نوجوانو—آپ کس کی تعلیم پر دھیان دیتے ہیں؟
”بعض لوگ ... شیاطین کی تعلیم کی طرف متوجہ ہو کر ایمان سے برگشتہ ہو جائینگے۔“—۱-تیمتھیس ۴:۱۔
۱. (ا) نوجوانوں کے پاس کونسا انتخاب ہے؟ (ب) یہوواہ کسطرح تعلیم دیتا ہے؟
یہاں نوجوانوں سے مخاطب کیا جانے والا سوال یہ ہے کہ آپ کس کی تعلیم پر دھیان دیتے ہیں؟ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ آپ نوجوان لوگوں کے پاس انتخاب ہے۔ انتخاب الہی تعلیم کیلئے مناسب جوابیعمل دکھانے اور شیاطین کی تعلیمات کی پیروی کرنے کے درمیان ہے۔ یہوواہ اپنے کلام، بائبل اور ان لوگوں کی خدمتگزاری کے ذریعے تعلیم دیتا ہے جنہیں وہ زمین پر اپنے نمائندوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۳، اعمال ۸:۲۶-۳۹، متی ۲۴:۴۵-۴۷) لیکن کیا آپ اس سے حیران ہوئے ہیں کہ شیاطین بھی تعلیم دیتے ہیں؟
۲. خاص طور پر اس زمانے میں شیاطین کی تعلیمات کے خلاف خبردار رہنا کیوں نہایت اہم ہے؟
۲ پولس رسول نے لکھا: ”آیندہ زمانوں میں بعض لوگ گمراہ کرنے والی روحوں اور شیاطین کی تعلیم کی طرف متوجہ ہو کر ایمان سے برگشتہ ہو جائینگے۔“ (۱-تیمتھیس ۴:۱) چونکہ ہم ”اخیر زمانہ“ میں رہ رہے ہیں جب شیطان اور اسکے شیاطین خاص طور پر سرگرمعمل ہیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کیوں ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آپ کس کی تعلیم پر دھیان دیتے ہیں؟ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، مکاشفہ ۱۲:۷-۱۲) چونکہ شیطان اور اسکے شیاطین کام کرنے کے اپنے طریقوں میں اتنے عیار، اتنے دلفریب ہیں اس لئے یہ نہایت اہم ہے کہ آپ اس سوال پر احتیاط سے سوچبچار کریں۔—۲-کرنتھیوں ۱۱:۱۴، ۱۵۔
شیاطین اور انکی تعلیمات
۳. شیاطین کون ہیں، انکا مقصد کیا ہے، اور وہ اسے پورا کرنے کیلئے کیسے کوشش میں رہتے ہیں؟
۳ شیاطین ایک وقت میں یہوواہ کے فرشتے تھے، لیکن انہوں نے اپنے خالق کے خلاف بغاوت کی اور یوں شیطان کے حمایتی بن گئے۔ (متی ۱۲:۲۴) انکا مقصد لوگوں کو بگاڑنا اور انہیں خدا کی خدمت کرنے سے ہٹانا ہے۔ اس کام کو سرانجام دینے کیلئے، شیاطین ایک ایسے خودغرض، بداخلاق طرززندگی کو فروغ دینے کیلئے انسانی استادوں کو استعمال کرتے ہیں جسکی یہوواہ نے مذمت کی ہے۔ (مقابلہ کریں ۲-پطرس ۲:۱، ۱۲-۱۵۔) اس بات کا جائزہ کہ سابقہ وفادار فرشتے شیاطین کیسے بن گئے انکی تعلیمات اور اس طرززندگی کی شناخت کرنے میں آپکی مدد کریگا جس کو یہ تعلیمات فروغ دیتی ہیں۔
۴. (ا) نوح کے زمانے میں نافرمان فرشتے زمین پر کیوں آئے تھے؟ (ب) سیلاب کے دوران بدکار فرشتوں اور انکی اولاد کیساتھ کیا واقع ہوا؟
۴ نوح کے دنوں میں، کچھ فرشتے انسانوں کی خوبصورت بیٹیوں کی طرف اسقدر راغب ہو گئے کہ ان روحانی مخلوقات نے زمین پر آنے کیلئے آسمان میں اپنے مرتبوں کو چھوڑ دیا۔ عورتوں کے ساتھ انکا جنسی ملاپ ایک دوغلی نسل کا سبب بنا جو جبار کہلائی۔ چونکہ روحانی مخلوقات کا انسانوں کے ساتھ شوہر اور بیوی کے طور پر ملکر رہنا ایک غیرفطری بات ہے اسلئے جو کچھ ان نافرمان فرشتوں نے عورتوں کیساتھ کیا وہ اتنا ہی غلط تھا جتنا کہ ہمجنسپسندی کے کام جو بعد میں سدوم کے مردوں اور لڑکوں نے کئے۔ (پیدایش ۶:۱-۴، ۱۹:۴-۱۱، یہوداہ ۶، ۷) اگرچہ فرشتوں کے بیاہتا ساتھی اپنے دوغلے بچوں کے ساتھ سیلابی پانیوں میں تباہ ہو گئے، لیکن بدکار فرشتوں نے اپنے مادی اجسام کو چھوڑ دیا اور آسمان کو واپس چلے گئے جہاں وہ شیطان ابلیس کے ساتھی شیاطین بن گئے۔—۲-پطرس ۲:۴۔
۵. شیاطین کس قسم کی مخلوقات ہیں، اور وہ کس طرح سے خدا کے قوانین کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
۵ اس تاریخی پسمنظر کے پیشنظر، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شیاطین درحقیقت کس قسم کی مخلوقات ہیں؟ وہ انسانی نظروں سے اوجھل جنس کا بےجا استعمال کرنے والے اور جنسی اعتبار سے پاگل دنیا کو عیاری کے ساتھ چلانے والے ہیں۔ اگرچہ انہیں دوبارہ بطور انسانوں کے جسم اختیار کرنے سے روک دیا گیا ہے، وہ ان لوگوں کی جنسی بدفعلیوں سے تسکین حاصل کرتے ہیں جنہیں وہ زمین پر بدچلن بنا سکتے ہیں۔ (افسیوں ۶:۱۱، ۱۲) شیاطین پاکیزگی اور اخلاقیات کے سلسلے میں یہوواہ کے قوانین کو بےجا طور پر پابندیاں عائد کرنے والے ظاہر کرتے ہوئے انہیں پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بدکار فرشتے جنسی بداخلاقی کی ایک عام، خوشکن طرززندگی کے طور پر حمایت کرتے ہیں۔
شیاطین کی تعلیمات کو فروغ دینا
۶. ہمیں اس بات سے حیران کیوں نہیں ہونا چاہئے کہ شیاطین ایک مکارانہ طریقے سے اپنی تعلیمات کو فروغ دیتے ہیں؟
۶ اس بات کو ہمیں حیران نہیں کرنا چاہئے کہ شیاطین اپنی تعلیمات کو مکارانہ طریقے سے فروغ دیتے ہیں کیونکہ یہی طریقہ تھا جسے انکے لیڈر شیطان، ابلیس نے حوا کو بہکانے کیلئے استعمال کیا۔ یاد کریں کہ اس نے اس سے ایسے بات کی جیسے کہ وہ اسکی مدد کرنا چاہتا ہو۔ ”کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟“ شیطان نے پوچھا۔ پھر اس نے بڑی مکاری کیساتھ حوا کو یہ بتانے سے خدا کی تعلیم کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی کہ وہ ممنوعہ درخت میں سے کھانے سے فائدہ حاصل کریگی۔ ”جس دن تم اسے کھاؤ گے،“ ابلیس نے وعدہ کیا، ”تمہاری آنکھیں کھل جائینگی اور تم خدا کی مانند نیکوبد کے جاننے والے بن جاؤگے۔“ (پیدایش ۳:۱-۵) یوں خدا کی حکمعدولی کرنے کیلئے حوا کو پھسلایا، جیہاں ورغلایا گیا تھا۔—۲-کرنتھیوں ۱۱:۳، ۱-تیمتھیس ۲:۱۳، ۱۴۔
۷. شیاطین کی مکارانہ تعلیمات کا اثر کیا رہا ہے، اور یہ کونسی آگاہی فراہم کرتا ہے؟
۷ حالیہ وقتوں میں بھی بہتوں کو ورغلایا گیا ہے۔ شیاطین نے اتنی مکاری سے جنسی بداخلاقی کو رواج دیا ہے کہ اب ان لوگوں نے بھی اسے قبول کر لیا ہے جو کبھی اسکی مزمت کرتے تھے۔ مثال کیطور پر، جب ریاستہائے متحدہ میں ایک مشہور کالمنویس مشیر نے غیر شادیشدہ لوگوں کے جنسی تعلقات رکھنے کے معاملے پر ایک خط کا جواب دیا تو اس نے لکھا: ”میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اس مسئلے پر اپنا فیصلہ الٹ دوں گی، لیکن اب میں تسلیم کرتی ہوں کہ وہ جوڑے جو شادی کی بابت سنجیدہ ہیں انہیں اپنے اندر ہمآہنگی کو پرکھنے کیلئے چند ویکاینڈز پر اکٹھے سیروتفریح کیلئے جانا چاہئے۔“ پھر اس نے مزید کہا: ”میں مان ہی نہیں سکتی کہ میں نے ایسا لکھا!“ وہ اس بات کا یقین ہی نہیں کر سکتی کہ اس نے حرامکاری کو قابلقبول بنا دیا تھا، لیکن اس نے ایسا ہی کیا تھا! واضح طور پر، ہمیں محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں شیاطین کی تعلیمات ان کاموں کی بابت ہمارے نظریے کو متاثر نہ کریں جن کی خدا مزمت کرتا ہے۔—رومیوں ۱:۲۶، ۲۷، افسیوں ۵:۵، ۱۰-۱۲۔
۸. (ا) بائبل میں لفظ ”دنیا“ کس طرح استعمال کیا گیا ہے؟ (ب) دنیا پر کون حکومت کرتا ہے، اور یسوع کے پیروکاروں کو دنیا کو کیسا سمجھنا چاہئے؟
۸ ہمیں کبھی بھی بھولنا نہیں چاہئے کہ شیطان اس ”دنیا کا سردار“ ہے۔ دراصل، یوحنا رسول نے کہا کہ ”ساری دنیا اس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (یوحنا ۱۲:۳۱، ۱-یوحنا ۵:۱۹) سچ ہے کہ یسوع نے بعض اوقات تمام نوعانسانی کا حوالہ دینے کیلئے لفظ ”دنیا“ استعمال کیا۔ (متی ۲۶:۱۳، یوحنا ۳:۱۶، ۱۲:۴۶) تاہم، اس نے زیادہ بار سچی مسیحی کلیسیا کے باہر موجود تمام منظم انسانی معاشرے کا حوالہ دینے کیلئے لفظ ”دنیا“ استعمال کیا۔ مثلاً، یسوع نے کہا کہ اسکے پیروکاروں کو اس ”دنیا (ناراست انسانی معاشرے) کے نہیں ہونا چاہئے اور چونکہ وہ دنیا کا حصہ نہیں تھے اسلئے دنیا ان سے عداوت رکھیگی۔ (یوحنا ۱۵:۱۹، ۱۷:۱۴-۱۶) بائبل نے مزید آگاہی دی کہ ہمیں شیطان کے زیرحکومت اس دنیا کے دوست بننے سے گریز کرنا چاہئے۔—یعقوب ۴:۴۔
۹، ۱۰. (ا) کونسی دنیاوی چیزیں نامناسب جنسی خواہش کو ابھارتی ہیں؟ (ب) یہ شناخت کرنا کیسے ممکن ہے کہ جو کچھ دنیاوی تفریح سکھاتی ہے اسکی پشت پر کون ہے؟
۹ یوحنا رسول نے تاکید کی: ”نہ دنیا سے محبت رکھو نہ ان چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔“ اس نے یہ بھی کہا: ”جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں۔“ (۱-یوحنا ۲:۱۵، ۱۶) اس کی بابت سوچیں۔ آجکل دنیا کے اندر کونسی چیز ہے جو غلط خواہش کو بھڑکاتی ہے، جیسے کہ جنس کے لئے ناجائز خواہش؟ (۱-تھسلنیکیوں ۴:۳-۵) دنیا کی زیادہتر موسیقی کی بابت کیا ہے؟ کیلیفورنیا پولیس کے قیدیوں کی اصلاح کرنے والے ایک افسر نے کہا: ”بنیادی طور پر، موسیقی یہ سکھاتی ہے کہ آپکو اپنے والدین کی بات سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور جس طرح آپ چاہتے ہیں اسی طرح آپکو زندگی بسر کرنی چاہئے۔“ کیا آپ ایسی موسیقی کے ذریعے پیش کی جانیوالی تعلیم کے مصدر کو پہچانتے ہیں؟
۱۰ یاد کریں کہ شیطان نے درحقیقت حوا کو بتایا تھا: ”تم کسی چیز سے محروم رہ رہی ہو۔ جسطرح تم زندگی بسر کرنا چاہتی ہو ویسے کرو۔ کیا اچھا ہے اور کیا برا اسکے لئے اپنے فیصلے خود کرو۔ تمہیں خدا کی بات کو سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ (پیدایش ۳:۱-۵) کیا دنیا کی زیادہتر موسیقی میں اسی طرز کا پیغام نہیں پایا جاتا؟ لیکن شیاطین صرف موسیقی کے ذریعے سے ہی تعلیم نہیں دیتے۔ وہ تعلیم دینے کیلئے کمرشل ٹیلیوژن پروگراموں، فلموں، اور ویڈیو کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ کس طرح؟ اس دنیا کے مواصلاتی ذرائع تفریح کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں جس سے خدا کی اخلاقی تعلیمات دبا دینے والی دکھائی دینے لگتی ہیں۔ وہ حرامکاری پر زور دینے سے اور اسے ایک پسندیدہ چیز کے طور پر پیش کرنے سے اسکی حمایت کرتے ہیں۔
۱۱. اخلاقیات کی بات کرتے ہوئے، ٹیلیوژن اکثر کیا سکھاتا ہے؟
۱۱ میگزین یو۔ایس۔ نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ نے بیان کیا: ”۱۹۹۱ میں، تین [یو۔ایس] نشریات نے پرائم ٹائم (۷ سے ۱۱ کا وقت جب زیادہ تعداد میں ناظرین ٹیوی دیکھتے ہیں) کے دوران ۱۰،۰۰۰ سے زائد جنسی واقعات کی نمائش کی، کیونکہ ہر منظر شادیشدہ ساتھیوں کے درمیان جنسی مباشرت کی تصویرکشی کر رہا تھا، نشریاتی رابطوں نے شادی سے باہر جنس کے ۱۴ مناظر دکھائے۔“ پرائم ٹائم کے دوران ایک سال کے اندر ناجائز جنس کے ۹،۰۰۰ سے زیادہ واقعات دکھانے سے، آپ کیا کہیں گے کہ ٹیلیوژن کیا تعلیم دے رہا ہے؟ بیری ایس۔ ساپولسکی، جس نے ”پرائم ٹائم ٹیلیوژن میں جنس: ۱۹۷۹ بمقابلہ ۱۹۸۹“ پر رپورٹ کو تصنیف کرنے میں حصہ لیا، بیان کرتا ہے: ”اگر کوئی نوعمر سالوں تک ٹیوی دیکھتا ہے جہاں پر لوگ تفریحاً محبت یا واضح جنسی رجحان میں ملوث ہوتے ہیں تو سالوں کے دوران یہ ہزاروں تصاویر انہیں یہی سکھائینگی کہ جنس دلکش ہے—اور بغیر کسی برے اثر کے ہے۔“ اسکی بابت کوئی شک نہیں: دنیا کی تفریحطبع نوجوان لوگوں کو سکھاتی ہے کہ کوئی قواعدوضوابط نہیں ہیں، حرامکاری قابلقبول ہے، اور یہ کہ اس انداز سے زندگی بسر کرنے کے کوئی برے نتائج نہیں نکلتے جسکی خدا مزمت کرتا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۶:۱۸، افسیوں ۵:۳-۵۔
۱۲. دنیاوی تفریح بالخصوص مسیحی نوجوانوں کیلئے کیوں ایک خطرہ بنتی ہے؟
۱۲ دنیا کی موسیقی، فلمیں، ویڈیوز اور ٹیلیوژن نوجوان لوگوں کو لبھانے کیلئے ترتیب دئے گئے ہیں۔ وہ شیاطین کی گھٹیا تعلیمات نشرواشاعت کرتے ہیں! لیکن کیا یہ حیرانکن ہونا چاہئے؟ اسکی بابت سوچیں۔ اگر جھوٹا مذہب اور سیاست شیطان کی دنیا کا حصہ ہیں—اور صریحی طور پر وہ ہیں—تو کیا اس بات کا یقین کرنا کوئی معنی رکھتا ہے کہ تفریح جسکو یہ دنیا فروغ دیتی ہے شیطانی اثر سے پاک ہے؟ آپ نوجوان لوگوں کو بالخصوص خبردار رہنے کی ضرورت ہے کہ ”اپنے اردگرد کی دنیا کو آپکی ذات کو اپنے ہی سانچے میں ڈھال لینے کی اجازت“ نہ دیں۔—رومیوں ۱۲:۲، دی نیو ٹسٹامنٹ ان ماڈرن انگلش، از جے۔بی۔ فلپس۔
ذاتی جائزہ لیں
۱۳. کونسا ذاتی جائزہ لیا جانا چاہئے؟
۱۳ آپ کس کی تعلیمات پر دھیان دیتے ہیں اس بات کا تعین نہ صرف آپکی گفتار سے بلکہ آپکے اعمال سے بھی ہو جاتا ہے۔ (رومیوں ۶:۱۶) لہذا خود سے پوچھیں، ”جو کچھ میں دنیاوی نشرواشاعت کے ذرائع سے سیکھتا ہوں کیا میرا رویہ اور میری زندگی کی روش اس سے نامناسب طور پر متاثر ہو رہی ہے؟ کیا شیاطین کی تعلیمات میری زندگی پر اچانک حملہآور ہو سکتی ہیں؟“ ایسے سوالات کا جواب دینے میں آپکی مدد کیلئے، کیوں نہ وقت کی مقدار اور کوشش جو آپ بائبل کا مطالعہ کرنے، مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے، اور دوسروں کیساتھ خدا کی بادشاہت کی بابت گفتگو کرنے میں صرف کرتے ہیں اسکا مقابلہ وقت کی اس مقدار اور کوشش کیساتھ کریں جو ٹیوی دیکھنے، موسیقی سننے، اپنے دلپسند کھیل میں حصہ لینے، یا اسی طرح کی سرگرمیوں میں شریک ہونے کیلئے صرف کی جاتی ہے؟ چونکہ بہت کچھ—یقیناً، آپکی اپنی زندگی—خطرے میں ہے اسلئے ایک دیانتدارانہ ذاتی جائزہ لیں۔—۲-کرنتھیوں ۱۳:۵۔
۱۴. کیا چیز ہماری روحانی صحت کو متاثر کریگی، اور کونسا سنجیدہ خیال ہمیں ذہن میں رکھنا چاہئے؟
۱۴ آپ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو جسمانی کھانا آپ کھاتے ہیں وہ آپکی جسمانی صحت پر اثرانداز ہوگا۔ اسی طرح، آپکی روحانی صحت بھی جو کچھ آپ اپنے دل اور دماغ میں ڈالتے ہیں اس سے متاثر ہوتی ہے۔ (۱-پطرس ۲:۱، ۲) آپکی جو حقیقی دلچسپیاں ہیں انکے سلسلے میں اگرچہ آپ خود کو تو دھوکا دے سکتے ہیں لیکن آپ ہمارے منصف، یسوع مسیح کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ (یوحنا ۵:۳۰) پس اپنے آپ سے پوچھیں، ”اگر یسوع زمین پر ہوتا تو کیا مجھے اس سے گھبراہٹ محسوس ہوتی کہ وہ میرے کمرے میں آئے اور میری موسیقی کو سنے یا جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اسکو دیکھے؟“ سنجیدہ حقیقت تو یہ ہے کہ یسوع دیکھ رہا ہے اور ہمارے اعمال سے واقف ہے۔—مکاشفہ ۳:۱۵۔
شیاطین کی تعلیمات کا مقابلہ کریں
۱۵. مسیحیوں کو شیاطین کی تعلیمات کا مقابلہ کرنے کیلئے سخت جدوجہد کیوں کرنی چاہئے؟
۱۵ اپنی تعلیمات پر توجہ دلانے کیلئے شیاطین نوجوان لوگوں پر جو دباؤ ڈالتے ہیں وہ بہت ہی زیادہ ہے۔ یہ شریر بدروحیں فوری اطمینان—تفریح اور خوشی والی زندگی پیش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ خدا کو پسند آنے کیلئے، قدیم زمانے کے موسی نے فرعون کے گھرانے کا ایک ممتاز فرد ہوتے ہوئے بھی ”گناہ [کا] چند روزہ لطف اٹھانے“ کو مسترد کر دیا۔ (عبرانیوں ۱۱:۲۴-۲۷) جو کچھ شیاطین پیش کرتے ہیں اسے مسترد کرنا آسان نہیں، اسلئے جو راست ہے اسے عمل میں لانے کیلئے آپکو سخت کوشش کرنی چاہئے۔ یہ خاص طور پر سچ ہے کیونکہ ہم نے گناہ ورثے میں پایا ہے اور ہمارے دل اکثر وہی کچھ کرنے کی آرزو کرتے ہیں جو برا ہے۔ (پیدایش ۸:۲۱، رومیوں ۵:۱۲) گنہگارانہ رجحانات کے باعث، پولس رسول کو بھی اپنے ساتھ سختی کرنی پڑی تھی اور اپنی نفسانی خواہشات کو اپنے اوپر غلبہ پانے کی اجازت نہ دی۔—۱-کرنتھیوں ۹:۲۷، رومیوں ۷:۲۱-۲۳۔
۱۶. نوجوان لوگ بداخلاق چالچلن میں پڑنے کے دباؤ کی مزاحمت کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۶ اگرچہ آپ ”برائی کرنے کے لئے کسی ہجوم کی پیروی“ کرنے کی آزمائش میں پڑ سکتے ہیں تو بھی خدا انکی غلط روش کے طالب ہونے کیلئے آپکے ہمسروں کی طرف سے آنے والے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں آپکی مدد کر سکتا ہے۔ (خروج ۲۳:۲، ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳) لیکن اسکی باتوں کو اپنے دل میں رکھتے ہوئے آپکو خدا کی ہدایات کو غور سے سننا چاہئے۔ (زبور ۱۱۹:۹، ۱۱) آپ کو یہ پہچاننے کی ضرورت ہے کہ جب نوجوان لوگ خود کو الگ کر لیتے ہیں تو جنسی خواہشات بڑھ سکتی اور خدا کے قانون کی خلافورزی کرنے کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی نے تسلیم کیا، ”جب میں اپنے محبوب کے ساتھ تنہا ہوتی ہوں تو میرا جسم کچھ اور کرنا چاہتا ہے اور میرا دماغ مجھے کچھ اور کرنے کو کہتا ہے،“ پس اپنی حدود کو پہچانیں اور یہ جان لیں کہ آپکا دل حیلہباز ہے۔ (یرمیاہ ۱۷:۹) اپنے آپ کو الگ نہ کریں۔ (امثال ۱۸:۱) محبت کے اظہارات پر حدود ٹھہرائیں۔ اور خاص اہمیت کی بات تو یہ ہے کہ قریبی رفاقت صرف انہی کیساتھ رکھیں جو یہوواہ سے محبت اور اسکے قوانین کیلئے گہرا احترام رکھتے ہیں۔—زبور ۱۱۹:۶۳، امثال ۱۳:۲۰، ۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳۔
۱۷. شیاطین کی تعلیمات کی مزاحمت کرنے کیلئے قوت حاصل کرنے میں کونسی چیز مسیحی نوجوانوں کی مدد کر سکتی ہے؟
۱۷ آپکی روحانی مضبوطی کیلئے مرتبشدہ مسیحی مطبوعات کا ایک محتاط مطالعہ آپکی مدد کریگا۔ مثلاً، کتاب سوالات جو نوجوان پوچھتے ہیں—جوابات جو کارگر ہیں (انگریزی) اور آپ زمین پر فردوس میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں (انگریزی) کتاب میں باب ”صحیح کام کرنے کیلئے جدوجہد“ پر غور کریں۔ فراہمکردہ صحیفائی ہدایت کو اپنے دل اور دماغ کی گہرائی میں جڑ پکڑنے دیں، اور یہ آپکو تقویت بخشے گی۔ ایک حقیقت جسے آپکو کبھی بھلانا نہیں چاہئے وہ یہ ہے کہ شیاطینی قبضے میں پڑی ہوئی اس دنیا میں صحیح کام کرنا آسان نہیں ہے۔ اسلئے سخت جدوجہد کریں۔ (لوقا ۱۳:۲۴) اپنی روحانی قوت کو بڑھائیں۔ ان کمزور، خوفزدہ لوگوں کی نقل نہ کریں جو ہجوم کی پیروی کرتے ہیں۔
الہی تعلیم سے استفادہ کریں
۱۸. الہی تعلیم پر دھیان دینے کے بعض فوائد کیا ہیں؟
۱۸ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہوواہ کی تعلیم پر توجہ دینے سے آپ کسی بھی قابلقدر چیز سے محروم نہیں رہیں گے۔ وہ واقعی آپ سے پیار کرتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ”[آپکو] مفید تعلیم دے [رہا ہے]۔“ (یسعیاہ ۴۸:۱۷) لہذا یہوواہ کی تعلیم پر توجہ دیں، اور ایک شکستہ ضمیر، عزتنفس کے نقصان، ناخواستہ حمل، جنسی طور پر لگی ہوئی بیماریاں یا اسی طرح کے المیوں کے دلی صدمے سے بچیں۔ یہوواہ اسوقت بہت خوش ہوتا ہے جب اسکے خادم اسے شیطان کے اس چیلنج کے لئے جواب مہیا کرتے ہیں کہ آزمائش کے تحت انسان خدا کے وفادار نہیں رہیں گے۔ (ایوب ۱:۶-۱۲) اگر آپ یہوواہ کے وفادار رہنے سے اسکے دل کو شاد کرتے ہیں تو آپ اسوقت زندہ بچ جائینگے جب وہ اس دنیا کے خلاف سخت سزا کو عمل میں لاتا ہے، جبکہ وہ تمام جو اسکے قوانین کی تحقیر کرتے ہیں تباہ ہو جائینگے۔—امثال ۲۷:۱۱، ۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰، ۱-یوحنا ۲:۱۷۔
۱۹. جو لوگ یہوواہ کی تعلیم کے فوائد کی قدر کرتے ہیں انکے ساتھ رفاقت رکھنے کی قدروقیمت کیا ہے؟
۱۹ اگر آپ انکے ساتھ گہری رفاقت رکھتے ہیں جو اس چیز کی قدر کرتے ہیں کہ یہوواہ نے انکے لئے کیا کچھ کیا ہے، تو آپ انکے تجربے سے سیکھ سکتے ہیں۔ ایک عورت نے جو پہلے منشیات کی عادی رہ چکی تھی اور بداخلاقی کرتی رہی تھی اس نے وضاحت کی: ”اگر میں نے یہوواہ کی بات کو نہ سنا ہوتا تو میں مر گئی ہوتی۔ جس شخص سے میں شادی کرنے والی تھی وہ ایڈز کی وجہ سے مر گیا ہے۔ میرے تمام سابقہ دنیاوی قریبی دوست ایڈز سے مر چکے ہیں یا پھر مرنے والے ہیں۔ میں اکثر انہیں گلی کوچوں میں دیکھتی ہوں، اور میں ہر روز یہوواہ کا اسکے قوانین کیلئے شکر ادا کرتی ہوں جو اسکے لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں اور اگر ہم فقط انکا اطلاق کریں تو یہ ہمیں پاکیزہ رکھینگے۔ میں اس سے پہلے اپنی زندگی میں کبھی بھی اتنی خوش، مطمئن، اور محفوظ نہیں رہی جتنی کہ اب ہوں۔“ واقعی، یہوواہ کی تعلیم پر توجہ دینا ہمیں ہمیشہ فائدہ پہنچاتا ہے!
درست انتخاب کریں
۲۰، ۲۱. (ا) نوجوانوں کے پاس کونسے دو انتخابات ہیں؟ (ب) الہی تعلیم پر توجہ دینے سے کونسا ابدی فائدہ حاصل ہوگا؟
۲۰ ہم آپ نوجوانوں کو تاکید کرتے ہیں: یہوواہ کی خدمت کرنے سے درست انتخاب کریں۔ پھر اس فیصلے پر کاربند رہنے کیلئے باعزم رہیں۔ (یشوع ۲۴:۱۵) درحقیقت، آپ دونوں مں سے صرف ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یسوع نے کہا کہ ایک راستہ چوڑا اور کشادہ ہے—آسان راہ جس میں ہر کوئی اپنی ذات کو خوش کرنے کیلئے کام کرتا ہے۔ یہ راستہ خاتمے، بربادی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ دوسرا راستہ سکڑا ہے۔ اس بداخلاق، شیاطینی قبضے میں پڑی ہوئی دنیا کے اندر اس راستے پر چلنا بہت دشوار ہے۔ لیکن اس پر چلنے والے لوگوں کو یہ راستہ انجامکار خدا کی شاندار نئی دنیا میں لے جائے گا۔ (متی ۷:۱۳، ۱۴) آپ کونسا راستہ اختیار کرینگے؟ آپ کس کی تعلیم پر دھیان دینگے؟
۲۱ یہوواہ انتخاب کو آپ پر چھوڑتا ہے۔ وہ اپنی خدمت کرانے کیلئے آپکو مجبور نہیں کرتا۔ ”میں نے زندگی اور موت کو ... تیرے آگے رکھا ہے،“ خدا کے نبی موسی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: ”زندگی کو اختیار کر۔“ یہ انتخاب ”خداوند اپنے خدا سے محبت [رکھنے] اور اسکی بات [سننے] اور اسی سے لپٹا [رہنے سے]“ کیا جاتا ہے۔ (استثنا ۲۹:۲، ۳۰:۱۹، ۲۰) دعا ہے کہ آپ دانشمندی سے الہی تعلیم پر دھیان دینے کا انتخاب کریں اور خدا کی پرشکوہ نئی دنیا میں کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی سے لطفاندوز ہوں۔ (۱۵ ۵/۱۵ w۹۴)
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ شیاطین کون ہیں، اور وہ کیا تعلیم دیتے ہیں؟
▫ آجکل شیاطین اپنی تعلیمات کو کس طریقے سے فروغ دیتے ہیں؟
▫ یہ کیسے ممکن ہے کہ شیاطین کی تعلیمات کی مزاحمت کی جائے؟
▫ یہوواہ کی تعلیم پر دھیان دینے کے فوائد کیا ہیں؟
[تصویر]
طوفان سے قبل، نافرمان فرشتوں اور انکی اولاد نے تشدد اور عیاشی کو فروغ دیا
[تصویر]
اگر یسوع آپکی پسندیدہ موسیقی کو سن لے تو کیا آپکو اس سے گھبراہٹ محسوس ہوگی؟