غلطی کا اعتراف کیوں کریں؟
یہ عسکری تاریخ کے نہایت ہی غیرمعمولی مقابلوں میں سے ایک تھا۔ ایک غیرمسلح ایلچی نے جنگیذہنیت والے ۴۰۰ سپاہیوں کو واپس لوٹا دیا جو بےعزتی کا بدلہ لینے پر تلے ہوئے تھے۔ صرف ایک بہادر خاتون کی التجاؤں کو سننے کے بعد، ان آدمیوں کے لیڈر نے اپنے مقصد کو ترک کر دیا۔
وہ لیڈر داؤد تھا، جو بعد میں اسرائیل کا بادشاہ بنا۔ اس نے خاتون ابیجیل کی عرض سنی کیونکہ وہ خدا کو خوش کرنا چاہتا تھا۔ جب اس نے موقعشناسی سے اس پر ظاہر کیا کہ اس کے شوہر نابال سے انتقام لینا خونریزی پر منتج ہوگا، تو داؤد پکار اٹھا: ”خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے تجھے آج کے دن مجھ سے ملنے کو بھیجا۔ اور تیری عقلمندی مبارک تو خود بھی مبارک ہو جس نے مجھ کو آج کے دن خونریزی اور اپنے ہاتھوں اپنا انتقام لینے سے باز رکھا۔“ داؤد شکرگزار تھا کہ خدا نے ابیجیل کو استعمال کیا تاکہ اسے ایک سنگین غلطی کرنے سے باز رکھے۔—۱-سموئیل ۲۵:۹-۳۵۔
ایک زبور میں داؤد نے استفسار کیا: ”کون ... بھول چوک کو جان سکتا ہے؟“ (زبور ۱۹:۱۲) اسکی طرح، شاید ہم بھی اپنی غلطیوں سے اس وقت تک باخبر نہ ہوں جبتک کوئی دوسرا ہمارے سامنے انکی نشاندہی نہیں کرتا۔ دوسرے مواقع پر ناخوشگوار نتائج یہ تسلیم کرنے کیلئے ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم غلطفہمی کا شکار، غیردانشمند، یا نامہربان رہے ہیں۔
مایوسی کی کوئی وجہ نہیں
یوں تو ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، انہیں مایوسی کا سبب بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ سفارتکار ایڈورڈ جانفیلپس نے اظہار خیال کیا: ”جو آدمی کوئی غلطیاں نہیں کرتا عام طور پر کچھ بھی نہیں کرتا۔“ اور مسیحی شاگرد یعقوب نے کہا: ”ہم سب کے سب اکثر خطا کرتے ہیں۔“ (یعقوب ۳:۲) کیا کوئی بچہ بغیر کبھی لڑکھڑائے چلنا سیکھے گا؟ نہیں، کیونکہ بچہ غلطیوں سے سیکھتا ہے اور کوشش کرتا رہتا ہے جبتک کہ توازن حاصل نہیں ہو جاتا۔
متوازن زندگیاں گزارنے کیلئے، ہمیں بھی اپنی اور دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ بائبل بہتیروں کے تجربات بیان کرتی ہے جنکے حالات شاید ہمارے اپنے حالات کی عکاسی کریں، تو وہی غلطیاں کرنے سے بچنے کیلئے ہماری مدد ہو سکتی ہے جو انہوں نے کیں۔ پس ہم انکی غلطیوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
فروتنی ایک نہایت اہم خوبی
ایک سبق تو یہ ہے کہ خدا ان سب کو رد نہیں کرتا جو غلطیاں کرتے ہیں بلکہ صرف ان ہی کے خلاف فیصلہ دیتا ہے جو ممکن ہے کہ انکی تصحیح کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ جب اسرائیل کے بادشاہ ساؤل نے عمالیقیوں کو نیستونابود کرنے کی بابت یہوواہ کی ہدایات کی نافرمانی کی۔ جب اسکا سموئیل نبی سے آمناسامنا ہوا تو ساؤل نے پہلے معاملات کی سنگینی کو کم کیا اور بعد میں دوسروں پر الزام لگانے کی کوشش کی۔ وہ غلطی کو درست کرنے کی بجائے اپنے آدمیوں کے سامنے عزت کھو دینے کی بابت زیادہ فکرمند تھا۔ لہذا، ”یہوواہ نے اسے بادشاہ ہونے سے رد کر دیا۔“—۱-سموئیل ۱۵:۲۰-۲۳، ۳۰۔
اگرچہ ساؤل کے جانشین، داؤد نے سنگین غلطیاں کیں تو بھی اسے معاف کر دیا گیا تھا کیونکہ اس نے فروتنی سے مشورت اور تنبیہ کو قبول کیا۔ داؤد کی فروتنی نے اسے ابیجیل کی باتوں پر کان لگانے کی تحریک دی۔ اسکے لشکر لڑائی کیلئے تیار تھے. پھر بھی، اپنے آدمیوں کے سامنے داؤد نے تسلیم کیا کہ اس نے بغیر سوچے سمجھے فیصلہ کیا تھا۔ اپنی پوری زندگی میں، ایسی فروتنی نے معافی کے طالب ہونے اور اپنے قدموں کو درست کرنے کیلئے داؤد کی مدد کی۔
فروتنی یہوواہ کے خادموں کو بےسوچےسمجھے کہی گئی باتوں کی تصحیح کرنے کی بھی تحریک دیتی ہے۔ صدرعدالت کے سامنے ایک سماعت کے دوران سردار کاہن نے حکم دیا کہ پولس کو طمانچہ مارا جائے۔ رسول نے ترکیبہترکی جواب دیا: ”اے سفیدی پھری ہوئی دیوار! خدا تجھے ماریگا۔“ (اعمال ۲۳:۳) شاید کمزور نظر کی وجہ سے، پولس نے نہ جانا کہ وہ کس سے مخاطب تھا جبتک کہ پاس کھڑے لوگوں نے پوچھا: ”کیا تو خدا کے سردار کاہن کو برا کہتا ہے؟“ اس پر، پولس نے فوری طور پر یہ کہتے ہوئے اپنی غلطی مان لی: ”اے بھائیو! مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ سردار کاہن ہے کیونکہ لکھا ہے کہ اپنی قوم کے سردار کو برا نہ کہہ۔“ (اعمال ۲۳:۴، ۵، خروج ۲۲:۲۸) جیہاں، پولس نے فروتنی کے ساتھ اپنی غلطی مان لی۔
انہوں نے غلطیاں مان لیں
بائبل یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بعض نے سوچنے کے اپنے غلط انداز کو تبدیل کیا۔ مثال کے طور پر، زبورنویس آسف کی بابت سوچیں۔ شریر لوگوں کے خوشحال دکھائی دینے کی وجہ سے اس نے کہا: ”یقیناً میں نے عبث اپنے دل کو صاف کیا۔“ لیکن یہوواہ کے گھر میں جانے اور سچی پرستش کے فائدوں پر سوچ بچار کرنے کے بعد آسف اپنے ہوشوحواس میں آ گیا۔ علاوہازیں، اس نے زبور ۷۳ میں اپنی غلطی کو مان لیا۔
یوناہ نے غلط سوچ کو اپنے نقطہءنظر پر غالب آنے دیا۔ نینوہ میں منادی کرنے کے بعد، وہ شہر کے باشندوں کے بچاؤ کی بجائے اپنی ذاتی سربلندی کی بابت زیادہ فکرمند تھا۔ جب یہوواہ نے نینوہ کے لوگوں کو سزا نہ دی تو یوناہ انکی توبہ کے باوجود یہوواہ کے ساتھ ناخوش تھا، لیکن خدا نے اسکی تصحیح کی۔ یوناہ نے سمجھ لیا کہ اسکا نقطہءنظر غلط تھا، کیونکہ اسکے نام سے منسوب بائبل کی کتاب دیانتداری سے اسکی غلطیوں کو قبول کرتی ہے۔—یوناہ ۳:۱۰-۴:۱۱۔
غلطی سے یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہوواہ خدا، نہ کہ شیطان ابلیس، اسکی مصیبت کا موجب بن رہا ہے، ایک شخص ایوب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے اوپر آنے والی تکالیف کا مستحق نہیں۔ وہ عظیم مسئلے سے بےبہرہ تھا: کیا خدا کے خادم آزمائش کے تحت وفادار رہینگے؟ (ایوب ۱:۹-۱۲) الیہو اور بعدازاں یہوواہ نے ایوب کی اپنی غلطی کو سمجھنے میں مدد کی، اس نے مان لیا: ”میں نے جو نہ سمجھا وہی کہا ... اسلئے مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے اور میں خاک اور راکھ میں توبہ کرتا ہوں۔“—ایوب ۴۲:۳، ۶۔
غلطیوں کو مان لینا خدا کے ساتھ ایک عمدہ رشتہ قائم رکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ جیسے کہ متذکرہبالا مثالیں ظاہر کرتی ہیں وہ ہمیں ہماری غلطیوں کی وجہ سے رد نہیں کریگا اگر ہم انہیں مان لیتے ہیں اور غلط سوچ، بےسمجھی کی باتیں، یا نہایت احمقانہ کاموں کو درست کرنے کیلئے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ہم اس علم کو کیسے کام میں لا سکتے ہیں؟
اپنی غلطیوں کی بابت کچھ کرنا
فروتنی کے ساتھ ایک غلطی کو ماننا اور اسکی بابت کچھ کرنا ہمارے خاندانی تعلقات کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، تھکن یا جھنجھلاہٹ کی وجہ سے، شاید کوئی ماں یا باپ اپنے بچے کی تربیت کرنے میں کسی حد تک سختگیر بن جاتا ہے۔ اس غلطی کی تصحیح کرنے سے انکار برے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اسی کی مطابقت میں رسول پولس نے لکھا: ”اے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دیکر انکی پرورش کرو۔“—افسیوں ۶:۴۔
ایک نوجوان مسیحی جسکا نام پال ہے گرمجوشی سے یاد کرتا ہے: ”ابا نے جب بھی محسوس کیا کہ اس نے حد سے زیادہ ردعمل دکھایا ہے تو ہمیشہ معافی مانگی۔ اس چیز نے میری مدد کی کہ اسکا احترام کروں۔“ یہ ذاتی فیصلے کا معاملہ ہے کہ آیا کسی خاص حالت میں معافی ضروری ہے۔ تاہم، مستقبل میں ویسی ہی غلطیوں سے بچنے کیلئے معافی کے بعد سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہو اگر کوئی شوہر یا بیوی کوئی غلطی کرتے ہیں جو افسردگی کا سبب بنتی ہے؟ صاف دلی سے غلطی مان لینا، دل سے معافی مانگنا، اور معاف کر دینے کی روح انکے پرمحبت رشتے کو قائم رکھنے کیلئے مدد کریگی۔ (افسیوں ۵:۳۳، کلسیوں ۳:۱۳) ایک سخت مزاج والا ہسپانوی شخص خسوس، اپنی عمر کے ۵۰ کے دہے میں، اپنی بیوی، البینا سے معافی مانگ لینے کیلئے بہت فخر نہیں کرتا۔ ”جب ہم ایک دوسرے کو ناراض کرتے ہیں تو معافی مانگ لینا ہمارا دستور ہے،“ وہ کہتی ہے۔ ”اس سے محبت کے ساتھ ایکدوسرے کی برداشت کرنے کیلئے ہماری مدد ہوتی ہے۔“
جب ایک بزرگ غلطی کرتا ہے
غلطیاں ماننا اور مخلصانہ معذرتیں کرنا بھی مسیحی بزرگوں کی مدد کریگا کہ ہمآہنگی کیساتھ اکٹھے کام کریں اور ”ایکدوسرے کیلئے عزت ظاہر کریں۔“ (رومیوں ۱۲:۱۰) ایک بزرگ اس خوف کی وجہ سے غلطی ماننے کیلئے ہچکچا سکتا ہے کہ ایسا کرنا کلیسیا میں اسکے اختیار کو کمزور کریگا۔ تاہم، توجیہ کرنے، نظرانداز کرنے، یا غلطی کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کرنے سے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ دوسرے اسکی نگہبانی پر اعتماد کو کھو دیں۔ شاید بغیر سوچےسمجھے کہی گئی کسی بات کی وجہ سے ایک پختہ بھائی جو فروتنی کے ساتھ معافی مانگ لیتا ہے، وہ دوسروں کا احترام جیت لیتا ہے۔
ناندو، سپین میں ایک بزرگ، ایک موقع کو یاد کرتا ہے جب ایک سرکٹ اوورسیئر نے بزرگوں کے ایک بڑے اجتماع کی صدارت کرتے ہوئے اس معاملے کی بابت غلط بیان دیا کہ ایک اجلاس کو کیسے منعقد کرنا چاہیے۔ جب ایک بھائی نے جو کچھ اس نے کہا تھا اسکی ادب سے درستی کی تو سرکٹ اوورسیئر نے فوری طور پر اسکو تسلیم کیا کہ وہ غلطی پر تھا۔ ناندو یاد کرتا ہے: ”جب میں نے اسے سب بزرگوں کے سامنے اپنی غلطی مانتے ہوئے دیکھا، تو اس نے مجھ پر گہرا اثر کیا۔ اس معافی مانگنے کے بعد میں نے اسکی اور زیادہ عزت کی۔ اسکے نمونے نے مجھے سکھایا کہ میرا اپنی غلطیاں ماننا کتنا اہم ہے۔“
غلطی مان لینے میں جلدی کریں
ایک معافی کی عموماً قدر کی جاتی ہے خاص طور پر اگر جلد کر لی جائے۔ درحقیقت، جتنی جلدی ہم غلطی کو مان لیتے ہیں، اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ مثال دیکر سمجھانے کیلئے: اکتوبر ۳۱، ۱۹۹۲ کو، پوپ جان پال دوئم نے تسلیم کیا کہ ۳۶۰ سال پہلے گلیلیو کو یہ دعوی کرنے پر کہ زمین کا مرکز نہیں ہے سزا دینے میں مذہبی عدالتی تحقیقات نے ”غلطی سے“ کاروائی کی تھی۔ تاہم، معافی مانگنے کو اتنی دیر تک التوا میں رکھنا اسکی قدروقیمت کو کم کرنے کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔
ذاتی تعلقات کے سلسلے میں بھی یہ سچ ہے۔ جلدی سے مانگی ہوئی معافی کسی سخت قول یا فعل سے لگے زخم کو اچھا کر سکتی ہے۔ یسوع نے یہ کہتے ہوئے ہمیں صلح کرنے میں تاخیر نہ کرنے کی تلقین کی: ”اگر تو قربانگاہ پر اپنی نذر گذرانتا ہو اور وہاں تجھے یاد آئے کہ میرے بھائی کو مجھ سے کچھ شکایت ہے۔ تو وہیں قربانگاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جا کر پہلے اپنے بھائی سے ملاپ کر۔ تب آ کر اپنی نذر گذران۔“ (متی ۵:۲۳، ۲۴) اکثر صلحپسند تعلقات کو بحال کرنے کیلئے صرف معافی مانگ لینا اور اس بات کو تسلیم کر لینا درکار ہوتا ہے کہ ہم نے معاملات کو حل کرنے کیلئے غلط طریقے سے کام کیا۔ ایسا کرنے کیلئے جتنا زیادہ ہم انتظار کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ یہ مشکل بن جاتا ہے۔
غلطیاں مان لینے کیلئے خوش
جیسے کہ ساؤل اور داؤد کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ جس طریقے سے ہم اپنی غلطیوں سے نپٹتے ہیں اسکا ہماری زندگیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ساؤل نے ہٹدھرمی سے مشورت کی مزاحمت کی، اور اسکی غلطیاں بڑھتی گیئں، جو انجامکار خدا کی نامقبولیت میں اسکی موت پر ختم ہو گئیں۔ تاہم، داؤد کی غلطیوں اور گناہوں کے باوجود، اس نے تائب ہو کر اصلاح کو قبول کیا اور یہوواہ کا وفادار رہا۔ (مقابلہ کریں زبور ۳۲:۳-۵۔) کیا ہماری خواہش یہی نہیں ہے؟
غلطی ماننے اور اسکی تصحیح کرنے یا گناہ سے توبہ کرنے کا سب سے بڑا اجر یہ جاننا ہے کہ اسے خدا نے معاف کر دیا ہے۔ ”مبارک ہے وہ ... جسکا گناہ ڈھانکا گیا،“ داؤد نے کہا۔ ”مبارک ہے وہ آدمی جسکی بدکاری کو خداوند حساب میں نہیں لاتا۔“ (زبور ۳۲:۱، ۲) لہذا، غلطی کو مان لینا کسقدر دانشمندی ہے!
[تصویر]
کیا کبھی کوئی بچہ لڑکھڑائے بغیر چلنا سیکھے گا؟