بائبل جدید انسان کیلئے ایک عملی رہبر
”ہر ایک صحیفہ خدا کے الہام سے ہے اور لوگوں کی زندگیوں کی رہبری کرنے کیلئے ... مفید طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ”دی جیروسلیم بائبل۔“
یہ صحیفہ نہایت ہی بنیادی وجہ بیان کرتا ہے کہ کیوں بائبل ہمارے زمانے کیلئے عملی ہے۔ یہ خدا کے الہام سے ہے۔ چونکہ خدا نے ہمیں خلق کیا اسلئے ہمارے بدنوں، ذہنوں، احساسات، اور ضروریات کی بابت جتنا زیادہ وہ جانتا ہے، اور کوئی نہیں جانتا۔ اسرائیلی بادشاہ داؤد نے ایک مرتبہ یہوواہ خدا کی بابت کہا: ”تیری آنکھوں نے میرے بےترتیب مادے کو دیکھا ... وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے۔“ (زبور ۱۳۹:۱۶) اگر ہمارا خالق ہماری بابت اتنا کچھ جانتا ہے تو پھر منطقی طور پر اسکی مشورت اور نصحیت یقینی طور پر تحقیقوتفتیش کی مستحق ہونی چاہیے کہ زندگی میں ہم کیسے خوشوخرم اور کامیاب ہو سکتے ہیں۔
تجربے نے ظاہر کیا ہے کہ بائبل کے اصول ہمارے زمانے کیلئے عملی اور حقیقتپسندانہ ہیں۔ وہ خاص مواقع کے لئے موزوں بھی ہیں۔ ذیل میں چار مثالیں ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ بائبل روزمرہ زندگی کیلئے عملی ہے۔
انسانی تعلقات اور ذاتی طرزعمل: بائبل ذاتی اخلاقیات کے اچھے ضابطے کو فروغ دیتی ہے جو دوسروں کے ساتھ خوشگوار، کامیاب تعلقات کا سبب بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اسرائیل کی قوم کو حکم دیا گیا تھا: ”تو انتقام نہ لینا اور نہ ... کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔“ (احبار ۱۹:۱۸) اگرچہ ہم اسرائیلی شریعت کے تابع تو نہیں ہیں، اسکے بائبلی اصولوں کی پیروی کرنا اپنے ساتھی انسانوں کے ساتھ پرامن رہنے کیلئے ہماری مدد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، تصور کریں، کتنے مسائل حل کئے جا سکتے تھے اگر ہر ایک نے گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳ میں پائی جانے والی روحانی صفات کو پیدا کرنے کی کوشش کی ہوتی: ”روح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔“—مقابلہ کریں رومیوں ۸:۵، ۶۔
بدقسمتی سے، جب زندگی کے دباؤ بڑھ جاتے ہیں تو اکثر کھچاؤ اور کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتوں میں امثال ۲۹:۱۱ میں پائے جانے والے انتباہی الفاظ کا اطلاق کرنا ہمیں بہت سی تکلیف سے بچا سکتا ہے۔ ”احمق اپنا قہر اگل دیتا ہے لیکن دانا اسکو روکتا اور پی جاتا ہے۔“—مقابلہ کریں امثال ۱۵:۱، متی ۷:۱۲، کلسیوں ۳:۱۲-۱۴۔
یہ نصیحت اچھی تو ہے—لیکن کیا یہ حقیقی زندگی میں کارگر ہے؟ فرانس میں ایک آدمی کے معاملے کو لیں جسے اپنے غصے کے سلسلے میں سنگین مسئلہ درپیش تھا۔ دنگافساد کرنے کی وجہ سے متعدد بار وہ مصیبت میں پڑا، یہاں تک کہ اسے جیل بھی جانا پڑا۔ اسکے ایک ماہر باکسر ہونے نے بھی معاملات کو بہتر نہ بنایا۔ ایک موقع پر اس آدمی اور اسکے باپ کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ اس سے پیشتر کہ اسے احساس ہوتا وہ اپنے باپ کو ایک ہی مکے سے زمین پر گرا چکا تھا۔ نتیجتاً انکے رشتے میں شدید رخنہ پیدا ہو گیا۔
اسی اثنا میں، اس آدمی کا یہوواہ کے گواہوں سے رابطہ قائم ہو گیا اور اس نے بائبل اصول سیکھنے شروع کر دئے۔ اس سے اسکو تحریک ملی کہ جس طریقہ سے وہ دوسروں کے ساتھ اپنا طرزعمل دکھا رہا تھا اس پر سنجیدہ غوروفکر کرے۔ بڑی کوشش کیساتھ اسکا ذاتی رویہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا، اور وہ زیادہ امنپسند بن گیا۔ پھر ایک دن وہ آدمی اپنے باپ کے پاس صلح کرنے کیلئے واپس گیا۔ اسکا باپ ان تبدیلیوں سے اتنا متاثر ہوا جو اسکے بیٹے نے پیدا کی تھیں کہ انکا رشتہ بحال ہو گیا۔
یہ ان بہت سی مثالوں میں سے ایک ہے جو پولس رسول کے الفاظ کی سچائی کی شہادت دیتی ہیں۔ ”کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور مؤثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے ... اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔“—عبرانیوں ۴:۱۲۔
خاندانی زندگی: کیا آپ کا خاندان خوشحال ہے؟ بہتیرے خاندان خوشحال نہیں ہیں۔ جنوبی افریقہ کا ایک اخبار دی نٹال وٹنس، تبصرہ کرتا ہے کہ ”خاندانی زندگی کو ایک ادارے کے طور پر خطرہ لاحق ہے جو اب یقینی ہے،“ اور مزید کہتا ہے کہ ”آجکل کے بچے ایک معاشرتی انقلاب کے اندر پیدا ہو رہے ہیں۔“
تاہم، جب بھی مسائل پیدا ہوں تو خاندانوں کو کامیابی سے نپٹنے میں مدد دینے کیلئے بائبل عملی نصیحت سے بھری پڑی ہے۔ مثال کے طور پر، شوہروں کے کردار کے متعلق بائبل کہتی ہے: ”شوہروں کو لازم ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں۔“ جب شوہر اس تقاضے کو پورا کرتا ہے تو اسکی بیوی کیلئے ”اپنے شوہر سے ڈرتی رہنے“ سے ویسے ہی جذبات کا اظہار کرنا ایک خوشی ہے۔ (افسیوں ۵:۲۵-۲۹، ۳۳) والدین اور بچوں کے درمیان رشتے پر تبصرہ افسیوں ۶:۴ میں کیا گیا ہے۔ ”اور اے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر انکی پرورش کرو۔“ اسکی بدولت ایک خاندانی فضا پیدا ہوتی ہے جو بچوں کیلئے بائبل کے حکم کی تعمیل کرنے اور اپنے والدین کے فرمانبردار ہونے کیلئے زیادہ آسان بنا دیتا ہے۔—افسیوں ۶:۱۔
متذکرہبالا خاندانی زندگی پر بائبل کی رائےزنی محض ایک نمونہ ہے۔ خدا کی راہنمائی پر عمل کرنے سے، بہتیروں نے کامیابی حاصل کی ہے اور گھر میں خوشحالی سے استفادہ کرتے ہیں۔ ایڈورڈ، دو بچوں کا باپ، ان فوائد کی وضاحت کرتا ہے جن سے اس نے بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے سے استفادہ کیا۔ ”میری شادی ٹوٹنے کو تھی،“ وہ یاد کرتا ہے۔ ”میرے پاس اپنے بچوں کے ساتھ ایک بامعنی رشتہ رکھنے کا کوئی وقت نہ تھا۔ ایک واحد چیز جس نے ہمیں متحد رکھا وہ خاندانی زندگی کے متعلق بائبل جو کچھ کہتی ہے اسکو ہمارا عائد کرنا تھا۔“—امثال ۱۳:۲۴، ۲۴:۳، کلسیوں ۳:۱۸-۲۱، ا-پطرس ۳:۱-۷۔
ذہنی، جسمانی، اور جذباتی صحت: تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ کسی حد تک ایک شخص کی جسمانی صحت کا تعلق اسکی ذہنی اور جذباتی حالت سے ہے۔ ”دباؤ کی عام علامات میں،“ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے، ”دل کی تیز دھڑکن، ہائی بلڈ پریشر، پٹھوں کا تناؤ، ذہنی افسردگی، پوری طرح توجہ دینے میں معذوری شامل ہے۔“ تاہم، بعض یقین رکھتے ہیں کہ تحریک دینے والے پرتشدد افعال دباؤ کم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ جنوبی افریقہ کا اخبار دی سٹار دعوی کرتا ہے: ”باکسنگ بڑی حد تک دباؤ کم کرنے والی ہو سکتی ہے۔“ یہ ذہنی اور جسمانی صحت کی مشیر جینی کلاسنز کے الفاظ کو پیش کرتا ہے: ”اگر کسی خاتون کا دن بڑا مایوسکن گزرا ہو تو اپنے کھچاؤ کو ایک تھیلے پر مکے برسا کر کم کر سکتی ہے۔“
تاہم، کیا مایوسی کی پوشیدہ وجہ پر قابو پانا سیکھنا کہیں بہتر نہ ہوگا؟ سٹریس—دی ماڈرن سکرج جرنل میں، ڈاکٹر مائیکل سلاٹسکن کہتا ہے کہ ”دباؤ کی پہچان ... ضروری ہے، کیونکہ بہت سی وجوہات قابلتدارک ہیں۔“ وہ اضافہ کرتا ہے کہ ”دباؤ پر قابو پانا ... کئی حالتوں میں صحتیاب ہونے کے عمل کو بھی ترقی دے سکتا ہے۔“
بائبل ایک نہایت ہی مؤثر طریقے کی وضاحت کرتی ہے جس سے دباؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے: ”کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں ... خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھیگا۔“ (فلپیوں ۴:۶، ۷) اس طریقے سے دباؤ پر قابو پانے کے بہت سے فائدے ہیں—یہانتک کہ جسمانی بھی۔ ایک بائبل امثال اسے یوں بیان کرتی ہے۔ ”مطمئن دل جسم کی جان ہے۔“ (امثال ۱۴:۳۰) ایک اور امثال بیان کرتی ہے: ”شادمان دل شفا بخشتا ہے لیکن افسردہ دلی ہڈیوں کو خشک کر دیتی ہے۔“—امثال ۱۷:۲۲۔
کھچاؤ اور دباؤ سے بچ نکلنے کی کوشش میں، بہتیرے لوگ تمباکو، الکحل، منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسی چیزوں کے عادی بن جانے سے جو نقصان پہنچتا ہے اسکی بابت بہت کچھ قلمبند کیا گیا ہے۔ تاہم، بائبل نے ہمیشہ ”ہر طرح کی جسمانی آلودگی“ سے پاک رہنے کی حمایت کی ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱، مقابلہ کریں امثال ۲۳:۲۹-۳۵۔) یقینی طور پر، ایسے مضر کاموں سے بچنا آجکل کی دنیا میں عملی تحفظ ہے۔
کام، پیسہ، اور دیانتداری: کاہلی سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ ”کاہل آدمی جاڑے کے باعث ہل نہیں چلاتا اسلئے فصل کاٹنے کے وقت وہ بھیک مانگے گا اور کچھ نہ پائیگا،“ امثال ۲۰:۴ کہتی ہے۔ اسکے برعکس، سخت محنت سودمند ہے۔ ”چوری کرنے والا پھر چوری نہ کرے،“ افسیوں ۴:۲۸ بیان کرتی ہے۔ یہ صحیفہ اضافہ کرتا ہے کہ یہ کہیں بہتر ہے کہ کوئی ”ہاتھوں سے محنت کرے تاکہ محتاج کو دینے کیلئے اسکے پاس کچھ ہو۔“—مقابلہ کریں امثال ۱۳:۴۔
کیا آپ جانتے تھے کہ بائبل اصولوں کو کام کی جگہ پر کے تعلقات پر بھی عائد کیا جا سکتا ہے؟ کارکن، بائبل وقتوں کے ”نوکروں“ کی طرح اچھا کرتے ہیں کہ ”جسم کی رو سے [جو انکے] مالک ہیں سب باتوں میں انکے فرمانبردار رہیں۔“ دوسری طرف، آقاؤں، یا ”مالکوں،“ کو چاہیے کہ اپنے آجیروں ”کے ساتھ ... عدلوانصاف [کریں]“ پیش آئیں۔—کلسیوں ۳:۲۲-۲۴، ۴:۱، مقابلہ کریں ۱-پطرس ۲:۱۸-۲۰۔
دیانتدارانہ کاروباری کاموں کی بابت بائبل میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ اگرچہ افسوسناک حد تک اسکی آجکل کمی ہے، پھر بھی اکثر دیانتداری کی ایک پسندیدہ خوبی کے طور پر قدرافزائی اور عزت ہوتی ہے۔ اسی پر تو بائبل زور دیتی ہے۔ ایک مرتبہ یسوع نے کہا: ”جو تھوڑے میں دیانتدار ہے وہ بہت میں بھی دیانتدار ہے اور جو تھوڑے میں بددیانت ہے وہ بہت میں بھی بددیانت ہے۔“—لوقا ۱۶:۱۰، مقابلہ کریں امثال ۲۰:۱۰، ۲۲:۲۲، ۲۳، لوقا ۶:۳۱۔
ایک افریقی ملک میں، ہیرے کی صنعت میں بڑی چوری اور بدعنوانی ہوتی تھی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک مختلف شخص کو نگران مقرر کیا جائے۔ حکومت کے وزیروں سے کہا گیا کہ ایسے لوگوں کے نام پیش کریں جن کو وہ اس عہدے کیلئے موزوں خیال کرینگے۔ جب فیصلہ کرنے کیلئے کابینہ کا اجلاس ہوا تو پیشکردہ نام بنیادی طور پر بدعنوانی کی وجہ سے ایک ایک کرکے خارج کر دئے گئے۔ آخرکار، وہ فہرست کے آخری نام پر آئے—صدر کا امیدوار۔
”لیکن یہ تو پارٹی کا ممبر نہیں ہے!“ ایک وزیر نے اعتراض کیا۔
صدر نے جواب دیا کہ یہ کوئی سیاسی عہدہ تو نہیں ہے۔
”وہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہے،“ ایک دوسرے آدمی نے کہا۔
”اور اسی لئے تو اسکو نوکری مل رہی ہے،“ صدر نے کہا۔ پھر اس نے مزید کہا: ”ہم جانتے ہیں کہ وہ دیانتدار ہیں، اور ہمیں اسی قسم کے شخص کی ضرورت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔“
جیہاں، وہ جو بائبل اصولوں کا اطلاق کرتے ہیں اکثر محسوس کرتے ہیں کہ آجکل کی دنیا میں بھی یہ انکے لئے فائدہمند ہے۔
عملی حکمت کو عزیز رکھیں
ہم نے محض تھوڑی سی مثالوں پر غور کیا ہے کہ ”خدا کی معرفت کو حاصل“ کرنے کا مطلب کیا ہے۔ (امثال ۲:۱-۹) بائبل میں متعلقہ عملی نصیحت کا خرانہ پایا جاتا ہے۔ صفائی، محنت، رابطہ، جنس، طلاق، ٹیکس ادا کرنا، شخصیتی اختلافات سے نپٹنا، اور غربت پر قابو پانا زندگی کے محض کچھ حلقے ہیں جن پر بائبل میں غوروفکر کی گئی ہے۔ لاکھوں اسکی تصدیق کرینگے کہ انکی زندگیوں میں کامیابی اور ناکامی میں فرق کا انحصار اسی پر ہے کہ انہوں نے کس حد تک بائبل اصولوں کی پابندی کی ہے۔
اگرچہ بائبل کی فوری طور پر عملی ہونے کی ضمانت دی گئی ہے تو بھی یہ بہت سے طویلالمدت فوائد کی امید دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، بائبل وعدہ کرتی ہے کہ آجکل کی دنیا میں دکھ اور تکلیف کی اصلی وجوہات کی الہٰی مداخلت کے ذریعے جلد ہی تصحیح ہو جائیگی۔—دانیایل ۲:۴۴، ۲-پطرس ۳:۱۱-۱۳، مکاشفہ ۲۱:۱-۵۔
اسلئے، ہم آپکی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ جتنا زیادہ آپ بائبل کی بابت سیکھ سکتے ہیں، سیکھیں۔ اگر آپ کے پاس بائبل کی ایک کاپی نہیں تو ایک ضرور حاصل کریں۔ اس رسالے کے ناشرین خوشی سے آپکی مدد کرینگے۔ جسطرح بہت سے دوسروں نے بائبل سے عملی مشوروں کا اطلاق کرنے سے فائدہ اٹھایا ہے تو آپکی بھی مدد کی جا سکتی ہے کہ اب اور مستقبل میں خدا کے کلام کی قدروقیمت سے قدر کریں۔ (۴ ۵/۱ w۹۳)
[تصویر]
بائبل خاندانی زندگی کو خوشحال بنانے کیلئے ایک عملی رہبر ہے