یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏10 ص.‏ 22-‏27
  • اپنی شادی کو ایک دائمی بندھن بنائیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اپنی شادی کو ایک دائمی بندھن بنائیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • شادی کی استقامت
  • سرداری اور تابعداری
  • رابطہ—‏شادی کا خونِ‌حیات
  • نااتفاقیوں سے نپٹنا
  • ایکدوسرے کے وفادار رہیں
  • شادی کے بندھن کو مضبوط بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • جسے خدا نے جوڑا ہے اُسے جُدا نہ کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • ایک پائدار شادی کیلئے دو کُنجیاں
    خاندانی خوشی کا راز
  • اپنے ازدواجی بندھن کو مضبوط اور خوش‌گوار بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏10 ص.‏ 22-‏27

اپنی شادی کو ایک دائمی بندھن بنائیں

‏”‏جسے خدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جدا نہ کرے۔“‏—‏متی ۱۹:‏۶‏۔‏

۱.‏ آجکل سچے مسیحیوں کے درمیان ازدواجی کامیابی کیلئے بنیاد کیا ہے؟‏

یہوؔواہ کے لوگوں کے درمیان ہزاروں آجکل اطمینان‌بخش اور پائیدار شادیوں سے لطف‌اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم، ایسی بڑی کامیابی شاید ہی کوئی حادثہ ہے۔ مسیحی شادیاں اسوقت فروغ پاتی ہیں جب دونوں ساتھی (‏ا)‏ شادی کی بابت خدائی نظریے کا احترام کرتے ہیں اور (‏۲)‏ اُس کے کلام کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرکیف، یہ خود خدا ہی تھا جس نے ازدواجی بندوبست کا آغاز کِیا۔ وہی ہے ’‏جس سے زمین کا ہر ایک خاندان نامزد ہے۔‘‏ (‏افسیوں ۳:‏۱۴، ۱۵‏)‏ چونکہ یہوؔواہ جانتا ہے کہ شادی کو کامیاب بنانے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہم اُس کی ہدایت پر عمل‌پیرا ہوکر خود کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔—‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷‏۔‏

۲.‏ شادی میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے میں ناکامی کے نتائج کیا ہیں؟‏

۲ اسکے برعکس، بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے میں ناکامی ازدواجی بدحالی پر منتج ہو سکتی ہے۔ بعض ماہرین یقین کرتے ہیں کہ آجکل ریاستہائے متحدہ میں شادی کرنے والوں کا تقریباً دو تہائی حصہ انجام‌کار طلاق حاصل کر لیگا۔ مسیحی بھی ان ”‏بُرے [‏دنوں]‏“‏ کی مشکلات اور بوجھوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏)‏ معاشی کشیدگیاں اور جائے‌ملازمت کے دباؤ کسی بھی شادی پر مُضر اثر ڈال سکتے ہیں۔ بعض مسیحی بھی بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے میں اپنے بیاہتا ساتھیوں کی ناکامی کے باعث بُری طرح مایوس ہوئے ہیں۔ ”‏میں یہوؔواہ سے پیار کرتی ہوں،“‏ ایک مسیحی بیوی کہتی ہے، ”‏لیکن میری شادی ۲۰ سالوں سے مسائل سے پُر رہی ہے۔ میرا شوہر نہایت خودغرض ہے اور کوئی تبدیلیاں نہیں لانا چاہتا۔ میں جال میں جکڑی ہوئی محسوس کرتی ہوں۔“‏ کافی مسیحی شوہروں اور بیویوں نے ایسے ہی جذبات کا اظہار کِیا ہے۔ کیا خرابی ہو جاتی ہے؟ اور کونسی چیز کسی شادی کو سردمہر بے‌اعتنائی یا یکسر مخالفت کا شکار ہونے سے بچا سکتی ہے؟‏

شادی کی استقامت

۳، ۴.‏ (‏ا)‏ شادی کیلئے خدا کا معیار کیا ہے؟ (‏ب)‏ شادی کی استقامت واجب اور فائدہ‌مند کیوں ہے؟‏

۳ بہترین حالات کے تحت بھی شادی ناکامل اشخاص کا ملاپ ہی ہوتی ہے۔ (‏استثنا ۳۲:‏۵)‏ اسی لئے پولسؔ رسول نے کہا کہ ”‏ایسے لوگ [‏جو شادی کرتے ہیں]‏ جسمانی تکلیف پائینگے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۲۸‏)‏ بعض سنگین حالات علیٰحدگی یا طلاق کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ (‏متی ۱۹:‏۹؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۲-‏۱۵‏)‏ تاہم، بیشتر معاملوں میں مسیحی پولسؔ کی نصیحت کا اطلاق کرتے ہیں:‏ ”‏بیوی اپنے شوہر سے جدا نہ ہو۔ .‏ .‏ .‏ نہ شوہر بیوی کو چھوڑے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۰، ۱۱‏)‏ یقیناً، شادی کو ایک مستقل بندھن ہونا تھا، کیونکہ یسوؔع مسیح نے بیان کیا:‏ ”‏جسے خدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جدا نہ کرے۔“‏—‏متی ۱۹:‏۶‏۔‏

۴ ایسے شخص کے نزدیک یہوؔواہ کے معیار سخت اور غیرمعقول ہو سکتے ہیں جو ایک معاندانہ یا محبت سے عاری شادی میں پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ازدواجی بندھن کی استقامت ایک خداپرست جوڑے کو تحریک دیتی ہے کہ مصیبت کی پہلی ہی علامت پر اپنی ذمہ‌داریوں سے فوراً دستبردار ہو جانے کی بجائے ان کا مقابلہ کرے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ ایک آدمی نے جو ۲۰ سالوں سے زیادہ عرصہ کے لئے شادی شدہ تھا اسے یوں بیان کِیا:‏ ”‏آپ مشکل اوقات سے بچ نہیں سکتے۔ آپ ایکدوسرے کے ساتھ ہر وقت خوش نہیں رہ سکیں گے۔ یہی وہ وقت ہے جب عہدوپیمان واقعی اہم ہوتا ہے۔“‏ بیشک، مسیحی شادی شدہ جوڑے شادی کے بانی، یہوؔواہ خدا کے حضور اولین ذمہ‌داری کا احساس رکھتے ہیں۔—‏مقابلہ کریں واعظ ۵:‏۴‏۔‏

سرداری اور تابعداری

۵.‏ شوہروں اور بیویوں کیلئے پولسؔ کی مشورت میں سے کچھ کیا ہے؟‏

۵ اسلئے جب مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو یہ راہِ‌فرار حاصل کرنے کی بجائے خدا کے کلام کی نصیحت کا اطلاق کرنے کیلئے بہتر طریقے کی تلاش کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر افسیوں ۵:‏۲۲-‏۲۵،‏ ۲۸، ۲۹ میں پائے جانے والے پولسؔ کے ان الفاظ پر غور کریں:‏ ”‏اَے بیویو!‏ اپنے شوہروں کی اَیسی تابع رہو جیسے خداوند کی۔ کیونکہ شوہر بیوی کا سر ہے جیسے کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے۔ لیکن جیسے کلیسیا مسیح کے تابع ہے ویسے ہی بیویاں بھی ہر بات میں اپنے شوہروں کے تابع ہوں۔ اَے شوہرو!‏ اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کرکے اپنے آپ کو اُسکے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔ اِسی طرح شوہروں کو لازم ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں۔ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے محبت رکھتا ہے۔ کیونکہ کبھی کسی نے اپنے جسم سے دشمنی نہیں کی بلکہ اُسکو پالتا اور پرورش کرتا ہے جیسے کہ مسیح کلیسیا کو۔“‏

۶.‏ مسیحی شوہروں کو دنیاوی آدمیوں سے کسطرح فرق ہونا ہے؟‏

۶ مردوں نے اکثر شوہر ہونے کے اپنے اختیار کو غلط استعمال کِیا اور اپنی بیویوں پر حکومت جتائی ہے۔ (‏پیدایش ۳:‏۱۶‏)‏ تاہم، پولسؔ نے مسیحی شوہروں کو تلقین کی کہ دنیا کے آدمیوں سے فرق ہوں، مسیح کی مانند بنیں، اپنی بیویوں کے وجود کی ہر چھوٹی بڑی بات پر قابو رکھنے والے ظالم آقا نہ بن جائیں۔ یقیناً، انسان یسوؔع مسیح کبھی بھی سخت اور حکومت جتانے والا نہیں تھا۔ اُس نے یہ کہتے ہوئے اپنے پیروکاروں کیساتھ عزت اور احترام دالا سلوک کیا:‏ ”‏اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تمکو آرام دونگا۔ میرا جوا اپنے اوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔“‏—‏متی ۱۱:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

۷.‏ ایک مرد اپنی بیوی کو کسطرح عزت دے سکتا ہے جب اُسے کوئی دنیاوی کام کرنا پڑتا ہے؟‏

۷ ایک مسیحی شوہر اپنی بیوی کو نازک ظرف جانکر عزت دیتا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۷‏)‏ مثال کیطور پر، فرض کریں کہ اُسے کسی دنیاوی ملازمت پر کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ جتنا ممکن ہو سکے مددگار اور بامروّت ہونے سے اس بات کا خیال رکھیگا۔ طلاق کی سب بڑی وجہ جو عورتوں نے پیش کی ہے وہ گھر یا بچوں کی بابت اُنکے شوہر کی غفلت ہے۔ اسلئے، ایک مسیحی شوہر گھر میں اُسکے لئے ایسے معنی‌خیز طریقوں سے مددگار ہونے کی کوشش کرتا ہے جو سارے خاندان کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔‏

۸.‏ مسیحی بیویوں کیلئے تابعداری میں کیا کچھ شامل ہے؟‏

۸ مسیحی بیویوں سے عزت کیساتھ پیش آنا اُن کیلئے اپنے شوہروں کی تابعداری میں رہنا آسان بنا دیتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب حقیر غلامی نہیں ہے۔ خدا نے فرمایا کہ بیوی کو غلام نہیں بلکہ ”‏مددگار“‏ (‏”‏ساتھی،“‏ این‌ڈبلیو فٹ‌نوٹ)‏ ہونا تھا، مطلب یہ کہ ایسی چیز ہونا تھا جو آدمی کیلئے موزوں ہو۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۸‏)‏ ملاکی ۲:‏۱۴ میں، بیوی کو آدمی کے ”‏رفیق“‏ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بائبل وقتوں میں اسی حیثیت سے بیویاں بڑی حد تک آزادی اور خودمختاری سے لطف اُٹھاتی تھیں۔ ”‏نیکوکار بیوی“‏ کے سلسلے میں بائبل کہتی ہے:‏ ”‏اُسکے شوہر کے دل کو اُس پر اعتماد ہے۔“‏ بلا‌شُبہ، ایسے معاملات اُسکے سپرد کئے گئے تھے جیسے کہ گھرانے کا عام بندوبست کرنا، خوراک کی خریداری کی نگرانی کرنا، غیرمنقولہ جائداد کے لین‌دین کی بابت فیصلے کرنا اور کوئی چھوٹا سا کاروبار چلانا۔—‏امثال ۳۱:‏۱۰-‏۳۱‏۔‏

۹.‏ (‏ا)‏ بائبل وقتوں میں خداپرست عورتوں نے کیسے حقیقی تابعداری ظاہر کی؟ (‏ب)‏ آجکل اطاعت‌شعار رہنے میں کونسی چیز ایک مسیحی بیوی کی مدد کر سکتی ہے؟‏

۹ تاہم، خداپرست بیوی اپنے شوہر کے اختیار کو تسلیم کرتی تھی۔ مثال کے طور پر، ساؔرہ ”‏ابرؔہام کے حکم میں رہتی اور اُسے خداوند کہتی تھی،“‏ کسی مہذب رسم کے طور پر نہیں بلکہ اپنی تابعداری کے مخلص اظہار کے طور پر۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۶؛‏ پیدایش ۱۸:‏۱۲‏)‏ اُس نے اپنے شوہر کیساتھ خیموں میں بودوباش کرنے کیلئے خوشی سے اُوؔر کے شہر میں اپنے آرام‌دہ گھر کو پیچھے چھوڑ دیا۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۸، ۹‏)‏ لیکن تابعداری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ضرورت کے وقت بیوی کوئی ذمہ‌دارانہ قدم نہیں اُٹھا سکتی۔ جب موسیٰ ختنے کے سلسلے میں خدائی حکم کی تعمیل کرنے میں ناکام ہو گیا تو اُسکی بیوی صفوؔرہ نے دانشمندی سے عمل کرکے مصیبت کو اُسکے آنے سے پہلے ہی ٹال دیا۔ (‏خروج ۴:‏۲۴-‏۲۶)‏ اس میں ایک ناکامل انسان کو خوش کرنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ بیویاں ”‏اپنے شوہروں کی اَیسی تابع [‏رہیں]‏ جیسے خداوند کی۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۲۲‏)‏ جب ایک مسیحی بیوی خدا کے ساتھ اپنے رشتے کو مدِنظر رکھ کر سوچتی ہے تو یہ اپنے شوہر کی چھوٹی چھوٹی سی خطاؤں اور خامیوں کو نظرانداز کرنے میں اُسکی مدد کرتا ہے، جیسے کہ اُسے بھی اُسے کے ساتھ تعلقات میں ایسا ہی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔‏

رابطہ—‏شادی کا خونِ‌حیات

۱۰.‏ شادی کیلئے رابطہ کتنا ضروری ہے؟‏

۱۰ جب بیاہتا جوڑوں کے علیٰحدہ ہو جانے کی ایک بڑی وجہ کی بابت پوچھا گیا تو ایک طلاق کے ماہر وکیل نے جواب دیا:‏ ”‏ایکدوسرے کیساتھ دیانتداری سے گفتگو کرنے کی نااہلیت، اپنے دلی خیالات کا اظہار کریں اور ایکدوسرے کیساتھ بہترین دوست کی طرح پیش آئیں۔“‏ جی‌ہاں، رابطہ ایک مستحکم شادی کا خونِ‌حیات ہے۔ جیسے کہ بائبل کہتی ہے:‏ ”‏صلاح کے بغیر اِرادے پورے نہیں ہوتے۔“‏ (‏امثال ۱۵:‏۲۲‏)‏ شوہروں اور بیویوں کو ایک گرمجوش، قریبی رشتے سے لطف‌اندوز ہونے والے ’‏ہمراز دوست‘‏ ہونے کی ضرورت ہے۔ (‏امثال ۲:‏۱۷‏)‏ تاہم، جب رابطے کی بات آتی ہے تو بہتیرے جوڑے بات‌چیت کرنا مشکل پاتے ہیں اور یوں خفگی اسوقت تک بڑھتی رہتی ہے جبتک کہ تباہ‌کن غصے کا بے‌قابو اظہار نہیں ہو جاتا۔ یا شاید شادی شدہ جوڑے خود کو ایکدوسرے سے جذباتی طور پر دُور لے جاتے ہوئے شائستگی کی ایک مغالطہ‌آمیز باریک پرت کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔‏

۱۱.‏ شوہر اور بیوی کے درمیان رابطہ کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟‏

۱۱ اس مسئلے کا ایک حصہ تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ مرد اور عورتیں اکثر رابطے کے مختلف انداز رکھتے ہیں۔ زیادہ‌تر عورتیں احساسات کی بابت گفتگو کرتے ہوئے پُرسکون محسوس کرتی ہیں جبکہ مرد عام طور پر حقائق پر گفتگو کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عورتیں ہمدردی دکھانے اور جذباتی حمایت کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں جبکہ مرد حل ڈھونڈنے اور پھر اُنہیں سامنے لانے کا رجحان رکھتے ہیں۔ پھر بھی، وہاں پر اچھے رابطے کا امکان موجود ہوتا ہے جہاں پر دونوں ساتھی ”‏سننے میں تیز اور بولنے میں [‏دھیرے]‏ اور قہر میں [‏دھیمے]‏“‏ ہونے کیلئے مُصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۹‏)‏ عینی رابطہ رکھیں اور حقیقت میں توجہ دیں۔ بامروّت سوالات کے ذریعے ایکدوسرے کو کُھل کر بولنے کا موقع دیں۔ (‏مقابلہ کریں ۱-‏سموئیل ۱:‏۸؛‏ امثال ۲۰:‏۵‏۔)‏ جب کبھی آپکا ساتھی کوئی مسئلہ سامنے لاتا ہے تو جب آپ معاملات کو نپٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو اسکا فوری حل پیش کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے غور سے سنیں۔ اور الہٰی ہدایت کے طالب ہوتے ہوئے فروتنی سے مل کر دعا کریں۔—‏زبور ۶۵:‏۲؛‏ رومیوں ۱۲:‏۱۲‏۔‏

۱۲.‏ مسیحی بیاہتا ساتھی ایک دوسرے کیلئے وقت کسطرح نکال سکتے ہیں؟‏

۱۲ بعض‌اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی کی مشکلات اور دباؤ شادی‌شدہ ساتھیوں کو معنی‌خیز گفتگو کرنے کیلئے بہت کم وقت یا قوت دیتے ہیں۔ تاہم، اگر مسیحیوں کو اپنی شادی کو باعزت رکھنا اور اسے آلودہ ہونے سے بچانا ہے تو اُنہیں ضرور ایکدوسرے کے قریب رہنا چاہئے۔ اُنہیں اپنے بندھن کو بیش‌قیمت، قابلِ‌قدر چیز سمجھنا چاہئے اور اسکے لئے اور ایکدوسرے کیلئے وقت ضرور نکالنا چاہئے۔ (‏مقابلہ کریں کلسیوں ۴:‏۵‏۔)‏ بعض حالات میں تو خوشگوار گفتگو کیلئے وقت نکالنا اتنا ہی آسان ہو سکتا ہے جتنا کہ ٹی‌وی کو بند کرنا۔ باقاعدگی کیساتھ باہم ملکر چائے یا کافی پینا شادی شدہ ساتھیوں کی جذباتی طور پر رابطہ رکھنے کیلئے مدد کر سکتا ہے۔ ایسے مواقع پر وہ مختلف خاندانی معاملات کی بابت ’‏آپس میں صلاح مشورہ‘‏ کر سکتے ہیں۔ (‏امثال ۱۳:‏۱۰‏)‏ اور چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور غلط‌فہمیوں پر گفتگو کرنے کی عادت کو ترقی دینا کتنی دانشمندی کی بات ہے اس سے پہلے کہ وہ کشیدگی کی بڑی وجوہات بن جائیں!‏—‏مقابلہ کریں متی ۵:‏۲۳، ۲۴؛‏ افسیوں ۴:‏۲۶‏۔‏

۱۳.‏ (‏ا)‏ صاف‌گوئی اور دیانتداری کے سلسلے میں یسوؔع نے کیا نمونہ قائم کیا؟ (‏ب)‏ چند طریقے کیا ہیں جن سے شادی شدہ ساتھی ایکدوسرے کے قریب آ سکتے ہیں؟‏

۱۳ ایک آدمی نے تسلیم کِیا:‏ ”‏اکثر اوقات میرے لئے اپنا اظہارِخیال کرنا اور [‏اپنی بیوی]‏ کو بالکل ویسے ہی بتانا جیسے کہ میں محسوس کرتا ہوں مشکل ہوتا ہے۔“‏ لہٰذا، خودکُشائی قربت کو بڑھانے کی ایک اہم کُنجی ہے۔ غور کریں کہ یسوؔع اپنی دلہن جماعت کے امکانی ممبروں کیساتھ کسقدر صاف‌گو اور دیانتدار تھا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏اب سے میں تمہیں نوکر نہ کہونگا کیونکہ نوکر نہیں جانتا کہ اُسکا مالک کیا کرتا ہے بلکہ تمہیں میں نے دوست کہا ہے۔ اسلئے کہ جو باتیں میں نے اپنے باپ سے سنیں وہ سب تمکو بتا دیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۵:‏۱۵‏)‏ پس اپنے رفیقِ‌حیات کو دوست سمجھیں۔ اپنے احساسات میں اپنے ساتھی کو شریک کریں۔ سادہ، پُرخلوص ”‏محبت کے اظہارات“‏ کرنے کی کوشش کریں۔ (‏غزلُ‌الغزلات ۱:‏۲‏، این‌ڈبلیو)‏ کُھلا رابطہ بعض‌اوقات سخت مشکل دکھائی دے سکتا ہے، لیکن جب دونوں شادی شدہ ساتھی کافی کوشش کرتے ہیں تو اپنی شادی کو ایک دائمی بندھن بنانے کیلئے بہت کچھ کامیابی سے انجام دیا جا سکتا ہے۔‏

نااتفاقیوں سے نپٹنا

۱۴، ۱۵.‏ جھگڑا کرنے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟‏

۱۴ واجب نااتفاقیوں کا بار بار اُٹھ کھڑے ہونا لازمی بات ہے۔ لیکن آپ کے گھرانے کو ’‏جھگڑے سے پُر گھر‘‏ کی شکل اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (‏امثال ۱۷:‏۱‏)‏ اسوقت نازک معاملات پر بات‌چیت کرنے کی بابت محتاط رہیں جبکہ شاید بچے اسے سن لیں اور اپنے ساتھی کے احساسات کیلئے پاس‌ولحاظ دکھائیں۔ جب راخلؔ نے اپنی بانجھ حالت پر غم کا اظہار کیا اور یعقوؔب سے کہا کہ اُسے اَولاد دے تو اُس نے غصے سے جواب دیا:‏ ”‏کیا میں خدا کی جگہ ہوں جس نے تجھ کو اَولاد سے محروم رکھا ہے؟“‏ (‏پیدایش ۳۰:‏۱، ۲‏)‏ اگر گھریلو مشکلات پیدا ہو جائیں تو اُس شخص پر حملہ کرنے کی بجائے مسئلے پر حملہ‌آور ہوں۔ نجی گفتگو کے دوران ”‏بے‌تامل بولنے“‏ یا غیرضروری طور پر ایکدوسرے کی بات کاٹنے سے گریز کریں۔—‏امثال ۱۲:‏۱۸‏۔‏

۱۵ سچ ہے کہ آپ شاید اپنے نقطۂ‌نظر کیلئے ٹھوس احساسات رکھتے ہوں، لیکن ان کا ”‏تلخ‌مزاجی اور قہر اور غصہ اور شوروغل اور بدگوئی“‏ کے بغیر اظہار کِیا جا سکتا ہے۔ (‏افسیوں ۴:‏۳۱‏)‏ ”‏اپنے مسائل پر دھیمی آواز میں گفتگو کریں،“‏ ایک شوہر کہتا ہے۔ ”‏اگر شوروغل ہونے لگے تو چپ کر جائیں۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر بیٹھیں۔ گفتگو دوبارہ شروع کریں۔“‏ امثال ۱۷:‏۱۴ یہ اچھی نصیحت پیش کرتی ہے:‏ ”‏لڑائی سے پہلے جھگڑے کو چھوڑ دو۔“‏ جب آپ دونوں کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو معاملات پر پھر سے بات‌چیت کرنے کی کوشش کریں۔‏

ایکدوسرے کے وفادار رہیں

۱۶.‏ زناکاری اسقدر سنگین معاملہ کیوں ہے؟‏

۱۶ عبرانیوں ۱۳:‏۴ بیان کرتی ہے:‏ ”‏بیاہ کرنا سب میں عزت کی بات سمجھی جائے اور بستر بے‌داغ رہے کیونکہ خدا حرامکاروں اور زانیوں کی عدالت کریگا۔“‏ زناکاری خدا کے خلاف گناہ ہے۔ یہ شادی کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ (‏پیدایش ۳۹:‏۹‏)‏ ایک مُشیرِازدواج لکھتی ہے:‏ ”‏جب اسکا پتہ چل جائے تو زناکاری ایک بہت بڑے طوفانِ‌بادوباراں کی مانند پورے خاندان کو گزند پہنچاتی ہے، گھرانوں کو تہس‌نہس کر دیتی، اعتماد اور ذاتی وقار کو ٹھیس پہنچاتی اور نوجوان لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔“‏ انجام حمل یا جنسی طور پر لگنے والی بیماری بھی ہو سکتا ہے۔‏

۱۷.‏ زناکاری کی رغبتوں سے کیسے بچا جا سکتا یا انہیں رد کِیا جا سکتا ہے؟‏

۱۷ بعض لوگ جنس کی بابت کتابوں، ٹیلی‌وژن اور فلموں سے ظاہر ہونے والے دنیا کے بگڑے ہوئے نظریے کو اپنانے سے زناکاری کی رغبتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔ (‏گلتیوں ۶:‏۸‏)‏ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ عموماً زناکاری محض جنسی اشتہا کی بنا پر نہیں کی جاتی بلکہ کسی شخص کے ابھی تک دلکش ہونے کو ثابت کرنے کی مفروضہ ضرورت کی وجہ سے یا پھر زیادہ محبت حاصل کرنے کے احساس کی خواہش کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ (‏مقابلہ کریں امثال ۷:‏۱۸‏۔)‏ وجہ کچھ بھی ہو، ایک مسیحی کو غیراخلاقی تصورات کو رد کرنا چاہئے۔ اپنے ساتھی کیساتھ دیانتداری سے اپنے احساسات کی بابت گفتگو کریں۔ اگر ضروری ہو تو کلیسیا کے بزرگوں سے مدد لیں۔ ایسا کرنا گناہ میں پڑنے سے اچھی طرح روک سکتا ہے۔ مزیدبرآں، مسیحیوں کو مخالف جنس کے ارکان سے ملتے وقت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ صحیفائی اصولوں کے برعکس ہوگا کہ شادی کسی کے ساتھ کریں لیکن رغبت کسی دوسرے کیلئے رکھیں۔ (‏ایوب ۳۱:‏۱؛‏ متی ۵:‏۲۸‏)‏ مسیحیوں کو خاص طور پر ساتھی کارندوں کیساتھ جذباتی لگاؤ پیدا کرنے کی بابت محتاط رہنا چاہئے۔ ایسے تعلقات کو پُرتپاک مگر صرف کاروباری نوعیت کے رکھیں۔‏

۱۸.‏ شادی میں جنسی مشکلات کی تہہ میں اکثر کیا ہوتا ہے اور انکو کسطرح حل کیا جا سکتا ہے؟‏

۱۸ اس سے بھی بڑا تحفظ اپنے ساتھی کیساتھ ایک گرمجوش، صاف‌گو رشتہ ہے۔ بہتیرے محققین کہتے ہیں کہ شادی میں جنسی مشکلات شاذونادر ہی جسمانی نوعیت کی ہوتی ہیں بلکہ عام طور پر یہ خراب رابطے کی ضمنی پیداوار ہوتی ہیں۔ جب ایک شادی شدہ جوڑا صاف‌گو رابطہ رکھتا ہے اور ازدواجی حق کو فرض کی بجائے محبت کے ایک اظہار کے طور پر ادا کرتا ہے تو ایسی مشکلات کبھی‌کبھار ہی پیش آتی ہیں۔‏a ایسے موزوں حالات کے تحت قریبی تعلقات ازدواجی بندھن کو مستحکم کرنے کا کام دے سکتے ہیں۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۲-‏۵؛‏ ۱۰:‏۲۴‏۔‏

۱۹.‏ ”‏اتحاد کا کامل بندھن“‏ کیا ہے اور یہ ایک شادی پر کیسا اثر رکھ سکتا ہے؟‏

۱۹ یہ محبت ہی ہے جو کلیسیا کے اندر ”‏اتحاد کا کامل بندھن“‏ ہے۔ محبت کو پیدا کرنے سے ایک خداپرست شادی شدہ جوڑا ’‏ایکدوسرے کی برداشت کر سکتا اور ایکدوسرے کو خوشی سے معاف کر سکتا‘‏ ہے۔ (‏کلسیوں ۳:‏۱۳، ۱۴‏، این‌ڈبلیو)‏ اصولی محبت دوسروں کی بہتری ڈھونڈتی ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴-‏۸‏)‏ ایسی محبت کو پیدا کریں۔ یہ اپنے ازدواجی بندھن کو مستحکم کرنے میں آپ کی مدد کرے گی۔ اپنی ازدواجی زندگی میں بائبل کے اصولوں کا اطلاق کریں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کی شادی ایک دائمی بندھن ثابت ہوگی اور یہوؔواہ خدا کے لئے عزت اور جلال لائے گی۔ (‏۱۰ ۷/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a نومبر ۱۹۹۳ کے مینارِنگہبانی میں ظاہر ہونے والے مضمون ”‏رابطہ—‏فقط گفتگو سے زیادہ،“‏ نے وضاحت کی کہ جوڑے کیسے اس حلقے میں مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ شادی کو ایک مستقل بندھن کیوں ہونا چاہئے؟‏

▫ سرداری اور تابعداری کا بائبلی نظریہ کیا ہے؟‏

▫ شادی شدہ جوڑے رابطے کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں؟‏

▫ کسطرح شادی شدہ جوڑے ایک مسیحی طریقے سے نااتفاقیوں کو نپٹا سکتے ہیں؟‏

▫ ازدواجی بندھن کو مستحکم بنانے کیلئے کونسی چیز مدد کریگی؟‏

‏[‏تصویر]‏

اگر ایک مسیحی شوہر کی بیوی کو دنیاوی کام ضرور کرنا ہے تو وہ اُس کو زیادہ بوجھ تلے نہیں آنے دیگا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں