔
”اگلے دن پرنسپل نے طالبعلموں سے کہا: ’دوسرے مذاہب ہم سے بہت آگے ہیں۔ خدا کیلئے گہری محبت اور دیگر تمام سے بڑھکر اُسکی خدمت کرنے کی آرزو کیساتھ ہم اُنکی طرح جوشیلے کیوں نہیں ہیں؟ اس بات کو ہمارے دلوں میں ہونا چاہئے۔‘
”بالآخر پرنسپل کا روم تبادلہ ہو گیا اور نئے پرنسپل نے میری عدم شرکت کو نظرانداز کر دیا۔ میرا باپ گھر چھوڑ کر چلا گیا اور گریجوایشن کر لینے پر کُلوقتی خدمت کے اپنے نصبالعین کو حاصل کرنے کیلئے مجھے آزاد کر دیا۔“
یہوؔواہ نے اس نوجوان شخص کو برکت دی جس نے بائبل سے تربیتیافتہ اپنے ضمیر کی پیروی کی۔ اسی طرح وہ اُن سب کو برکت دے گا جو اُسکی مرضی پوری کرنے کے طالب ہوتے ہیں۔—امثال ۳:۵، ۶۔ (۳۱ ۵/۱ w۹۴)