ایک بہتر دنیا—قریب!
”فردوس کیلئے حسرت بھری آرزو ان قوی آرزوؤں میں سے ہے جو انسانوں کے ذہنوں پر ہر وقت چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ زیادہ طاقتور اور قائم رہنے والی ہو سکتی ہے۔ فردوس کیلئے ایسی تمنا مذہبی زندگی کی ہر سطع پر دیکھی گئی ہے،“ دی انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن کہتا ہے۔
ایک بہتر دنیا کے اندر زندہ رہنے کی خواہش تمام تہذیبوں میں مشترک دکھائی دیتی ہے، گویا ایک ابتدائی تصور کی بابت ماتم کر رہے ہوں جس کا اب کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقی فردوس کے امکان کا خیال پیش کرتا ہے، لیکن کہاں؟ شاید ایک ماہر تحلیلینفسیات کہے کہ یہ شدید آرزو ماں کے رحم کے کھوئے ہوئے تحفظ کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، یہ تشریح علما کو قائل نہیں کرتی جو مذہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
”فردوس کیلئے حسرت بھری آرزو“—کیوں؟
جیسے کہ بعض تجویز پیش کرتے ہیں کیا ایسی حسرت بھری آرزو کا موجود ہونا محض مشکلات اور انسانی وجود کی ناپائدار ماہیت کو زیادہ قابلبرداشت بنانے کا ہی کام دیتا ہے؟ یا اسکی کوئی اور تشریح بھی ہے؟
نوعانسانی ایک بہتر دنیا کی آرزومند کیوں ہے؟ بائبل ایک ایسی وضاحت پیش کرتی ہے جو کہ بیحد واضح اور سادہ ہے: نوعانسانی ایک بہتر دنیا سے تعلق رکھتی ہے! ایک حقیقی فردوس کا واقعی وجود تھا۔ خدا کا کلام اسے ”ایک باغ“ کے طور پر بیان کرتا ہے جو مشرقوسطی کے ایک مخصوص خطے میں واقع تھا، جس میں ”ہر درخت“ جو ”دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کیلئے اچھا تھا“ مہیا کیا گیا تھا۔ خدا نے اسے پہلے انسانی جوڑے کی نگرانی میں دے دیا۔ (پیدایش ۲:۷-۱۵) یہ ایسا بہترین ماحول تھا جس میں انسان واقعی خوش رہ سکتے تھے۔
وہ فردوسی حالتیں کیوں قائم نہ رہیں؟ پہلے ایک روحانی مخلوق اور پھر انسانی جوڑے کی بغاوت کی وجہ سے۔ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷، ۳:۱-۶، ۱۷-۱۹) یوں، انسان نے نہ صرف فردوس کو بلکہ کاملیت، صحت، اور ابدی زندگی کو بھی کھو دیا۔ جسطرح کی حالتوں کا غلبہ ہونا شروع ہو گیا انہوں نے یقیناً انسانی زندگی میں بہتری پیدا نہ کی۔ اسکے برعکس، یہ بتدریج ہمہوقتی بگاڑ ہے جسے ہم آجکل دیکھتے ہیں۔—واعظ ۳:۱۸-۲۰، رومیوں ۵:۱۲، ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، ۱۳۔
فردوس کی تلاش—ایک تصور کی سرگزشت
جیسے کہ تصور کیا جا سکتا ہے، ”فردوس کیلئے حسرت بھری آرزو“ کی ایک لمبی سرگزشت ہے۔ سومیری اس دور کو یاد کرتے تھے جس میں کل کائنات کے اندر ہمآہنگی کا راج تھا۔ ایک قدیم مسوپتامی نظم بیان کرتی ہے: ”کوئی خوف، کوئی دہشت نہیں تھی، انسان میں کوئی رقابت نہیں تھی۔ ... پوری کائنات کے لوگ ہمآہنگی سے یکزبان ہو کر اینلل کی حمد کرتے تھے۔“ بعض نے قدیم مصریوں کی طرح اپنی موت کے بعد ایک بہتر دنیا تک پہنچنے کی امید کی۔ انکا ایمان تھا کہ غیرفانی جان اس جگہ پہنچ جاتی ہے جس کو آرو کے میدان کہا جاتا تھا۔ لیکن دراصل اس امید کی راہ صرف اونچے طبقے کے لئے ہی کھلی تھی، غریب لوگ ایک خوبصورت دنیا کو حاصل کرنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔
ایک فرق مذہبی حلقے میں، ہندوؤں نے صدیوں تک ایک بہتر عالمی زمانے (جگ) کی آمد کا انتظار کیا ہے۔ ہندو تعلیمات کے مطابق، چار جگ ایک مسلسل چکر میں خود کو دہراتے ہیں، اور اسوقت ہم سب سے برے میں رہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے، بعض لوگوں کے خیال کے مطابق یہ کل جگ (تاریک) اپنی تمامتر تکالیف اور بدکاری کے ساتھ تقریباً ۴۳۲،۰۰۰ سالوں تک قائم رہے گا۔ تاہم، عقیدتمند ہندو سنہری دور، ستجگ کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب، یونانیوں اور رومیوں نے بحیرہاوقیانوس میں فرضی خوشبخت جزائر تک پہنچنے کا خواب دیکھا۔ اور بہت سے مصنفین جیسے کہ ہیسیوڈ، ورجل، اور اووڈ نے اس امید کے ساتھ ایک شاندار ابتدائی سنہری دور کا ذکر کیا کہ ایک دن یہ ضرور بحال ہو جائیگا۔ پہلی صدی ق۔س۔ع۔ کے اختتام تک، لاطینی شاعر ورجل نے ایک نئے اور دیرپا ایٹاس آؤریا (سنہری دور) کی قریبی آمد کی پیشینگوئی کی۔ دی انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن کہتا ہے کہ بعد کی صدیوں میں، ”کمازکم سولہ رومی حکمرانوں نے یہ دعوی کیا کہ انکے ادوارحکومت نے سنہری زمانے کو پھر سے بحال کر دیا ہے۔“ لیکن جیسے کہ آج ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ محض سیاسی پروپیگنڈا تھا۔
بہتیرے سیلٹس (وسطی اور مغربی یورپ کے باشندے) اس جگہ کے خواہشمند تھے جسے وہ سمندر پار ایک جزیرے پر (یا مجمعالجزائر میں) ایک روشن سرزمین سمجھتے تھے جہاں پر انکا ایمان تھا کہ لوگ کامل شادمانی میں زندگی بسر کرتے تھے۔ ایک داستان کے مطابق، آرتھر بادشاہ، مہلک طور پر زخمی ہونے کے باوجود ایولن نامی حیرتانگیز جزیرے کو پا لینے کے بعد زندہ رہا۔
قدیم وقتوں اور قرونوسطی میں بہتیروں نے سوچا کہ حقیقی خوشیوں کا باغ یعنی باغعدن ابھی تک کسی جگہ موجود ہے، ”ایک ناقابلرسائی پہاڑ کی چوٹی پر یا ایک ناقابلعبور سمندر کے پار،“ تاریخ دان زون ڈیلیومو وضاحت کرتا ہے۔ اگرچہ اطالوی شاعر دانتے آسمانی جنت پر یقین رکھتا تھا تو بھی اسکا خیال تھا کہ زمینی جنت شہر یروشلیم کے دونوں طرف واقع، اسکے اعراف کے پہاڑ کی چوٹی پر ابھی تک موجود ہے۔ بعض کا یقین تھا کہ یہ ایشیا میں، مسوپتامیہ میں، یا ہمالیہ کے پہاڑوں میں ملے گی۔ اور ایک عدنی فردوس کی بابت قرونوسطی کی کہانیاں بیشمار تھیں۔ بہتیرے یہ ایمان رکھتے تھے کہ اس فردوس کے نزدیک ایک عالیشان سلطنت تھی جس پر ایک نیکدل راہب جان حکومت کرتا تھا۔ زمینی فردوس کے قریب ہونے کے باعث، راہب جان کی سلطنت میں زندگی مبینہ طور پر لمبی اور پرمسرت، اشیاء کی فراوانی اور مالودولت کا دائمی ذریعہ تھی۔ قدیم یونانی داستانوں سے واقف دیگر لوگ ابھی تک یہ سوچتے تھے کہ فردوس کے جزیرے اوقیانوس میں مل سکتے ہیں۔ قرونوسطی کے نقشوں نے باغعدن کے وجود پر حتی کہ اسکے مفروضہ مقام کا بھی اشارہ دیتے ہوئے ایسے اعتقاد کے یقینی ہونے کی وضاحت کی۔
۱۵ویں اور ۱۶ویں صدیوں میں، وہ جہازراں جنہوں نے اوقیانوس کو پار کیا عملاً ایک ایسی دنیا کی تلاش کر رہے تھے جو بیک وقت نئی بھی اور قدیم بھی۔ انکا خیال تھا کہ سمندر کی دوسری جانب، وہ نہ صرف جزائر غربالہند کے اس پار بلکہ باغعدن بھی دریافت کرنے والے تھے۔ مثال کے طور پر، کرسٹوفر کولمبس نے جنوبی اور وسطی امریکہ کے معتدل اور استوائی علاقوں کے پہاڑوں میں اسکی تلاش کی۔ برازیل میں آنے والے یورپی سیاحوں کو یقین تھا کہ معتدل آبوہوا اور غذا اور نباتات کی افراط کے باعث گمشدہ فردوس کو یہیں کہیں ہونا چاہئے۔ تاہم، جلد ہی وہ تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
خیالی دنیائیں—تصوراتی مقامات؟
زمین کے کسی دورافتادہ حصے میں بہترین دنیا کو ڈھونڈنے کی جدوجہد کرنے کی بجائے، دیگر لوگوں نے اسے ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے، ۱۵۱۶ میں، ایک انگریز مذہبانسانیت کے قائل تھامس مور نے خیالی دنیا کے جزیرے یعنی ایک شاندار، پرامن، اور متحمل جگہ کا ذکر کیا جو اس گھٹیا دنیا سے کہیں زیادہ مختلف تھی جسے وہ جانتا تھا۔ دیگر لوگ بھی بہتر جہانوں، خوشباش جہانوں کو ترتیب دینے کی کوشش کر چکے تھے: چھٹی صدی ق۔س۔ع۔ میں، افلاطون نے اپنی جمہوریہ کے ساتھ، ۱۶۰۲ میں، اطالوی راہب تومازو کامپانیلا اور اسکا نہایت ترقییافتہ شہرآفتاب، چند ہی برسوں کے بعد، انگریز فلاسفر فرانسس بیکن نے اپنے نئے جزیرۂاوقیانوس کی ”خوشی اور خوشحالی کی حالت“ کے تذکرے میں۔ صدیوں کے دوران تمام طرح کے اصحابفکر (خواہ کسی مذہب کے ہیرو ہوں یا نہ ہوں) نے خیالی دنیاؤں کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ان میں سے بعض پر یقین بھی کر لیا گیا تھا۔
ایسے لوگ بھی رہے ہیں جنہوں نے اپنی خیالی دنیاؤں کو تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کیطور پر، ۱۸۲۴ میں ایک دولتمند انگریز آدمی، رابرٹ اوون نے انڈیانا یو۔ایس۔اے میں آباد ہو جانے کا فیصلہ کیا، تاکہ ایک گاؤں میں، جسے اس نے نیو ہارضی کا نام دیا تھا، اپنے غیرحقیقی نظریات کو عملی جامہ پہنا سکے۔ اس بات سے قائل ہو کر کہ راست حالتوں کے تحت لوگوں میں بہتری آئے گی، اس نے اپنی تصورکردہ اس نئی اخلاقی دنیا کو قائم کرنے کی کوشش میں تقریباً اپنے تمام وسائل کو صرف کر دیا۔ لیکن نتائج نے یہ ظاہر کر دیا کہ طرززندگی کی نئی حالتیں نئے انسان پیدا کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔
تقریباً تمام سیاسی نظریات یہ رائے رکھتے ہیں کہ انسان کو اپنے اس علم اور اپنی اس سمجھ کے مطابق دنیا کو ترتیب دینا ہوگا جو کہ حقیقی ہو تاکہ اس فردوس کو جس کا خواب دیکھا گیا ہے زمین پر لائے۔ تاہم، متناقض طور پر، ایسی تمناؤں کو پایۂتکمیل تک پہنچانے کیلئے کوششوں کا نتیجہ جنگوں اور انقلابوں کی صورت میں نکلا ہے، جیسے کہ ۱۷۸۹ میں فرانسیسی انقلاب اور ۱۹۱۷ میں بالشوک انقلاب۔ فردوسی حالتوں کو لانے کی بجائے، یہ کوششیں اکثر مزید دکھ اور درد کا باعث بنی ہیں۔
آرزوئیں، منصوبے، خیالی دنیائیں، اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوششیں—یہ یکے بعددیگرے مایوسیوں کی کہانی ہے۔ موجودہ زمانے میں، ہمیں ”خیالی دنیاؤں کے بغیر زندہ رہنے“ کی بابت سیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے، بعض ایک ”شکستہ خواب“ اور ”خیالی دنیا کے دور کے خاتمے“ کی بات کرتے ہیں۔ کیا ایک بہتر دنیا دیکھنے کی کوئی امید ہے یا اسکا محض خواب رہنا طےشدہ بات ہے؟
مسیحی اور ایک بہتر دنیا
ایک نئی دنیا ہرگز ایک خواب نہیں ہے—یہ ایک یقینی امید ہے! مسیحیت کا بانی، یسوع مسیح جانتا تھا کہ یہ موجودہ دنیا سب سے بہترین ممکنہ دنیاؤں میں سے نہیں ہے۔ اس نے یہ سکھایا کہ زمین حلیمالطبع لوگوں کو ورثے میں ملے گی اور یہ کہ اس پر خدا کی مرضی پوری ہوگی۔ (متی ۵:۵، ۶:۹، ۱۰) وہ اور اس کے شاگرد دونوں جانتے تھے کہ یہ دنیا خدا کے دشمن، شیطان ابلیس کے قبضے میں ہے اور نوعانسانی کی بہت سی افسوسناک حالتوں کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ (یوحنا ۱۲:۳۱، ۲-کرنتھیوں ۴:۴، ۱-یوحنا ۵:۱۹، مکاشفہ ۱۲:۱۲) ایماندار یہودی ایسے دن کی انتظار میں تھے جس میں خدا زمین کو امن اور انصاف سے محبت رکھنے والوں کیساتھ آباد کرنے کی غرض سے اسکو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنگوں، دکھ درد، اور بیماری سے پاک کر دیگا۔ اسی طرح، پہلی صدی کے مسیحیوں کو بھی بڑے اعتماد سے اس موجودہ دنیا کے ایک نئے نظام، ”نئے آسمان اور نئی زمین“ کے ساتھ بدل جانے کا انتظار تھا۔—۲-پطرس ۳:۱۳، زبور ۳۷:۱۱، ۴۶:۸، ۹، یسعیاہ ۲۵:۸، ۳۳:۲۴، ۴۵:۱۸، مکاشفہ ۲۱:۱۔
جب یسوع مسیح سولی پر لٹک رہا تھا تو اس نے ایک بدکار شخص کیلئے ایک بہتر دنیا کی بابت وعدے کو دہرایا جس نے کسی حد تک اس پر ایمان ظاہر کیا تھا۔ ”[یسوع] نے اس سے کہا: ”میں آج تجھ سے سچ کہتا ہوں، تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔““ (لوقا ۲۳:۴۰-۴۳، اینڈبلیو ) اس بدکار شخص نے ان الفاظ کا مطلب کیا سمجھا؟ کیا یسوع نے یہ خیال پیش کیا تھا کہ بدکار شخص اسی دن ”اسکے ساتھ“ آسمان کو جانے والا تھا، جیسے کہ بعض کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ترجمے اسکی دلالت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟ نہیں، یسوع کا یہ مطلب تو نہیں تھا، کیونکہ اپنی قیامت کے بعد، یسوع نے مریم مگدلینی کو بتایا کہ وہ ”اب تک باپ کے پاس اوپر نہیں گیا۔“ (یوحنا ۲۰:۱۱-۱۸) اگرچہ انہوں نے ساڑھے تین سال تک یسوع سے تعلیم پائی تھی، ۳۳ س۔ع۔ پنتکست سے پہلے تک اس کے رسولوں نے بھی آسمانی فردوس پر دھیان نہیں دیا تھا۔ (اعمال ۱:۶-۱۱) اس بدکار شخص نے وہی کچھ سمجھا جو اس وقت کے رہنے والے یہودیوں کی بڑی اکثریت نے سمجھا ہوگا: یسوع فردوسی زمین پر ایک بہتر دنیا کے آنے کا وعدہ کر رہا تھا۔ ایک جرمن عالم نے تسلیم کیا: ”موت کے بعد زندگی میں گناہوں کا بدلہ پانے کی تعلیم عہدعتیق میں بالکل نظر نہیں آتی۔“
پوس رسول نے عبرانیوں کے نام اپنے خط میں اس بات کی تصدیق کر دی کہ ہماری زمین پر ایک فردوس ہوگا۔ ”اپنے ساتھی ایمانداروں کی حوصلہافزائی کرتے وقت کہ ”اتنی بڑی نجات سے غافل نہ رہیں ... جسکا بیان یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہوا،“ پولس دعوے سے کہتا ہے کہ یہوواہ خدا نے یسوع کو ”آنے والے جہاں، (آبادشدہ زمین، اینڈبلیو) [یونانی، اوئی کومینی]“ پر اختیار بخشا۔ (عبرانیوں ۲:۳، ۵) مسیحی یونانی صحائف میں، اصطلاح اوئی کومینی ہمیشہ آسمانی دنیا کی بجائے انسانوں سے آبادشدہ ہماری زمین کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ (مقابلہ کریں متی ۲۴:۱۴، لوقا ۲:۱، ۲۱:۲۶، اعمال ۱۷:۳۱۔) اس لئے یسوع مسیح کی حکمرانی کے ذریعے خدا کی بادشاہت تمام آبادشدہ زمین پر حکومت کریگی۔ یہ واقعی بودوباش کیلئے بہترین جگہ ہوگی!
اگرچہ حکومت خود تو آسمانی ہے لیکن یہ زمینی معاملات میں مداخلت کریگی۔ کن نتائج کیساتھ؟ بیماریاں، ظالمانہ کام، مفلسی، اور موت یادداشت سے بعید ہو جائینگی۔ مایوسی اور بےاطمینانی بھی ختم ہو جائینگی۔ (مکاشفہ ۲۱:۳-۵) بائبل کہتی ہے کہ ”خدا اپنی مٹھی کھو لیگا اور ہر جاندار کی خواہش پوری کریگا۔“ (زبور ۱۴۵:۱۶) بےروزگاری اور آبادی جیسے مسائل کا ایک عملی اور مستقل حل ہو جائیگا۔ (یسعیاہ ۶۵:۲۱-۲۳، مکاشفہ ۱۱:۱۸) لیکن سب سے بڑھکر، خدا کی برکت کے باعث، سچائی، انصاف، اور امن—ایسی خوبیاں جو اب تقریباً کافور ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں—کی فتح ہو جائیگی!—زبور ۸۵:۷-۱۳، گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳۔
کیا یہ سب ایک خواب، ایک خیالی دنیا ہے؟ نہیں، یہ سب سے زیادہ تشویشناک دور جس میں ہم رہ رہے ہیں ظاہر کرتا ہے کہ ہم اس دنیا کے ”اخیر زمانہ“ میں ہیں اور یہ کہ اسلئے نئی دنیا قریب ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) کیا آپ وہاں پر زندگی بسر کرنا چاہینگے؟ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل مطالعہ کرنے سے سیکھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ ایک بہتر دنیا قریب ہے یعنی اس سے کہیں بہتر جس کا ہم نے کبھی خواب دیکھا ہو۔ یہ کوئی خیالی دنیا نہیں ہے—یہ ایک حقیقت ہے! (۴ ۴/۱ w۹۴)
[تصویر]
ایک بہتر دنیا—عنقریب ایک حقیقت