یہوواہ کے حضور حمد گاؤ
”میں خداوند کی ثنا گاؤنگا کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتحمند ہوا۔“—خروج ۱۵:۱۔
۱. یہوواہ کی کونسی صفات اور خوبیاں ہمیں اسکی حمد کرنے کی وجہ فراہم کرتی ہیں؟
زبور ۱۵۰تیرہ مرتبہ یہوواہ یا یاہ کی حمد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ آخری آیت بیان کرتی ہے: ”ہر متنفس خداوند کی حمد کرے۔ خداوند کی حمد کرو!“ یہوواہ کے گواہوں کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ ہماری حمد کا مستحق ہے۔ وہ کائنات کا حاکماعلی، بلندوبالا، ابدیت کا بادشاہ، ہمارا خالق، ہمارا محسن ہے۔ وہ متعدد طریقوں سے بینظیر، منفرد، بےمثال، لاثانی ہے۔ وہ علیموبصیر، قادرمطلق، عدلوانصاف میں کامل، اور محبت کا مجسمہ ہے۔ سب سے بڑھکر یہ کہ وہ نیک ہے، وہ وفادار ہے۔ (لوقا ۱۸:۱۹، مکاشفہ ۱۵:۳، ۴) کیا وہ ہماری حمدوتعریف کا مستحق ہے؟ یقیناً وہ ہے!
۲. ہمارے پاس یہوواہ کی شکرگزاری کرنے کی کونسی وجوہات ہیں؟
۲ یہوواہ نہ صرف ہماری پرستش اور حمد کا ہی مستحق ہے بلکہ جو کچھ اس نے ہماری خاطر کیا ہے اسکے لئے ہماری احسانمندی اور شکرگزاری کا بھی مستحق ہے۔ وہ ”ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام“ کا دینے والا ہے۔ (یعقوب ۱:۱۷) وہ ہر طرح کی زندگی کا چشمہ، ماخذ ہے۔ (زبور ۳۶:۹) نسلانسانی کے ممبروں کے طور پر تمام چیزیں جن سے ہم لطف اٹھاتے ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں، کیونکہ وہ ہمارا عظیم خالق ہے۔ (یسعیاہ ۴۲:۵) وہ ان تمام روحانی برکات کا بھی دینے والا ہے جو اسکی روح، اسکی تنظیم، اور اسکے کلام کے وسیلے سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ اسکے اپنے بیٹے کو ہمارے فدیے کے طور پر مہیا کرنے کی بنیاد پر ہمیں گناہوں کی معافی ملی ہے۔ (یوحنا ۳:۱۶) ہمیں ”نئے آسمان اور نئی زمین،“ کی بادشاہتی امید حاصل ہے ”جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“ (۲-پطرس ۳:۱۳) ہم ساتھی مسیحیوں کیساتھ عمدہ رفاقت رکھتے ہیں۔ (رومیوں ۱:۱۱، ۱۲) ہمیں اسکے گواہ ہونے کا اعزاز اور برکات حاصل ہیں۔ (یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲) ہمارے پاس دعا کا بیشقیمت شرف بھی ہے۔ (متی ۶:۹-۱۳) واقعی، ہمارے پاس یہوواہ کی شکرگزاری کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں!
جن طریقوں سے ہم یہوواہ کی حمد کر سکتے ہیں
۳. کن مختلف طریقوں سے ہم یہوواہ کی حمد کر سکتے اور اسکے لئے اپنی احسانمندی کا اظہار کر سکتے ہیں؟
۳ یہوواہ کے عقیدتمند خادموں کے طور پر، ہم کسطرح اسکی حمد کر سکتے اور اپنی احسانمندی کا اظہار کر سکتے ہیں؟ ہم مسیحی خدمتگزاری میں شریک ہونے—گھرباگھر گواہی دینے، واپسی ملاقاتیں کرنے، بائبل مطالعے کرانے، اور گلی کوچوں میں گواہی دینے کا کام کرنے سے ایسا کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی موقع ملے غیررسمی گواہی دینے سے بھی ہم اسکی حمد کر سکتے ہیں۔ پھر، اپنے راست چالچلن سے، اپنے پہناوے اور زیبائش کے صاف اور حیادار طرز سے بھی ہم یہوواہ کی ستائش کر سکتے ہیں۔ ان معاملات میں مثالی ہونے کی وجہ سے یہوواہ کے گواہوں کی اکثر تعریف کی گئی ہے۔ مزیدبرآں، ہم دعا کے ذریعے یہوواہ کی حمد کر سکتے اور اسکا شکر ادا کر سکتے ہیں۔—دیکھیں ۱-تواریخ ۲۹:۱۰-۱۳۔
۴. ان بہت ہی دلکش طریقوں میں سے ایک کیا ہے جس سے ہم اپنے پرمحبت آسمانی باپ کی حمد کر سکتے ہیں؟
۴ علاوہازیں، ان بہت ہی دلکش طریقوں میں سے ایک جن سے ہم اپنے شفیق آسمانی باپ کی حمد کر سکتے ہیں سریلے بادشاہتی گیتوں کیساتھ اسکی اور اسکی خوبیوں کی بڑائی کرنا ہے۔ بہتیرے موسیقار اور دھنوں کے ترتیب دینے والے اس بات سے متفق ہیں کہ سب سے زیادہ دلکش آلہءموسیقی انسانی آواز ہے۔ کلاسیکی موسیقی کے ماہرین غنائیے (ایسے ڈرامے جن میں مکالمات کو گایا جاتا تھا) تحریر کرنے کے آرزومند ہوتے تھے کیونکہ انسانی آواز کو گاتے ہوئے سننا نہایت ہی تسکینبخش ہوتا ہے۔
۵. کن وجوہات کی بنا پر ہمیں اپنے بادشاہتی گیت گانے کو سنجیدہ خیال کرنا چاہئے؟
۵ یہوواہ انسانی گیتوں کو سننے سے کتنا محظوظ ہوتا ہوگا، خاص طور پر جب وہ حمد اور شکرگزاری کے گیت گا رہے ہوتے ہیں! پھر یقیناً، ہمیں اپنے مختلف اجتماعات—کلیسیائی اجلاسوں، سرکٹ اسمبلیوں، اسپیشل اسمبلی ڈیز، ڈسٹرکٹ کنونشنوں، اور بینالاقوامی کنونشنوں—پر اپنے بادشاہتی گیت گانے کو بڑی سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ ہماری گیتوں کی کتاب حقیقی خوشگوار دھنوں سے بھری پڑی ہے جنکی دلکشی کو باہر والوں نے بھی اکثر سراہا ہے۔ جتنا زیادہ ہم بادشاہتی گیت گانے کے جذبے سے سرشار ہونگے اتنا ہی ہم دوسروں کے لئے خوشی اور اپنے لئے فائدے کا باعث بنیں گے۔
بائبل وقتوں میں یہوواہ کے حضور حمد گانا
۶. بحرقلزم پر اپنی رہائی کیلئے اسرائیلیوں نے قدردانی کا اظہار کیسے کیا؟
۶ خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ موسی اور باقی اسرائیلیوں نے بحرقلزم پر فرعون کی فوج کے ہاتھوں رہا کئے جانے پر فاتحانہ انداز میں گیت گایا۔ انکا گیت ان الفاظ کیساتھ شروع ہوا: ”میں خداوند کی ثنا گاؤنگا کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتحمند ہوا۔ اس نے گھوڑے کو سوار سمیت سمندر میں ڈال دیا خداوند میرا زور اور راگ ہے۔ وہی میری نجات بھی ٹھہرا۔ وہ میرا خدا ہے۔ میں اسکی بڑائی کرونگا۔“ (خروج ۱۵:۱، ۲) ہم اسرائیلیوں کے جوشوخروش اور شادمانی کا خوب تصور کر سکتے ہیں جب انہوں نے اپنی معجزانہ رہائی کے بعد ان الفاظ کو گایا!
۷. اسرائیلیوں کے گیت میں یہوواہ کی حمد کرنے کی بابت عبرانی صحائف میں دیگر کونسی قابلذکر مثالیں مندرج ہیں؟
۷ ۱-تواریخ ۱۶:۱، ۴-۳۶، میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب داؤد یروشلیم میں عہد کے صندوق کو لایا تو گیت گانے اور ساز بجانے سے یہوواہ کی حمد کی گئی۔ وہ واقعی ایک پرمسرت موقع تھا۔ یروشلیم میں بادشاہ سلیمان کے ہیکل کو مخصوص کرنے کے موقع پر بھی سازوں کی موسیقی کیساتھ یہوواہ کیلئے حمدوتعریف کے گیت گائے گئے تھے۔ ہم ۲-تواریخ ۵:۱۳، ۱۴ میں پڑھتے ہیں: ”ایسا ہوا کہ جب نرسنگے پھونکنے والے اور گانے والے مل گئے تاکہ خداوند کی حمد اور شکرگزاری میں ان سب کی ایک آواز سنائی دے اور جب نرسنگوں اور جھانجھوں اور موسیقی کے سب سازوں کے ساتھ انہوں نے اپنی آواز بلند کرکے خداوند کی ستایش کی کہ وہ بھلا ہے کیونکہ اسکی رحمت ابدی ہے تو وہ گھر جو خداوند کا مسکن ہے ابر سے بھر گیا۔ یہاں تک کہ کاہن ابر کے سبب سے خدمت کے لئے کھڑے نہ رہ سکے اسلئے کہ خدا کا گھر خداوند کے جلال سے معمور ہو گیا تھا۔“ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ کہ یہوواہ اس سریلی ستایش کو سن رہا تھا اور اس سے خوش بھی تھا جیسے کہ مافوقالفطرت ابر سے ظاہر کیا گیا تھا۔ بعد میں، نحمیاہ کے دنوں میں یروشلیم کی دیواروں کے افتتاح کے موقع پر دو طائفوں نے گیت گائے تھے۔—نحمیاہ ۱۲:۲۷-۴۲۔
۸. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلیوں نے گیت گانے کو سنجیدہ خیال کیا تھا؟
۸ دراصل، گیت گانا ہیکل میں عبادت کا ایک اتنا اہم حصہ تھا کہ ۴،۰۰۰ لاویوں کو گانے بجانے کی خدمات سرانجام دینے کیلئے علیحدہ کر دیا گیا۔ (۱-تواریخ ۲۳:۴، ۵) یہ گانے والوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ موسیقی، بالخصوص گویوں کو عبادت میں بہت اہم مقام حاصل تھا، ضروری طور پر شریعت کے اہمترین معاملات کو ذہننشین کرانے کیلئے نہیں بلکہ عبادت کیلئے صحیح جوشوجذبہ فراہم کرنے کیلئے۔ اس نے اسرائیلیوں کی مدد کی کہ ایک زوردار طریقے سے یہوواہ کی پرستش کریں۔ اس نمایاں حصے کی خاطر وقفکردہ تیاری اور توجہ کی تفصیلات پر غور کریں: ”انکے بھائیوں سمیت جو خداوند کی مدحسرائی کی تعلیم پا چکے تھے یعنی وہ سب جو مشتاق تھے انکا شمار دو سو اٹھاسی تھا۔“ (۱-تواریخ ۲۵:۷) غور کریں کہ انہوں نے یہوواہ کیلئے حمد کے گیت گانے کو کسقدر سنجیدہ خیال کیا تھا۔ انہیں گانے کی تربیت دی گئی تھی اور وہ ماہر تھے!
۹. مسیحی یونانی صحائف میں گیت گانے کو کتنی اہمیت دی گئی ہے؟
۹ اپنے سنعام کی پہلی صدی کی طرف آتے ہوئے، ہم کیا دیکھتے ہیں؟ اپنے پکڑوائے جانے کی رات، اپنے ذہن میں بہت سے نہایت اہم معاملات کے باوجود، یسوع نے فسح کی اپنی تقریب کو اور اپنی موت کی یادگاری کے قائم کرنے کو اختتام تک پہنچانے کیلئے یہوواہ کی حمد کے گیت گانے کی ضرورت کو محسوس کیا۔ (متی ۲۶:۳۰) نیز، ہم پڑھتے ہیں کہ ”آدھی رات کے قریب،“ پولس اور سیلاس، پیٹے جانے اور قیدخانہ میں ڈالے جانے کے بعد، ”دعا کر رہے اور خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے اور قیدی سن رہے تھے۔“—اعمال ۱۶:۲۵۔
حمد کے گیت گانا—ہماری عبادت کا ایک اہم حصہ
۱۰. خدا کا کلام گیتوں کے ذریعے اسکی تمجید کرنے کے سلسلے میں کونسے حکم دیتا ہے؟
۱۰ کہیں آپ ایسا محسوس تو نہیں کرتے کہ آپ کیلئے بادشاہتی گیت گانا اتنا بھی ضروری نہیں کہ آپ اسے اپنی دلی توجہ دیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا آپ کو اس اہمیت کے پیشنظر جو یہوواہ خدا اور یسوع مسیح حمد کے گیت گانے کو دیتے ہیں اس معاملے کی ازسرنو جانچ نہیں کرنی چاہئے؟ خدا کا کلام یہوواہ کی حمد کرنے اور اسکی ثنا کے گیت گانے کے حکموں سے بھرا پڑا ہے! مثال کیطور پر، یسعیاہ ۴۲:۱۰ میں ہم پڑھتے ہیں: ”اے سمندر پر گذرنے والو اور اس میں بسنے والو! اے جزیرو اور انکے باشندو خداوند کے لئے نیا گیت گاؤ۔ زمین پر سرتاسر اسی کی ستایش کرو۔“—نیز دیکھیں زبور ۹۶:۱، ۹۸:۱۔
۱۱. گیت گانے کے معاملے میں پولس رسول کیا نصیحت کرتا ہے؟
۱۱ پولس رسول جانتا تھا کہ گیت گانا ہمارے حوصلے بلند کر سکتا ہے اس لئے اس نے اس معاملے میں ہمیں دو بار نصیحت کی، ہم افسیوں ۵:۱۸، ۱۹ میں پڑھتے ہیں: ”روح سے معمور ہوتے جاؤ۔ اور آپس میں مزامیر اور گیت اور روحانی غزلیں گایا کرو اور دل سے خداوند کے لئے گاتے بجاتے رہا کرو۔“ اور کلسیوں ۳:۱۶ میں ہم پڑھتے ہیں: ”مسیح کے کلام کو اپنے دلوں میں کثرت سے بسنے دو اور کمال دانائی سے آپس میں تعلیم اور نصیحت کرو اور اپنے دلوں میں فضل کے ساتھ خدا کے لئے مزامیر اور گیت اور روحانی غزلیں گاؤ۔“
۱۲. ایکدوسرے کو تعلیم اور نصیحت دینے میں اپنی مدد کرنے کیلئے ہمارے پاس اپنے گیتوں کی کونسی مثالیں ہیں؟
۱۲ غور کریں کہ ہر موقع پر پولس بار بار گانے کا حوالہ دیتا ہے، جب وہ ”مزامیر، گیت، روحانی غزلیں دل سے گاتے بجاتے رہنے“ کا ذکر کرتا ہے۔ نیز، وہ یہ کہتے ہوئے کلسیوں کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کرتا ہے کہ اس ذریعے سے ہم ”آپس میں تعلیم اور نصیحت“ کر سکتے ہیں۔ اور یقیناً ہم ایسا ہی کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے گیتوں کے عین عنوانات سے دیکھا جا سکتا ہے—”یہوواہ بادشاہ بن چکا ہے!“ (نمبر ۳۳)، ”آگے بڑھو اے گواہو! (نمبر ۲۹)، ”بادشاہتی امید کے لئے شادماں ہو!“ (نمبر ۱۶)، ”ان سے خوف نہ کرو!“ (نمبر ۲۷)، ”میرے ساتھ یاہ کی حمد کریں!“ (نمبر ۱۶۵)، پیش کرنے کیلئے چند ایک مثالیں ہیں۔
۱۳. ہماری عبادت کے حصے کے طور پر گیت گانے کی اہمیت کو ”عقلمند اور دیانتدار نوکر“ نے کسطرح ظاہر کیا ہے؟
۱۳ ان احکام کی مطابقت میں، ”عقلمند اور دیانتدار نوکر“ نے انتظام کیا ہے کہ ہمارے اجتماعات—کلیسیائی اجلاس، سرکٹ اسمبلیاں، اسپیشل اسمبلی ڈیز، ڈسٹرکٹ کنونشنوں، اور بینالاقوامی کنونشنوں—کی ابتدا اور اختتام بادشاہتی گیتوں کے گانے کیساتھ ہو۔ (متی ۲۴:۴۵) علاوہازیں، ان اجتماعات کے دوران دیگر اوقات پر بھی گیت گانے کا جدول بنایا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے اجلاس عام طور پر ایک بادشاہتی گیت گانے کیساتھ شروع ہوتے ہیں، تو کیا ہمیں وقت پر حاضر ہونے، اپنی پرستش کے اس حصے میں شرکت کرنے کیلئے کافی پہلے آنے کی بابت غور نہیں کرنا چاہئے؟ اور چونکہ اجلاس گیت کیساتھ ختم ہوتے ہیں اس لئے کیا ہمیں اختتامی گیت اور اسکے فوراً بعد ہونے والی دعا کیلئے وہاں ٹھہرے نہیں رہنا چاہئے؟
۱۴. ہمارے پاس اپنے پروگراموں کیلئے منتخب کئے جانے والے موزوں گیتوں کی کونسی مثالیں ہیں؟
۱۴ ہمارے اجلاسوں پر گیتوں کو پروگرام کیساتھ ہمآہنگ کرنے کیلئے بڑی احتیاط کیساتھ منتخب کیا جاتا ہے۔ مثلاً، ۱۹۹۳ میں ”الہی تعلیم“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر، گیت نمبر ۱۹۱، ”سچائی کو اپنا بنائیں،“ جو شیطان، دنیا اور نفسانی جسم کا مقابلہ کرنے کیلئے مسیحیوں کی ہمتافزائی کرتا ہے، ان تینوں تقریروں کے فوراً بعد گایا گیا جنہوں نے ان دشمنوں کی بابت بات کی۔ اسی طرح، گیت نمبر ۱۶۴، ”اولاد—خدا کی طرف سے انمول بخشش،“ جو والدین کیلئے فہمائش سے پر ہے، اپنے بچوں کو تربیت دینے کیلئے والدین کی ذمہداری کو اجاگر کرنے والی ایک تقریر کے فوراً ہی بعد گایا گیا۔ گیت نمبر ۷۰، ”یرمیاہ کی مانند ہوں،“ یرمیاہ کی پیشینگوئیوں پر مبنی تقاریر کے ایک سلسلے سے پہلے گایا گیا تھا۔ اور ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے مختلف پہلوؤں پر ایک مجلسمذاکرہ کے بعد گیت نمبر ۱۵۶، نہایت خدمتی رجحان پر مرتکز ایک گیت، ”میں چاہتا ہوں،“ گایا گیا۔ مینارنگہبانی کے مطالعے، خدمتی اجلاس، اور تھیوکریٹک منسٹری سکول کیلئے گیتوں کے انتخاب کرنے میں بھی ایسی ہی احتیاط برتی جاتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب بزرگ تقاریر پیش کریں اور پروگرام کے آغاز کیلئے استعمال ہونے والے گیت کی نشاندہی کریں تو انہیں ایک ایسے گیت کا انتخاب کرنا چاہئے جو انکی تقریر کے موضوع کے مطابق ہو۔
۱۵. اجلاس کا چئیرمین کسطرح گائے جانے والے گیت کیلئے قدردانی کو بڑھا سکتا ہے؟
۱۵ گائے جانے والے گیت کا اعلان کرتے ہوئے، چئیرمین اسکا عنوان یا موضوع بتانے سے گیت کیلئے قدردانی کو بڑھا سکتا ہے۔ ہم گیتوں کے نمبر نہیں بلکہ انکے صحیفائی موضوعات کو گاتے ہیں۔ اگر عنوان کے نیچے دئے گئے صحیفے کو بیان کیا جاتا ہے تو یہ بھی گیت کی زیادہ قدرافزائی کرنے میں کلیسیا کی مدد کریگا۔ ایک بار پھر، گیت کی جذباتی نوعیت پر انحصار کرتے ہوئے، اس طرح کے چند بیانات موزوں ہو سکتے ہیں جیسے کہ یہ گیت بڑے جوش، احساس، خوشی یا بہت زیادہ اعتماد کیساتھ گایا جانا چاہئے۔
گیت گانے سے یہوواہ کی نیکی کیلئے قدردانی کا اظہار کریں
۱۶. ہم اپنے گیتوں کی روح میں کیسے محو ہو سکتے ہیں؟
۱۶ چونکہ ہمارے بادشاہتی گیتوں کے اشعار بہت معنیخیز ہیں اسلئے انہیں گاتے وقت ہمیں الفاظ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم ہر گیت کی روح میں کھو جانا چاہتے ہیں۔ بعض گیت دل پر اثر کرنے والے ہیں، جیسے کہ روح کے ایک پھل محبت کی بابت۔ (گلتیوں ۵:۲۲) انہیں ہم شدت اور تپاک کے ساتھ گاتے ہیں۔ دیگر پرمسرت ہیں، اور ہمیں انہیں خوشی کیساتھ گانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسکے علاوہ اور بھی ہیں جو پرجوش پیشقدمی کرنے والے گیت ہیں، اور انہیں جوشوخروش اور پختہ اعتماد کیساتھ گانا چاہئے۔ اپنے تھیوکریٹک منسٹری سکول میں، ہمیں اپنی پیشکشوں میں تپاک اور احساس کیساتھ ساتھ جوش کو بھی ظاہر کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اپنے گیتوں کو گاتے وقت تپاک، احساس، اور جوشوخروش کا اظہار کرنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
۱۷. (ا) بےوفا اسرائیلیوں کو کی گئی کس سرزنش کا اطلاق ہم اپنے گیت گانے پر نہیں کرنا چاہینگے؟ (ب) جب ہم اپنے گیتوں کے اندر پائے جانی والی نصیحت کو سنجیدہ خیال کرتے ہیں تو اسوقت کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
۱۷ الفاظ کے مفہوم کی پوری طرح قدر نہ کرتے ہوئے، اگر ہم اپنے ذہنوں کو دوسری چیزوں پر مرتکز رکھتے ہوئے اپنے بادشاہتی گیتوں کو گاتے تو کیا ہم کسی حد تک ان بےوفا اسرائیلیوں کی مانند نہ ہونگے جن کو اسلئے ملامت کی گئی کیونکہ وہ ہونٹوں سے تو خدا کی تعریف کرتے تھے مگر انکے دل اس سے دور تھے؟ (متی ۱۵:۸) ہم بادشاہتی گیت گانے کے اپنے طریقے پر اس سرزنش کو عائد نہیں کرنا چاہتے، کیا ہم چاہتے ہیں؟ اپنے بادشاہتی گیتوں کو قدرافزائی کیساتھ گانے سے ہم نہ صرف خود کو پرجوش بنائینگے بلکہ انکو بھی، بشمول نوجوانوں کے، جو کنگڈم ہال میں ہمارے قریب بیٹھے ہونگے۔ جیہاں، اگر وہ سب جو ہمارے کنگڈم ہالوں میں گاتے ہیں اس نصیحت پر سنجیدگی سے غور کریں جو ان گیتوں میں پائی جاتی ہے تو یہ خدمتگزاری میں سرگرم ہونے اور خطاکاری کے پھندوں سے بچنے کیلئے ایک پرزور حوصلہافزائی ہوگی۔
۱۸. بادشاہتی گیتوں کو گانے کا کسی عورت پر کیا اثر ہوا؟
۱۸ بارہا، باہر کے لوگ ہمارے بادشاہتی گیتوں کو گانے سے متاثر ہوئے ہیں۔ مینارنگہبانی (انگریزی) نے ایک مرتبہ اس بیان کو شائع کیا: ”[ہمارا] گیت گانا لوگوں کو یہوواہ خدا کی پہچان تک بھی لا سکتا ہے یہ بات ایک عورت کے تجربے سے ظاہر ہوئی جس نے ۱۹۷۳ میں، یانکی سٹیڈیم، نیویارک شہر میں ہونے والی ”الہی فتح“ اسمبلی پر بپتسمہ لیا۔ وہ مقامی کنگڈم ہال میں پہلی دفعہ خود ہی گئی اور دونوں اجلاسوں تک ٹھہری رہی۔ جیسے ہی کلیسیا نے ”اپنی نظریں انعام پر جمائے رکھو!“ گیت گایا تو وہ اسکے الفاظ اور جسطرح اسے گایا گیا دونوں سے اسقدر متاثر ہوئی کہ اس نے فیصلہ کیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں وہ آنا چاہتی تھی۔ بعد میں وہ گواہوں میں سے ایک کے پاس گئی اور بائبل مطالعے کیلئے درخواست کی، اور [اس نے] یہوواہ کی ایک مسیحی گواہ بننے تک ترقی کی۔“
۱۹. اپنے بادشاہتی گیتوں کو پورے دل کیساتھ گانے کے سلسلے میں کونسی حتمی حوصلہافزائی کی گئی ہے؟
۱۹ ہمارے زیادہتر اجلاسوں پر، سامعین کے پاس اپنے احساسات اور قدردانی کا اظہار کرنے کے مواقع نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ لیکن ہم سب جسطرح یہوواہ کی نیکی کی بابت محسوس کرتے ہیں اسکا اظہار بادشاہتی گیتوں کو گانے میں پورے جوش کے ساتھ شریک ہو کر کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ، جب ہم باہم جمع ہوتے ہیں تو کیا ہم خوشی کے جذبات نہیں رکھتے؟ اسلئے ہمیں گیت گاتے ہونا چاہئے! (یعقوب ۵:۱۳) واقعی، جتنی ہم یہوواہ کی نیکی اور اسکے غیرمستحق فضل کی قدر کرتے ہیں اتنا ہی ہم پورے دلوجان سے اسکی حمد کے گیت گائینگے۔ (۸ ۵/۱ w۹۴)
آپ کیسے جواب دیتے ہیں؟
▫ یہوواہ کی حمد کرنے کی دو بنیادی وجوہات کونسی ہیں؟
▫ کن مختلف طریقوں سے ہم یہوواہ کی حمد کر سکتے ہیں؟
▫ ان بہت ہی دلکش طریقوں میں سے ایک کیا ہے جس سے ہم یہوواہ کی حمد کر سکتے ہیں؟
▫ گیت میں یہوواہ کی حمد کرنے کی کونسی صحیفائی مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں؟
▫ ہم اپنے بادشاہتی گیتوں کو خوب اچھی طرح کیسے گا سکتے ہیں؟
[بکس]
ان گیتوں کو سیکھیں!
یوں معلوم ہوتا ہے کہ بعض گیتوں کو سیکھنے میں بعض لوگوں کو تھوڑی مشکل ہوئی ہے۔ تاہم، یہ کہنا پڑے گا کہ بروکلن بیتایل فیملی اور نیو یارک کی بعض کلیسیاؤں کو ان گیتوں میں سے کسی کو بھی گانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ جو کچھ پہلے پہل غیرمانوس دکھائی دے اسے سیکھنے کیلئے شاید تھوڑی سی کوشش ہی وہ سب کچھ ہو سکتی ہے جسکی ضرورت ہے۔ ایسے گیتوں کیساتھ واقف ہو جانے پر کلیسیا اکثر انکی زیادہ قدرافزائی کرتی ہے بہنسبت ان کے جنکو سیکھنے کیلئے کسی کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔
[بکس]
تفریحی اجتماعات پر بادشاہتی گیت گائیں
ہمارے بادشاہتی گیت گانے کو محض کنگڈم ہال تک ہی محدود رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پولس اور سیلاس نے قیدخانہ میں بھی یہوواہ کیلئے حمد کے گیت گائے۔ (اعمال ۱۶:۲۵) اور شاگرد یعقوب نے کہا: ”کیا کوئی خوشی کے جذبات رکھتا ہے؟ اسے خدا کی مدحسرائی کرنے دو۔“ (یعقوب ۵:۱۳، اینڈبلیو فٹنوٹ) تفریحی اجتماعات پر ہر کوئی خوشی کے جذبات رکھتا ہے۔ لہذا کیوں نہ بادشاہتی گیت گائیں؟ یہ خاص طور پر اور زیادہ خوشگوار ہو سکتا ہے اگر پیانو یا گیٹار کے سنگ گایا جائے۔ بصورتدیگر، ہمارے بادشاہتی گیتوں کی پیانو کیسٹیں موجود ہیں، بہتیرے گواہ خاندانوں کے پاس ان کیسٹیوں کی البم ہے۔ یہ نہ صرف گیت گانے کے ساتھ کام آتی ہیں بلکہ پسمنظر میں بجنے والی دلکش موسیقی کے لئے بھی بہترین ہیں۔
[تصویر]
بحرقلزم پر اپنی رہائی کے بعد، اسرائیل نے گیت میں اپنی خوشی کا اظہار کیا
[تصویر]
پرمسرت گیت آجکل مسیحی عبادت کا ایک حصہ ہے