ایک بہتر دنیا—محض ایک خواب؟
اگر آپ دینزرتشت کے پیروکار ہوتے جس کی تبلیغ ایران کے پیغبر زرتشت نے کی تو آپ اس دن کے منتظر ہوتے جس میں زمین اپنے اصلی حسن کی حالت میں واپس آ جائیگی۔ اگر آپ قدیم یونان میں رہے ہوتے تو آپ نے دلکش خوشبخت جزائر تک پہنچنے یا آٹھویں صدی ق۔س۔ع۔ کے شاعر ہیسیوڈ کے بیانکردہ سنہری دور کی واپسی کا نظارہ کرنے کا خواب دیکھا ہوتا۔ جنوبی امریکہ میں گوآرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک مقامی باشندہ شاید ابھی تک برائی سے پاک دنیا کی تلاش کر رہا ہو۔ ہمارے زمانے میں رہتے ہوئے، شاید آپ امید کریں کہ کسی سیاسی نظریاتی نظام کی بدولت یا جدید ماحولیاتی بیداری کے نتیجے میں دنیا بہتر ہو جائیگی۔
سنہری دور، خوشبخت جزائر، برائی سے پاک زمین—یہ ان بہت سے ناموں میں سے ہیں جو ایسی آرزو یعنی ایک بہتر دنیا کی امید کو بیان کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
یہ دنیا، ہماری دنیا، بہترین جگہ نہیں ہے۔ بڑھتے ہوئے وحشیانہ جرم، خونی رشتوں میں بےانتہا تشدد والی جنگیں، نسلکشی، دوسروں کے دکھوں سے بےپروائی، افلاس اور بھوک، بےروزگاری اور یکجہتی کی کمی، ماحولیاتی مسائل، لاعلاج بیماریاں جو لاکھوں لوگوں کو دکھ پہنچاتی ہیں،—موجودہ افسوسناک واقعات کی فہرست غیرمختتم دکھائی دیتی ہے۔ حال ہی میں لڑی جانیوالی جنگوں کی بابت سوچبچار کرتے ہوئے، ایک اطالوی صحافی نے کہا: ”جو سوال قدرتی طور پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے یہ ہے کہ آیا دشمنی ہمارے وقت کا سب سے زبردست نکتہنظر نہیں ہے۔“ اس صورتحال پر غور کرتے ہوئے، آپکے خیال میں کیا کسی مختلف، کسی بہتر چیز کی خواہش کرنا حقیقتپسندانہ ہے؟ یا ایسی خواہش محض ایک خیالی دنیا کی تمنا ہے، ایک ایسا خواب جو کبھی پورا نہیں ہوگا؟ کیا ہم تمام ممکنہ جہانوں میں سے سب سے بہترین میں رہتے ہیں؟
یہ کوئی نئی پریشانیاں نہیں ہیں۔ کیونکہ صدیوں سے انسان ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتے رہے ہیں جس میں ہمآہنگی، عدل، خوشحالی، اور محبت کا دور دورا ہوگا۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ، بہتیرے فلاسفروں نے بہترین ریاستوں، بہتر جہانوں کی بابت اپنے خیالات کی تفصیلاً وضاحت کی۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ کبھی بھی اس بات کی وضاحت کرنے کے قابل نہیں ہوئے کہ کیسے کامیابی سے انہیں عمل میں لایا جائے۔
کیا یہ خوابوں، خیالوں کی دنیاؤں کی صدیوں پرانی فہرست، اور ایک بہتر معاشرے کیلئے انسانی خواہشات ہمیں کچھ سکھا سکتی ہیں؟ (۳ ۴/۱ w۹۴)