یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏7 ص.‏ 11-‏16
  • الہٰی تعلیم بمقابلہ شیاطین کی تعلیمات

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • الہٰی تعلیم بمقابلہ شیاطین کی تعلیمات
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • شیاطین کی تعلیمات ظاہر کر دی گئیں
  • آجکل شیاطین کی تعلیمات
  • شیاطین کی تعلیمات کی شناخت کرنا
  • الہی تعلیم سے وابستہ رہنا
  • نوجوانو—‏آپ کس کی تعلیم پر دھیان دیتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • خدا کے دُشمن کون ہیں؟‏
    آپ خدا کے دوست بن سکتے ہیں!‏
  • اپنے دُشمن کے بارے میں جانیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • ہم شیاطین کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏7 ص.‏ 11-‏16

الہٰی تعلیم بمقابلہ شیاطین کی تعلیمات

‏”‏بعض لوگ گمراہ کرنے والی روحوں اور شیاطین کی تعلیم کی طرف متوجہ ہو کر ایمان سے برگشتہ ہو جائینگے۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱‏۔‏

۱.‏ مسیحی کس لڑائی کے درمیان ہیں؟‏

جنگ والے علاقے میں اپنی ساری عمر گزار دینے کا تصور کریں۔ گولہ‌باری کے شور کیساتھ سونا اور توپ‌خانے کی آواز کیساتھ اٹھنا کیسا لگے گا؟ افسوس کی بات ہے کہ، دنیا کے بعض حصوں میں، درحقیقت لوگ اسی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ تاہم، روحانی معنوں میں، تمام مسیحی اسی طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ایک ایسی بڑی لڑائی کے درمیان ہیں جو ۶،۰۰۰ سال سے بہت زوروں پر رہی ہے اور ہمارے زمانے میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ یہ مدتوں لمبی جنگ کیا ہے؟ سچائی بمقابلہ جھوٹ، الہی تعلیم بمقابلہ شیاطین کی تعلیمات کی جنگ۔ مخالف فریقوں میں سے کم‌ازکم ایک کے اعمال کی وجہ سے اسے انسانی تاریخ کا انتہائی بے‌رحم اور انتہائی مہلک جھگڑا کہنا مبالغہ‌آرائی نہیں ہے۔‏

۲.‏ (‏ا)‏ پولس کے مطابق، کونسے دو فریق ایک دوسرے کی مخالفت میں ہیں؟ (‏ب)‏ ”‏ایمان“‏ سے پولس کا کیا مطلب تھا؟‏

۲ پولس نے اس جھگڑے کے دونوں فریقین کا ذکر کیا جب اس نے تیمتھیس کو لکھا:‏ ”‏لیکن روح صاف فرماتا ہے کہ آیندہ زمانوں میں بعض لوگ گمراہ کرنے والی روحوں اور شیاطین کی تعلیم کی طرف متوجہ ہو کر ایمان سے برگشتہ ہو جائینگے۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱‏)‏ غور کریں کہ شیاطین کی تعلیمات ”‏آیندہ زمانوں“‏ میں خاص طور پر مؤثر ہونگی۔ پولس کے زمانے سے نظر ڈالتے ہوئے، ہم ایسے ہی وقت میں رہ رہے ہیں۔ جو چیز شیاطین کی تعلیمات کی مخالفت میں ہے، یعنی ”‏ایمان“‏ اس پر بھی غور کریں۔ یہاں ”‏ایمان“‏ الہی تعلیم کی نمائندگی کرتا ہے جو کہ بائبل میں پائے جانے والے خدا کے الہامی اظہارات پر مبنی ہے۔ ایسا ایمان زندگی‌بخش ہے۔ یہ ایک مسیحی کو خدا کی مرضی پوری کرنا سکھاتا ہے۔ یہ وہ سچائی ہے جو باعث ابدی زندگی ہے۔—‏یوحنا ۳:‏۱۶،‏ ۶:‏۴۰‏۔‏

۳.‏ (‏ا)‏ سچائی اور جھوٹی باتوں کے درمیان لڑائی میں جنگی زخمیوں کیساتھ کیا ہوتا ہے؟ (‏ب)‏ شیاطین کی تعلیمات کی پشت پر کون ہے؟‏

۳ کوئی بھی جو ایمان سے برگشتہ ہو جاتے ہیں، ہمیشہ کی زندگی کھو دیتے ہیں۔ وہ جنگی زخمی ہیں۔ خود کو شیاطین کی تعلیمات سے گمراہ ہونے کی اجازت دینے کا کیا ہی افسوسناک انجام!‏ (‏متی ۲۴:‏۲۴‏)‏ ہم کیسے انفرادی طور پر ایسے جنگی زخمی بننے سے بچ سکتے ہیں؟ ان جھوٹی تعلیمات کو مکمل طور پر رد کرنے سے، جو صرف ”‏بدروحوں کے سردار“‏ شیطان ابلیس کے مقصد کو پورا کرتی ہیں۔ (‏متی ۱۲:‏۲۴‏)‏ تجربے کی رو سے پیش‌ازوقت کہا گیا ہے کہ شیطان کی تعلیمات جھوٹ ہیں، کیونکہ شیطان ”‏جھوٹ کا باپ“‏ ہے۔ (‏یوحنا ۸:‏۴۴‏)‏ غور کریں کہ ہمارے پہلے والدین کو گمراہ کرنے کیلئے اس نے کس مہارت سے جھوٹ استعمال کئے۔‏

شیاطین کی تعلیمات ظاہر کر دی گئیں

۴، ۵.‏ شیطان نے حوا سے کیا جھوٹ بولا، اور وہ کیوں اتنا برا تھا؟‏

۴ واقعات بائبل میں پیدایش ۳:‏۱-‏۵ (‏این‌ڈبلیو)‏ میں درج ہیں۔ ایک سانپ کو استعمال کرتے ہوئے، شیطان، عورت حوا کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا:‏ ”‏کیا واقعی ایسا ہے کہ خدا نے کہا ہے کہ باغ کے ہر درخت کا پھل تم نہ کھانا؟“‏ سوال بے‌ضرر معلوم ہوتا ہے، لیکن ایک بار پھر اس پر غور کریں۔ ”‏کیا واقعی ایسا ہے؟“‏ شیطان کچھ حیران سا دکھائی دیتا ہے گویا کہہ رہا ہو کہ ”‏خدا کیوں اس قسم کی بات کہے گا؟“‏

۵ اپنی معصومیت میں، حوا نے ظاہر کیا کہ ایسا ہی تھا۔ وہ اس معاملے میں الہی تعلیم کو جانتی تھی کہ خدا نے آدم کو بتا دیا تھا کہ اگر انہوں نے نیک‌وبد کی پہچان کے درخت کا پھل کھایا تو وہ مر جائینگے۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۶، ۱۷‏)‏ ظاہر ہے کہ شیطان کے سوال نے اسکی دلچسپی کو ابھارا، اسلئے جب وہ اپنی اصلی بات کی طرف آیا تو اس نے اسکی بات کو سنا:‏ ”‏تب سانپ نے عورت سے کہا تم ہرگز نہ مروگے۔“‏ کیا ہی شررات بھری بات!‏ شیطان نے سچائی کے خدا، محبت کے خدا، خالق، یہوواہ پر، اپنے انسانی بچوں کیساتھ جھوٹ بولنے کا الزام لگایا!‏—‏زبور ۳۱:‏۵،‏ ۱-‏یوحنا ۴:‏۱۶،‏ مکاشفہ ۴:‏۱۱‏۔‏

۶.‏ شیطان نے یہوواہ کی نیکی اور حاکمیت کو کیسے للکارا؟‏

۶ لیکن شیطان نے مزید کہا۔ اس نے کہا:‏ ”‏بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھاؤگے تمہاری آنکھیں کھل جائینگی اور تم خدا کی مانند نیک‌وبد کے جاننے والے بن جاؤگے۔“‏ شیطان کے مطابق، یہوواہ خدا—‏جس نے ہمارے پہلے والدین کیلئے اتنی افراط سے سامان فراہم کیا تھا—‏انہیں کسی شاندار چیز سے محروم رکھنا چاہتا تھا۔ وہ انہیں الہوں کی مانند بننے سے روکنا چاہتا تھا۔ لہذا، شیطان نے خدا کی نیکی کو للکارا۔ یہ کہنے سے کہ اسطرح کا عمل مفید ہوگا، اس نے ذاتی تسکین اور جان‌بوجھ کر خدا کے قوانین کو نظرانداز کرنے کو بھی فروغ دیا۔ درحقیقت، یہ الزام دیتے ہوئے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے خدا کو اس پر پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں، شیطان نے خدا کی اپنی ہی مخلوق پر خدا کی حاکمیت کو للکارا۔‏

۷.‏ شیاطین کی تعلیمات پہلی بار کب سنی گئی تھیں، اور کیسے وہ آجکل بھی بالکل ویسی ہی ہیں؟‏

۷ شیطان کے ان الفاظ کیساتھ ہی، شیاطین کی تعلیمات سنائی دینے لگیں۔ یہ بری تعلیمات ابھی تک اسی طرح کے بے‌دین اصولوں کو فروغ دیتی ہیں۔ جیسے کہ شیطان نے باغ‌عدن میں کیا، بالکل اسی طرح، وہ اب بھی دیگر باغی روحوں کیساتھ ملکر، ابھی تک معیارفعل کے قائم کرنے کے خدا کے حق کو للکارتا ہے۔ وہ ابھی تک یہوواہ کی حاکمیت پر اعتراض اٹھاتا ہے اور اپنے آسمانی باپ کی نافرمانی کرنے کیلئے انسانوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔—‏۱-‏یوحنا ۳:‏۸،‏ ۱۰‏۔‏

۸.‏ آدم اور حوا نے باغ‌عدن میں کیا کھو دیا، لیکن کیسے یہوواہ سچا ثابت ہوا تھا؟‏

۸ الہی تعلیم اور شیاطین کی تعلیمات کے مابین اس پہلی جھڑپ میں، آدم اور حوا نے غلط فیصلہ کیا اور ہمیشہ کی زندگی کی اپنی امید کھو بیٹھے۔ (‏پیدایش ۳:‏۱۹‏)‏ جوں جوں سال گزرتے گئے اور انکے بدنوں نے خراب ہونا شروع کر دیا تو انہیں اس بات کی بڑی حد تک تصدیق حاصل ہو گئی کہ پیچھے باغ‌عدن میں کس نے جھوٹ بولا تھا اور کس نے سچ کہا تھا۔ تاہم، کئی سو سال بعد انکی طبیعی موت واقع ہونے سے پہلے ہی، وہ اس وقت سچ اور جھوٹ کے بیچ ہونے والی لڑائی کے پہلے جنگی زخمی بن گئے جب زندگی کے سرچشمے، انکے خالق نے انہیں زندگی کے نااہل قرار دے دیا۔ یہ تھا وہ وقت جب وہ روحانی اعتبار سے مر گئے۔—‏زبور ۳۶:‏۹‏، مقابلہ کریں افسیوں ۲:‏۱‏۔‏

آجکل شیاطین کی تعلیمات

۹.‏ صدیوں کے دوران شیاطین کی تعلیمات کتنی مؤثر رہی ہیں؟‏

۹ جیسا کہ مکاشفہ کی کتاب میں درج ہے، یوحنا رسول کو الہام کے ذریعے ”‏خداوند کے دن“‏ میں لیجایا گیا، جو کہ ۱۹۱۴ میں شروع ہوا۔ (‏مکاشفہ ۱:‏۱۰‏)‏ اس وقت شیطان اور اسکے شیاطین کو آسمان سے نکال کر زمین کے گردونواح میں پھینک دیا گیا تھا—‏ہمارے عظیم خالق کے اس مخالف کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا۔ اسکے بعد آسمان میں یہوواہ کے خادموں پر متواتر الزام لگانے والی اس کی آواز پھر کبھی سنائی نہ دی۔ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۱۰‏)‏ تاہم، عدن سے لے کر، شیاطین کی تعلیمات نے زمین پر کیا ترقی کی ہے؟ ریکارڈ کہتا ہے:‏ ”‏وہ بڑا اژدہا یعنی وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گرا دیا گیا۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۹‏)‏ ساری دنیا شیطان کی جھوٹی باتوں کا شکار ہو چکی تھی!‏ پھر عجب کیا ہے کہ شیطان کو ”‏اس دنیا کا سردار“‏ کہا گیا ہے!‏—‏یوحنا ۱۲:‏۳۱،‏ ۱۶:‏۱۱‏۔‏

۱۰، ۱۱.‏ شیطان اور اسکے شیاطین آجکل کن طریقوں سے سرگرم‌عمل ہیں؟‏

۱۰ اپنے آسمان میں سے نکال دئے جانے کے بعد کیا شیطان نے شکست تسلیم کر لی؟ ہرگز نہیں!‏ اس نے الہی تعلیم اور جو اس سے وابستہ رہتے ہیں انکے خلاف جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آسمان میں سے اپنے نکال دئے جانے کے بعد، شیطان نے اپنی لڑائی کو جاری رکھا ہے:‏ ”‏اژدہا [‏شیطان]‏ کو عورت پر غصہ آیا اور اسکی باقی اولاد سے جو خدا کے حکموں پر عمل کرتی ہے اور یسوع کی گواہی دینے پر قائم ہے لڑنے کو گیا۔“‏—‏مکاشفہ ۱۲:‏۱۷‏۔‏

۱۱ خدا کے خادموں کیساتھ لڑنے کے علاوہ، شیطان دنیا کو بھی اپنے پروپیگنڈا سے غرق کر رہا ہے، اس کوشش کیساتھ کہ وہ نوع‌انسانی پر اپنی گرفت کو برقرار رکھ سکے۔ خداوند کے دن سے متعلق اپنی ایک رویا میں، یوحنا رسول نے تین جنگلی حیوان دیکھے جنہوں نے علامتی طور پر شیطان کی، اسکی زمینی سیاسی تنظیم، اور ہمارے وقت کی بااثر عالمی طاقت کی نمائندگی کی۔ ان تینوں کے منہ سے، مینڈک نکلے۔ یہ کس چیز کی علامت تھے؟ یوحنا لکھتا ہے:‏ ”‏یہ شیاطین کی نشان دکھانے والی روحیں ہیں جو قادرمطلق خدا کے روزعظیم کی لڑائی کے واسطے جمع کرنے کیلئے ساری دنیا کے بادشاہوں کے پاس نکل کر جاتی ہیں۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۶:‏۱۴‏)‏ واضح طور پر، شیاطین کی تعلیمات زمین پر کافی سرگرم‌عمل ہیں۔ شیطان اور اسکے شیاطین ابھی تک الہی تعلیم کے خلاف لڑائی کر رہے ہیں، اور وہ اس وقت تک ایسے کرتے رہیں گے جب تک مسیحائی بادشاہ، یسوع مسیح زبردستی انہیں روک نہیں دیتا۔—‏مکاشفہ ۲۰:‏۲‏۔‏

شیاطین کی تعلیمات کی شناخت کرنا

۱۲.‏ (‏ا)‏ شیاطین کی تعلیمات کی مزاحمت کرنا کیونکر ممکن ہے؟ (‏ب)‏ شیطان خدا کے خادموں کے سلسلے میں کیسے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتا ہے؟‏

۱۲ کیا خداترس انسان شیاطین کی تعلیمات کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ دو وجوہات کی بنا پر وہ واقعی ایسا کر سکتے ہیں۔ اول تو اسلئے کہ الہی تعلیم زیادہ طاقتور ہے، اور دوسرا اسلئے کہ یہوواہ نے شیطان کی چالوں کو پہلے ہی بے‌نقاب کر دیا ہے تاکہ ہم ان کا مقابلہ کر سکیں۔ جیسے کہ پولس رسول نے کہا، ”‏ہم اسکے حیلوں سے ناواقف نہیں۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۱‏)‏ ہم جانتے ہیں کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کیلئے شیطان اذیت کو ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۲‏)‏ تاہم، اس سے بھی زیادہ عیاری سے، وہ انکے دلوں اور دماغوں پراثرانداز ہونے کی کوشش کرتا ہے جو خدا کی خدمت کرتے ہیں۔ اس نے حوا کو گمراہ کیا اور اسکے دل میں غلط خواہشات ڈالیں۔ وہ آج بھی ایسی ہی کوشش کرتا ہے۔ پولس نے کرنتھیوں کو لکھا:‏ ”‏لیکن میں ڈرتا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جسطرح سانپ نے اپنی مکاری سے حوا کو بہکایا اسی طرح تمہارے خیالات بھی اس خلوص اور پاکدامنی سے ہٹ جائیں جو مسیح کیساتھ ہونی چاہئے۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳‏)‏ غور کریں کہ اس نے بالعموم نوع‌انسانی کی سوچ کو کس قدر بگا‌ڑا ہے۔‏

۱۳.‏ عدن سے لیکر شیطان نے نوع‌انسانی کیساتھ کونسے جھوٹ بولے ہیں؟‏

۱۳ حوا کے سامنے، شیطان نے یہوواہ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور کہا کہ انسان اگر اپنے خالق کی نافرمانی کریں تو وہ الہوں کی مانند بن سکتے ہیں۔ آجکل انسانوں کی گنہگارانہ حالت ثابت کرتی ہے کہ شیطان جھوٹا تھا، نہ کہ یہوواہ۔ انسان آجکل الہ نہیں ہیں!‏ تاہم، شیطان نے اس پہلے جھوٹ کی حمایت دیگر جھوٹی باتوں کیساتھ کی۔ اس نے اس خیال کو متعارف کرایا کہ انسانی جان غیرفانی یعنی نہ مرنے والی ہے۔ یوں اس نے آزمائش کے طور پر نوع‌انسانی کے سامنے ایک اور طرح سے خدا کی مانند بننے کا امکان رکھا۔ اسکے بعد، اس نے اسی جھوٹے عقیدے پر مبنی، آتشی دوزخ، اعراف، ارواح‌پرستی اور اجدادپرستی کی تعلیمات کو فروغ دیا۔ یہ جھوٹ ابھی تک سینکڑوں ملین انسانوں کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہیں۔—‏استثنا ۱۸:‏۹-‏۱۳۔‏

۱۴، ۱۵.‏ موت اور مستقبل کیلئے انسان کی امید کی بابت سچائی کیا ہے؟‏

۱۴ یقیناً، جو کچھ یہوواہ نے آدم کو بتایا وہی سچائی تھی۔ خدا کے خلاف گناہ کرنے کے بعد آدم واقعی مر گیا۔ (‏پیدایش ۵:‏۵‏)‏ جب آدم اور اسکی اولاد مر گئی تو وہ مردہ، لاشعور اور بے‌عمل جانیں بن گئیں۔ (‏پیدایش ۲:‏۷،‏ واعظ ۹:‏۵،‏ ۱۰،‏ حزقی‌ایل ۱۸:‏۴)‏ آدم سے ورثہ میں گناہ پانے کی وجہ سے، تمام انسانی جانیں مرتی ہیں۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ تاہم، پیچھے عدن میں، یہوواہ نے ایک نسل کے آنے کا وعدہ کیا جو ابلیس کے کاموں کی مزاحمت کریگی۔ (‏پیدایش ۳:‏۱۵‏)‏ وہ نسل خدا کا اپنا اکلوتا بیٹا، یسوع مسیح تھا۔ یسوع گناہ سے پاک موا، اور اسکی قربانی میں دی گئی زندگی نے نوع‌انسانی کو انکی موت کی حالت سے چھڑانے کیلئے فدیے کا کام دیا۔ وہ جو فرمانبرداری کرتے ہوئے یسوع پر ایمان لاتے ہیں ان کے پاس اس ہمیشہ کی زندگی کو حاصل کرنے کا موقع ہے جسے آدم نے کھو دیا تھا۔—‏یوحنا ۳:‏۳۶،‏ رومیوں ۶:‏۲۳،‏ ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۵، ۶‏۔‏

۱۵ بنی‌نوع‌انسان کیلئے حقیقی امید فدیہ ہے، نہ کہ کوئی ایسا مبہم نظریہ کہ مرنے کے بعد جان بچ جاتی ہے۔ یہ الہی تعلیم ہے۔ یہ سچائی ہے۔ اسکے علاوہ یہ یہوواہ کی محبت اور حکمت کا ایک شاندار مظاہرہ بھی ہے۔ (‏یوحنا ۳:‏۱۶‏)‏ ہمیں اس سچائی کو جان لینے اور ان معاملات میں شیاطین کی تعلیمات سے آزاد کئے جانے کیلئے کتنا شکرگزار ہونا چاہئے!‏—‏یوحنا ۸:‏۳۲‏۔‏

۱۶.‏ جب انسان اپنی حکمت پر چلتے ہیں تو اسکے دوررس نتائج کیا ہوتے ہیں؟‏

۱۶ باغ‌عدن میں اپنی جھوٹی باتوں سے، شیطان نے خدا سے خودمختار ہونے کی آرزو کرنے اور خود اپنی عقل پر بھروسہ کرنے کیلئے آدم اور حوا کی حوصلہ‌افزائی کی۔ آجکل، ہم اس کے دوررس نتائج، اس وقت دنیا میں پائے جانے والے جرائم، معاشی مشکلات، جنگوں اور بہت زیادہ ناانصافی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ تعجب نہیں کہ بائبل کہتی ہے:‏ ”‏کیونکہ دنیا کی حکمت خدا کے نزدیک بیوقوفی ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۹‏)‏ تاہم، زیادہ‌تر انسان یہوواہ کی تعلیمات پر توجہ دینے کی بجائے احمقانہ طور پر تکلیف اٹھانا پسند کرتے ہیں۔ (‏زبور ۱۴:‏۱-‏۳،‏ ۱۰۷:‏۱۷‏)‏ مسیحی، جنہوں نے الہی تعلیم کو قبول کر لیا ہے، اس پھندے میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔‏

۱۷.‏ شیطان نے کونسے ”‏غلط کہلانے والے علم“‏ (‏این‌ڈبلیو)‏ کو ترقی دی ہے، اور اسکے پھل کیا ہیں؟‏

۱۷ پولس نے تیمتھیس کو لکھا:‏ ”‏اے تیمتھیس اس امانت کو حفاظت سے رکھ اور جس علم کو علم کہنا ہی غلط ہے اسکی بیہودہ بکواس اور مخالفت پر توجہ نہ کر۔ بعض اسکا اقرار کرکے ایمان سے برگشتہ ہو گئے ہیں۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۲۰، ۲۱‏)‏ یہ ”‏علم“‏ شیاطین کی تعلیمات کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ پولس کے زمانے میں، یہ غالباً ان برگشتہ نظریات کی طرف اشارہ تھا جنہیں بعض لوگ کلیسیاؤں میں پھیلا رہے تھے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۶-‏۱۸‏)‏ بعد میں، ناسٹیسزم (‏مادیت کے گنہگار ہونے اور روحانی سچائی کے باطنی علم سے نجات حاصل کرنے کا عقیدہ)‏ اور یونانی فلسفے جیسے غلط کہلانے والے علم نے کلیسیا کو بگا‌ڑ دیا۔ آجکل دنیا میں، دہریت، لاادریت، ارتقا کے نظریات اور بائبل پر اعلی تنقید، غلط کہلانے والے علم کی مثالیں ہیں، بالکل اسی طرح جیسے جدید مرتدوں کے پھیلائے ہوئے غیرصحیفائی خیالات ہیں۔ غلط کہلانے والے اس تمام علم کا پھل اخلاقی گراوٹ، وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی اختیار کی بے‌ادبی، بددیانتی اور خودغرضی کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے جو شیطان کے نظام کا خاصہ ہیں۔‏

الہی تعلیم سے وابستہ رہنا

۱۸.‏ آجکل کون الہی تعلیم کی جستجو کرتے ہیں؟‏

۱۸ اگرچہ عدن کے وقت سے لیکر شیطان زمین کو شیاطین کی تعلیمات سے بھرتا رہا ہے، ہمیشہ کچھ ایسے لوگ رہے ہیں جو الہی تعلیم کی جستجو میں رہے ہیں۔ ان کی تعداد آجکل لاکھوں میں ہے۔ ان میں ممسوح مسیحیوں کا بقیہ بھی شامل ہے جنکی یسوع کیساتھ اسکی آسمانی بادشاہی میں حکومت کرنے کی یقینی امید ہے اور ”‏دوسری بھیڑوں“‏ کی بڑھتی ہوئی بڑی بھیڑ بھی جنکی امید اس بادشاہی کے زمینی قلمرو کے وارث بننے کی ہے۔ (‏متی ۲۵:‏۳۴،‏ یوحنا ۱۰:‏۱۶‏، این‌ڈبلیو ، مکاشفہ ۷:‏۳،‏ ۹‏)‏ آجکل، انہیں ایک عالمی تنظیم میں اکٹھے جمع کیا گیا ہے جس پر یسعیاہ کے یہ الفاظ عائد ہوتے ہیں:‏ ”‏تیرے سب فرزند خداوند سے تعلیم پائینگے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی کامل ہوگی۔“‏—‏یسعیاہ ۵۴:‏۱۳‏۔‏

۱۹.‏ یہوواہ سے تعلیم پانے میں کیا شامل ہے؟‏

۱۹ یہوواہ سے تعلیم پانے کا مطلب سچے عقیدہ کو جاننے سے زیادہ کچھ ہے—‏اگرچہ یہ بھی اہم ہے۔ یہوواہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کیسے زندگی بسر کی جائے، اپنی ذاتی زندگیوں میں الہی تعلیم کا کیسے اطلاق کیا جائے۔ مثال کے طور پر، ہم خودغرضی، بداخلاقی، اور خودمختاری کی روح کی مزاحمت کرتے ہیں جو کہ ہمارے اردگرد کی دنیا میں قابو سے باہر ہیں۔ ہم اس دنیا میں دولت کے سنگدلانہ حصول کو وہی کچھ تسلیم کرتے ہیں جو یہ ہے یعنی جان‌لیوا۔ (‏یعقوب ۵:‏۱-‏۳‏)‏ ہم یوحنا رسول کے الفاظ میں بیان‌کردہ الہی تعلیم کو کبھی نہیں بھولتے:‏ ”‏نہ دنیا سے محبت رکھو نہ ان چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اس میں باپ کی محبت نہیں۔“‏—‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵‏۔‏

۲۰، ۲۱.‏ (‏ا)‏ انسانوں کو اندھا کرنے کی اپنی کوششوں میں شیطان کیا استعمال کرتا ہے؟ (‏ب)‏ جو الہی تعلیم سے وابستہ رہتے ہیں انہیں کونسی برکات حاصل ہوتی ہیں؟‏

۲۰ شیاطین کی تعلیمات کا اس کے متاثرین پر اثر کرنتھیوں کے نام پولس کے الفاظ میں دیکھا جا سکتا ہے:‏ ”‏ان بے‌ایمانوں کے واسطے جنکی عقلوں کو [‏شیطان]‏ نے اندھا کر دیا ہے تاکہ مسیح جو خدا کی صورت ہے اسکے جلال کی خوشخبری کی روشنی ان پر نہ پڑے۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴‏)‏ شیطان اسی طرح سچے مسیحیوں کو بھی اندھا کرنا چاہیگا۔ پیچھے عدن میں، اس نے خدا کے خادموں میں سے ایک کو گمراہ کرنے کیلئے سانپ کو استعمال کیا۔ آجکل، وہ پرتشدد یا غیراخلاقی فلموں اور ٹیلی‌وژن پروگراموں کو استعمال کرتا ہے۔ وہ ریڈیو، ادب اور موسیقی سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک طاقتور ہتھیار بری صحبت ہے۔ (‏امثال ۴:‏۱۴،‏ ۲۸:‏۷،‏ ۲۹:‏۳‏)‏ ایسی چیزیں جو کچھ ہیں اسے ہمیشہ پہچان لیں یعنی شیاطین کی تدابیر اور تعلیمات۔‏

۲۱ یاد رکھیں کہ عدن میں شیطان کے الفاظ جھوٹ تھے، یہوواہ کے الفاظ سچ ثابت ہوئے۔ ان ابتدائی وقتوں سے لیکر، سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ہے۔ شیطان ہمیشہ جھوٹا ثابت ہوا ہے اور الہی تعلیم مسلسل سچی رہی ہے۔ (‏رومیوں ۳:‏۴‏)‏ اگر ہم خدا کے کلام سے وابستہ رہتے ہیں تو ہم سچ اور جھوٹ کے درمیان لڑائی میں ہمیشہ جیتنے والی طرف ہونگے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۴، ۵‏)‏ پس آئیے ہم، شیاطین کی تمام تعلیمات کو رد کرنے کا عزم‌مصمم رکھیں۔ اس طرح ہم اس وقت تک برداشت کرنے کے قابل ہونگے جب تک سچائی اور جھوٹ کے درمیان جنگ ختم نہیں ہو جاتی۔ سچائی نے فتح پا لی ہوگی۔ شیطان ختم ہو گیا ہوگا، اور زمین پر صرف الہی تعلیم ہی سنائی دیگی۔—‏یسعیاہ ۱۱:‏۹‏۔ (‏۹ ۴/۱ w۹۴)‏

کیا آپ واضح کر سکتے ہیں؟‏

▫شیاطینی تعلیمات پہلی بار کب سنائی دی تھیں؟‏

▫ شیطان اور اسکے شیاطین کے ذریعے پھیلائے جانے والے بعض جھوٹ کیا ہیں؟‏

▫ کن طریقوں سے شیطان آجکل انتہائی طور پر سرگرم‌عمل ہے؟‏

▫ شیاطین کی تعلیمات کو پھیلانے کیلئے شیطان کیا چیز استعمال کرتا ہے؟‏

▫ جو الہی تعلیم سے وابستہ رہتے ہیں انہیں کونسی برکات حاصل ہوتی ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

شیاطینی تعلیم پہلی بار باغ‌عدن میں سنی گئی تھی

‏[‏تصویر]‏

فدیے اور بادشاہی کی بابت الہی تعلیم بنی‌آدم کیلئے واحد امید پیش کرتی ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں