نیوکلیئر خطرہ بالآخر ٹل گیا؟
”دوسری عالمی جنگ سے لیکر کسی بھی وقت کی نسبت اب زمین پر امن زیادہ ممکن دکھائی دیتا ہے۔“ ۱۹۸۰ کے دہے کے آخر میں ایک اخباری نمائندے کی طرف سے یہ رجائیت پسند قیاس اس حقیقت پر مبنی تھا کہ تخفیفاسلحہ کے اہم معاہدوں اور غیرمتوقع انقلابات نے آخرکار سرد جنگ کو ختم کر دیا۔ لیکن کیا نیوکلیئر خطرہ بھی ٹل گیا جو سابقہ سُپر پاور کی آویزش کا بڑا خاصہ تھا؟ کیا دائمی امن اور تحفظ واقعی جلد حاصل ہونے والا تھا؟
نیوکلیئر طاقتوں میں اضافے کے خطرات
سرد جنگ کے دوران، امن کو برقرار رکھنے کیلئے فوجی طاقت کے توازن پر انحصار کرتے ہوئے، سُپر طاقتیں پُرامن نتائج حاصل کرنے میں نیوکلیئر عملی لیاقت کی ترقی کی اجازت دینے پر مگر نیوکلیئر ہتھیار بنانے میں اس کے استعمال کو محدود رکھنے پر متفق ہو گئیں۔ ۱۹۷۰ میں نیوکلیئر نان پرولفریشن ٹریٹی (نیوکلیئر ہتھیاروں کے اضافے میں کمی کرنے کا معاہدہ) نافذ ہو گیا؛ بعد میں کوئی ۱۴۰ قوموں نے اسے تسلیم کر لیا۔ تاہم، امکانی نیوکلیئر طاقتوں، جیسے کہ ارجنٹینا، برازیل، انڈیا اور اسرائیل نے تاحال اس پر دستخط کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔
تاہم، ۱۹۸۵ میں، ایک اور امکانی نیوکلیئر طاقت، شمالی کوریا نے دستخط کر دئے۔ لہٰذا جب ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ کو اس نے معاہدے سے اپنے دَست بردار ہونے کا اعلان کِیا تو دنیا نے منطقی طور پر اضطراب کے ساتھ ردِعمل دکھایا۔ جرمن نیوز میگزین دار شپیگل نے لکھا: ”نیوکلیئر نان پرولفریشن ٹریٹی سے دَستبرداری کا نوٹس ایک مثال قائم کرتا ہے: اب ایشیا میں شروع ہونے والی نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ کا خدشہ ہے جو سُپر طاقتوں کے مابین بم رقابت سے کہیں زیادہ خطرناک بن سکتا ہے۔“
ایک حیرانکُن شرح پر نئی قوموں کو جنم دینے والی قومپرستی کے ساتھ، نیوکلیئر طاقتوں کی تعداد بھی غالباً بڑھ جائے گی۔ (بکس کو دیکھیں۔) صحافی چاؔرلس کراؤٹ ہامر آگاہ کرتا ہے: ”سوویت خطرے کے خاتمے کا مطلب نیوکلیئر خطرے کا ٹل جانا نہیں ہے۔ اصل خطرہ تو نیوکلیئر طاقتوں کی تعداد میں اضافہ ہے اور ان طاقتوں کی تعداد میں اضافہ تو ابھی شروع ہی ہوا ہے۔“
بم برائے فروخت
مستقبل کی نیوکلیئر طاقتیں اُس وقار اور اقتدار کو حاصل کرنے کی خواہاں ہیں جو یہ ہتھیار پیش کرتے ہیں۔ ایک ملک کی بابت کہا گیا ہے کہ اُس نے قازقستان سے مزائلوں کے کمازکم دو دھماکہخیز حصے خریدے ہیں۔ یہ سابقہ سوویت جمہوریہ مزائلوں کے ان دھماکہخیز حصوں کو سرکاری طور پر ”گمشدہ“ فہرست کرتی ہے۔
اکتوبر ۱۹۹۲ کو فرینکفرٹ، جرمنی میں کئی آدمی ۲۰۰ گرام انتہائی تابکار سیسیئم کے ساتھ گرفتار کئے گئے جو ایک پورے شہر کی پانی کی فراہمی کو زہریلا بنانے کیلئے کافی تھی۔ ایک ہفتے کے بعد، میونخ میں سات سمگلر ۲.۲ کلوگرام یورینیم کے ساتھ پکڑے گئے۔ دو ہفتوں کے اندر ہی نیوکلیئر سمگلنگ کرنے والے دو گروہوں کے انکشاف نے اہلکاروں کو چونکا دیا، جبکہ گزشتہ پورے سال میں پوری دنیا کے اندر ایسے صرف پانچ مقدمات کی رپورٹ درج کی گئی تھی۔
یہ بات نامعلوم ہے کہ آیا ان اشخاص کا مقصد ان چیزوں کو دہشت گردوں کے ہاتھ بیچنا تھا یا کہ قومی حکومتوں کو۔ تاہم، نیوکلیئر دہشت گردی کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ یورپین پرولفریشن انفارمیشن سینٹر کے ڈاکٹر ڈؔیوڈ لوری اس خطرے کی وضاحت کرتے ہیں: ”ایک دہشت گرد کو محض یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ تجربے کی غرض سے کسی معروف صاحبِاختیار کے پاس انتہائی طاقتور یورینیم کا ایک نمونہ بھیجے اور کہے کہ ہمارے پاس اسکی وافر مقدار ہے اور یہ رہا اسکا ثبوت۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی مغوی ایک اغوا شُدہ شخص کا کٹا ہوا کان بطور ثبوت بھیج رہا ہو۔“
پُرامن ”ٹائم بم“ اور ”موت کے پھندے“
جب ۱۹۹۲ کا آغاز ہوا تو ۴۲۰ نیوکلیئر ریایکٹر بجلی پیدا کرنے کے پُرامن کام میں مصروفِعمل تھے؛ دیگر ۷۶ زیرِتعمیر تھے۔ لیکن سالوں کے دوران، ریایکٹر حادثات شدید علالت، اسقاط اور پیدائشی نقائص کی اطلاعات کا باعث بنے ہیں۔ ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ۱۹۶۷ تک سوویت پلاٹونیم پلانٹ پر ہونے والے واقعات چرنوبل کی تباہی سے تین گُنا زیادہ تابکاری کے اخراج کا سبب بن چکے تھے۔
بےشک، اپریل ۱۹۸۶ میں، یوکرین چرنوبل میں ہونے والا یہ موخرالذکر واقعہ ایسا تھا جو شہسرخیوں کی زینت بن گیا۔ ۱۹۷۰ کے دہے کے دوران چرنوبل پلانٹ کے ڈپٹی چیف نیوکلیئر انجینئر گریگری میڈویڈف وضاحت کرتے ہیں کہ ”جہاں تک دیرپا اثرات کا تعلق ہے،“ فضا میں شامل ”دیر تک قائم رہنے والی تابکاری کی بہت بڑی مقدار دس ہیروشیما بموں کے برابر ہے۔“
اپنی کتاب چرنوبلسکایا کرونیکا میں میڈویڈف ۱۹۸۰ کے دہے کے وسط تک سابقہ سوویت یونین میں ۱۱ اور ریاستہائے متحدہ میں ۱۲ سنگین نیوکلیئر ریایکٹر کے واقعات کی فہرست پیش کرتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں تھری مائل آئیلینڈ کے مقام پر ۱۹۷۹ میں ہونے والا لرزہخیز حادثہ شامل ہے۔ اس واقعہ کی بابت میڈویڈف لکھتا ہے: ”اس نے نیوکلیئر توانائی کے خلاف پہلی کاری ضرب لگائی اور نیوکلیئر توانائی کے کارخانوں کے تحفظ کی بابت اوہام کو بہتیروں کے ذہنوں سے دُور کر دیا—مگر تمام کے ذہنوں سے نہیں۔“
اس سے وضاحت ہوتی ہے کہ کس وجہ سے ابھی تک افسوسناک حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ۱۹۹۲ کے دوران روس میں یہ تقریباً ۲۰ فیصد تک بڑھ گئے۔ اُسی سال مارچ میں، سینٹ پیٹرز برگ، روس میں، سوسنووی بور پاور سٹیشن کے مقام پر ان واقعات میں سے ایک کے بعد، تابکاری کے درجات شمال مشرقی برطانیہ میں ۵۰ فیصد تک بڑھ گئے اور ایستونیا اور جنوبی فنلینڈ میں عام انتہائی درجے کے دو گُنا تک پہنچ گئے۔ نیوکیسل یونیورسٹی کے پروفیسر جاؔن ارکرٹ تسلیم کرتے ہیں: ”میں اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا کہ یہ سوسنووی بور ہی تھا جس نے تابکاری کے درجے میں اضافہ کِیا—لیکن اگر یہ سوسنووی بور نہیں تھا تو پھر کیا تھا؟“
بعض حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ چرنوبل کی طرز کے ریایکٹر اپنے ڈیزائن میں ناقص ہوتے ہیں اور انکو چلانا نہایت ہی خطرناک ہے۔ تاہم، بجلی کی بہت زیادہ مانگوں کو پورا کرنے میں مدد کے لئے ابھی تک ایک درجن سے زیادہ کو استعمال کِیا جا رہا ہے۔ بعض ریایکٹر آپریٹروں پر بجلی کی پیداوار کو تیز کرنے کی غرض سے حفاظتی آلات کو بند کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ اس طرح کی رپورٹیں فرانس جیسے ممالک کو دہشتزدہ کر دیتی ہیں جو اپنی بجلی کا ۷۰ فیصد پیدا کرنے کے لئے نیوکلیئر پلانٹس کو استعمال کرتا ہے۔ اگر ایک اور ”چرنوبل جیسا واقعہ“ ہو گیا تو ہو سکتا ہےکہ فرانس میں بہت سے پلانٹس کو مستقل طور پر مجبوراً بند کرنا پڑ جائے۔
”محفوظ“ ریایکٹر بھی عمر کے ساتھ ظاہری طور پر غیرمحفوظ بن جاتے ہیں۔ ۱۹۹۳ کے اوائل میں ایک عام حفاظتی جائزے کے دوران، برانسبٹل پر جرمنی کے بہت پرانے ریایکٹروں میں سے ایک ریایکٹر کی فولادی نالیوں میں ایک سو سے زیادہ دراڑیں پائی گئیں۔ فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں بھی ریایکٹروں کے اندر ایسے ہی شگاف پائے گئے ہیں۔ جاپان کے پلانٹ میں پہلا سنگین حادثہ ۱۹۹۱ میں رُونما ہوا جس میں عمر ممکنہ معاون عنصر تھا۔ یہ ریاستہائے متحدہ کیلئے ایسے ہی حادثات کی پیشگوئی کرتا ہے جہاں پر تجارتی ریایکٹروں کا کوئی دو تہائی ایک دہے سے بھی زیادہ پُرانا ہے۔
نیوکلیئر ریایکٹر کے حادثات کسی بھی وقت کہیں پر بھی رُونما ہو سکتے ہیں۔ جتنے زیادہ ریایکٹر، اتنا ہی زیادہ اندیشہ؛ جتنا پرانا ریایکٹر اتنا ہی زیادہ خطرہ۔ ایک اخبار نے انکو بغیر کسی وجہ کے ہی ٹکٹک کرتے ہوئے ٹائم بم اور تابکاری موت کے پھندوں کا نام نہیں دیا تھا۔
اُنہیں نیوکلیئر فضلات کو کہاں پھینکنا چاہئے؟
حال ہی میں فرنچ ایلپس میں دریا کے کنارے ایک تفریحی مقام کو بند اور پولیس کی نگرانی میں دیکھ کر لوگ بہت حیران تھے۔ اخبار دی یورپین نے وضاحت کی: ”دو ماہ قبل بیریلیئم کی زہر آلودگی سے ایک مقامی عورت کی موت واقع ہونے کے بعد تابکاری کیلئے جن جائزوں کا حکم جاری کِیا گیا انہوں نے تفریحی مقام پر تابکاری کے ایسے درجات کا انکشاف کِیا جو گردونواح کے علاقے کے درجات سے ۱۰۰ گُنا زیادہ تھے۔“
بیریلیئم، مختلف طریقوں سے پیدا کی جانیوالی غیرمعمولی طور پر ہلکی دھات جو ہوائی جہاز کی صنعت میں استعمال کی جاتی ہے اور جب اس پر شعاعیں ڈالی جاتی ہیں تو اسے نیوکلیئر پاور سٹیشنوں پر استعمال کِیا جاتا ہے۔ بدیہی طور پر، بیریلیئم بنانے والے ایک کارخانے نے شعاعیں ڈالنے کے خطرناک عمل سے پیدا ہونے والے فاضل مادے کو تفریحی علاقے میں یا اسکے قریب پھینک دیا تھا۔ ”بیریلیئم کا بُرادہ، جب شعاعیں نہ بھی ڈالی گئی ہوں،“ دی یورپین نے لکھا، ”تو یہ صنعتی فضلات کی نہایت زہریلی اقسام میں سے ایک جانی جاتی ہے۔“
اسی اثنا میں، رپورٹ کے مطابق ۳۰ سال کے عرصہ کے دوران تابکاری فضلات کے کوئی ۱۷۰۰۰ کنٹینر نووایا زملیا کے ساحلی پانیوں میں پھینکے گئے جسکو سوویت یونین نے ۱۹۵۰ کے دہے کے اوائل میں نیوکلیئر تجرباتی مقام کے طور پر استعمال کِیا تھا۔ علاوہازیں، نیوکلیئر آبدوزوں کے تابکاری حصوں اور کمازکم ۱۲ ریایکٹروں کے حصوں کو اس بڑے کوڑے دان یعنی پانیوں میں پھینکا گیا۔
خواہ قصداً ہو یا نہ ہو، نیوکلیئر آلودگی خطرناک ہے۔ ۱۹۸۹ میں ناروے کے ساحل پر ڈوبنے والی ایک آبدوز کی بابت ٹائم نے خبردار کِیا: ”ڈوبی ہوئی آبدوز میں سے پہلے ہی کینسر پیدا کرنے والا آئسوٹوپ، سیسیئم-۱۳۷ خارج ہو رہا ہے۔ اب تک اس اخراج کو سمندری زندگی یا انسانی صحت پر اثرانداز ہونے کیلئے بہت کم خیال کِیا جاتا ہے۔ لیکن اس کمسیمولیٹس (آبدوز کا نام) میں دو نیوکلیئر آبدوز گولے بھی تھے جنکے اندر ۱۳ کلوگرام پلاٹونیم تھی جسکے زائل ہونے کی میعاد ۲۴،۰۰۰ سال اور زہر اسقدر زیادہ ہے کہ ایک ذرہ بھی کسی شخص کو ہلاک کر سکتا ہے۔ روسی ماہرین نے آگاہ کِیا کہ پلاٹونیم پانی میں بہہ سکتی اور ۱۹۹۴ کے شروع ہونے تک سمندر کی وسیع حدود کو آلودہ کر سکتی ہے۔“
بےشک، تابکاری فضلات کو تلف کرنا فرانس اور روس کیلئے ہی منفرد مسئلہ نہیں ہے۔ ٹائم رپورٹ دیتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ کے پاس ”تابکار فاضل مادوں کے انبار لگے ہوئے ہیں لیکن اسکو رکھنے کیلئے کوئی مستقل جگہ نہیں ہے۔“ یہ بیان کرتا ہے کہ ”اتلافِجان، سرقہ اور انتظام میں کوتاہی کی وجہ سے ماحولیاتی نقصان“ کے ہمیشہ سر پر منڈلانے والے ”خطرے“ کے ساتھ مُہلک مادوں کے لاکھوں بیرلز عارضی ذخیرہ خانے میں پڑے ہیں۔
اس خطرے کی وضاحت سائبیریا، ٹومسک کے اندر ہتھیاروں کے سابقہ کارخانے میں اپریل ۱۹۹۳ میں پھٹنے والے ایک نیوکلیئر فضلات کے ٹینک سے ہوتی ہے جس نے چرنوبل کی طرح کے ایک دوسرے حادثے کی خوفناک ذہنی تصاویر بنا ڈالیں۔
ظاہر ہے کہ نیوکلیئر خطرے کے فرضی خاتمے کی بنا پر بلند کئے جانے والے امن اور سلامتی کے ہر طرح کے نعروں کی بنیادیں ٹھوس نہیں ہیں۔ اور پھر بھی امن اور سلامتی قریب ہیں۔ ہم کیسے جانتے ہیں؟ (۳ ۸/۱ w۹۴)
[صفحہ 4 پر بکس]
نیوکلیئر طاقتیں
۱۲ اور ابھی عدد بڑھ رہا ہے
اعلان کردہ یا حقیقی: بیلارس، برطانیہ، چین، فرانس، انڈیا، اسرائیل، قازقستان، پاکستان، روس، جنوبی افریقہ، یوکرین، ریاستہائے متحدہ
امکانی: الجیریا، ارجنٹینا، برازیل، ایران، عراق، لیبیا، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، شام، تائیوان
[تصویر]
نیوکلیئر توانائی کا پُرامن استعمال بھی خطرناک ہو سکتا ہے
[تصویر کا حوالہ]
Background: U.S. National Archives photo
[صفحہ 2 پر تصویر کا حوالہ]
Cover: Stockman/International Stock
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
U.S. National Archives photo