یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو20 نمبر 1 ص.‏ 8-‏13
  • ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے
  • جاگو!‏—‏2020ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اگلے دن کی فکر نہ کریں
  • حد سے زیادہ توقعات نہ رکھیں
  • سوچیں کہ آپ کو ذہنی دباؤ کیوں ہوتا ہے
  • منظم طریقے سے کام کرنے کی کوشش کریں
  • آرام کرنے کے لیے وقت نکالیں
  • اپنی صحت کا خیال رکھیں
  • دیکھیں کہ زیادہ ضروری کام کون سے ہیں
  • کسی سے مدد لیں
  • خدا سے رہنمائی حاصل کریں
  • ذہنی دباؤ میں کیا ہوتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2020ء
  • کیا آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں؟‏
    جاگو!‏—‏2020ء
جاگو!‏—‏2020ء
جاگو20 نمبر 1 ص.‏ 8-‏13
ایک عورت ایک بڑے شہر میں ہے اور خوش اور مطمئن نظر آ رہی ہے۔‏

ذہنی دباؤ سے رِہائی

ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے

ذہنی دباؤ سے اچھی طرح نمٹنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی صحت پر دھیان دیں، دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں سوچیں اور اپنے منصوبوں اور اُن باتوں پر غور کریں جو آپ کے لیے اہم ہیں۔ اِس مضمون میں کچھ ایسے اصول بتائے جائیں گے جن پر عمل کرنے سے آپ اچھی طرح سے دباؤ سے نمٹ پائیں گے اور اِسے کسی حد تک کم کر پائیں گے۔‏

اگلے دن کی فکر نہ کریں

ایک عورت ایک بڑے شہر میں چل رہی ہے اور خوش اور مطمئن نظر آ رہی ہے۔‏

‏”‏کبھی اگلے دن کی فکر نہ کریں کیونکہ اگلے دن کے اپنے مسئلے ہوں گے۔“‏‏—‏متی 6:‏34‏۔‏

مطلب:‏ پریشانیاں ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن آنے والے کل کی پریشانیوں کے بارے میں سوچ کر آج کی پریشانیاں نہ بڑھائیں۔‏

  • ذہنی دباؤ کی وجہ سے ایک شخص شدید پریشانی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اِس لیے اِن دو باتوں کو ذہن میں رکھیں:‏ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اِس بات کو تسلیم کریں کہ کبھی کبھی ذہنی دباؤ سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی باتوں کو سر پر سوار کرنے سے ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے جن کے حوالے سے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ اکثر ہم جن چیزوں کو لے کر فکرمند ہوتے ہیں، اُن کا نتیجہ وہ نہیں نکلتا جس کے بارے میں سوچ سوچ کر ہم پریشان ہو رہے ہوتے ہیں۔‏

حد سے زیادہ توقعات نہ رکھیں

‏”‏جو دانش‌مندی اُوپر سے آتی ہے، وہ .‏ .‏ .‏ معقول .‏ .‏ .‏ ہوتی ہے۔“‏‏—‏یعقوب 3:‏17‏، فٹ‌نوٹ۔‏

مطلب:‏ یہ نہ سوچیں کہ ہر کام ہمیشہ بالکل صحیح صحیح ہو اور اُس میں کبھی کوئی غلطی نہ ہو۔ خود سے اور دوسروں سے بہت زیادہ توقعات نہ کریں کیونکہ ہم سب سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔‏

  • سمجھ‌داری سے کام لیں، مناسب توقعات رکھیں اور یاد رکھیں کہ ہم سب کچھ نہیں کر سکتے اور یہی بات دوسروں کے سلسلے میں بھی سچ ہے۔ ایسا کرنے سے آپ نہ تو خود ذہنی دباؤ کا شکار ہوں گے اور نہ ہی دوسرے۔ اِس طرح سب کے لیے مل کر اور اچھی طرح کام کرنا آسان ہو جائے گا۔ اِس کے علاوہ غلطیوں پر ہنسنا سیکھیں۔ جب آپ اُس وقت بھی ہنسیں گے جب کچھ غلط ہوگا تو اِس سے پریشانی کم ہوگی اور موڈ خوش‌گوار رہے گا۔‏

سوچیں کہ آپ کو ذہنی دباؤ کیوں ہوتا ہے

‏”‏سُوجھ‌بُوجھ رکھنے والا شخص پُرسکون رہتا ہے۔“‏‏—‏اَمثال 17:‏27‏۔‏

مطلب:‏ منفی احساسات کی وجہ سے ہمارے ذہن پر ایک دُھند سی چھا جاتی ہے جس کی وجہ سے ہم صحیح طرح سوچ نہیں پاتے۔ اِس لیے پُرسکون رہنے کی کوشش کریں۔‏

  • سوچیں کہ آپ کو ذہنی دباؤ کیوں ہوتا ہے اور اُس وقت آپ کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ ذہنی دباؤ میں ہوں تو اپنے خیالات، احساسات اور رویے کو نوٹ کریں۔ اگر آپ چاہیں تو آپ اِنہیں لکھ بھی سکتے ہیں۔ اِس طرح آپ ذہنی دباؤ سے زیادہ اچھی طرح نمٹنا سیکھ پائیں گے۔ یہ بھی سوچیں کہ آپ اپنی زندگی سے اُن چیزوں کو کیسے نکال سکتے ہیں جن کی وجہ سے ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے طریقے ڈھونڈیں جن سے آپ ذہنی دباؤ کو کم کر سکیں۔ مثال کے طور پر آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ ایک کام کو زیادہ اچھی طرح اور وقت پر کیسے کر سکتے ہیں۔‏

  • چیزوں کو ایک فرق زاویے سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ شاید جن چیزوں کی وجہ سے آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، وہ دوسروں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث نہ ہوں۔ اپنی سوچ کا رُخ موڑنے کے حوالے سے اِن تین مشوروں پر غور کریں:‏

    1. فوراً سے یہ نہ سوچیں کہ کسی نے کوئی کام کسی غلط اِرادے سے ہی کِیا ہوگا۔ فرض کریں کہ آپ کسی جگہ پر لائن میں کھڑے ہیں اور ایک شخص آپ سے آگے جا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر آپ یہ سوچیں گے کہ یہ بدتمیزی ہے تو آپ کو غصہ آئے گا۔ لیکن کیوں نہ یہ سوچیں کہ شاید اِس کے پیچھے اُس کی کوئی مجبوری ہو اور یہ بات صحیح بھی ہو سکتی ہے۔‏

    2. دباؤ کا باعث بننے والی صورتحال میں کوئی فائدہ‌مند کام کریں۔ شاید ہمیں ہسپتال میں ڈاکٹر کا اِنتظار کرنا پڑے یا ائیرپورٹ پر اِنتظار کرنا پڑے۔ اگر ہم اُس وقت کے دوران کچھ پڑھیں گے یا دفتر کا کوئی کام وغیرہ کریں گے تو وقت جلدی گزر جائے گا اور ذہنی دباؤ بھی کم ہوگا۔‏

    3. پوری صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کریں۔ خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا یہ مسئلہ مجھے کل یا اگلے ہفتے بھی اُتنا ہی بڑا لگے گا جتنا ابھی لگ رہا ہے؟“‏ چھوٹے اور بڑے مسئلوں کے بیچ فرق سمجھنے کی کوشش کریں۔‏

منظم طریقے سے کام کرنے کی کوشش کریں

ایک عورت نے ہاتھ میں فون پکڑا ہوا ہے اور وہ کیلنڈر کو دیکھ کر کاموں کی فہرست بنا رہی ہے۔‏

‏”‏سب باتیں مناسب طریقے سے اور منظم انداز میں کی جائیں۔“‏‏—‏1-‏کُرنتھیوں 14:‏40‏۔‏

مطلب:‏ ہر کام طریقے اور ترتیب سے کرنے کی کوشش کریں۔‏

  • ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے کام مناسب طریقے سے اور وقت پر ہوں۔ لیکن اگر ہم کاموں کو لٹکاتے رہتے ہیں تو کام صحیح طریقے سے اور وقت پر نہیں ہو پاتے اور اُن کا ڈھیر لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ ہو سکتا ہے۔ کیوں نہ اِن دو مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کریں:‏

    1. ایک شیڈول بنائیں اور اُس کے مطابق کام کریں۔‏

    2. یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کاموں کو وقت پر کیوں نہیں کر پاتے اور پھر ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کریں۔‏

آرام کرنے کے لیے وقت نکالیں

‏”‏تھوڑا سا آرام بہت زیادہ محنت اور ہوا کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے۔“‏‏—‏واعظ 4:‏6‏۔‏

مطلب:‏ جن لوگوں پر ہر وقت کام کرنے کا جنون سوار رہتا ہے، شاید وہ اپنی محنت سے فائدہ حاصل نہ کر پائیں۔ ہو سکتا ہے کہ بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے اُن کے پاس وقت اور طاقت نہ ہو کہ وہ اپنی محنت کے پھل کا مزہ لے سکیں۔‏

  • کام اور پیسے کے بارے میں صحیح سوچ رکھیں۔ زیادہ پیسے سے خوشی اور سکون نہیں ملتا۔ واعظ 5:‏12 میں لکھا ہے:‏ ”‏امیر شخص کی بے‌شمار دولت اُسے سونے نہیں دیتی۔“‏ اکثر وہ لوگ زیادہ مطمئن ہوتے ہیں جن کے پاس اِتنا پیسہ نہیں ہوتا۔ اِس لیے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں۔‏

  • آرام کرنے کے لیے وقت نکالیں۔ جب ہم اپنی پسند کے کچھ کام کرتے ہیں تو ہمارا ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسے کام یا تفریح زیادہ فائدہ‌مند نہیں ہوں گے جن میں ہمیں کچھ زیادہ نہ کرنا پڑے جیسے کہ ٹی‌وی دیکھنا۔‏

  • موبائل وغیرہ کا حد سے زیادہ اِستعمال نہ کریں۔ بار بار ای‌میلز، میسجز یا سوشل میڈیا سائٹس نہ دیکھیں۔ اگر ممکن ہو تو کام کا وقت ختم ہونے کے بعد کام سے جُڑی ای‌میلز چیک نہ کریں۔‏

اپنی صحت کا خیال رکھیں

ایک نوجوان دوڑتے ہوئے مسکرا رہا ہے۔‏

‏”‏جسمانی ورزش کا تھوڑا سا فائدہ ہے۔“‏‏—‏1-‏تیمُتھیُس 4:‏8‏، فٹ‌نوٹ۔‏

مطلب:‏ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے صحت اچھی رہتی ہے۔‏

  • اچھی عادتیں اپنائیں۔ ورزش کرنے سے ہمارا موڈ اچھا ہو سکتا ہے اور ہمارا جسم ذہنی دباؤ سے زیادہ اچھی طرح نمٹ سکتا ہے۔ صحت‌بخش خوراک کھائیں، کسی بھی وقت کا کھانا نہ چھوڑیں اور اچھی نیند لیں۔‏

  • ذہنی دباؤ سے چھٹکارا پانے کے لیے ایسے طریقے نہ ڈھونڈیں جن سے آپ کی صحت کو نقصان ہو سکتا ہے جیسے کہ سگریٹ پینا، منشیات لینا اور حد سے زیادہ شراب پینا۔ اِن چیزوں سے وقت کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، صحت خراب ہو جاتی ہے اور محنت کی کمائی ضائع ہو جاتی ہے۔‏

  • اگر ذہنی دباؤ زیادہ شدید ہو جائے تو ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ ڈاکٹر کے پاس جانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی بھی لحاظ سے کمزور ہیں یا ناکام ہو گئے ہیں۔‏

    ‏”‏مہربانی کے ذریعے ذہنی دباؤ پر قابو پائیں“‏

    ‏”‏ایک مہربان شخص خود کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن ایک ظالم شخص خود پر مصیبت لاتا ہے۔“‏—‏اَمثال 11:‏17‏۔‏

    ڈاکٹر ٹمِ کینٹوفر نے ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جس کے ایک باب کا عنوان ہے:‏ ”‏مہربانی کے ذریعے ذہنی دباؤ پر قابو پائیں۔“‏ اُس میں لکھا ہے کہ دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنے سے ہماری صحت اچھی ہوتی ہے اور ہماری خوشی میں اِضافہ ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص دوسروں سے مہربانی سے پیش نہیں آتا یا ظالم ہوتا ہے، وہ خوش نہیں رہتا کیونکہ دوسرے اُسے ناپسند کرتے ہیں اور اُس سے دُور رہتے ہیں۔‏

    ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہمیں نہ صرف دوسروں کے ساتھ مہربانی کرنی چاہیے بلکہ اپنے ساتھ بھی۔ مثال کے طور پر ہمیں خود سے حد سے زیادہ اُمیدیں نہیں لگانی چاہئیں اور نہ ہی ایسی توقعات کرنی چاہئیں جنہیں ہم پورا نہیں کر سکتے۔ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔“‏ (‏مرقس 12:‏31‏)‏ اِس لیے ہمیں خود کو حقیر یا کم‌تر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اپنے آپ سے بھی پیار کرنا چاہیے۔‏

دیکھیں کہ زیادہ ضروری کام کون سے ہیں

‏”‏معلوم کرتے رہیں کہ کون سی باتیں زیادہ اہم ہیں۔“‏‏—‏فِلپّیوں 1:‏10‏۔‏

مطلب:‏ خوب سوچ سمجھ کر اِس بات کا جائزہ لیں کہ کون سے کام زیادہ ضروری ہیں۔‏

  • اپنی لسٹ میں وہ کام سب سے پہلے لکھیں جو زیادہ ضروری ہیں اور پھر باقی کام لکھیں۔ اِس طرح آپ اُن کاموں پر دھیان دے پائیں گے جو سب سے اہم ہیں اور یہ دیکھ پائیں گے کہ کون سے کام کسی اَور وقت کیے جا سکتے ہیں، کسی اَور کو دیے جا سکتے ہیں یا چھوڑے جا سکتے ہیں۔‏

  • ایک ہفتے کے لیے حساب رکھیں کہ آپ نے اپنے وقت کو کیسے اِستعمال کِیا ہے۔ پھر اِس بات پر غور کریں کہ آپ اپنے وقت کو اَور اچھی طرح کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ اپنے وقت کو سمجھ‌داری سے اِستعمال کریں گے اُتنا زیادہ ذہنی دباؤ کم ہوگا۔‏

  • آرام کرنے کے لیے وقت نکالیں۔ چھوٹا سا وقفہ لینے سے بھی آپ تازہ‌دم ہو سکتے ہیں اور آپ کا ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔‏

والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔‏

کسی سے مدد لیں

‏”‏اِنسان کا دل فکروں کے بوجھ سے دب جاتا ہے لیکن اچھی بات سے کِھل اُٹھتا ہے۔“‏‏—‏اَمثال 12:‏25‏۔‏

مطلب:‏ مہربانی اور ہمدردی کے چند بول ہماری ہمت بڑھا سکتے ہیں۔‏

  • کسی ایسے دوست سے بات کریں جو آپ کی بات سمجھے۔ وہ معاملے کو ایک فرق نظر سے دیکھنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے، یہاں تک کہ آپ کو کوئی ایسا مشورہ دے سکتا ہے جس پر آپ کا دھیان نہیں گیا۔ کسی سے بات کرنے سے آپ کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور آپ بہتر محسوس کریں گے۔‏

  • مدد لینے سے نہ ہچکچائیں۔ کیا آپ کوئی کام کسی اَور کو دے سکتے ہیں یا کسی کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں تاکہ کام کا بوجھ کم ہو جائے؟‏

  • اگر اپنے ساتھ کام کرنے والے کسی شخص کی وجہ سے آپ کے ذہنی دباؤ میں اِضافہ ہوتا ہے تو دیکھیں کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیا کِیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر نرمی اور سمجھ‌داری سے اُسے بتائیں کہ اُس کی وجہ سے آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ (‏اَمثال 17:‏27‏)‏ اگر اِس کا کوئی فائدہ نہ ہو تو آپ اُس کے ساتھ کم سے کم وقت گزارنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‏

خدا سے رہنمائی حاصل کریں

ایک آدمی اپنے دفتر میں دُعا کر رہا ہے۔‏

‏”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔“‏‏—‏متی 5:‏3‏۔‏

مطلب:‏ اِنسانوں کو صرف اور صرف روٹی، کپڑوں اور مکان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں خدا کی رہنمائی کی بھی ضرورت ہے۔ اگر ہم خوش رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اِس ضرورت کو پہچاننا ہوگا اور خدا سے رہنمائی پانے کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔‏

  • دُعا کرنے سے بہت سکون ملتا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ آپ ”‏اپنی ساری پریشانیاں اُس پر ڈال دیں کیونکہ اُس کو آپ کی فکر ہے۔“‏ (‏1-‏پطرس 5:‏7‏)‏ دُعا کرنے اور اچھی باتوں کے بارے میں سوچنے سے ہمیں دلی اِطمینان مل سکتا ہے۔—‏فِلپّیوں 4:‏6، 7‏۔‏

  • ایسی چیزیں پڑھیں جن کے ذریعے آپ خدا کے قریب جا سکتے ہیں۔ اِس رسالے میں دیے گئے مشورے بائبل سے لیے گئے ہیں جس کے ذریعے ہم خدا سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اِن مشوروں کے ذریعے ہمیں ”‏حقیقی دانش‌مندی“‏ مل سکتی ہے اور ہماری ”‏سوچنے سمجھنے کی صلاحیت“‏ بہتر ہو سکتی ہے۔ (‏اَمثال 3:‏21‏)‏ آپ بائبل پڑھنے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں اور شروعات اَمثال کی کتاب سے کر سکتے ہیں۔‏

معافی کی طاقت

‏”‏اِنسان کی گہری سمجھ اُس کے غصے کو ٹھنڈا کر دیتی ہے اور جب کوئی اُسے ٹھیس پہنچاتا ہے تو اِسے نظرانداز کرنے سے اُس کی عزت بڑھتی ہے۔“‏‏—‏اَمثال 19:‏11‏۔‏

ایک رسالے ‏”‏جرنل آف ہیلتھ سائیکالوجی“‏ میں ڈاکٹر لورن ٹوسینٹ نے کہا:‏ ”‏ذہنی دباؤ سے صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے اور معاف کرنے سے صحت اچھی رہتی ہے۔“‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏جب ہم کسی ایسے شخص کو معاف کرتے ہیں جس نے ہمیں ٹھیس پہنچائی ہوتی ہے تو ہمارے دل سے اُس کے بارے میں منفی خیالات اور احساسات نکل جاتے ہیں اور اُن کی جگہ مثبت خیالات اور احساسات پیدا ہو جاتے ہیں اور ہم اُس کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے ہیں۔ آخر میں اُنہوں نے کہا کہ دوسروں کو معاف کرنے کی عادت اپنانے سے ”‏ذہنی دباؤ سے جُڑے مسئلوں کو کم کِیا جا سکتا ہے۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں