جس وجہ سے یہوواہ کے گواہ جاگتے رہتے ہیں
”جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئیگا۔“—متی ۲۴:۴۲۔
۱. ”جاگتے رہو“ والی نصیحت کا اطلاق کن پر ہوتا ہے؟
خدا کے ہر خادم پر—خواہ جوان ہو یا عمررسیدہ، خواہ نیا مخصوص شدہ ہو یا خدمت کا ایک طویل ریکارڈ رکھتا ہو—بائبل کی اس نصیحت کا اطلاق ہوتا ہے: ”جاگتے رہو“! (متی ۲۴:۴۲) یہ کیوں اہم ہے؟
۲، ۳. (ا) یسوع نے کونسا نشان واضح طور پر بیان کیا، اور پیشینگوئی کی تکمیل نے کیا ظاہر کیا ہے؟ (ب) متی ۲۴:۴۲ میں حوالہشدہ کونسی حالت ہمارے ایمان کی صداقت کا امتحان لیتی ہے، اور کیسے؟
۲ زمین پر اپنی خدمتگزاری کے خاتمہ کے قریب، یسوع نے بادشاہتی اختیار میں اپنی نادیدنی موجودگی کے نشان کی پیشینگوئی کی۔ (متی ۲۴ اور ۲۵ ابواب) اس نے اپنی شاہانہ موجودگی کے اس وقت کو واضح طور پر بیان کیا—اور پیشینگوئی کی تکمیل کے سلسلے میں واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ۱۹۱۴ میں اسے آسمان پر بطور بادشاہ کے تختنشین کر دیا گیا تھا۔ اس نے ایک ایسی حالت کی نشاندہی بھی کی جو اسوقت ہمارے ایمان کی صداقت کا امتحان لے گی۔ یہ اس وقت کے متعلق تھا جب وہ اس بڑی مصیبت کے دوران موجودہ شریر نظام کو تباہ کرنے کیلئے سزا دینے والے کے طور پر کارروائی کریگا جسکی بابت یسوع نے کہا: ”اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔“ یہی بات ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا: ”جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئیگا۔“—متی ۲۴:۳۶، ۴۲۔
۳ ہمارا اس وقت اور گھڑی کو نہ جاننا کہ بڑی مصیبت کب شروع ہوگی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر ہم مسیحی ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو ہمیں ہر روز سچے مسیحیوں کی طرح زندگی بسر کرنا چاہئے۔ جب بڑی مصیبت آئیگی تو کیا جس طریقے سے آپ اپنی زندگی کو استعمال کر رہے ہیں وہ اسوقت خداوند کی خوشنودی کا باعث بنے گا؟ یا اگر موت پہلے آ جاتی ہے تو کیا وہ آپ کو ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے گا جس نے اپنی موجودہ زندگی کے ختم ہونے تک وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کی ہے؟—متی ۲۴:۱۳، مکاشفہ ۲:۱۰۔
ابتدائی شاگروں نے جاگتے رہنے کیلئے جانفشانی کی
۴. یسوع کے روحانی بیداری کے نمونے سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۴ یسوع مسیح نے خود روحانی بیداری کا ایک عمدہترین نمونہ قائم کیا۔ اس نے اپنے باپ سے لگاتار اور جوشوولولے کیساتھ دعا کی۔ (لوقا ۶:۱۲، ۲۲:۴۲-۴۴) آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت، اس نے صحائف میں پائی جانی والی ہدایت پر مکمل انحصار کیا۔ (متی ۴:۳-۱۰، ۲۶:۵۲-۵۴) اس نے خود کو اس کام سے ہٹ جانے کی اجازت نہ دی جو یہوواہ نے اسے تفویض کیا تھا۔ (لوقا ۴:۴۰-۴۴، یوحنا ۶:۱۵) کیا وہ بھی جنہوں نے خود کو یسوع کے پیروکار خیال کیا اتنے ہی چوکس ہونگے؟
۵. (ا) روحانی توازن برقرار رکھنے میں یسوع کے رسولوں کو مشکلات کیوں پیش آئیں؟ (ب) اپنی قیامت کے بعد یسوع نے اپنے رسولوں کو کیا مدد دی؟
۵ بعض اوقات تو یسوع کے رسول بھی ڈگمگا گئے۔ ضرورت سے زیادہ جوش اور غلط نظریات کے نتیجے کے طور پر انہیں مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ (لوقا ۱۹:۱۱، اعمال ۱:۶) اس سے پہلے کہ وہ یہوواہ پر مکمل بھروسہ کرنا سیکھتے، ناگہانی آزمائشوں نے انہیں پریشان کر دیا۔ لہذا، جب یسوع کو گرفتار کیا گیا تو اسکے رسول بھاگ گئے۔ اسی رات کے پچھلے پہر، پطرس نے ڈر کے مارے مسیح کو جانتے ہوئے بھی بار بار اسکا انکار کیا۔ رسولوں نے ابھی تک یسوع کی مشورت ”جاگو اور دعا کرو“ کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ (متی ۲۶:۴۱، ۵۵، ۵۶، ۶۹-۷۵) اپنی قیامت کے بعد یسوع نے انکے ایمان کو مضبوط کرنے کیلئے صحائف کو استعمال کیا۔ (لوقا ۲۴:۴۴-۴۸) اور جب ایسا معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض شاید اس خدمتگزاری کو دوسرا درجہ دیں جو انکے سپرد کی گئی تھی تو یسوع نے زیادہ اہم کام پر توجہ دینے کیلئے انکے محرک کو تقویت بخشی۔—یوحنا ۲۱:۱۵-۱۷۔
۶. کن دو پھندوں کے خلاف یسوع اپنے شاگردوں کو پہلے آگاہ کر چکا تھا؟
۶ پہلے ہی، یسوع اپنے شاگردوں کو آگاہ کر چکا تھا کہ انہیں دنیا کا حصہ نہیں ہونا تھا۔ (یوحنا ۱۵:۱۹) وہ انہیں یہ نصیحت بھی کر چکا تھا کہ ایکدوسرے پر حکم نہ چلائیں بلکہ بھائیوں کی طرح ملکر خدمت انجام دیں۔ (متی ۲۰:۲۵-۲۷، ۲۳:۸-۱۲) کیا انہوں نے اسکی مشورت کو سنا؟ کیا انہوں نے اس کام کو مقدم رکھا جو اس نے انہیں دیا تھا؟
۷، ۸. (ا) پہلی صدی کے مسیحیوں کا قائمکردہ ریکارڈ کیسے ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے یسوع کی نصیحت پر سنجیدگی سے غور کیا تھا؟ (ب) مسلسل روحانی بیداری کیوں ضروری تھی؟
۷ جب تک رسول زندہ رہے انہوں نے کلیسیا کی حفاظت کی۔ تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ابتدائی مسیحی رومی سلطنت کے سیاسی معاملات میں ملوث نہیں تھے اور یہ کہ انکا کوئی عالی مرتبہ پادری طبقہ بھی نہیں تھا۔ دوسری طرف، وہ خدا کی بادشاہت کے سرگرم مناد تھے۔ پہلی صدی کے اختتام تک، ایشیا، یورپ، اور شمالی افریقہ میں شاگرد بناتے ہوئے وہ تمام رومی سلطنت میں گواہی دے چکے تھے۔—کلسیوں ۱:۲۳۔
۸ تاہم، منادی کے کام میں ان کامرانیوں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اب روحانی طور پر جاگتے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یسوع کی پہلے سے بیانکردہ آمد ابھی بہت دور تھی۔ اور جیسے ہی کلیسیا دوسری صدی س۔ع۔ میں داخل ہوئی تو ایسی حالتیں پیدا ہو گئیں جنہوں نے مسیحیوں کی روحانیت کو خطرے میں ڈال دیا۔ یہ کیسے ہوا؟
وہ جنہوں نے جاگتے رہنا چھوڑ دیا
۹، ۱۰. (ا) رسولوں کی موت کے بعد، کن حالتوں کا فروغ پانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ بہت سے دعویدار مسیحی بیدار نہیں رہ رہے تھے؟ (ب) اس پیراگراف میں حوالہشدہ کونسے صحائف روحانی طور پر مضبوط رہنے کیلئے دعویدار مسیحیوں کی مدد کر سکتے تھے؟
۹ کلیسیا میں آنے والے بعض لوگوں نے اپنے عقائد کو یونانی فیلسوفی کی اصطلاحات میں بیان کرنا شروع کر دیا تاکہ جس پیغام کی انہوں نے منادی کی وہ دنیا کے لوگوں کیلئے زیادہ قابلقبول ہو۔ آہستہ آہستہ، بتپرستانہ عقائد جیسے کہ تثلیث اور جان کا پیدائشی طور پر غیرفانی ہونا، مسیحیت کی اخلاقی طور پر داغدار صورت کا ایک حصہ بن گئے۔ یہ عہدہزار سالہ کی امید کا دامن چھوڑ دینے کا سبب بنا۔ کیوں؟ جان کے غیرفانی ہونے کے عقیدے کو اختیار کرنے والوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ یسوع کی حکمرانی کی تمام برکات اس جان کو روحانی قلمرو میں حاصل ہونگی جو انسانی جسم میں سے باقی بچ جائے گی۔ اسلئے انہوں نے بادشاہتی اختیار میں مسیح کی موجودگی کیلئے جاگتے رہنے کی ضرورت نہ سمجھی۔—مقابلہ کریں گلتیوں ۵:۷-۹، کلسیوں ۲:۸، ۱-تھسلنیکیوں ۵:۲۱۔
۱۰ اس صورتحال پر دیگر انکشافات کے ذریعے زور دیا گیا۔ بعض جنہوں نے مسیحی نگہبان ہونے کا دعوی کیا انہوں نے اپنی کلیسیاؤں کو اپنی ذات کیلئے ممتاز حیثیت حاصل کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے عیارانہ طریقے سے اپنی ذاتی آراء اور تعلیمات کو صحائف کے برابر یا ان سے بھی برتر قرار دیا۔ جب موقع ہاتھ آیا تو اس برگشتہ کلیسیا نے سیاسی حکومت کے مفادات کو پورا کرنے کیلئے بھی خود کو پیش کر دیا۔—اعمال ۲۰:۳۰، ۲-پطرس ۲:۱، ۳۔
اضافی بیداری کے نتائج
۱۱، ۱۲. پروٹسٹنٹوں کی اصلاحی تحریک نے سچی پرستش کی طرف واپسی کی نشاندہی کیوں نہ کی؟
۱۱ رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے بدسلوکی کے سینکڑوں سال بعد، ۱۶ ویں صدی میں چند مصلحوں نے آواز بلند کی۔ لیکن اس چیز نے سچی پرستش کی جانب واپسی کی نشاندہی نہ کی۔ کیوں نہیں؟
۱۲ اگرچہ مختلف پروٹسٹنٹ گروپ روم کے تسلط سے آزاد ہو گئے لیکن پھر بھی وہ برگشتگی کی بہت سی بنیادی تعلیمات اور کاموں جیسے کہ پادری-عوام کا تصور، تثلیث پر ایمان، جان کا غیرفانی ہونا، اور موت کے بعد ابدی عذاب کی تائید کرتے رہے۔ اور رومن کیتھولک چرچ کی مانند وہ سیاسی عناصر کے قریبی حلیف ہونے سے بھی دنیا کا حصہ بنے رہے۔ یوں وہ بطور بادشاہ یسوع کی آمد کی تمام توقعات کو رد کرنے کی طرف مائل ہوئے۔
۱۳. (ا) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ بعض لوگوں نے خدا کے کلام کو واقعی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھا تھا؟ (ب) ۱۹ ویں صدی کے دوران، بعض نامنہاد مسیحیوں کیلئے کونسا واقعہ خاص دلچسپی کا حامل بن گیا؟ (ج) بہتیروں کو مایوسی کا تجربہ کیوں ہوا؟
۱۳ تاہم، یسوع پیشینگوئی کر چکا تھا کہ رسولوں کی موت کے بعد، کٹائی کے وقت تک بادشاہت کے اصلی وارث (جنہیں اس نے گیہوں کی مانند ٹھہرایا) نقلی مسیحیوں (یا کڑوے دانوں) کیساتھ ساتھ بڑھتے رہیں گے۔ (متی ۱۳:۲۹، ۳۰) آجکل ہم وثوق کیساتھ تو ان سب کی فہرست نہیں بنا سکتے جنہیں مالک گیہوں کے طور پر خیال کرتا ہے۔ لیکن یہ بات قابلغور ہے کہ ۱۴ ویں، ۱۵ ویں، اور ۱۶ ویں صدی کے دوران ایسے آدمی تھے جنہوں نے عام آدمیوں کی زبان میں بائبل کو مہیا کرنے کیلئے اپنی زندگیوں اور آزادی کو خطرے میں ڈال دیا۔ دوسروں نے نہ صرف بائبل کو بطور خدا کے کلام کے قبول کیا بلکہ تثلیث کو بھی غیرصحیفائی خیال کرتے ہوئے رد کر دیا۔ بعض نے جان کے غیرفانی ہونے اور آتشی دوزخ میں عذاب کے اعتقاد کو خدا کے کلام سے مکمل طور پر مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے رد کر دیا۔ نیز، ۱۹ ویں صدی میں بائبل کے اضافی مطالعہ کے نتیجے میں ریاستہائے متحدہ، جرمنی، انگلینڈ، اور روس کے اندر گروپوں نے اس یقین کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ مسیح کی واپسی کا وقت بہت قریب تھا۔ لیکن انکی زیادہتر توقعات مایوسی کا باعث بنیں۔ کیوں؟ کافی حد تک، ایسا اسلئے ہوا کیونکہ انہوں نے انسانوں پر بہت زیادہ بھروسہ کیا اور صحائف پر کافی بھروسہ نہ کیا۔
جسطرح یہ بیدار ثابت ہوئے
۱۴. سی۔ٹی۔رسل اور اسکے رفقاء نے بائبل مطالعے کیلئے جو طریقہ استعمال کیا اسکو بیان کریں۔
۱۴ پھر، ۱۸۷۰ میں، چارلس ٹیز رسل اور اسکے چند رفقاء نے ایلیگنی، پینسلوینیا، میں بائبل مطالعے کیلئے ایک گروپ کو تشکیل دیا۔ وہ بائبل کی ان بہت سی سچائیوں کو سمجھنے والے پہلے اشخاص نہیں تھے جنہیں انہوں نے قبول کیا تھا، لیکن مطالعہ کرتے وقت، انہوں نے دئے گئے سوال پر تمام صحائف کی احتیاط سے جانچ کرنے کا دستور بنا لیا تھا۔a انکا مقصد یہ تھا کہ پہلے سے قائمکردہ کسی نظریے کو ثابت کرنے والی آیات کو تلاش نہ کیا جائے بلکہ یہ یقین کر لیا جائے کہ جو نتائج انہوں نے اخذ کئے وہ ہر اس بات کی مطابقت میں تھے جو بائبل نے اس معاملے پر کہی۔
۱۵. (ا) بھائی رسل کے علاوہ دوسرے کیا پہچان چکے تھے؟ (ب) کس چیز نے بائبل اسٹوڈنٹس کو ان سے مختلف ہونے کے طور پر نمایاں کیا؟
۱۵ ان سے پہلے بھی کچھ دیگر لوگ اس بات سے آگاہ تھے کہ مسیح نادیدنی طور پر روح میں واپس آئیگا۔ بعض لوگ اس بات کو بھی جان گئے تھے کہ مسیح کی واپسی کا مقصد زمین کو جلا ڈالنا اور انسانی زندگی کو نیستونابود کر ڈالنا نہیں بلکہ اسکے برعکس، زمین کے تمام خاندانوں کو برکت بخشنا تھا۔ ان میں سے چند ایسے بھی تھے جو اس بات سے باخبر تھے کہ ۱۹۱۴ کا سال غیرقوموں کی میعاد کے خاتمے کی نشاندہی کریگا۔ لیکن بھائی رسل کے ساتھ شریک بائبل اسٹوڈنٹس کے نزدیک یہ نکات مذہبی بحثمباحثے سے بڑھکر تھے۔ انہوں نے ان سچائیوں کے گرد اپنی زندگیوں کو تعمیر کیا اور اس دور میں ایک بینظیر پیمانے پر ان کی بینالاقوامی تشہیر کی۔
۱۶. ۱۹۱۴ کے سال میں، بھائی رسل نے یہ کیوں لکھا: ”ہم ایک آزمائشی دور میں ہیں“؟
۱۶ پھر بھی، انہیں جاگتے رہنے کی ضرورت تھی۔ کیوں؟ مثال کے طور پر، اگرچہ وہ جانتے تھے کہ بائبل پیشینگوئی کے ذریعے ۱۹۱۴ کی نشاندہی کر دی گئی تھی پھر بھی وہ پختہ یقین کیساتھ نہیں جانتے تھے کہ اس سال میں کیا کچھ رونما ہوگا۔ اس نے انکے سامنے ایک آزمائش لا کھڑی کی۔ یکم نومبر، ۱۹۱۴ کے مینارنگہبانی (انگریزی) میں بھائی رسل نے لکھا: ”آئیے ہم یاد رکھیں کہ ہم ایک آزمائشی دور میں ہیں۔ ... اگر کوئی ایسی وجہ ہے جو کسی شخص کو خداوند اور اسکی سچائی کو ترک کرنے اور خداوند کے مقصد کیلئے قربانی کرنے کو بند کر دینے پر منتج ہو تو پھر محض یہ بات ہے کہ دل میں خدا کی محبت ہی نہیں جس نے خداوند میں دلچسپی کو ابھارا ہے بلکہ یہ کچھ اور ہی ہے، غالباً یہ امید کہ وقت تھوڑا ہے، مخصوصیت صرف ایک خاص وقت تک کیلئے تھی۔“
۱۷. اے۔ ایچ۔ میکملن اور اسکی مانند دیگر لوگوں نے کسطرح روحانی توازن کو قائم رکھا؟
۱۷ پیچھے اس وقت بعض نے یہوواہ کی خدمت چھوڑ دی۔ لیکن اے۔ ایچ۔ میکملن وہ آدمی تھا جس نے ایسا نہ کیا۔ سالوں کے بعد، اس نے صافگوئی سے تسلیم کیا: ”بعض اوقات کسی خاص تاریخ کیلئے ہماری توقعات اس سے کہیں زیادہ ہوتی تھیں جن کی صحائف تصدیق کرتے تھے۔“ کس چیز نے روحانی توازن برقرار رکھنے میں اسکی مدد کی؟ اس نے اس بات کو سمجھ لیا تھا جیسے کہ اس نے کہا کہ ”جب وہ توقعات پوری نہ ہوئیں تو اس سے خدا کا مقصد نہیں بدلا تھا۔“ اس نے اضافہ کیا: ”میں نے یہ سیکھا کہ ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لینا چاہئے اور مزید روشنخیالی کیلئے خدا کے کلام کی تحقیق کرتے رہنا چاہئے۔“b فروتنی کیساتھ، ان ابتدائی بائبل اسٹوڈنٹس نے خدا کے کلام کو اپنا نقطہءنظر درست کرنے دیا۔—۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷۔
۱۸. دنیا کا حصہ نہ ہونے کے معاملے میں مسیحی بیداری کسطرح بتدریج فوائد پر منتج ہوئی؟
۱۸ بعد میں آنے والے سالوں کے دوران، انکے جاگتے رہنے کی ضرورت کم نہ ہوئی۔ وہ یقیناً جانتے تھے کہ مسیحیوں کو دنیا کا حصہ نہیں ہونا تھا۔ (یوحنا ۱۷:۱۴، یعقوب ۴:۴) اسکی مطابقت میں، وہ خدا کی بادشاہت کے سیاسی ظہور کے طور پر لیگ آف نیشنز کی تصدیق کرنے میں مسیحی دنیا کے ساتھ شامل نہ ہوئے۔ لیکن ۱۹۳۹ تک انہوں نے مسیحی غیرجانبداری کے مسئلے کو واضح طور پر نہیں سمجھا تھا۔—دیکھیں مینارنگہبانی (انگریزی)، یکم نومبر، ۱۹۳۹۔
۱۹. تنظیم کے جاگتے رہنے کی وجہ سے کلیسیائی نگرانی میں کونسے فوائد حاصل ہوئے ہیں؟
۱۹ انکا کبھی کوئی پادری طبقہ نہ تھا، اگرچہ بعض منتخب بزرگوں نے یہ محسوس کیا کہ کلیسیا کے اندر منادی کرنے کا کام ہی وہ سب کچھ ہے جسکی ان سے توقع کی جانی چاہئے۔ تاہم، صحائف کی مطابقت میں ہونے کی شدید خواہش کیساتھ، تنظیم نے صحائف کی روشنی میں بزرگوں کے کردار پر نظرثانی کی، اور مینارنگہبانی کے کالموں کے ذریعے بار بار ایسا کرتی رہی۔ جو کچھ صحائف نے ظاہر کیا اسی کے مطابق تنظیمی ردوبدل کئے گئے۔
۲۰-۲۲. پہلے سے بیانکردہ عالمگیر بادشاہتی اعلان کرنے کے کام کو پایہءتکمیل تک پہنچانے کیلئے پوری تنظیم کو کسطرح بتدریج خوب رواں رکھا گیا ہے؟
۲۰ ساری تنظیم کو خوب رواں کیا جا رہا تھا تاکہ اس کام کو پوری طرح سرانجام دیا جائے جسکی خدا کے کلام نے ہمارے زمانے کیلئے خاکہکشی کی تھی۔ (یسعیاہ ۶۱:۱، ۲) ہمارے زمانے میں خوشخبری کا اعلان کس حد تک کیا جانا تھا؟ یسوع نے کہا: ”ضرور ہے کہ پہلے سب قوموں میں انجیل کی منادی کی جائے۔“ (مرقس ۱۳:۱۰) انسانی نقطہءنظر سے یہ کام اکثر ناممکن دکھائی دیا ہے۔
۲۱ تاہم، مسیح پر بطور کلیسیا کے سردار کے بھروسہ رکھتے ہوئے عقلمند اور دیانتدار نوکر جماعت نے آگے قدم بڑھایا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) وفاداری اور ثابتقدمی سے انہوں نے یہوواہ کے لوگوں پر اس کام کو ظاہر کر دیا ہے جس کو کہ کیا جانا ہے۔ ۱۹۱۹ سے لیکر، میدانی خدمت پر زیادہ زور دیا گیا۔ بہتیروں کیلئے، گھرباگھر جانا اور اجنبی اشخاص سے بات کرنا آسان نہ تھا۔ (اعمال ۲۰:۲۰) لیکن مطالعے کے مضامین جیسا کہ (۱۹۱۹ میں) ”مبارک ہیں وہ جو نڈر ہیں“ اور (۱۹۲۱ میں) ”خوب حوصلہ رکھیں“ نے بعض کی مدد کی کہ یہوواہ پر توکل رکھتے ہوئے اس کام کو شروع کریں۔
۲۲ ۱۹۲۲ میں، ”اشتہار دو، اشتہار دو، اشتہار دو، بادشاہ اور اسکی بادشاہت کا“ کی استدعا نے اس کام کو واجب فوقیت دینے کیلئے ضروری محرک فراہم کیا۔ ۱۹۲۷ سے لیکر، ایسے بزرگوں کو برطرف کر دیا گیا جنہوں نے اس صحیفائی ذمہداری کو قبول نہ کیا۔ اسی وقت میں، سوسائٹی کے سفری نمائندوں یعنی پلگرمز کو میدانی خدمت میں پبلشروں کو ذاتی ہدایت دینے والے ریجنل سروس ڈائریکٹر (علاقائی خدمتی ناظم) مقرر کیا گیا۔ ہر کوئی پائنیر خدمت تو نہ کر سکا، مگر بہتیرے ہفتے کے آخری دن پر صبح جلدی کام شروع کرنے سے، ایک سینڈوچ کھانے کیلئے تھوڑی دیر رکنے سے، اور پھر سہپہر دیر تک خدمت جاری رکھنے سے پورے پورے دن خدمت کرنے کیلئے وقف کر رہے تھے۔ تھیوکریٹک ترقیوں کے وہ نہایت ہی اہم ایام تھے، اور جس طریقے سے یہوواہ اپنے لوگوں کی راہبری کر رہا تھا ہم اس کا اعادہ کرنے سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ ایسا کرنا جاری رکھتا ہے۔ اسکی برکت سے، قائمشدہ بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کا کام کامیاب اختتام تک لایا جائے گا۔
کیا آپ جاگ رہے ہیں
۲۳. مسیحی محبت اور دنیا سے علیحدگی کے سلسلے میں، ہم انفرادی طور پر کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم جاگ رہے ہیں؟
۲۳ یہوواہ کی راہنمائی سے اثرپذیر ہوتے ہوئے، اسکی تنظیم ہمیں ان کاموں اور رجحانات سے آگاہ کرتی رہتی ہے جو ہماری شناخت دنیا کے حصے کے طور پر اس طرح کرائینگے کہ اسکے ساتھ مٹ جانے کے خطرے میں ہیں۔ (۱-یوحنا ۲:۱۷) ہمیں یہوواہ کی راہنمائی کیلئے جوابی عمل دکھانے سے انفرادی طور پر جاگتے رہنے کی ضرورت ہے۔ یہوواہ اکٹھے ملکر زندگی بسر کرنے اور کام کرنے کی بابت بھی ہمیں ہدایت دیتا ہے۔ مسیحی محبت کا جو حقیقی مطلب ہے اسکے لئے قدردانی کو بڑھانے کیلئے اسکی تنظیم نے ہماری مدد کی ہے۔ (۱-پطرس ۴:۷، ۸) ہمارا جاگتے رہنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم انسانی ناکاملیتوں کے باوجود اس مشورت کا اطلاق کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کریں۔
۲۴، ۲۵. کن نہایت اہم پہلوؤں میں ہمیں جاگتے رہنا چاہئے، کس امکان کے پیشنظر؟
۲۴ اکثر، عقلمند اور دیانتدار نوکر نے ہمیں یاددہانی کرائی ہے: ”سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔“ (امثال ۳:۵) ”بلاناغہ دعا کرو۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۷) ہمیں نصیحت کی گئی ہے کہ اپنے فیصلوں کی بنیاد خدا کے کلام پر رکھنا سیکھیں، اسکے کلام کو ”اپنے پاؤں کیلئے چراغ اور اپنی راہ کیلئے روشنی“ بننے دیں۔ (زبور ۱۱۹:۱۰۵) پرمحبت طریقے سے ہماری حوصلہافزائی کی گئی ہے کہ خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کو اپنی زندگیوں میں مقدم رکھیں، یعنی اس کام کو جسکی یسوع نے ہمارے زمانے کیلئے پیشینگوئی کی۔—متی ۲۴:۱۴۔
۲۵ جیہاں، عقلمند اور دیانتدار نوکر یقیناً جاگ رہا ہے۔ انفرادی طور پر ہمیں بھی جاگتے رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے نتیجے میں، دعا ہے کہ ہم اسوقت ان لوگوں کے درمیان پائے جائیں جنہیں اس وقت ابنآدم کے حضور قبولیت کے ساتھ کھڑے ہونے کا مقدور حاصل ہو جب وہ سزا دینے کیلئے آئے۔—متی ۲۴:۳۰، لوقا ۲۱:۳۴-۳۶۔ (۲۱ ۵/۱ w۹۴)
[فٹنوٹ]
a پیشقدمی کرتا ہوا ایمان (انگریزی) از اے۔ ایچ۔ میکملن، پرنٹس-ہال، انکارپوریٹڈ، ۱۹۵۷، صفحات ۱۹-۲۲۔
b دیکھیں مینارنگہبانی (انگریزی)، اگست ۱۵، ۱۹۶۶، صفحات ۵۰۴-۵۱۰۔
اعادے میں
▫ جیسا کہ متی ۲۴:۴۲ میں ظاہر کیا گیا ہے ہمیں جاگتے رہنے کی ضرورت کیوں ہے؟
▫ کسطرح یسوع اور پہلی صدی کے اسکے پیروکاروں نے روحانی بیداری کو برقرار رکھا؟
▫ ۱۸۷۰ سے لیکر، یہوواہ کے خادموں کے جاگتے رہنے کے باعث کونسی ترقیاں ہوئی ہیں؟
▫ کیا چیز اس بات کا ثبوت پیش کریگی کہ ہم انفرادی طور پر جاگ رہے ہیں؟
[تصویر]
یسوع اپنے باپ کی طرف سے تفویضکردہ کام میں مشغول رہا۔ اس نے پرجوش طریقے سے دعا بھی کی
[تصویر]
چارلس ٹیز رسل اپنے بعد کے سالوں میں
[تصویر]
۴،۷۰۰،۰۰۰ سے زیادہ بادشاہتی مناد تمام زمین پر سرگرم عمل ہیں