یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏10 ص.‏ 27-‏32
  • اپنے گھرانے کی نجات کیلئے سخت محنت کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اپنے گھرانے کی نجات کیلئے سخت محنت کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مسیحی والدین اور اُنکے کردار
  • اُنکی جذباتی ضروریات کی دیکھ‌بھال کرنا
  • اُنکی روحانی ضروریات کی دیکھ‌بھال کرنا
  • راستبازی میں تربیت کرنا
  • تنہا ماں یا باپ والے گھرانے اور سوتیلے خاندان
  • اپنے گھرانے کی نجات کیلئے کام کرتے رہیں!‏
  • اپنے بچے کی بچپن سے تربیت کریں
    خاندانی خوشی کا راز
  • والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندان کامیاب ہو سکتے ہیں!‏
    خاندانی خوشی کا راز
  • اَے اولاد والو!‏ اپنے بچوں کی محبت سے تربیت کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • والدین!‏ اپنے خاندان کی خبرگیری کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏10 ص.‏ 27-‏32

اپنے گھرانے کی نجات کیلئے سخت محنت کریں

‏”‏خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اُنکی پرورش کرو۔“‏—‏افسیوں ۶:‏۴‏۔‏

۱، ۲.‏ آجکل والدین کو کن چیلنجوں کا سامنا ہے؟‏

ایکمشہور رسالے نے اسے انقلاب کا نام دیا۔ یہ ایک مضمون میں تھا جس نے حالیہ سالوں میں خاندان کے اندر رُونما ہونے والی حیرت‌انگیز تبدیلیوں کو بیان کِیا۔ انہیں ”‏طلاق کی وبا، دوبارہ شادی، دوبارہ طلاق، ناجائز اولاد، اور متحد خاندانوں کے اندر نئے دباؤ کا نتیجہ“‏ کہا گیا تھا۔ ایسی مشکلات اور دباؤ کوئی حیران‌کُن بات نہیں ہیں کیونکہ بائبل نے پیشینگوئی کی تھی کہ ”‏اخیر زمانہ“‏ میں لوگ ”‏بُرے دنوں“‏ کا سامنا کرینگے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵‏۔‏

۲ اسلئے آجکل والدین ایسے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں جو پچھلی نسلوں کے علم میں بھی نہ تھے۔ اگرچہ ہمارے درمیان بعض والدین نے ”‏بچپن سے“‏ اپنے بچوں کی پرورش خدا کی راہوں میں کی ہے تو بھی بہت سے خاندانوں نے ابھی حال ہی میں ”‏حق پر [‏چلنا]‏“‏ شروع کِیا ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۵؛‏ ۳-‏یوحنا ۴‏)‏ اُنکے بچے شاید اُسوقت جوان ہوں جب والدین نے اُنہیں خدا کی راہوں کی تعلیم دینی شروع کی تھی۔ مزیدبرآں، ہمارے درمیان تنہا ماں یا باپ والے خاندانوں اور سوتیلے خاندانوں کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔ آپکے حالات چاہے کچھ بھی ہوں پولسؔ رسول کی تلقین عائد ہوتی ہے:‏ ”‏خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اُنکی پرورش کرو۔“‏—‏افسیوں ۶:‏۴‏۔‏

مسیحی والدین اور اُنکے کردار

۳، ۴.‏ (‏ا)‏ کونسے عناصر والدوں کے کردار کو کمزور کرنے کا سبب بنے ہیں؟ (‏ب)‏ مسیحی والدوں کو روزی کمانے والا ہونے سے زیادہ کچھ کیوں ہونا چاہئے؟‏

۳ غور کریں کہ افسیوں ۶:‏۴ (‏این‌ڈبلیو)‏ میں پولسؔ نے اولین طور پر اپنے الفاظ ”‏والدوں“‏ سے مخاطب کئے۔ ایک مصنف وضاحت کرتا ہے کہ پچھلی نسلوں میں ”‏والد ہی اپنے بچوں کی اخلاقی اور روحانی پرورش کے ذمہ‌دار ہوتے تھے؛ والد اپنے بچوں کی تعلیم کے ذمہ‌دار بھی تھے۔ .‏ .‏ .‏ لیکن صنعتی انقلاب نے ایسی قربت سے محروم کر دیا؛ والدوں نے اپنے کھیت اور دوکانیں چھوڑ دیں، کارخانوں اور بعدازاں دفاتر میں کام کرنے کیلئے گھروں کو چھوڑ دیا۔ ماؤں نے بہت سے ایسے فرائض کو اپنے ہاتھ میں لے لیا جنکے لئے کبھی والد ذمہ‌دار تھے۔ بڑھتے بڑھتے، باپ ہونے کا معاملہ تصور کی حد تک رہ گیا۔“‏

۴ مسیحی مردو:‏ اپنے بچوں کی تمام‌تر تربیت اور پرورش اپنی بیویوں کے سر ڈالتے ہوئے صرف روزی کمانے والا ہونے پر ہی اکتفا نہ کریں۔ امثال ۲۴:‏۲۷ نے قدیم وقتوں کے والدوں کو تلقین کی تھی:‏ ”‏اپنا کام باہر تیار کر۔ اُسے اپنے لئے کھیت میں درست کر لے۔ اور اُسکے بعد اپنا گھر بنا۔“‏ آجکل اسی طرح ایک مزدور کی مانند شاید آپکو بھی روزی کمانے کے لئے بہت دیر تک اور بڑی محنت سے کام کرنے کی ضرورت ہو۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸‏)‏ تاہم، اسکے بعد مہربانی سے جذباتی اور روحانی طور پر ”‏اپنا گھر [‏بنانے]‏“‏ کیلئے وقت نکالیں۔‏

۵.‏ مسیحی بیویاں اپنے گھرانوں کی نجات کیلئے کسطرح کام کر سکتی ہیں؟‏

۵ مسیحی بیویو:‏ آپکو بھی اپنے گھرانوں کی نجات کیلئے سخت محنت کرنا لازم ہے۔ امثال ۱۴:‏۱ کہتی ہے:‏ ”‏دانا عورت اپنا گھر بناتی ہے۔“‏ بیاہتا ساتھیوں کے طور پر آپ اور آپکا شوہر اپنی اولاد کی تربیت کرنے کی ذمہ‌داری مل کر اُٹھاتے ہیں۔ (‏امثال ۲۲:‏۶؛‏ ملاکی ۲:‏۱۴)‏ اس میں اپنے بچوں کو تادیب کرنا، مسیحی اجلاسوں اور میدانی خدمتگزاری کیلئے یا جب آپکا شوہر ایسا کرنے کے لائق نہ ہو تو خاندانی مطالعہ کروانے کیلئے بھی اُنہیں تیار کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے بچوں کو گھریلو مہارتیں، اچھے آداب‌واطوار، جسمانی صحت، اور دیگر بہت سے مفید کام سکھانے میں بھی بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ (‏ططس ۲:‏۵‏)‏ جب شوہر اور بیویاں اس طرح مل کر کام کرتے ہیں تو پھر وہ اپنے بچوں کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کر سکتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک ضروریات کونسی ہیں؟‏

اُنکی جذباتی ضروریات کی دیکھ‌بھال کرنا

۶.‏ اپنے بچوں کی جذباتی نشوونما میں مائیں اور باپ کونسے کردار ادا کرتے ہیں؟‏

۶ ”‏جب ایک دودھ پلانے والی ماں اپنے بچوں کو پیار کرتی ہے“‏ تو اُنہیں تحفظ، سلامتی، محبت کا احساس ہوتا ہے۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۷‏، این‌ڈبلیو؛ زبور ۲۲:‏۹‏)‏ چند مائیں اپنے شِیرخوار بچوں پر زیادہ توجہ دینے کی خواہش کی مزاحمت کر سکتی ہیں۔ یسعیاہ نبی نے پوچھا تھا:‏ ”‏کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ماں اپنے شِیرخوار کو بھول جائے اور اپنے رحم کے فرزند پر ترس نہ کھائے؟“‏ (‏یسعیاہ ۴۹:‏۱۵‏)‏ لہٰذا بچوں کی جذباتی نشوونما میں مائیں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم، والد بھی اس ضمن میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اتالیقِ‌خاندان پاؔل لوئیس کہتا ہے:‏ ‏”‏میرے پاس کبھی کوئی ایسا سماجی کارکن نہیں آیا جس نے کبھی کسی [‏جرم پیشہ]‏ بچے کو یہ کہتے سنا ہو کہ اُنکا اپنے باپ کیساتھ ایک خوشگوار رشتہ تھا۔ سینکڑوں میں سے ایک بھی نہیں۔“‏

۷، ۸.‏ (‏ا)‏ یہوؔواہ خدا اور اُسکے بیٹے کے درمیان مضبوط بندھن کی کونسی شہادت موجود ہے؟ (‏ب)‏ والد کیسے اپنے بچوں کیساتھ ایک محبت‌آمیز رشتہ پیدا کر سکتے ہیں؟‏

۷ اسلئے یہ لازمی ہے کہ مسیحی والد بڑی احتیاط سے اپنے بچوں کیساتھ ایک محبت‌آمیز بندھن پیدا کریں۔ مثال کے طور پر، یہوؔواہ خدا اور یسوؔع مسیح پر غور کریں۔ یسوؔع کے بپتسمے کے موقع پر یہوؔواہ نے اعلان کِیا:‏ ”‏تُو میرا پیارا بیٹا ہے۔ تجھ سے میں خوش ہوں۔“‏ (‏لوقا ۳:‏۲۲‏)‏ ان چند الفاظ میں بہت کچھ بیان کِیا گیا ہے!‏ یہوؔواہ نے (‏۱)‏ اپنے بیٹے کو قبول کِیا، (‏۲)‏ کُھلے‌عام یسوؔع کیلئے اپنی محبت کا اظہار کِیا، اور (‏۳)‏ یسوؔع کیلئے اپنی خوشنودی کو ظاہر کِیا۔ تاہم، صرف یہی ایک موقع نہیں تھا جب یہوؔواہ نے اپنے بیٹے کیلئے اپنی محبت کو ظاہر کِیا۔ بعدازاں یسوؔع نے اپنے باپ سے کہا:‏ ”‏تُو نے بنایِ‌عالم سے پیشتر مجھ سے محبت رکھی۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۲۴‏)‏ تو پھر کیا واقعی تمام فرمانبردار بیٹوں اور بیٹیوں کو اپنے والدوں کی جانب سے قبولیت، محبت، اور پسندیدگی کی ضرورت نہیں ہے؟‏

۸ اگر آپ ایک باپ ہیں تو غالباً آپ باقاعدگی سے محبت کے مناسب جسمانی اور لفظی اظہارات کرنے سے اپنے بچوں کیساتھ ایک محبت‌آمیز بندھن استوار کرنے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ مانا کہ بعض آدمیوں کیلئے اپنی محبت کو ظاہر کرنا مشکل ہوتا ہے خاص طور پر اگر کبھی اُنہیں اپنے والدوں سے واضح محبت نہیں ملی۔ لیکن اپنے بچے کیلئے محبت ظاہر کرنے کی ذرا سی کوشش ایک زوردار اثر ڈال سکتی ہے۔ بہرصورت، ”‏محبت ترقی کا باعث ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۸:‏۱‏)‏ اگر آپکی پدرانہ محبت کی وجہ سے آپکے بچے محفوظ خیال کرتے ہیں تو وہ ’‏حقیقی بیٹے اور بیٹیاں‘‏ بننے اور آپکی ذات پر اعتماد کرنے کیلئے آزاد محسوس کرنے کی جانب مزید مائل ہونگے۔—‏امثال ۴:‏۳‏۔‏

اُنکی روحانی ضروریات کی دیکھ‌بھال کرنا

۹.‏ (‏ا)‏ کس طرح خداپرست اسرؔائیلی والدین نے اپنے خاندانوں کی روحانی ضروریات کی دیکھ‌بھال کی؟ (‏ب)‏ مسیحیوں کو غیررسمی طور پر اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے کونسے مواقع حاصل ہیں؟‏

۹ بچوں کی روحانی ضروریات بھی ہوتی ہیں۔ (‏متی ۵:‏۳‏)‏ موسیٰ نے اسرؔائیلی والدین کو فہمائش کی:‏ ”‏یہ باتیں جنکا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔ اور تُو انکو اپنی اولاد کے ذہن‌نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت انکا ذکر کِیا کرنا۔“‏ (‏استثنا ۶:‏۶، ۷)‏ اگر آپ ایک مسیحی ماں یا باپ ہیں تو آپ غیررسمی طور پر اپنے تعلیم دینے کی بابت بہت کچھ کر سکتے ہیں، جیسے کہ ”‏راہ چلتے“‏ وقت۔ باہم سیروتفریح کرنے، خریداری کرنے، یا اکٹھے ملکر مسیحی خدمتگزاری میں گھرباگھر جانے میں صرف کِیا گیا وقت ایک پُرسکون فضا میں سکھانے کے خوشگوار مواقع فراہم کرتا ہے۔ کھانے کے اوقات گفتگو کرنے کی غرض سے خاندانوں کیلئے خاص طور پر اچھے وقت ہوتے ہیں۔ ایک ماں نے وضاحت کی:‏ ”‏ہم کھانے کے وقت پر اُن باتوں کی بابت گفتگو کرتے ہیں جو سارے دن کے دوران سامنے آتی ہیں۔“‏

۱۰.‏ بعض‌اوقات خاندانی مطالعہ ایک چیلنج کیوں ہوتا ہے، اور والدین کا عزم کیا ہونا چاہئے؟‏

۱۰ تاہم، اپنے بچوں کے ساتھ باقاعدہ بائبل مطالعے کے ذریعے رسمی انداز میں تعلیم دینا بھی نہایت اہم ہے۔ یہ بات تو ماننے کی ہے کہ ”‏حماقت“‏ بچوں کے ”‏دل سے وابستہ ہے۔“‏ (‏امثال ۲۲:‏۱۵‏)‏ بعض والدین کہتے ہیں کہ اُنکے بچے آسانی کے ساتھ خاندانی مطالعے میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ کیسے؟ مضطرب اور اُکتا دینے والی حرکات کرنے سے، پریشان‌کن خلل‌اندازی کے کام (‏جیسے کہ بہن بھائیوں کے ساتھ لڑائیاں)‏ کرنے سے، یا بائبل کی بنیادی سچائیوں سے جھوٹی غفلت برتنے سے۔ اگر یہ بات اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ کس کی مرضی مضبوط ہے تو ماں یا باپ کی مرضی کو لازماً زیادہ مضبوط ہونا چاہئے۔ مسیحی والدین کو کوشش ترک نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی بچوں کو گھرانے پر حکومت کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔—‏مقابلہ کریں گلتیوں ۶:‏۹‏۔‏

۱۱.‏ خاندانی مطالعے کو پُرلطف کیسے بنایا جا سکتا ہے؟‏

۱۱ اگر آپکے بچے خاندانی مطالعے سے لطف‌اندوز نہیں ہوتے تو شاید کچھ تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کیا مطالعے کو اپنے بچوں کی حالیہ خطاؤں کا اعادہ کرنے کے عذر کے طور پر استعمال کِیا جاتا ہے؟ ایسے مسائل پر خلوت میں گفتگو کرنا شاید اچھا ہوگا۔ کیا آپ کا مطالعہ باقاعدگی سے ہوتا ہے؟ اگر آپ ایک پسندیدہ ٹیلی‌وژن شو یا کھیلوں کے پروگرام کیلئے خاندانی مطالعے کو چھوڑ دیتے ہیں تو غالباً آپکے بچے مطالعے کو اتنا زیادہ سنجیدہ خیال نہیں کرینگے۔ کیا آپ مطالعہ کروانے کے اپنے انداز میں سنجیدہ اور پُرجوش ہیں؟ (‏رومیوں ۱۲:‏۸‏)‏ جی‌ہاں، مطالعے کو پُرلطف ہونا چاہئے۔ تمام بچوں کو شامل کرنے کی کوشش کریں۔ گرمجوشی سے اپنے بچوں کو اُنکی شرکت کیلئے شاباش دیتے ہوئے مثبت اور حوصلہ‌افزائی کرنے والے ہوں۔ ضروری ہے کہ محض مواد کا احاطہ ہی نہ کریں بلکہ دلوں تک پہنچنے کی کوشش کریں۔—‏امثال ۲۳:‏۱۵‏۔‏

راستبازی میں تربیت کرنا

۱۲.‏ تربیت میں ہمیشہ جسمانی سزا شامل کیوں نہیں ہوتی؟‏

۱۲ بچوں کو تربیت کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ماں یا باپ ہونے کے ناطے آپکو اُنکے لئے حدود قائم کرنی چاہئیں۔ امثال ۱۳:‏۲۴ کہتی ہے:‏ ”‏وہ جو اپنی چھڑی کو باز رکھتا ہے اپنے بیٹے سے کینہ رکھتا ہے پر وہ جو اُس سے محبت رکھتا ہے بروقت اُسکو تنبیہ کرتا ہے۔“‏ تاہم، بائبل کا یہ مطلب نہیں کہ تربیت ہمیشہ پٹائی کے ذریعے ہی کی جانی چاہئے۔ امثال ۸:‏۳۳ بیان کرتی ہے:‏ ”‏تربیت کی بات سنو،“‏ اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ ”‏صاحبِ‌فہم پر ایک جھڑکی احمق پر سو کوڑوں سے زیادہ اثر کرتی ہے۔“‏—‏امثال ۱۷:‏۱۰‏۔‏

۱۳.‏ بچے کی تربیت کیسے کی جانی چاہئے؟‏

۱۳ کسی موقع پر کچھ جسمانی تربیت مناسب ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر غصے سے کی جائے تو غالباً یہ حد سے زیادہ اور بے‌اثر ہوگی۔ بائبل خبردار کرتی ہے:‏ ”‏اے اولاد والو!‏ [‏”‏والدو،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اپنے فرزندوں کو دِق نہ کرو تاکہ وہ بیدل نہ ہو جائیں۔“‏ (‏کلسیوں ۳:‏۲۱‏)‏ یقیناً، ”‏ظلم دانشور آدمی کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔“‏ (‏واعظ ۷:‏۷‏)‏ ایک تلخ‌مزاج نوجوان راست معیاروں کے خلاف بغاوت بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا والدین کو ایک مضبوط مگر متوازن طریقے سے راستبازی میں اپنے بچوں کی تربیت کرنے کیلئے صحائف کو استعمال کرنا چاہئے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ خدائی تربیت محبت اور حلم کے ساتھ کی جاتی ہے۔—‏مقابلہ کریں ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۴، ۲۵‏۔‏a

۱۴.‏ اگر وہ غصے سے مغلوب ہونے کی طرف مائل محسوس کریں تو والدین کو کیا کرنا چاہئے؟‏

۱۴ بے‌شک، ”‏ہم سب کے سب اکثر خطا کرتے ہیں۔“‏ (‏یعقوب ۳:‏۲‏)‏ عموماً پیار کرنے والا باپ یا ماں بھی کسی وقت دباؤ کا شکار ہو سکتا اور کوئی سخت بات کہہ سکتا یا غصے کا اظہار کر سکتا ہے۔ (‏کلسیوں ۳:‏۸‏)‏ اگر ایسا واقع ہو ہی جائے تو سورج کے ڈوبنے تک اپنے بچے کو ایسی بڑی پریشانی میں نہ رہنے دیں یا آپ خود مشتعل حالت میں نہ رہیں۔ (‏افسیوں ۴:‏۲۶، ۲۷‏)‏ اپنے بچے کیساتھ معاملات کو نپٹائیں، اگر مناسب دکھائی دے تو معافی بھی مانگ لیں۔ (‏مقابلہ کریں متی ۵:‏۲۳، ۲۴‏۔)‏ ایس فروتنی کو ظاہر کرنا آپکو اور آپکے بچے کو ایکدوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتے اور طیش کے سامنے جھک جائیں گے تو مقررشدہ کلیسیائی بزرگوں سے مدد حاصل کریں۔‏

تنہا ماں یا باپ والے گھرانے اور سوتیلے خاندان

۱۵.‏ تنہا ماں یا باپ والے خاندانوں میں بچوں کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے؟‏

۱۵ تاہم، تمام بچوں کو ماں یا باپ دونوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں، ۴ میں سے ۱ بچہ تنہا ماں یا باپ سے پرورش پا رہا ہے۔ بائبل وقتوں میں ’‏یتیم‘‏ عام ہوا کرتے تھے، اور صحائف میں بارہا انکی بابت فکرمندی کا ذکر کِیا گیا۔ (‏خروج ۲۲:‏۲۲)‏ اسی طرح آجکل بھی تنہا ماں یا باپ والے مسیحی گھرانے بوجھوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات کے علم سے تسلی پاتے ہیں کہ یہوؔواہ ”‏یتیموں کا باپ اور بیواؤں کا دادرس ہے۔“‏ (‏زبور ۶۸:‏۵‏)‏ مسیحیوں کو ”‏یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت کے وقت اُنکی خبر [‏لینے]‏“‏ کی تاکید کی گئی ہے۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۷‏)‏ تنہا ماں یا باپ والے خاندانوں کی مدد کرنے کیلئے ساتھی ایماندار بہت کچھ کر سکتے ہیں۔‏b

۱۶.‏ (‏ا)‏ تنہا والدین کو خود اپنے گھرانوں کی خاطر کیا کرنا چاہئے؟ (‏ب)‏ تربیت کیوں مشکل ہو سکتی ہے لیکن یہ کیوں کی جانی چاہئے؟‏

۱۶ اگر آپ ایک تنہا ماں یا باپ ہیں تو اپنے گھرانے کو فائدہ پہنچانے کیلئے آپ خود کیا کر سکتے ہیں؟ آپکو خاندانی بائبل مطالعہ، اجلاسوں پر حاضری، اور میدانی خدمتگزاری کی بابت مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔ تاہم، تربیت خاص طور پر ایک مشکل چیلنج ہو سکتا ہے۔ شاید آپ ابھی تک موت کے باعث عزیز بیاہتا ساتھی کو کھو دینے کا غم کر رہے ہیں۔ یا شاید آپ شادی کے ٹوٹ جانے پر جرم یا غصے کے احساسات کیساتھ لڑ رہے ہیں۔ اگر بچے کی قانونی تحویل میں آپ اور آپکا سابقہ بیاہتا ساتھی شریک ہیں تو آپکو یہ اندیشہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہیں آپکا بچہ آپکے علیٰحدہ شدہ یا طلاق شدہ ساتھی کے ساتھ رہنے کو زیادہ ترجیح نہ دینے لگے۔ ایسی حالتیں متوازن تربیت کرنے کو جذباتی طور پر مشکل بنا سکتی ہیں۔ تاہم، بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ”‏جو لڑکا بے‌تربیت چھوڑ دیا جاتا ہے اپنی ماں کو رسوا کریگا۔“‏ (‏امثال ۲۹:‏۱۵‏)‏ لہٰذا سابقہ بیاہتا ساتھی کی جانب سے کسی جرم، ندامت، یا جذباتی دباؤ تلے دب نہ جائیں۔ معقول اور بااصول معیار قائم کریں۔ بائبل کے اصولوں کیساتھ مصالحت نہ کریں۔—‏امثال ۱۳:‏۲۴‏۔‏

۱۷.‏ ایک تنہا ماں یا باپ والے گھرانے میں خاندانی افراد کے کردار کس طرح پھیکے پڑ سکتے ہیں، اور اس کو روکنے کیلئے کیا کِیا جا سکتا ہے؟‏

۱۷ اگر ایک تنہا ماں اپنے بیٹے کو اپنے شریکِ‌زندگی—‏گھر کے سردار—‏کے اختیارات دے دیتی ہے یا تمام ذاتی مسائل کا بوجھ اپنی بیٹی پر ڈالتے ہوئے اُس کیساتھ ایک ہمراز کے طور پر پیش آتی ہے تو مشکلات برپا ہو سکتی ہیں۔ ایسا کرنا نامناسب اور بچے کو اُلجھن میں ڈالنے والا ہے۔ جب ماں باپ اور بچے کے کردار پھیکے پڑ جاتے ہیں تو تربیت ناکام ہو سکتی ہے۔ اس بات کو واضح کریں کہ آپ ماں باپ ہیں۔ اگر آپ بائبل پر مبنی نصیحت کی حاجتمند ایک ماں ہیں تو اسے بزرگوں یا شاید پُختہ عمررسیدہ بہن سے حاصل کریں۔—‏مقابلہ کریں ططس ۲:‏۳-‏۵‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ (‏ا)‏ سوتیلے خاندانوں کو درپیش بعض چیلنج کونسے ہیں؟ (‏ب)‏ ایک سوتیلے خاندان میں والدین اور بچے کسطرح حکمت اور فہم دکھا سکتے ہیں؟‏

۱۸ اسی طرح سوتیلے خاندان بھی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔ اکثر، سوتیلے والدین جان لیتے ہیں کہ ”‏سوتیلے بچوں کی طرف سے فوری محبت“‏ شاذونادر ہی حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سوتیلے بچے حقیقی بچوں کے حق میں دکھائی جانیوالی کسی بھی پاسداری کیلئے بہت حساس ہو سکتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں پیدایش ۳۷:‏۳، ۴‏۔)‏ دراصل، سوتیلے بچے شاید مرحوم ماں یا باپ کے غم کا مقابلہ کر رہے ہوں اور اس خوف میں ہوں کہ سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ سے پیار کرنا کسی نہ کسی طرح اُنکے حقیقی ماں یا باپ کیساتھ بے‌وفائی ہوگا۔ درکار تربیت دینے کی کاوشوں کو شاید اس تُند یاددہانی کا سامنا کرنا پڑے، ’‏تم میرے اصلی باپ یا ماں نہیں ہو!‏‘‏

۱۹ امثال ۲۴:‏۳ کہتی ہے:‏ ”‏حکمت سے گھر تعمیر کِیا جاتا ہے اور فہم سے اُسکو قیام ہوتا ہے۔“‏ جی‌ہاں، ایک سوتیلے خاندان کے کامیاب ہونے کیلئے تمام کی طرف سے حکمت اور فہم درکار ہوتا ہے۔ وقت آنے پر، بچوں کو لازماً اکثر دردناک حقائق کو قبول کر لینا چاہئے کہ حالات بدل گئے ہیں۔ ظاہری استرداد کا سامنا کرتے وقت جلدی سے ناراض نہ ہوتے ہوئے سوتیلے والدین کو بھی اسی طرح سیکھنے کی ضرورت ہے کہ صابر اور شفیق ہوں۔ (‏امثال ۱۹:‏۱۱؛‏ واعظ ۷:‏۹‏)‏ تربیت دینے والے کا کردار سنبھالنے سے پہلے سوتیلے بچے کیساتھ دوستی پیدا کرنے کے لئے کام کریں۔ جب تک ایسا رشتہ قائم نہیں ہو جاتا، بعض شاید اسے بہتر خیال کریں کہ حقیقی ماں یا باپ تربیت کریں۔ جب تناؤ پیدا ہوتے ہیں تو رابطہ قائم کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ امثال ۱۳:‏۱۰ کہتی ہے ”‏مشورت‌پسند کیساتھ حکمت ہے۔“‏c

اپنے گھرانے کی نجات کیلئے کام کرتے رہیں!‏

۲۰.‏ مسیحی خاندان کے سرداروں کو کیا کرتے رہنا چاہئے؟‏

۲۰ مضبوط مسیحی خاندان کوئی غیرمتوقع واقعہ نہیں ہیں۔ آپ خاندان کے سرداروں کو اپنے گھرانوں کی نجات کی خاطر جانفشانی کرتے رہنا چاہئے۔ غیرصحت بخش خصائل اور دنیاوی رغبتوں پر نگاہ رکھتے ہوئے ہوشیار رہیں۔ گفتگو، چال‌چلن، محبت، ایمان، اور پاکیزگی میں ایک اچھا نمونہ قائم کریں۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۲‏)‏ خدا کی روح کے پھلوں کو ظاہر کریں۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ اپنے بچوں کو خدا کی راہوں کی تعلیم دینے کے لئے صبر، پاس‌ولحاظ، معافی، اور شفقت آپ کی کوششوں کو مضبوط بنائینگی۔—‏کلسیوں ۳:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

۲۱.‏ کسی کے گھر میں ایک پُرتپاک، خوش‌کن ماحول کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے؟‏

۲۱ خدا کی مدد کیساتھ، اپنے گھر کے اندر ایک خوش‌کن، پُرتپاک جذبے کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ روزانہ کم‌ازکم ایک کھانا ملکر کھانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک خاندان کے طور پر اکٹھے وقت صرف کریں۔ مسیحی اجلاس، میدانی خدمت، اور خاندانی مطالعہ نہایت ضروری ہیں۔ لیکن پھر بھی ”‏ہنسنے کا ایک وقت ہے .‏ .‏ .‏ اور ناچنے کا ایک وقت ہے۔“‏ (‏واعظ ۳:‏۴‏)‏ جی‌ہاں، تقویت‌بخش تفریح کے اوقات کا جدول بنائیں۔ عجائب گھروں، چڑیا گھروں اور ایسی ہی جگہوں کی سیر پورے خاندان کیلئے پُرلطف ہے۔ یا شاید آپ ٹی‌وی بند کرکے گانا گانے، موسیقی سننے، کھیل کھیلنے، اور بات‌چیت کرنے میں وقت صرف کر سکتے ہیں۔ یہ ایکدوسرے کی قربت میں آنے کیلئے خاندان کی مدد کر سکتا ہے۔‏

۲۲.‏ اپنے گھرانے کی نجات کیلئے آپکو سخت محنت کیوں کرنی چاہئے؟‏

۲۲ دعا ہے کہ آپ سب مسیحی والدین پورے طور پر یہوؔواہ کو شاد کرنا جاری رکھیں اور ”‏[‏آپ]‏ میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے اور خدا کی پہچان میں بڑھتے [‏جائیں]‏۔“‏ (‏کلسیوں ۱:‏۱۰‏)‏ خدا کے کلام کی فرمانبرداری کی ٹھوس بنیاد پر اپنے گھرانے کو تعمیر کریں۔ (‏متی ۷:‏۲۴-‏۲۷‏)‏ اور اس بات پر یقین رکھیں کہ ”‏خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر“‏ اپنے بچوں کی پرورش کرنے کیلئے آپکی کوششوں کو اُسکی خوشنودی حاصل ہوگی۔—‏افسیوں ۶:‏۴‏۔ (‏۱۵ ۷/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ستمبر ۸، ۱۹۹۲ کے اویک!‏ (‏انگریزی)‏ میں دیکھیں مضمون ”‏بائبل کا نقطۂ‌نظر:‏ ’‏تربیت کی چھڑی‘‏—‏کیا یہ متروک ہو گئی ہے؟“‏

b ستمبر ۱۵، ۱۹۸۰ کے دی واچ‌ٹاور، صفحات ۱۵-‏۲۶ کو دیکھیں۔‏

c اکتوبر ۱۵، ۱۹۸۴ کے واچ‌ٹاور، صفحات ۲۱-‏۲۵ کو دیکھیں۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ اپنے گھرانے کو تعمیر کرنے میں ایک شوہر اور بیوی کسطرح تعاون کر سکتے ہیں؟‏

بچوں کی بعض جذباتی ضروریات کونسی ہیں، اور انکو کیسے پورا کِیا جا سکتا ہے؟‏

خاندان کے سردار کسطرح رسمی اور غیررسمی طور پر اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں؟‏

والدین راستبازی میں تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟‏

تنہا ماں یا باپ والے خاندانوں اور سوتیلے خاندانوں کے فائدے کیلئے کیا کِیا جا سکتا ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

ایک بچے کی جذباتی نشوونما کیلئے ایک باپ کی شفقت اور پسندیدگی بہت اہم ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں