یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏8 ص.‏ 13-‏17
  • بادشاہتی مناد تمام دنیا میں سرگرم‌عمل

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بادشاہتی مناد تمام دنیا میں سرگرم‌عمل
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • غیرقوموں کی میعاد کے خاتمے کی توقع میں
  • قائم‌شدہ بادشاہت کا گرمجوشی سے اعلان کرنا
  • تمام آبادشدہ زمین تک پہنچنا
  • خوشخبری کے ساتھ ہر ممکن شخص تک پہنچنا
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏8 ص.‏ 13-‏17

بادشاہتی مناد تمام دنیا میں سرگرم‌عمل

‏”‏تم .‏.‏.‏ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ہوگے۔“‏—‏اعمال ۱:‏۸‏۔‏

۱.‏ یسوع نے کس پیغام کا ذکر کیا جسکا اعلان اسکے پیروکار ہمارے زمانے میں کرینگے؟‏

اس کام کی وضاحت کرتے وقت جسکو کرنے کیلئے یہوواہ نے اپنے بیٹے کو زمین پر بھیجا، یسوع نے کہا:‏ ”‏مجھے .‏.‏.‏ خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانا ضرور ہے۔“‏ (‏لوقا ۴:‏۴۳‏)‏ اسی طرح، جب وہ شاہی اختیار کے ساتھ واپس آئے گا تو ایک ایسے ہی کام کا ذکر کرتے ہوئے جو اسکے شاگرد زمین پر کرینگے، یسوع نے کہا:‏ ”‏بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“‏—‏متی ۲۴:‏۱۴‏۔‏

۲.‏ (‏ا)‏ یہ کیوں اتنا ضروری ہے کہ بادشاہتی پیغام کی وسیع نشرواشاعت کی جائے؟ (‏ب)‏ ہم سب کو اپنے آپ سے کونسا سوال پوچھنا چاہئے؟‏

۲ خدا کی بادشاہت کی بابت خبر اتنی اہم کیوں ہے؟ بادشاہت اتنی وسیع نشرواشاعت کا تقاضا کیوں کرتی ہے؟ کیونکہ یہ مسیحائی بادشاہت ہی ہے جو یہوواہ کی عالمگیر حاکمیت کو سربلند کریگی۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۴-‏۲۸‏)‏ اس کے ذریعے، یہوواہ موجودہ شیطانی نظام کے خلاف عدالتی فیصلے کی تعمیل کریگا اور زمین کے سارے خاندانوں کو برکت دینے کا اپنا وعدہ پورا کریگا۔ (‏پیدایش ۲۲:‏۱۷، ۱۸،‏ دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏)‏ بادشاہت کے متعلق گواہی دلوانے سے، یہوواہ نے ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا ہے جن کو بعدازاں اس نے اپنے بیٹے کیساتھ ہم‌میراث ہونے کیلئے مسح کیا۔ بادشاہت کے اعلان کے ذریعے، آجکل جدا کئے جانے کا ایک کام بھی تکمیل پا رہا ہے۔ (‏متی ۲۵:‏۳۱-‏۳۳‏)‏ یہوواہ اپنے مقصد کی بابت تمام قوموں کے لوگوں کو مطلع کرنا چاہتا ہے۔ وہ انہیں اسکی بادشاہت کی رعایا کے طور پر زندگی کا انتخاب کرنے کا موقع دینا چاہتا ہے۔ (‏یوحنا ۳:‏۱۶،‏ اعمال ۱۳:‏۴۷‏)‏ کیا آپ اس بادشاہت کا اعلان کرنے میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں؟‏

غیرقوموں کی میعاد کے خاتمے کی توقع میں

۳.‏ (‏ا)‏ موزوں طور پر، وہ موضوع کیا تھا جسے سی۔ٹی۔ رسل نے بائبل مطالعے کیلئے گروپوں کو منظم کرنے کی غرض سے پہلے دورے پر نمایاں کیا؟ (‏ب)‏ ان ابتدائی بائبل اسٹوڈنٹس نے اس مقام کی بابت کیا محسوس کیا جو خدا کی بادشاہت کو انکی زندگیوں میں حاصل ہونا چاہئے؟‏

۳ پیچھے ۱۸۸۰ میں، مینارنگہبانی کے پہلے ایڈیٹر، چارلس ٹیز رسل نے بائبل مطالعے کیلئے گروپوں کو تشکیل دینے کی غرض سے شمال‌مشرقی ریاستہائے متحدہ کا دورہ کیا۔ موزوں طور پر، جس مضمون پر انہوں نے بات کی وہ تھا ”‏خدا کی بادشاہی سے متعلق باتیں۔“‏ جیسا کہ مینارنگہبانی کے ابتدائی شماروں میں ظاہر کیا گیا، بائبل اسٹوڈنٹس (‏جیسے کہ یہوواہ کے گواہ اسوقت جانے جاتے تھے)‏ نے اس بات کو محسوس کیا کہ اگر انہیں خدا کی بادشاہت میں شریک ہونے کے لائق ٹھہرنا ہے تو ضرور ہے کہ وہ اسکی خدمت میں اپنی زندگیوں کو، اپنی لیاقتوں کو، اور اپنے وسائل کو بخوشی استعمال کرتے ہوئے بادشاہت کو اپنی اولین فکر بنائیں۔ زندگی میں دیگر تمام چیزوں کو دوسرے درجے پر ہونا تھا۔ (‏متی ۱۳:‏۴۴-‏۴۶‏)‏ انکی ذمہ‌داری میں دوسروں کے سامنے خدا کی بادشاہت کی بابت خوشخبری کا اعلان کرنا شامل تھا۔ (‏یسعیاہ ۶۱:‏۱، ۲‏)‏ ۱۹۱۴ میں غیرقوموں کی میعاد کے خاتمے سے قبل انہوں نے کس حد تک یہ کام کیا؟‏

۴.‏ ۱۹۱۴ سے قبل بائبل اسٹوڈنٹس کے چھوٹے سے جتھے نے کس حد تک بائبل لٹریچر کو تقسیم کیا؟‏

۴ ۱۸۷۰ کے دہوں سے لیکر ۱۹۱۴ تک، بائبل اسٹوڈنٹس تعداد میں نسبتاً کم تھے۔ ۱۹۱۴ تک صرف کوئی ۵،۱۰۰ عوامی گواہی دینے میں سرگرمی کیساتھ حصہ لے رہے تھے۔ لیکن یہ کیا ہی حیرت‌انگیز گواہی تھی!‏ ۱۸۸۱ میں، مینارنگہبانی کے پہلی مرتبہ شائع ہونے کے صرف دو سال بعد، انہوں نے ۱۶۲ صفحات کی شائع‌کردہ کتاب ذی‌شعور مسیحیوں کیلئے خوراک (‏انگریزی)‏ کو تقسیم کرنے کا کام سنبھالا۔ چند ہی مہینوں کے اندر، انہوں نے ۱۲،۰۰،۰۰۰ کاپیاں بانٹ دیں۔ کچھ ہی سالوں میں، لاکھوں اشتہار بہت سی زبانوں میں سالانہ تقسیم کئے گئے۔‏

۵.‏ کالپورٹر کون تھے، اور انہوں نے کس قسم کے جذبے کا اظہار کیا؟‏

۵ نیز، ۱۸۸۱ سے شروع کرکے، بعض نے بطور کالپورٹر مبشروں کے اپنی خدمات پیش کیں۔ یہ آجکل کے پائنیروں (‏کل‌وقتی مبشروں)‏ کے پیش‌رو تھے۔ بعض کالپورٹروں نے پیدل یا سائیکل پر سفر کرتے ہوئے اس ملک کے تقریباً ہر حصے میں ذاتی طور پر گواہی دی جہاں وہ رہتے تھے۔ دیگر غیرملکی میدانوں تک پہنچے اور وہ فن‌لینڈ، باربڈوس، اور برما (‏جو اب میانمار ہے)‏ جیسی جگہوں پر خوشخبری لیکر جانے والے پہلے اشخاص تھے۔ انہوں نے یسوع مسیح اور اسکے رسولوں کی طرح کا مشنری جوش‌وجذبہ ظاہر کیا۔—‏لوقا ۴:‏۴۳،‏ رومیوں ۱۵:‏۲۳-‏۲۵‏۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ بائبل سچائی کو پھیلانے کیلئے بھائی رسل کی سیاحتیں کتنی وسیع تھیں؟ (‏ب)‏ غیرقوموں کی میعاد کے خاتمے سے پہلے غیرملکی میدانوں میں خوشخبری کی منادی کو آگے بڑھانے کیلئے اور کیا کیا گیا تھا؟‏

۶ بھائی رسل نے سچائی کو پھیلانے کیلئے خود بھی وسیع پیمانے پر سفر کیا۔ وہ کئی مرتبہ کینیڈا گئے، پاناما، جمیکا، اور کیوبا میں خطاب کیا، یورپ کے درجنوں دورے کئے، اور ایک بشارتی دورے کی غرض سے پوری دنیا کا چکر لگایا۔ انہوں نے غیرملکی میدانوں کے اندر بھی خوشخبری کے کام کو شروع کرنے اور اسکی راہنمائی کرنے کیلئے دوسرے آدمیوں کو روانہ کیا۔ ۱۸۹۰ کے دہے کے وسط میں ایڈولف ویبر کو یورپ بھیجا گیا اور اسکی خدمتگزاری سویٹزرلینڈ سے لیکر فرانس، اٹلی، جرمنی، اور بیلجیئم تک جا پہنچی۔ ای۔جے۔ کاؤارڈ کو جزائر غرب‌الہند کے علاقے میں بھیجا گیا۔ رابرٹ ہالیسٹر کو ۱۹۱۲ میں مشرقی ممالک میں تفویض کیا گیا۔ وہاں پر دس زبانوں میں خاص اشتہار تیار کئے گئے اور مقامی تقسیم کاروں کے توسط سے پورے انڈیا، چین، جاپان، اور کوریا میں انکی لاکھوں کاپیاں بانٹیں گئیں۔ اگر آپ اسوقت زندہ ہوتے تو کیا آپ کے دل نے آپ کو اپنے علاقے میں اور اس سے باہر خوشخبری کے ساتھ دوسرے لوگوں تک پہنچنے کی مخلص کوشش کرنے کی تحریک دی ہوتی؟‏

۷.‏ (‏ا)‏ گواہی کو بڑھانے کیلئے اخباروں کو کیسے استعمال کیا گیا؟ (‏ب)‏ ”‏تخلیق کا تصویری ڈرامہ“‏ کیا تھا، اور ایک ہی سال میں اسے کتنے لوگوں نے دیکھا؟‏

۷ جب غیرقوموں کی میعاد اپنے اختتام کے قریب تھی تو بھائی رسل کے ذریعے پیش کئے جانے والے بائبل خطبات کو شائع کرنے کیلئے اخبارات کو استعمال کیا گیا۔ وہ اولین طور پر ۱۹۱۴ کے سال پر زور نہیں دیتے تھے بلکہ اسکی بجائے خدا کے مقصد اور اسکی تکمیل کے یقینی ہونے پر۔ ۱۵،۰۰۰،۰۰۰ قاریوں تک پہنچنے والے بیک وقت تقریباً ۲۰۰۰ اخباروں نے ان مذہبی خطبات کو باقاعدگی کیساتھ نمایاں کیا۔ اسکے بعد، جیسے ہی ۱۹۱۴ کے سال کا آغاز ہوا تو سوسائٹی نے ”‏تخلیق کا تصویری ڈرامہ“‏ کی عوامی نمائش شروع کر دی۔ ۲ گھنٹے کی چار پیشکشوں میں، اس نے تخلیق سے لیکر عہدہزارسالہ تک کی تمام بائبل سچائیوں کو پیش کیا۔ ایک ہی سال کے اندر، جنوبی امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ میں سامعین کی نو ملین سے زیادہ تعداد اسے دیکھ چکی تھی۔‏

۸.‏ ۱۹۱۴ تک، بائبل اسٹوڈنٹس خوشخبری کیساتھ کتنے ممالک تک پہنچ چکے تھے؟‏

۸ دستیاب ریکارڈوں کے مطابق، ۱۹۱۴ کے بعد کے حصے تک، پرجوش مبشروں کا یہ جتھا خدا کی بادشاہت کی بابت اپنے اعلان کو ۶۸ ممالک کے اندر پھیلا چکا تھا۔‏a لیکن یہ محض ابتدا ہی تھی!‏

قائم‌شدہ بادشاہت کا گرمجوشی سے اعلان کرنا

۹.‏ سیدر پوائنٹ کی کنونشنوں پر، بادشاہت کی گواہی کے کام کو کسطرح خاص طور پر تحریک دی گئی تھی؟‏

۹ ۱۹۱۹ میں، جب بائبل اسٹوڈینٹس سیدر پوائنٹ، اوہایو کے مقام پر اکٹھے ہوئے تو جے۔ایف۔ روتھرفورڈ نے، جو اسوقت واچ‌ٹاور سوسائٹی کے صدر تھے، اعلانیہ کہا:‏ ”‏ہمارا پیشہ مسیحا کی آنے والی پرشکوہ بادشاہت کا اعلان کرنا تھا اور ہے۔“‏ ۱۹۲۲ میں سیدر پوائنٹ پر دوسری کنونشن میں بھائی روتھرفورڈ نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ ۱۹۱۴ میں غیرقوموں کی میعاد کے ختم ہونے پر ”‏جلال کا بادشاہ اپنی ذات کیلئے اپنا اعلی اختیار حاصل کر چکا تھا اور حکمرانی شروع کر چکا تھا۔“‏ آگے چل کر اس نے بڑے واضح طریقے سے یہ کہتے ہوئے اس مسئلے کو اپنے سامعین کے سامنے رکھا:‏ ”‏کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ جلال کے بادشاہ نے اپنی حکمرانی شروع کر دی ہے؟ اے حق‌تعالی کے فرزندو!‏ پھر میدانی خدمت میں واپس جاؤ .‏.‏.‏ دور دراز تک اس پیغام کا اعلان کرو۔ دنیا یہ بات جان لے کہ یہوواہ ہی خدا ہے اور یسوع مسیح بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہے۔ یہ دن تمام دنوں سے اعلی ہے۔ دیکھو، بادشاہ حکومت کرتا ہے!‏ آپ اسکی مشہوری کرنے والے کارندے ہو۔“‏

۱۰، ۱۱.‏ کیسے ریڈیو، لاؤڈ سپیکروں والی کاروں، اور بڑے بڑے اشتہاروں تمام کو بادشاہتی سچائی کیساتھ لوگوں تک پہنچنے کیلئے موثر طریقے سے استعمال کیا گیا تھا؟‏

۱۰ سیدر پوائنٹ کی ان کنونشنوں کو ۷۰ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے—‏اسوقت سے تقریباً ۸۰ سال، جب سے یہوواہ نے اپنے بیٹے کی مسیحائی حکومت کے ذریعے اپنی حاکمیت کو ظاہر کرنا شروع کیا۔ یہوواہ کے گواہوں نے خدا کے کلام میں اپنے لئے درج کام کو حقیقت میں کس حد تک مکمل کیا ہے؟ آپ ذاتی طور پر اس میں کسقدر حصہ لے رہے ہیں؟‏

۱۱ ۱۹۲۰ کے دہے کے اوائل میں، ریڈیو ایک ایسے آلے کے طور پر دستیاب ہو گیا جسے بادشاہتی پیغام کی وسیع نشرواشاعت کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ۱۹۳۰ کے عشرے کے دوران، دنیا کی امید کے طور پر بادشاہت کو نمایاں کرنے والی کنونشن تقاریر کو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ریڈیو نیٹ ورکس یا سلسلہ‌وار نشرگاہوں اور ٹیلیفون کی تاروں کے ذریعے پیش کیا گیا۔ لاؤڈ اسپیکروں والی گاڑیوں کو بھی عوامی مقامات پر ریکارڈشدہ بائبل تقاریر سنانے کیلئے استعمال کیا گیا۔ پھر، ۱۹۳۶ میں، گلاسگو، اسکاٹ لینڈ کے اندر جب ہمارے بھائی عوامی تقاریر کی تشہیر کرنے کیلئے کاروباری حلقوں میں جمع ہوتے تھے تو انہوں نے بڑے بڑے اشتہارات پہننا شروع کر دئے۔ یہ سب کے سب اسوقت بہت سے لوگوں کو گواہی دینے کے نہایت مؤثر ذرائع تھے جب ہماری تعداد بہت ہی کم تھی۔‏

۱۲.‏ جیسے کہ صحائف ظاہر کرتے ہیں، ہمارے لئے انفرادی طور پر گواہی دینے کیلئے نہایت مؤثر طریقوں میں سے ایک کونسا ہے؟‏

۱۲ بے‌شک، صحائف واضح کرتے ہیں کہ بطور مسیحیوں کے، ہم سب پر فرداً فرداً گواہی دینے کی ذمہ‌داری آتی ہے۔ ہم صرف اخبار کے مضامین اور نشری پروگراموں کو ہی یہ کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہزاروں وفادار مسیحیوں—‏مردوں، عورتوں، اور نوجوانوں—‏نے اس ذمہ‌داری کو قبول کیا ہے۔ نتیجے کے طور پر، گھرباگھر کی منادی یہوواہ کے گواہوں کا شناختی نشان بن گئی ہے۔—‏اعمال ۵:‏۴۲،‏ ۲۰:‏۲۰‏۔‏

تمام آبادشدہ زمین تک پہنچنا

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏ بعض گواہ اپنی خدمتگزاری کو انجام دینے کیلئے دوسرے قصبوں، حتی‌کہ دوسرے ممالک، میں کیوں منتقل ہو جاتے ہیں؟ (‏ب)‏ کسی کے پیدائشی ملک میں لوگوں کیلئے پرمحبت فکرمندی نے خوشخبری کو پھیلانے کیلئے کسطرح مدد کی ہے؟‏

۱۳ یہ جانتے ہوئے کہ بادشاہتی پیغام کی منادی تمام آبادشدہ زمین پر کی جانی ہے، بعض یہوواہ کے گواہوں نے اپنے علاقے سے باہر دوردراز علاقوں تک پہنچنے کیلئے جو کچھ وہ انفرادی طور پر کر سکتے ہیں اس پر سنجیدگی سے غور کیا ہے۔‏

۱۴ بہتیرے لوگوں نے اپنی جائے‌پیدائش کو چھوڑنے کے بعد سچائی کو سیکھا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مادی مفاد کی خاطر ہی چھوڑ گئے ہوں، تاہم انہوں نے نہایت ہی بیش‌بہا چیز کو حاصل کر لیا ہے، اور بعض نے تو سچائی کو پھیلانے کیلئے اپنے پیدائشی علاقے یا ملک میں واپس جانے کی تحریک پائی ہے۔ لہذا، اس صدی کے اوائل میں خوشخبری کی منادی سکینڈینیویا، یونان، اٹلی، مشرقی یورپ کے ممالک، اور دیگر بہت سے خطوں تک پھیل گئی۔ ابھی تک، ۱۹۹۰ کے دہے میں، بادشاہتی پیغام اسی طریقے سے پھیل رہا ہے۔‏

۱۵.‏ ۱۹۲۰ اور ۱۹۳۰ کے دہوں کے دوران، ان چند لوگوں نے کیا کام سرانجام دیا جنکا رجحان بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ یسعیاہ ۶:‏۸ میں ظاہر کیا گیا؟‏

۱۵ اپنی زندگیوں پر خدا کے کلام کی مشورت کو عائد کرنے سے، بعض خود کو ایسی جگہوں پر خدمات انجام دینے کیلئے دستیاب کرنے کے لائق ہوئے ہیں جہاں پر وہ پہلے نہیں رہے۔ ڈبلیو۔آر۔ براؤن (‏جو اکثر ”‏بائبل براؤن“‏ کہلاتا تھا)‏ ان ہی میں سے ایک تھا۔ ۱۹۲۳ میں، بشارتی کام کو آگے بڑھانے کیلئے، وہ ٹرینیڈاڈ سے مغربی افریقہ کو چلا گیا۔ ۱۹۳۰ کے دہے کے دوران، فرینک اور گرے اسمتھ، رابرٹ نزبت، اور ڈیوڈ نارمن انہی لوگوں میں سے تھے جو بادشاہتی پیغام کو افریقہ کے مشرقی ساحل تک لے کر گئے۔ دیگر نے جنوبی امریکہ کے میدان کو ترقی دینے میں مدد کی۔ ۱۹۲۰ کے دہے کے اوائل میں، کینیڈا کے رہنے والے جارج ینگ نے ارجنٹینا، برازیل، بولیویا، چلی، اور پیرو کے اندر کام میں حصہ لیا۔ خوان میونیز نے، جو سپین میں خدمت کر چکا تھا، ارجنٹینا، چلی، پیراگوائے، اور یوروگوئے میں کام کو تکمیل تک پہنچانا جاری رکھا۔ ان سب نے بالکل ویسے ہی جذبے کا اظہار کیا جو یسعیاہ ۶:‏۸ میں واضح کیا گیا ہے:‏ ”‏میں حاضر ہوں مجھے بھیج۔“‏

۱۶.‏ جنگ سے پیشتر کے سالوں میں آبادی کے بڑے مراکز کے علاوہ اور کہاں پر گواہی دی گئی تھی؟‏

۱۶ خوشخبری کی منادی دورافتادہ علاقوں تک بھی پہنچ رہی تھی۔ گواہوں کے اپنے ہاتھوں سے چلائی جانے والی کشتیاں نیوفاؤنڈلینڈ کی تمام بیرونی بندرگاہوں، قطب شمالی میں ناروے کے ساحل، بحرالکاہل کے جزائر، اور جنوب مشرقی ایشیا کی بندرگاہوں کا سفر کر رہی تھیں۔‏

۱۷.‏ (‏ا)‏ ۱۹۳۵ تک، گواہوں نے کتنے ممالک تک رسائی حاصل کر لی تھی؟ (‏ب)‏ اسی وقت پر کام ختم کیوں نہیں ہو گیا تھا؟‏

۱۷ حیرانی کی بات ہے کہ ۱۹۳۵ کے سال تک یہوواہ کے گواہ ۱۱۵ ممالک کے اندر منادی کا کام کرنے میں مصروف تھے، اور وہ یا تو گواہی دینے کی مہمات یا پھر ڈاک کے ذریعے لٹریچر ارسال کرنے سے دیگر ۳۴ ممالک تک بھی پہنچ چکے تھے۔ پھر بھی، کام ختم نہیں ہوا تھا۔ اسی سال یہوواہ نے ایک ایسی ”‏بڑی بھیڑ“‏ کو جمع کرنے کے اپنے مقصد کی بابت انکی آنکھوں کو کھول دیا جو عین اسکی نئی دنیا میں زندہ بچ کر داخل ہوگی۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹، ۱۰،‏ ۱۴‏)‏ ابھی اور بہت زیادہ گواہی دی جانی تھی!‏

۱۸.‏ بادشاہتی اعلان کے کام میں، گلئیڈ سکول اور منسٹیریل ٹریننگ سکول کے ذریعے کیا کردار ادا کئے گئے ہیں؟‏

۱۸ جبکہ دوسری عالمی جنگ نے تمام زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور بیسیوں ممالک میں یہوواہ کے گواہوں کے لٹریچر یا کارگزاری پر پابندیاں عائد کر دی گئیں تو بھی گلئیڈ کے واچ‌ٹاور بائبل سکول نے بادشاہت کے بین‌الاقوامی اعلان کے کہیں عظیم کام کو سرانجام دینے کی غرض سے مستقبل کے مشنریوں کو تربیت دینے کا آغاز کیا۔ آج تک، گلئیڈ کے گریجویٹ اشخاص ۲۰۰ سے زائد ممالک میں خدمت کر چکے ہیں۔ انہوں نے محض لٹریچر پیش کرنے اور پھر دوسری جگہ چلے جانے سے زیادہ کچھ کیا ہے۔ انہوں نے بائبل مطالعے کرائے ہیں، کلیسیاؤں کو منظم کیا ہے، اور تھیوکریٹک ذمہ‌داریاں سنبھالنے کیلئے لوگوں کو تربیت دی ہے۔ حال ہی میں، چھ براعظموں کے اندر منسٹیریل ٹریننگ سکول سے گریجویشن کرنے والے بزرگوں اور خدمتگزار خادموں کو اس کام کے سلسلے میں نہایت اہم ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھی مدد دی گئی ہے۔ مسلسل ترقی کیلئے ایک مضبوط بنیاد ڈال دی گئی ہے۔—‏مقابلہ کریں ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲‏۔‏

۱۹.‏ یہوواہ کے خادموں نے زیادہ ضرورت والے علاقوں کے اندر خدمت کرنے کی دعوت کیلئے کس حد تک جوابی عمل دکھایا ہے؟‏

۱۹ کیا دیگر لوگ بعض ایسے علاقوں کی نگہداشت کرنے میں مدد دے سکتے تھے جن میں کام نہیں کیا گیا تھا؟ ۱۹۵۷ میں، عالمگیر کنونشنوں پر، اکیلے اشخاص اور خاندانوں—‏یہوواہ کے پختہ گواہوں—‏کو زیادہ ضرورت والے علاقوں میں جا کر رہائش اختیار کرنے اور وہاں پر اپنی خدمتگزاری کو جاری رکھنے کے معاملے پر غور کرنے کی حوصلہ‌افزائی دی گئی تھی۔ یہ دعوت بالکل ویسی ہی تھی جیسی خدا نے پولس رسول کو دی تھی، جس نے رویا میں ایک آدمی کو اپنی منت کرتے ہوئے دیکھا:‏ ”‏پار اتر کر مکدنیہ میں آ اور ہماری مدد کر۔“‏ (‏اعمال ۱۶:‏۹، ۱۰‏)‏ بعض ۱۹۵۰ کے عشرے میں منتقل ہوگئے جبکہ دوسرے بعد میں۔ کوئی ایک ہزار کے لگ بھگ گواہ آئرلینڈ اور کولمبیا کو گئے، سینکڑوں بہت سی دیگر جگہوں کو منتقل ہو گئے۔ ہزارہا لوگ اپنے ہی ملک کے اندر ایسے علاقوں میں منتقل ہوئے جن میں ضرورت زیادہ تھی۔—‏زبور ۱۱۰:‏۳‏۔‏

۲۰.‏ (‏ا)‏ ۱۹۳۵ سے لیکر، متی ۲۴:‏۱۴ میں یسوع کی پیشینگوئی کی تکمیل کے سلسلے میں کیا سرانجام پا چکا ہے؟ (‏ب)‏ گذشتہ چند سالوں کے دوران، کام کی رفتار کو کیسے بڑھایا گیا ہے؟‏

۲۰ اپنے لوگوں پر یہوواہ کی برکات کیساتھ، بادشاہتی اعلان کا کام ایک غیرمعمولی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ۱۹۳۵ سے لیکر پبلشروں کی تعداد تقریباً ۸۰ گنا زیادہ ہوگئی ہے، اور پائنیر صفوں میں اضافے کی شرح پبلشروں کی تعداد میں اضافے کی شرح سے ۶۰ فیصد زیادہ رہی ہے۔ گھریلو بائبل مطالعوں کے بندوبست کا آغاز ۱۹۳۰ کے دہوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ اب ہر مہینے اوسطاً ساڑھے چار ملین بائبل مطالعے کرائے جا رہے ہیں۔ ۱۹۳۵ سے لیکر بادشاہتی اعلان کرنے کے کام کیلئے ۱۵ بلین سے زیادہ گھنٹے وقف کئے گئے ہیں۔ خوشخبری کی باقاعدہ منادی اب ۲۳۱ ممالک میں ہو رہی ہے۔ جبکہ مشرقی یورپ اور افریقہ کے علاقے خوشخبری کی مزید آزادانہ منادی کیلئے کھل گئے ہیں، عوام کے سامنے بادشاہتی پیغام کو نمایاں طور پر پیش کرنے کیلئے بین‌الاقوامی کنونشنوں کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جیسے کہ یہوواہ نے بہت عرصہ پہلے یسعیاہ ۶۰:‏۲۲ میں وعدہ کیا تھا، وہ یقیناً ”‏عین وقت پر کام کی رفتار کو تیز کر رہا ہے۔“‏ ہمارے لئے اس میں شریک ہونا کیا ہی شاندار شرف ہے!‏

خوشخبری کے ساتھ ہر ممکن شخص تک پہنچنا

۲۱، ۲۲.‏ ہم جہاں کہیں بھی خدمت کریں زیادہ مؤثر گواہ بننے کیلئے ہم ذاتی طور پر کیا کر سکتے ہیں؟‏

۲۱ خداوند نے ابھی تک یہ نہیں کہا کہ کام ختم ہو گیا ہے۔ ہزاروں لوگ ابھی تک سچی پرستش کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسلئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کام کیلئے یہوواہ کے صبر نے جو مہلت دی ہے کیا ہم اسکا بہتر استعمال کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں؟—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۵‏۔‏

۲۲ ہر کوئی کبھی کبھار کئے جانے والے علاقوں میں نہیں جا سکتا۔ لیکن کیا آپ ان مواقع سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں جو آپ کو میسر ہیں؟ کیا آپ ساتھی کارندوں کو گواہی دیتے ہیں؟ اساتذہ اور ہم‌مکتبوں کو؟ کیا آپ نے اپنے علاقے کی بدلتی ہوئی حالتوں کیساتھ موافقت پیدا کر لی ہے؟ اگر، کام کی بدلتی ہوئی نوعیت کے نتیجہ میں، دن کے وقت بہت کم لوگ گھر پر ملتے ہیں تو کیا آپ نے شام کو ان سے ملاقات کرنے کی غرض سے اپنے جدول میں ردوبدل کیا ہے؟ اگر عمارتوں کو بن‌بلا‌ئے ملاقاتیوں کیلئے ناقابل‌رسائی بنا دیا گیا ہے تو کیا آپ ٹیلیفون پر یا ڈاک کے ذریعے گواہی دے رہے ہیں؟ کیا آپ ظاہرکردہ دلچسپی کی آخر تک پیروی کر رہے ہیں اور گھریلو بائبل مطالعے کرانے کی پیشکش کر رہے ہیں؟ کیا آپ مکمل طور پر اپنی خدمتگزاری کو پایہ‌تکمیل تک پہنچا رہے ہیں؟—‏مقابلہ کریں اعمال ۲۰:‏۲۱،‏ ۲-‏تیمتھیس ۴:‏۵‏۔‏

۲۳.‏ جبکہ یہوواہ دیکھتا ہے کہ ہم اسکی خدمت میں کیا کچھ کر رہے ہیں تو ہمارے معاملے میں کونسی بات نمایاں ہونی چاہئے؟‏

۲۳ دعا ہے کہ ہم سب اپنی خدمتگزاری کو اس انداز سے پورا کریں کہ یہوواہ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ ہم ان اہم‌ترین ایام میں اسکے گواہ ہونے کے عظیم‌الشان استحقاق کی حقیقی قدر کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ جب یہوواہ اس فرسودہ بدعنوان نظام پر سزا لائے اور یسوع مسیح کے پرجلال ہزار سالہ عہدحکومت میں لے جائے تو ہمیں اسکے عینی شاہد ہونے کا استحقاق حاصل ہو!‏ (‏۱۴ ۵/۱ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ۱۹۹۰ کے دہے کے شروع میں جسطرح زمین کو تقسیم کیا گیا تھا اسکے مطابق گنتی کی گئی۔‏

اعادے میں

▫ بادشاہتی پیغام کی منادی کرنا اتنا اہم کیوں ہے؟‏

▫ ۱۹۱۴ تک کسقدر وسیع پیمانے پر خوشخبری کی منادی کی جا چکی تھی؟‏

▫ بادشاہت کے قیام سے لیکر کتنی زوردار گواہی دی گئی ہے؟‏

▫ کیا چیز خدمتگزاری میں ہمارے اپنے حصے کو زیادہ پھلدار بنا سکتی ہے؟‏

‏[‏تصویریں]‏

جبکہ یہوواہ کے گواہ تعداد میں ابھی تھوڑے ہی تھے تو بھی بہت سے لوگوں تک بادشاہتی پیغام کیساتھ رسائی حاصل کی گئی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں