یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏4 ص.‏ 16-‏21
  • مینارنگہبانی اور جاگو!‏ سچائی کے برمحل جریدے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مینارنگہبانی اور جاگو!‏ سچائی کے برمحل جریدے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • رسالے جو سچائی کی تائید کرتے ہیں
  • بروقت مضامین جو لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں
  • انہیں دوسروں میں تقسیم کریں!‏
  • خدمتگزاری میں رسالوں کا بھرپور استعمال کریں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۵
  • رسالے بادشاہت کا اعلان کرتے ہیں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۸
  • کیا آپ رسالے پڑھتے ہیں؟‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۸
  • مینارنگہبانی اور جاگو!‏—‏سچائی کے جریدے
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۴
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏4 ص.‏ 16-‏21

مینارنگہبانی اور جاگو!‏ سچائی کے برمحل جریدے

‏”‏اے خداوند!‏ سچائی کے خدا!‏ تو نے میرا فدیہ دیا ہے۔“‏—‏زبور ۳۱:‏۵‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ ایک بہن نے مینارنگہبانی میں جو کچھ پڑھا، اس نے اسکی بابت کیسا محسوس کیا؟ (‏ب)‏ ہمارے جریدوں کی بابت کونسے سوال پوچھے جاتے ہیں؟‏

‏”‏مینارنگہبانی (‏انگریزی)‏ کے مضمون ”‏آپ تکلیف کے اوقات میں تسلی پا سکتے ہیں،“‏ میں شاندار معلومات کیلئے آپ کا بہت شکریہ،“‏ ایک مسیحی بہن نے لکھا۔‏a ”‏بہت سے نکات جو آپ نے پیش کئے بالکل ویسے ہی احساسات رکھتے تھے جنکا مجھے سامنا تھا، گویا یہ ایسے تھا کہ یہ مضمون براہ‌راست میرے لئے ہی لکھا گیا تھا۔ جب پہلی مرتبہ میں نے اسے پڑھا، تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ جان لینا اتنی شاندار بات ہے کہ کوئی دوسرا جانتا ہے کہ میں کیسے محسوس کرتی ہوں!‏ میں یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہونے کیلئے بہت ہی شکرگزار ہوں۔ مستقبل قریب میں فردوس کے اندر ابدی زندگی کے وعدے، اور اب، ہماری جانوں کیلئے تسلی، ہمیں اور کہاں مل سکتی ہے!‏ شکریہ۔ لاکھ بار شکریہ۔“‏

۲ کیا آپ نے کبھی ایسے محسوس ہے؟ کیا کبھی ایسے لگا ہے کہ مینارنگہبانی یا اسکے ساتھی جریدے جاگو!‏ میں، کچھ نہ کچھ خاص طور پر آپ ہی کیلئے لکھا گیا تھا؟ ہمارے رسالوں کی بابت خاص بات کیا ہے جو لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے؟ ہم دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں کہ انکے اندر موجود زندگی‌بخش پیغام سے فائدہ اٹھائیں؟—‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۶‏۔‏

رسالے جو سچائی کی تائید کرتے ہیں

۳.‏ کس اچھی وجہ سے مینارنگہبانی اور جاگو!‏ رسالوں نے بہت سے قارئین کے دلوں پر گہرا اثر کیا ہے؟‏

۳ یہوواہ ”‏سچائی [‏کا]‏ خدا“‏ ہے۔ (‏زبور ۳۱:‏۵‏)‏ اسکا کلام، بائبل سچائی کی کتاب ہے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۷‏)‏ خلوص‌دل لوگ سچائی سے اثرپذیر ہوتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں یوحنا ۴:‏۲۳، ۲۴‏۔)‏ ایک وجہ کہ مینارنگہبانی اور جاگو!‏ نے لاکھوں قارئین کے دلوں پر جو گہرا اثر کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سچائی اور راستی کے جریدے ہیں۔ درحقیقت، یہ بائبل سچائی سے وفاداری کا مسئلہ ہی تھا کہ مینارنگہبانی کی اشاعت شروع ہوئی۔‏

۴، ۵.‏ (‏ا)‏ وہ حالات کیا تھے جو سی۔ ٹی۔ رسل کیلئے مینارنگہبانی شائع کرنے کا سبب بنے؟ (‏ب)‏ مینارنگہبانی جریدے کو ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ نے کیسے استعمال کیا ہے؟‏

۴ ۱۸۷۶ میں، چارلس ٹی، رسل نے راچسٹر، نیو یارک کے نیلسن ایچ، باربر کیساتھ الحاق کر لیا۔ رسل نے باربر کے مذہبی موقت‌الشیوع رسالے صبح کا نقیب (‏انگریزی)‏ کی اشاعت کو ترقی دینے کیلئے فنڈ مہیا کئے، جسکے بڑے ایڈیٹر کے طور پر باربر نے اور نائب ایڈیٹر کے طور پر رسل نے فرائض انجام دئے۔ تاہم، کوئی ڈیڑھ سال بعد، اگست ۱۸۷۸ کے نقیب (‏انگریزی)‏ کے شمارے میں، باربر نے ایک مضمون لکھا جس میں اس نے مسیح کی موت کی چھٹکارا دلانے والی قیمت سے انکار کیا۔ رسل نے، جو باربر سے کوئی ۳۰ سال چھوٹا تھا، اگلے ہی شمارے میں ایک مضمون کے ساتھ جواب دیا جس نے فدیے کی حمایت کی، جسکا اس نے ”‏خدا کے کلام کی اہم‌ترین تعلیمات میں سے ایک“‏ کے طور پر حوالہ دیا۔ (‏متی ۲۰:‏۲۸‏)‏ باربر کے ساتھ صحیفائی طور پر استدلال کرنے کی اپنی بار بار کوششوں کے بعد، رسل نے آخرکار نقیب (‏انگریزی)‏ کے ساتھ تمام تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس جریدے کے جون ۱۸۷۹ کے شمارے سے شروع کرکے، نائب ایڈیٹر کے طور پر رسل کا نام پھر کبھی سامنے نہ آیا۔ ایک ماہ بعد، ۲۷ سالہ رسل نے صیون کا مینارنگہبانی اور مسیح کی موجودگی کا نقیب (‏انگریزی)‏ کی اشاعت شروع کی (‏جو اب مینارنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے کے طور پر مشہور ہے)‏، جس نے شروع ہی سے فدیے جیسی صحیفائی سچائی کی حمایت کی ہے۔‏

۵ گزشتہ ۱۱۴ سالوں سے، مینارنگہبانی نے، ایک ماہر وکیل کی مانند، خود کو بائبل سچائی اور عقیدے کے محافظ کے طور پر منوا لیا ہے۔ اسی دوران میں، اس نے لاکھوں قدردان قارئین کے اعتماد کو حاصل کر لیا ہے۔ یہ ابھی تک پرزور طریقے سے فدیے کی تائید کرتا ہے۔ (‏مثال کے طور پر، مینارنگہبانی یکم ستمبر ۱۹۹۱ صفحہ ۱۹ تا ۲۸ کو دیکھیں۔)‏ اور یہ یہوواہ کی قائم‌شدہ بادشاہت کا اعلان کرنے اور ”‏وقت پر“‏ روحانی خوراک تقسیم کرنے کیلئے ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ اور اسکی گورننگ باڈی کا اہم آلہءکار بنا ہوا ہے۔—‏متی ۲۴:‏۱۴،‏ ۴۵‏۔‏

۶، ۷.‏ سنہری زمانہ (‏انگریزی)‏ کا بیان‌کردہ نصب‌العین کیا تھا، اور کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ اصحاب‌فکر اسکے پیغام سے اثرپذیر ہوئے؟‏

۶ جاگو!‏ رسالے کی بابت کیا ہے؟ جاگو!‏ نے بھی اپنے شروع ہی سے، سچائی کی وکالت کی ہے۔ ابتدا میں سنہری زمانہ (‏انگریزی)‏ کہلانے والے، اس رسالے کو عوامی تقسیم کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ اسکے نصب‌العین کے متعلق اکتوبر ۱، ۱۹۱۹ کے پہلے شمارے نے بیان دیا:‏ ”‏اسکا مقصد الہی حکمت کی روشنی میں موجودہ زمانے کے بڑے عجیب واقعات کے حقیقی معنی کی وضاحت کرنا اور سوچنے والے ذہن پر ناقابل‌تردید اور یقین‌بخش ثبوت کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ بنی‌آدم کی عظیم‌ترین برکت کا وقت اب قریب ہے۔“‏ سوچنے والے لوگ سنہری زمانہ (‏انگریزی)‏ کے پیغام سے اثرپذیر ہوئے۔ کئی سالوں تک، اس کی اشاعت مینارنگہبانی سے بھی زیادہ تھی۔‏b

۷ تاہم، مینارنگہبانی اور جاگو!‏ کی دلکشی اس حقیقت سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے کہ وہ عقائد سے متعلق سچائی کو شائع کرتے اور عالمی حالتوں کی نبوتی اہمیت کی وضاحت کرتے ہیں۔ خاص طور پر گزشتہ ایک یا دو عشروں سے، ہمارے رسالوں نے ایک اور وجہ سے بھی لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کیا ہے۔‏

بروقت مضامین جو لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں

۸.‏ یہوداہ نے اپنے قارئین کو کلیسیا کے اندر کن اثرات کا مقابلہ کرنے کی تاکید کرتے ہوئے، تحریر میں کیا تبدیلی کی؟‏

۸ یسوع مسیح کی موت اور قیامت کے کوئی ۳۰ سال بعد، بائبل‌نویس یہوداہ نے ایک چیلنج‌خیز حالت کا سامنا کیا تھا۔ بداخلاق حیوان‌خصلت آدمی مسیحیوں کے درمیان چپکے سے آ ملے تھے۔ یہوداہ نے ساتھی مسیحیوں کو عقائد سے متعلق ایک مضمون—‏نجات جس میں ممسوح مسیحی شریک ہیں کی بابت لکھنا چاہا تھا۔ اسکی بجائے، روح‌القدس سے راہنمائی پا کر، اس نے یہ ضروری سمجھا کہ اپنے قارئین کو کلیسیا کے اندر بگا‌ڑ پیدا کرنے والے اثرات کا مقابلہ کرنے کی تاکید کرے۔ (‏یہوداہ ۳، ۴،‏ ۱۹-‏۲۳‏)‏ یہوداہ نے حالات کے مطابق ردوبدل پیدا کیا اور بروقت مشورت فراہم کی جس نے اسکے مسیحی بھائیوں کی ضروریات کو پورا کیا۔‏

۹.‏ ہمارے جریدوں کیلئے بروقت مضامین فراہم کرنے میں کیا شامل ہے؟‏

۹ اسی طرح سے، ہمارے جریدوں کیلئے بروقت مضامین تیار کرنا چیلنج‌خیز ذمہ‌داری ہے۔ وقت بدل جاتے ہیں، اور اسی طرح سے لوگ بھی—‏ان کی ضروریات اور انکی دلچسپیاں وہ نہیں رہیں جو ایک یا دو عشرے پہلے تک تھیں۔ ایک سفری نگہبان نے حال ہی میں بیان کیا:‏ ”‏جب میں پیچھے ۱۹۵۰ کے عشرے میں گواہ بنا تو لوگوں کے ساتھ بائبل مطالعے کرنے کا ہمارا طریقہ بنیادی طور پر عقائد پر مبنی تھا—‏تثلیث، دوزخ، جان، وغیرہ کی بابت انہیں سچائی سکھانا۔ لیکن اب، ایسے لگتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں اتنے زیادہ مسائل اور مشکلات ہیں کہ ہمیں انہیں یہ تعلیم دینی پڑتی ہے کہ کیسے گزر بسر کریں۔“‏ ایسے کیوں ہے؟‏

۱۰.‏ اس سے ہمیں حیران کیوں نہیں ہونا چاہئے کہ ۱۹۱۴ سے لیکر انسانی امور میں مسلسل بگا‌ڑ پیدا ہوتا رہا ہے؟‏

۱۰ ”‏اخیر زمانہ“‏ کی بابت بائبل نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏برے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائینگے۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱،‏ ۱۳‏)‏ اسلئے، اس سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے کہ ۱۹۱۴ میں جب سے آخری زمانہ شروع ہوا ہے انسانی امور میں مسلسل بگا‌ڑ پیدا ہوا ہے۔ شیطان جسکا باقیماندہ وقت پہلے سے کہیں کم ہے، انسانی معاشرے پر پہلے سے کہیں زیادہ اپنا قہر اگل رہا ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۹،‏ ۱۲‏)‏ نتیجتاً، اخلاقیات اور خاندانی اقدار ان سے کہیں مختلف ہیں جو ۳۰ یا ۴۰ سال پہلے تک تھیں۔ عام طور پر لوگ گزشتہ عشروں کی طرح کا مذہبی رجحان نہیں رکھتے۔ جرم اس قدر قابو سے باہر ہے کہ لوگ ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں جنکی بابت فقط ۲۰ یا ۳۰ سال پہلے تک کبھی سنا بھی نہیں تھا۔—‏متی ۲۴:‏۱۲‏۔‏

۱۱.‏ (‏ا)‏ لوگوں کے ذہنوں پر کونسے مسائل سوار ہیں، اور دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت نے ان ضروریات کا کیسے جواب دیا ہے؟ (‏ب)‏ مینارنگہبانی یا جاگو!‏ کے کسی مضمون کی مثال دیں جس نے آپکی زندگی پر اثر کیا ہے۔‏

۱۱ پس اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ جذباتی، معاشرتی، اور خاندانی مسائل بہت سے لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہیں۔ دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت نے مینارنگہبانی اور جاگو!‏ میں ایسے بروقت مضامین شائع کرکے دلیری کے ساتھ جواب دیا ہے جنہوں نے لوگوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کیا ہے اور جو انکی زندگیوں پر واقعی اثرانداز ہوئے ہیں۔ بعض مثالوں پر غور کریں۔‏

۱۲.‏ ۱۹۸۰ میں مینارنگہبانی کیلئے سنگل‌پیرنٹ فیملیز کی بابت مضامین کیوں تیار کئے گئے تھے؟ (‏ب)‏ سنگل‌پیرنٹ فیملیز کی بابت مضامین کیلئے ایک بہن نے اپنی قدردانی کا اظہار کیسے کیا؟‏

۱۲ خاندانی مسائل۔ جب عالمی رپورٹوں نے سنگل‌پیرنٹ فیملیز [‏والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندانوں]‏ کی تعداد میں تیز رفتار اضافے کو ظاہر کیا، تو ستمبر ۱۵، ۱۹۸۰ کے مینارنگہبانی (‏انگریزی)‏ کے شمارے کیلئے ”‏ون‌پیرنٹ فیملیز—‏کوپنگ ود دی پرابلمز“‏ [‏والدین میں سے ایک والے خاندان—‏مسائل سے نپٹنا]‏ کے موضوع پر انوکھے مضامین تیار کئے گئے تھے۔ مضامین کا دوہرا مقصد تھا:‏ (‏۱)‏ منفرد مسائل سے نپٹنے کیلئے سنگل پیرنٹس کی مدد کرنا جنکا وہ سامنا کرتے ہیں اور (‏۲)‏ دوسروں کی مدد کرنے کیلئے بہتر طور پر واقف ہونا تاکہ وہ ”‏برادرانہ محبت“‏ دکھا سکیں اور حقیقت میں سنگل‌پیرنٹ فیملیز کی ”‏خبر لیں۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۸،‏ یعقوب ۱:‏۲۷‏)‏ بہت سے قارئین نے مضامین کیلئے قدردانی کے اظہار میں لکھا۔ ”‏جب میں نے سرورق کو دیکھا تو اس سے میری آنکھوں میں واقعی آنسو بھر آئے،“‏ ایک سنگل ماں نے لکھا، ”‏اور جب میں نے رسالے کو کھولا اور معلومات کو پڑھا، تو آڑے وقت میں ایسی معلومات فراہم کرنے کیلئے میرا دل یہوواہ کیلئے شکرگزاری سے لبریز ہو گیا۔“‏

۱۳.‏ ۱۹۸۱ میں، جاگو!‏ کے اندر افسردہ‌دلی پر کونسی تفصیلی بحث شائع ہوئی تھی، اور ایک قاری کو اسکی بابت کیا کہنا پڑا تھا؟‏

۱۳ جذباتی مسائل۔ ۱۹۶۰ کے عشرے سے لیکر افسردہ‌دلی کے مضمون کو مینارنگہبانی اور جاگو!‏ میں زیربحث لایا گیا ہے۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۴‏)‏ لیکن ستمبر ۸، ۱۹۸۱ کے جاگو!‏ (‏انگریزی)‏ کے سرورق کے مضامین ”‏آپ افسردہ‌دلی کا مقابلہ کر سکتے ہیں!‏“‏ میں ایک نیا اور مثبت نظریہ اپنایا گیا تھا۔ جلد ہی تمام دنیا سے واچ ٹاور سوسائٹی کو قدردانی کے خطوط آنے لگے۔ ”‏میں اپنے دل کے احساسات کا اظہار خط میں کیسے کر سکتی ہوں؟“‏ ایک بہن نے لکھا۔ ”‏میں ۲۴ سال کی ہوں، اور گزشتہ دس سالوں کے دوران، میرے اوپر افسردگی کے بڑے دور آئے ہیں۔ لیکن اب میں خود کو یہوواہ کے زیادہ قریب اور اسکی ممنون محسوس کرتی ہوں کہ اس نے ان پرمحبت مضامین کے ساتھ افسردہ‌دل لوگوں کی ضروریات کا جواب دیا، اور میں آپکو بھی اس سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔“‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے مضمون کو ہمارے جریدوں میں کیسے پیش کیا گیا ہے؟ (‏ب)‏ رسالے کے کن مضامین نے آسٹریلیا میں ایک جوکی پر گہرا اثر چھوڑا؟‏

۱۴ معاشرتی مسائل۔ بائبل نے پیشینگوئی کی کہ ”‏اخیر زمانہ“‏ میں آدمی ”‏خودغرض۔ .‏.‏.‏ طبعی محبت سے خالی۔ .‏.‏.‏ بے‌ضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن“‏ ہونگے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۳‏)‏ اسلئے، اس بات سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے کہ آجکل بچوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر بدسلوکی کی جاتی ہے۔ اس موضوع پر اکتوبر ۱، ۱۹۸۳ کے مینارنگہبانی (‏انگریزی)‏ میں ”‏محرمات سے مباشرت کے شکار ہونے والوں کیلئے مدد“‏ کے مضمون میں کھل کر بات‌چیت کی گئی تھی۔ آٹھ سال بعد، شکار ہونے والوں کیلئے سمجھ اور امید فراہم کرنے اور دوسروں کو آگاہ کرنے کیلئے سرورق کے مضامین کو ”‏بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے زخموں کو اچھا کرنا“‏ اکتوبر ۸، ۱۹۹۱ کے جاگو!‏ کیلئے احتیاط سے تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ مفید مدد پیش کر سکیں۔ مضامین کا یہ سلسلہ ہمارے جریدوں کی تاریخ میں پڑھنے والوں کی طرف سے اثرپذیری کے عظیم‌ترین اظہار کا سبب بنا۔ ایک قاری نے لکھا:‏ ”‏ان مضامین میں تسلی‌بخش خیالات اور صحیفائی حوالے میری صحتیابی کیلئے زبردست قوت ثابت ہوئے ہیں۔ یہ جاننا کہ یہوواہ مجھے کم‌قدر نہیں سمجھتا ایک زبردست تسکین تھی۔ یہ جاننا بھی اتنا ہی تسلی‌بخش تھا کہ میں تنہا نہ تھی۔“‏

۱۵ میلبرن، آسٹریلیا سے ایک جوکی (‏پیشہ‌ور گھڑسوار)‏ نے سڈنی میں واچ ٹاور سوسائٹی کے برانچ آفس میں بڑی دور سے فون کال کرکے گھڑدوڑ کے ماحول سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ اس نے مارچ ۸، ۱۹۹۳ جاگو!‏ رسالے میں تھوڑی دیر پہلے ہی زنابالجبر پر مضامین کو دیکھا تھا اور بڑی مشکل سے یقین کر سکا کہ ایسے گرانقدر رسالے موجود ہیں۔ اس نے کوئی ۳۰ منٹ تک سوال پوچھے اور دئے گئے جوابات سنکر خوش تھا۔‏

۱۶.‏ آپ کن طریقوں سے ہمارے جریدوں کیلئے قدردانی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟‏

۱۶ آپکی بابت کیا ہے؟ کیا مینارنگہبانی اور جاگو!‏ میں شائع ہونے والے کسی خاص مضمون نے آپکی زندگی پر اثر کیا ہے؟ اگر ایسے ہے تو بلا‌شبہ آپ ہمارے جریدوں کیلئے شکرگزاری کا گہرا احساس رکھتے ہیں۔ آپ اپنی قدردانی کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟ یقینی طور پر ہر شمارے کو خود پڑھنے سے۔ آپ ان گرانقدر جریدوں کی ممکنہ طور پر دور دور تک تقسیم کرنے میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟‏

انہیں دوسروں میں تقسیم کریں!‏

۱۷.‏ رسالوں کی تقسیم کو بڑھانے کیلئے کلیسیائیں کیا کر سکتی ہیں؟‏

۱۷ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک کام ہے جو ہر کلیسیا کر سکتی ہے۔ اکتوبر ۱۹۵۲ کے خبررساں (‏انگریزی)‏ (‏اب ہماری بادشاہتی خدمتگزاری)‏ کے شمارے نے کہا:‏ ”‏رسالے پیش کرنے کا نہایت موثر ذریعہ گھرباگھر اور سٹور با سٹور ہے۔ لہذا سوسائٹی سفارش کرتی ہے کہ رسالے پیش کرنے کے ان طریقوں کو میگزین ڈے کی کارگزاری کا باقاعدہ حصہ ہونا چاہئے۔“‏ یہ نصیحت آجکل بھی کارآمد ہے۔ کلیسیائیں ایک باقاعدہ میگزین ڈے کو جدول دے سکتی ہیں، صرف رسالوں کے ذریعے گواہی دینے کیلئے مختص دن۔ زیادہ‌تر کلیسیاؤں کیلئے، مخصوص سنیچر بلا‌شبہ ایک اچھا وقت ہوگا۔ جی‌ہاں، ہر کلیسیا رسالوں کے ذریعے گواہی دینے کیلئے خاص دنوں یا شام کے اوقات کو مختص کرے—‏گھرباگھر، سٹور با سٹور، گلی‌بازار کے کام میں، اور میگزین روٹس پر۔ اسکے علاوہ، آپ بادشاہتی مناد، رسالوں کی تقسیم کو بڑھانے میں مدد دینے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۸، ۱۹.‏ (‏ا)‏ مینانگہبانی اور جاگو!‏ کی پیشکش کو ذہن میں رکھنا کیسے رسالے پیش کرنے میں آپکی مدد کر سکتا ہے؟ (‏ب)‏ رسالے پیش کرتے وقت ایک مختصر، موزوں پیشکش کا کیا فائدہ ہے؟ (‏پ)‏ کیا چیز لوگوں کے گھروں کے اندر رسالے پہنچانے کی قدروقیمت کو ظاہر کرتی ہے؟‏

۱۸ ”‏مینارنگہبانی“‏ اور ”‏جاگو!‏“‏ کی پیشکش کو ذہن میں رکھنا پہلا قدم ہے۔ رسالوں کو قبل‌ازوقت پڑھ لیں۔ جب آپ ہر مضمون کو پڑھیں، تو خود سے پوچھیں، ”‏یہ مضمون کس کیلئے دلچسپی کا حامل ہوگا؟“‏ مضمون میں دلچسپی کو ابھارنے کیلئے چند الفاظ کی بابت سوچیں جو آپ بیان کر سکتے ہیں۔ باقاعدہ میگزین ڈے پر حصہ لینے کے علاوہ، کیوں نہ رسالوں کو اپنے ساتھ رکھیں تاکہ آپ انہیں دوسروں میں تقسیم کرنے کیلئے ہر موقع سے فائدہ اٹھا سکیں—‏سفر یا خریداری کرتے وقت اور ساتھی کارکنوں، پڑوسیوں، ہم‌مکتبوں، یا اساتذہ سے بات‌چیت کرتے وقت؟‏

۱۹ اسے سادہ رکھیں دوسرا مشورہ ہے۔ دسمبر ۱، ۱۹۵۶ کے مینارنگہبانی (‏انگریزی)‏ نے بیان کیا:‏ ”‏رسالے پیش کرتے وقت ایک مختصر، موزوں پیشکش بہترین ہے۔ مقصد زیادہ کاپیاں پیش کرنا ہے۔ وہ اپنے لئے خود ”‏کلام“‏ کرینگے۔“‏ بعض پبلشروں نے ایک مضمون سے ایک خیال کا انتخاب کرنے، اسے چند الفاظ میں بیان کرنے، اور رسالے پیش کرنے کو موثر پایا ہے۔ جب رسالے گھر کے اندر پہنچ جاتے ہیں تو رسالے آپ سے قبول کرنے والے شخص کے علاوہ دوسروں سے بھی ”‏کلام“‏ کر سکتے ہیں۔ آئرلینڈ میں یونیورسٹی کی ایک جوان طالبہ نے ستمبر ۱، ۱۹۹۱ کے مینارنگہبانی (‏انگریزی)‏ کے شمارے کو پڑھا، جسے اس کے والد نے ایک گواہ سے قبول کیا تھا۔ رابطے اور دوسرے موضوعات پر مضامین نے اسکی دلچسپی کو بیدار کیا۔ جونہی وہ رسالے کو پڑھ چکی، تو اس نے فون بک میں درج نمبر استعمال کرتے ہوئے، گواہوں کو ٹیلیفون کیا۔ جلد ہی ایک بائبل مطالعہ شروع ہو گیا، اور اس جوان خاتون نے جولائی ۱۹۹۳ میں ”‏الہی تعلیم“‏ ڈسٹرکٹ کنونشن پر بپتسمہ لیا۔ یقینی طور پر، ہمیں رسالوں کو گھروں کے اندر پہنچانا چاہئے، جہاں وہ لوگوں سے ”‏کلام“‏ کر سکتے ہیں!‏ ایک سفری نگہبان نے ایک اور سادہ سا مشورہ پیش کیا:‏ ”‏رسالوں کو اپنے بک بیگ سے باہر نکالیں۔“‏ بیشک، جو کچھ آپ کہتے ہیں اگر وہ صاحب‌خانہ کی دلچسپی حاصل نہیں کرتا تو غالباً انکی سرورق کی دلکش تصاویر آپ کیلئے رسالوں کو پیش کر دینگی۔‏

۲۰، ۲۱.‏ (‏ا)‏ آپ رسالے پیش کرنے کے کام میں حصہ لیتے وقت کسطرح لچکدار ہو سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ ہر ماہ زیادہ رسالے پیش کرنے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

۲۰ ایک تیسرا مشورہ ہے لچکدار ہوں۔ (‏مقابلہ کریں ۱-‏کرنتھیوں ۹:‏۱۹-‏۲۳‏۔)‏ چند ایک مختصر سی پیشکشیں تیار کر لیں۔ ایک مضمون کو ذہن میں رکھیں جو آدمیوں کو پسند آئے، دوسرا عورتوں کو۔ نوجوانوں کیلئے، آپ مضمون ”‏نوجوان لوگ پوچھتے ہیں .‏.‏.‏“‏ کو پیش کر سکتے ہیں۔ اس وقت بھی لچکدار ہوں، جب آپ رسالے پیش کرنے کے کام میں حصہ لیتے ہیں۔ میگزین ڈے کے علاوہ، آپ شاید محسوس کریں کہ شام کے وقت گواہی دینا گھرباگھر رسالے پیش کرنے کیلئے ایک شاندار موقع فراہم کرتا ہے۔‏

۲۱ چوتھا مشورہ ہے ایک ذاتی نشانہ قائم کریں۔ ضمیمہ ”‏رسالے زندگی کی راہ کی نشاندہی کرتے ہیں،“‏ جو مارچ ۱۹۸۴ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری (‏انگریزی)‏ میں شائع ہوا تھا اس نے بیان کیا:‏ ”‏مثلاً مشورے کے طور پر، اپنے اپنے حالات کے پیش‌نظر پبلشر ہر ماہ ۱۰ رسالوں، پائنیر ۹۰ رسالوں کیلئے کوشش کر سکتے ہیں۔ بلا‌شبہ، بعض پبلشر ہر ماہ زیادہ رسالے پیش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور یوں ایک بڑا ذاتی نشانہ قائم کرینگے۔ تاہم، کمزور صحت، علاقے کی نوعیت، یا دیگر معقول وجوہات کے باعث، دوسروں کا نشانہ قدرے کم ہو سکتا ہے۔ پھر بھی یہوواہ کیلئے انکی خدمت اتنی ہی قدروقیمت والی ہے۔ (‏متی ۱۳:‏۲۳،‏ لوقا ۲۱:‏۳، ۴‏)‏ اہم بات ایک ذاتی نشانہ رکھنا ہے۔‏

۲۲.‏ ہم کس طریقے سے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم سچائی کے اپنے برمحل جریدوں کیلئے یہوواہ کے شکرگزار ہیں؟‏

۲۲ ہم کتنے شکرگزار ہیں کہ ”‏سچائی کے خدا“‏ یہوواہ نے ہمیں ان برمحل جریدوں کو فراہم کرنے کیلئے دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت اور اسکی گورننگ باڈی کو استعمال کیا ہے!‏ (‏زبور ۳۱:‏۵‏)‏ جبتک یہوواہ کی مرضی ہے، یہ رسالے لوگوں کی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ یہ یہوواہ کے بلند اخلاقی معیاروں کو سربلند کرتے رہیں گے۔ یہ درست عقائد کو فروغ دینا کرنا بند نہیں کرینگے۔ اور یہ پیشینگوئی کی تکمیل پر توجہ مبذول کرانے کو جاری رکھینگے جو ہمارے زمانے کی اس وقت کے طور پر نشاندہی کرتی ہے جب خدا کی بادشاہت حکمرانی کر رہی ہے اور یہوواہ کے سچے پرستاروں کی تعداد میں اضافے سے خدا کی مرضی زمین پر پوری کی جا رہی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ (‏متی ۶:‏۱۰،‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۵‏)‏ ہم مینارنگہبانی اور جاگو!‏ میں کیا ہی انمول خزانہ رکھتے ہیں!‏ آئیے ہم ان اہم جریدوں کو حلیم‌دل اشخاص میں تقسیم کرنے کیلئے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں جو لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے اور بادشاہتی سچائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ (‏۲۰ ۱/۱ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a جولائی ۱۵، ۱۹۹۲، صفحات ۱۹-‏۲۲۔‏

b بہت سالوں تک مینارنگہبانی رسالے کو خاص طور پر ممسوح مسیحیوں کیلئے ہی خیال کیا جاتا رہا تھا۔ تاہم، ۱۹۳۵ سے شروع کرکے اس بات پر زیادہ زور دیا گیا تھا کہ ”‏بڑی بھیڑ“‏ مینارنگہبانی کو حاصل کرے اور پڑھے، جسکی امید اس زمین پر ابدی زندگی ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹‏)‏ چند سال بعد، ۱۹۴۰ میں، مینارنگہبانی کو سڑکوں پر لوگوں کو باقاعدگی سے پیش کیا گیا تھا۔ اسکے بعد، تقسیم میں تیزی سے اضافہ ہوا۔‏

آپکا جواب کیا ہے؟‏

▫ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ مینارنگہبانی اور جاگو!‏ سچائی کے جریدے ہیں؟‏

▫ مینارنگہبانی اور جاگو!‏ لوگوں کی زندگیوں پر کیسے اثرانداز ہوئے ہیں؟‏

▫ رسالوں کی تقسیم کو بڑھانے کیلئے کلیسیائیں کیا کر سکتی ہیں؟‏

▫ زیادہ رسالے پیش کرنے کیلئے کونسے مشورے آپکی مدد کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏بکس]‏

بعض مضامین جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں پر اثر کیا ہے

کئی سالوں سے بہتیرے قارئین نے مینارنگہبانی اور جاگو!‏ میں شائع ہونے والے مخصوص مضامین کیلئے قدردانی کا اظہار کرنے کی خاطر خطوط لکھے ہیں!‏ بہت سے مضامین میں سے چند ایک کو ذیل میں درج کیا گیا ہے جو ہمارے قارئین پر اثرانداز ہوئے۔ کیا ان مضامین نے یا دیگر نے آپکی زندگیوں کو بدل دیا ہے؟‏

مینارنگہبانی (‏انگریزی)‏

”‏پوشیدہ خطاؤں پر قابو پانے کیلئے خدا کی مدد قبول کریں“‏ (‏اپریل ۱۵، ۱۹۸۵)‏

”‏عمررسیدہ والدین کیلئے خدائی عقیدت کو عمل میں لانا“‏ (‏یکم دسمبر ۱۹۸۷)‏

”‏ایک بامقصد تعلیم“‏ (‏یکم مارچ ۱۹۹۳)‏

جاگو!‏ (‏انگریزی)‏

”‏آپ افسردہ‌دلی کا مقابلہ کر سکتے ہیں!‏“‏ (‏ستمبر ۸، ۱۹۸۱)‏

”‏جب آپ کا کوئی عزیز مر جاتا ہے .‏.‏.‏“‏ (‏اپریل ۲۲، ۱۹۸۵)‏

”‏اپنے بچوں کی حفاظت کریں!‏“‏ (‏اکتوبر ۸، ۱۹۹۳)‏

‏[‏تصویر]‏

کینیڈا میں—‏رسالوں کے ساتھ گھرباگھر کی منادی

‏[‏تصویر]‏

میانمار میں—‏رسالے پیش کرنا جو زندگی کی راہ کی نشاندہی کرتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں