کیا ہمیں بائبل کی ضرورت ہے؟
آکسانہ، ایک جوان روسی عورت نے جب ماسکو میں فٹپاتھ پر بیٹھے ہوئے ایک کتب فروش کو فروحت کیلئے بائبل رکھے دیکھا تو وہ بڑی خوش ہوئی۔ اسکا ساتھی، جان، جو ایک ایسے ملک سے آیا تھا جہاں بائبلیں بآسانی دستیاب تھیں، آکسانہ کے جوشوخروش سے بہت متاثر ہوا۔ ”میں—ایک دہریہ—اسکے لئے بائبل خریدنا چاہتا تھا،“ وہ تسلیم کرتا ہے۔ اگرچہ شروع میں آکسانہ نے اعتراض کیا، آخرکار اس نے جان کے تحفے کو قبول کر لیا۔
آکسانہ کی طرح، متعدد لوگ بائبل رکھنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ان ممالک میں تو یہ خاص طور پر سچ ہے جہاں پر اسکی اشاعت کو بہت سالوں تک ممنوع رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، اس رسالے کے ناشرین، سابقہ سویت کے جمہوری ممالک، نیز دنیا کے دیگر حصوں میں بائبل کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ان علاقوں کے بہتیرے لوگوں کو، پہلی مرتبہ بائبل کا مناسب جائزہ لینے کا موقع ملا ہے—اور بہت بڑی تعداد اس کے پرزور پیغام کی طرف راغب ہوئی ہے۔
نقاد اور شکی
تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ شمالی یورپ میں غیرمعمولی طور پر، بائبل کو کتابوں کی الماری میں گرد پڑنے کیلئے پیچھے کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ بعض اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے اسے ”مردہ تاریخ“ کہتے ہیں۔ کہ ”اسے کسی اور زمانے کیلئے لکھا گیا تھا۔ جدید انسان سے اسکا کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ یہاں تک کہ ممتاز پادریوں نے بھی کھلم کھلا بیان دیئے ہیں جو بائبل کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے ایک اخبار، دی سٹار میں اینگلیکن آرچبشپ ڈیسمونڈ ٹوٹو کی یہ کہتے ہوئے رپورٹ دی گئی ہے: ”بائبل میں بعض ایسے حصے ہیں جو کوئی مستقل قدروقیمت نہیں رکھتے۔“ اس طرح کے بیانات نے بہتیروں کو حیرت میں ڈال دیا کہ انہیں بائبل کو کتنی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
راہنمائی کی ضرورت
نقادوں اور ایمانداروں دونوں کو تسلیم کرنا چاہیے کہ پہلے سے کہیں زیادہ دنیا کو ایسے حل درکار ہیں جو کارگر ہوں۔ ”جبتک انسان اپنے ذاتی اور مجموعی طور پر معاشرے کے معاملات میں فوری طور پر تبدیلی کی رفتار کی شرح کو کنٹرول کرنا نہیں سیکھتا،“ ایلون ٹافلر نے اپنی کتاب فیوچر شاک میں لکھا، ”ہمارا انجام بہت بڑا ... زوال ہے۔“ یہ آگاہی ۲۰ سالوں سے زیادہ عرصہ پہلے دی گئی تھی۔ جس زوال کا ٹافلر نے ذکر کیا وہ اب اس وقت واقع ہو رہا ہے۔
جب یہ صدی اپنے خاتمے کی طرف بڑھتی ہے تو تکنیکی ترقیاں اور انسانی فیلسوفیاں عالمی استحکام لانے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ نئے عالمی نظام کیلئے حالیہ امیدوں کے وہم کا ازالہ ہو گیا ہے اور بہتیروں کی زندگیاں بقا کیلئے روزانہ کی جدوجہد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دولتمندوں اور غریبوں کے درمیان اقتصادی تقسیم ایک خلیج بن گئی ہے۔ ایک حالیہ مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی ۸۲.۷ فیصد دولت اسکی آبادی کے ۲۰ فیصد لوگوں کے ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ کیا اس میں کوئی حیرانی کی بات ہے کہ جنگ، قحط، بیماری، فسادات، اور بدنظمی بہت سے ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں؟ گرتے ہوئے معیارزندگی پر قابو پانے کا دباؤ لوگوں کے جذبات میں بڑی کشمکش کا سبب بن رہا ہے۔ نتیجتاً، معاشرے کی بنیادی اکائی، خاندان بھی تنزلی میں مبتلا ہے۔
اگرچہ ٹافلر کی طرح، بہتیرے یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ انسان کی ذمہداری ہے کہ ”خود کو مستحکم کرنے کیلئے بالکل نئے راستے تلاش کرلے“ تاہم شہادت ثابت کرتی ہے کہ انسان اپنے ذاتی حل نکالنے کے نااہل ہیں۔
واحد متبادل
مقدس بائبل، جسکی تحریر تقریباً ۳،۵۰۰ سال پہلے شروع ہوئی، صدیاں گزر جانے پر بھی نہیں بدلی۔ اسکے اصول مستقل رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر یرمیاہ ۱۰:۲۳ کے الفاظ آجکل پہلے سے کہیں زیادہ سچے ثابت ہوئے ہیں: ”انسان کی راہ اسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ اگر انسان اپنی روش کی راہنمائی کرنے کے قابل نہیں تو کون کر سکتا ہے؟ بائبل راہنمائی کیلئے واحد حقیقی ذریعے کی نشاندہی کرتی ہے: ”میں ہی خداوند تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں اور تجھے اس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا ہوں۔“—یسعیاہ ۴۸:۱۷۔
بائبل کے اوراق کے ذریعے، یہوواہ خدا ہمیں اپنی مدد آپ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ ایسی نصیحت سے بھرے پڑے ہیں جو ہمیں وہ راہ دکھاتی ہے جس پر ہمیں چلنا چاہیے۔ اسکی مشورت آجکل اتنی ہی موزوں ہے جتنی کہ اسکے لکھے جانے کے وقت تھی۔ ذیل کا مضمون ہمارے جدید زمانے کیلئے بائبل کے عملی ہونے کا جائزہ لیگا۔ کئی ایک معاملات میں، صحت سے لیکر دولت، خاندانی زندگی، اور ذاتی رویے تک، آپ یہ دیکھنے کے قابل ہونگے کہ بائبل واقعی آجکل کی دنیا کے غیرمستحکم حالات میں چٹان کی سی مضبوطی رکھتی ہے۔ (۳ ۵/۱ w۹۳)
[تصویر]
بائبل آجکل کی ہنگامہخیز دنیا میں استحکام کا ایک لنگر ہے