یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏6 ص.‏ 11-‏16
  • ذہن میں نئے اور دل میں روشن‌خیال بنیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ذہن میں نئے اور دل میں روشن‌خیال بنیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏جس طرح غیرقومیں چلتی ہیں“‏
  • تاریک‌شدہ عقلیں
  • جاہل اور بے‌حس دل
  • ‏”‏سن ہو کر“‏
  • ‏”‏نور کے فرزندوں کی طرح چلو“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • تاریکی سے بچیں اور روشنی میں رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • یہوواہ کی راہ پر چلتے رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • الہٰی نور تاریکی کو دُور کرتا ہے!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏6 ص.‏ 11-‏16

ذہن میں نئے اور دل میں روشن‌خیال بنیں

‏”‏اسلئے میں یہ کہتا ہوں اور خداوند میں جتائے دیتا ہوں کہ جس طرح غیرقومیں اپنے [‏ذہنوں کی بیہودگی، NW]‏ کے موافق چلتی ہیں تم آیندہ کو اس طرح نہ چلنا۔“‏—‏افسیوں ۴:‏۱۷‏۔‏

۱.‏ ہمارے ذہن اور دل ہمارے لئے کیا کرتے ہیں؟‏

دل اور ذہن ان نہایت شاندار صلاحیتوں میں سے دو ہیں جو انسان اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اگرچہ انکے کام بیشمار ہیں، تو بھی وہ ازخود ہر فردواحد کیلئے منفرد ہیں۔ جس طریقے سے ہمارے ذہن اور دل کام کرتے ہیں اس سے ہماری شخصیت، کلام، چال‌چلن، جذبات، اور اقدار شدت سے اثرپذیر ہوتے ہیں۔‏

۲، ۳.‏ (‏ا)‏بائبل ”‏دل“‏ اور ”‏ذہن“‏ کی اصطلا‌حوں کو کیسے استمال کرتی ہے؟ (‏ب)‏ ہمیں دل اور ذہن دونوں کی بابت فکرمند کیوں ہونا چاہیے؟‏

۲ بائبل میں ”‏دل“‏ عام طور پر تحریک، جذبات، اور اندرونی احساسات کی طرف، اور ”‏ذہن“‏ ذہانت اور سوچنے کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاہم، یہ متضاد نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، موسی نے اسرائیلیوں کو تلقین کی:‏ ”‏تو .‏.‏.‏ اس بات کو اپنے دل میں [‏فٹ‌نوٹ، ”‏اپنے ذہن میں یاد رکھ“‏، NW]‏ جما لے کہ .‏.‏.‏ خداوند ہی [‏سچا]‏ خدا ہے۔ (‏استثنا ۴:‏۳۹)‏ ان فقیہوں سے جو اسکے خلاف منصوبے باندھ رہے تھے، یسوع نے کہا:‏ ”‏تم اپنے دل میں برے خیال کیوں لاتے ہو؟“‏—‏متی ۹:‏۴،‏ مرقس ۲:‏۶، ۷‏۔‏

۳ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ذہن اور دل کا گہرا تعلق ہے۔ انکا ایک دوسرے کیساتھ باہمی عمل ہے، بعض اوقات ایک متحدہ ٹیم کے طور پر کام کرنے کیلئے ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، تاہم اکثر تسلط کیلئے کشمکش میں ایک دوسرے سے لڑائی کرتے ہیں۔ (‏متی ۲۲:‏۳۷‏، مقابلہ کریں رومیوں ۷:‏۲۳‏۔)‏ اس لئے، یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے، ہمیں نہ صرف اپنے دلوں اور ذہنوں کی حالت کا یقین کر لینا چاہیے بلکہ ہمیں انکے ہم‌آہنگی سے کام کرنے، ایک ہی سمت جانے کیلئے تربیت کرنی چاہیے۔ ہمیں ذہن میں نئے اور دل میں روشن‌خیال بننا چاہیے۔—‏زبور ۱۱۹:‏۳۴،‏ امثال ۳:‏۱‏۔‏

‏”‏جس طرح غیرقومیں چلتی ہیں“‏

۴.‏ شیطان، لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پر کیسے اثرانداز ہوا ہے، اور نتیجہ کیا نکلا ہے؟‏

۴ شیطان سازش کرنے اور دھوکہ دینے میں ماہر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگوں پر قابو پانے کیلئے، ضرور ہے کہ وہ انکے دلوں اور ذہنوں کو نشانہ بنائے۔ انسانی تاریخ کی ابتدا ہی سے، وہ اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے طرح طرح کی تدابیر استعمال کرتا رہا ہے۔ نتیجے کے طور پر، ”‏ساری دنیا اس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ درحقیقت، شیطان دنیا کے لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پر اتنی کامیابی کیساتھ اثرانداز ہوا ہے کہ بائبل انہیں ”‏ٹیڑھے اور کجرو لوگوں“‏ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ (‏فلپیوں ۲:‏۱۵‏)‏ پولس رسول ان ٹیڑھے اور کجرو لوگوں کے دل اور ذہن کی حالت کو وضاحت سے بیان کرتا ہے، اور اسکے الفاظ ہم سب کیلئے آجکل ایک آگاہی کے طور پر کام دیتے۔ مثال کے طور، مہربانی سے افسیوں ۴:‏۱۷-‏۱۹ کو پڑھیں، اور اس کا مقابلہ رومیوں ۱:‏۲۱-‏۲۴ میں پولس کے الفاظ کیساتھ کریں۔‏

۵.‏ پولس نے افسیوں کیلئے پرزور مشورت کیوں تحریر کی؟‏

۵ جب ہم یاد کرتے ہیں کہ یہ شہر اپنی اخلاقی تنزلی اور کافرانہ بت‌پرستی کیلئے بدنام تھا تو ہم قدر کر سکتے ہیں کہ پولس نے افسس کے مسیحیوں کو اتنے زوردار الفاظ کیوں لکھے۔ اگرچہ یونانیوں کے پاس انکے مشہور مفکر اور فلاسفر تھے، پھر بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یونانی تعلیم نے بہت سے لوگوں کیلئے برائی کی زیادہ گنجائش فراہم کی اور انکے تمدن نے انہیں محض انکی بری عادات میں اور زیادہ مہذب بنایا۔ پولس ایک ایسے ماحول میں رہنے والے اپنے ساتھی مسیحیوں کیلئے گہری فکر رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ان میں سے بہتیرے پہلے غیرقوموں کے لوگ تھے اور ”‏دنیا کی روش پر چلتے“‏ رہے تھے۔ لیکن اب وہ سچائی کو قبول کر چکے تھے۔ انکے ذہن نئے ہو چکے تھے اور انکے دل روشن‌خیال ہو چکے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر، پولس چاہتا تھا کہ وہ ”‏بلا‌وے .‏.‏.‏ کے لائق چال“‏ چلیں۔—‏افسیوں ۲:‏۲،‏ ۴:‏۱‏۔‏

۶.‏ ہمیں پولس کے الفاظ میں دلچسپی کیوں رکھنی چاہیے؟‏

۶ حالت آجکل ویسی ہی ہے۔ ہم بھی کجرو اقدار، دیوالیہ اخلاق، اور جھوٹے مذہبی کاموں والی دنیا میں رہتے ہیں۔ ہم میں سے بہتیرے ایک وقت میں اس دنیا کی روش پر چلتے تھے۔ ہم میں سے دیگر کو روزانہ دنیادار لوگوں کیساتھ گہری رفاقت رکھنی پڑتی ہے۔ بعض ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جہاں پر دنیاوی روح کا غلبہ ہے۔ اسلئے، یہ اشد ضروری ہے کہ ہم پولس کے الفاظ کا مطلب سمجھیں اور اسکی مشورت سے فائدہ اٹھائیں۔‏

تاریک‌شدہ عقلیں

۷.‏ اظہار ”‏[‏انکے ذہنوں کی بیہودگی]‏“‏ سے پولس کا کیا مطلب تھا؟‏

۷ اپنی نصیحت کی پرزور حمایت کرنے کیلئے کہ مسیحی ”‏جس طرح غیرقومیں .‏.‏.‏ چلتی ہیں .‏.‏.‏ آیندہ کو اس طرح نہ“‏ چلیں، پولس پہلے [‏”‏انکے ذہنوں کی بیہودگی“‏، NW]‏ کا ذکر کرتا ہے۔ (‏افسیوں ۴:‏۱۷‏)‏ اسکا کیا مطلب ہے؟ دی اینکر بائبل کے مطابق جس لفظ کا ترجمہ بیہودہ کیا گیا ہے وہ ”‏بیہودگی، بیکاری، بطلان، بیوقوفی، فضولیات، اور مایوسی کا مفہوم دیتا ہے۔“‏ پس پولس نشاندہی کر رہا تھا کہ یونانی اور رومی دنیا کا جاہ‌وجلال اور شہرت شاید اثرآفرین دکھائی دیا ہو مگر ان کے حصول میں لگے رہنا حقیقت میں بیہودہ، بیوقوفی، اور بے‌مقصد تھا۔ جو اپنے دلوں کو جاہ‌وجلال اور شہرت پر لگاتے ہیں انجام‌کار مایوسی اور ناامیدی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرینگے۔ آجکل کی دنیا کیلئے بھی یہی اصول سچا ثابت ہوتا ہے۔‏

۸.‏ کن طریقوں سے دنیا کی کاوشیں غیرنفع‌بخش ہیں؟‏

۸ دنیا اپنے پاس دانشور اور اپنے ممتاز لیڈر رکھتی ہے، جنکی طرف لوگ زندگی کی ابتدا اور مقصد اور نوع‌انسانی کے انجام جیسے عمیق سوالات کے جوابات حاصل کرنے کیلئے دیکھتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس پیش کرنے کیلئے کیا بصیرت اور راہنمائی موجود ہے؟ دہریت، لاادریت، ارتقا، اور لاتعداد پریشان‌کن اور متضاد خیالات اور نظریات جو ماضی کی روایات اور توہمات سے زیادہ روشن‌خیال نہیں ہیں۔ بہت سے دنیاوی حاصلات بھی کسی حد تک اطمینان اور تکمیل پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لوگ سائنس، آرٹ، موسیقی، سپورٹس، سیاست، وغیرہ میں کامیابی اور کامرانی کی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے تیزی سے گزرنے والے شان‌وشوکت کے لحمات پر خوش ہوتے ہیں۔ تاہم، آجکل تاریخی واقعات اور دستاویزی کتابیں بھولی بسری عظیم شخصیات سے بھری پڑی ہیں۔ یہ بیہودگی، بیکاری، بطلان، بیوقوفی، بے‌مقصدیت، اور مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‏

۹.‏ بہتیرے لوگ کن غیرنفع‌بخش حاصلات کا رخ کرتے ہیں؟‏

۹ ایسی کاوشوں کے غیرنفع‌بخش ہونے کو جانتے ہوئے، بہتیرے لوگ مادہ‌پرستانہ حاصلات کی طرف رجوع ہوتے ہیں—‏پیسہ جمع کرنے کو اور وہ چیزیں حاصل کرنے کو جنہیں پیسہ خرید سکتا ہے—‏اور ان حاصلات کو زندگی میں اپنا نصب‌العین بناتے ہیں۔ وہ پُختہ یقین رکھتے ہیں کہ دولت، جائداد، اور عشرت حاصل کرنے سے خوشی ملتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے ذہنوں کو اس پر لگاتے ہیں بلکہ وہ ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہیں—‏صحت، خاندان، حتی‌کہ ضمیر بھی۔ نتیجہ کیا ہے؟ احساس‌تکمیل کی بجائے انہوں نے ”‏اپنے دلوں کو طرح طرح کے غموں سے چھلنی کر لیا“‏ ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۰‏)‏ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ پولس نے اپنے ساتھی مسیحیوں کو اس طرح کے اندازفکر کے غیرنفع‌بخش ہونے کی وجہ سے تلقین کی کہ جس طرح غیرقومیں چلتی ہیں اسطرح چلنے سے باز آئیں۔‏

۱۰.‏ کسطرح سے دنیا کے لوگ ”‏ذہنی طور پر تاریکی میں“‏ ہیں؟‏

۱۰ یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ دنیا کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو رشک اور تقلید کے قابل ہو، پولس نے کہا کہ ”‏وہ ذہنی طور پر تاریکی میں ہیں۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۱۸‏، NW)‏ بلا‌شُبہ، دنیا دوڑدھوپ کے تقریباً ہر میدان میں ذہین اور علیم لوگ رکھتی ہے۔ پھر بھی، پولس نے کہا کہ وہ ذہنی طور پر تاریکی میں ہیں۔ کیوں؟ بلا‌شُبہ اسکی رائے‌زنی انکی ذہنی مہارت اور لیاقتوں کے متعلق ہے۔ ”‏ذہن“‏ کی اصطلا‌ح انسانی ادراک کے مرکز، ذہانت کے مرکز، باطنی انسان کا اشارہ بھی دے سکتی ہے۔ وہ تاریکی میں ہیں کیونکہ وہ اپنی کاوشوں میں رہبر روشنی یا منزل کی سمت کا احساس نہیں رکھتے۔ یہ درست اور غلط کی بابت انکے بہکے ہوئے حواس سے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ آجکل کی اخلاقی معیاروں پر مبنی الزاموں سے گریز کرنے میں سب چلتا ہے والی، ذہنیت روشن‌خیال ہے، لیکن پولس کے مطابق یہ واقعی تاریک ذہنیت ہے۔ روحانی طور پر وہ گھپ اندھیرے میں ٹٹولتے پھرتے ہیں۔—‏ایوب ۱۲:‏۲۵،‏ ۱۷:‏۱۲،‏ یسعیاہ ۵:‏۲۰،‏ ۵۹:‏۶-‏۱۰،‏ ۶۰:‏۲‏، مقابلہ کریں افسیوں ۱:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

۱۱.‏ دنیا میں ذہنی تاریکی کا سبب کیا ہے؟‏

۱۱ ایسا کیوں ہے کہ لوگ بہت سی چیزوں میں سمجھدار، ذہین، بھی ہو سکتے ہیں لیکن پھر بھی روحانی تاریکی میں ہوں؟ ۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴ میں پولس نے ہمیں جواب دیا:‏ ”‏ان بے‌ایمانوں کے واسطے جنکی عقلوں کو اس جہان کے خدا نے اندھا کر دیا ہے تاکہ مسیح جو خدا کی صورت ہے اسکے جلال کی خوشخبری کی روشنی ان پر نہ پڑے۔“‏ یہ کتنی بیش‌بہا برکت ہے کہ جو جلالی خوشخبری کو قبول کرتے ہیں وہ ذہن میں نئے اور دل میں روشن‌خیال بن گئے ہیں!‏

جاہل اور بے‌حس دل

۱۲.‏ دنیا کس طریقے سے ”‏خدا کی زندگی سے خارج“‏ ہے؟‏

۱۲ یہ سمجھنے میں ہماری مزید مدد کرنے کیلئے کہ کیوں ہمیں ذہن میں نئے اور دل میں روشن‌خیال بننا چاہیے، پولس نے ہماری توجہ اس حقیقت پر مبذول کرائی کہ دنیا کی روش ”‏خدا کی زندگی سے خارج“‏ ہے۔ (‏افسیوں ۴:‏۱۸‏)‏ یہ نہیں کہ لوگ اب خدا پر ایمان نہیں رکھتے یا یہ کہ وہ مکمل طور پر بیدین بن گئے ہیں۔ ایک اخبار کے کالم‌نویس نے اسے اسطرح بیان کیا:‏ ”‏کافر کی بجائے، آئیے ہم ایک نیا لفظ ایجاد کریں وہ شخص جس کی زندگی میں خدا کی بہت کم اہمیت ہو۔ جن لوگوں کی زندگیوں میں خدا کی اہمیت بہت کم ہوتی ہے وہ خدا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے نیکنامی چاہتے ہیں جبکہ اسکے ساتھ ہی ساتھ وہ اسے ایک ڈبے میں رکھتے ہیں، اسے صرف اتوار کی صبح کو باہر نکالتے ہیں اور پورے ہفتے کے دوران اسے سیاسی دنیا کی بابت اپنے نظریے یا اپنی ذاتی زندگیوں پر اثرانداز نہیں ہونے دیتے۔ [‏وہ]‏ کم‌وبیش خدا پر یقین رکھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اسے جدید معاشرے کی بابت بہت کچھ کہنا ہے۔“‏ پولس نے اسے رومیوں کے نام اپنے خط میں یوں بیان کیا:‏ ”‏اگرچہ انہوں نے خدا کو جان تو لیا مگر اسکی خدائی کے لائق اسکی تمجید اور شکرگذاری نہ کی۔“‏ (‏رومیوں ۱:‏۲۱‏)‏ ہم روزانہ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو خدا کے خیال کے بغیر ہی زندگی گزارتے ہیں۔ یقینی طور پر، وہ اسکی کوئی تمجید یا شکرگزاری نہیں کرتے۔‏

۱۳.‏ ”‏خدا کی زندگی“‏ کیا ہے؟‏

۱۳ ”‏خدا کی زندگی“‏ ایک معنی‌خیز اظہار ہے۔ یہ مزید ظاہر کرتا ہے کہ کسطرح ذہنی اور روحانی تاریکی نے لوگوں کی اقدار کی حس کو درہم‌برہم کیا ہے۔ یہاں پر جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏زندگی“‏ کیا گیا ہے وہ بائیوس نہیں ہے (‏جس سے ”‏بائیولوجی“‏ [‏علم حیاتیات]‏، ”‏بائیوگرافی“‏ [‏سوانح حیات]‏ جیسے الفاظ نکلتے ہیں)‏، جسکا مطلب طرززندگی، یا اسلوب‌زندگی ہے۔ اسکی بجائے، یہ زوئی ہے (‏جس سے ”‏زو“‏ [‏چڑیا گھر]‏، ”‏زواولوجی“‏ [‏علم حیوانیات]‏ جیسے الفاظ نکلتے ہیں)‏۔ وائنز ایکسپوزیٹری ڈکشنری آف اولڈ اینڈ نیو ٹسٹامنٹ ورڈز کے مطابق اسکا مطلب ہے، ”‏زندگی بطور ایک اصول، زندگی ایک قطعی مفہوم میں، زندگی جیسے خدا رکھتا ہے۔ .‏.‏.‏ اس زندگی سے انسان گناہ کے نتیجے میں خارج ہو گیا ہے۔“‏ پس پولس ہمیں بتا رہا تھا کہ ذہنی اور روحانی تاریکی دنیا کے لوگوں کیلئے نہ صرف جسمانی خرابی کا سبب بنی ہے بلکہ انہیں ابدی زندگی کی امید سے بھی الگ کر دیا گیا ہے جسے خدا پیش کرتا ہے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۸‏)‏ ایسا کیوں؟ پولس نے ہمیں وجوہات بتائیں۔‏

۱۴.‏ ایک وجہ کیا ہے کہ دنیا خدا کی زندگی سے خارج ہے؟‏

۱۴ سب سے پہلے اس نے کہا کہ یہ ”‏اس نادانی کے سبب سے [‏ہے]‏ جو ان میں ہے۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۱۸‏)‏ الفاظ ”‏جو ان میں ہے“‏ زور دیتے ہیں کہ نادانی موقع کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر خدا کے علم کو رد کرنے کی وجہ سے ہے۔ ان الفاظ کے دوسرے ترجمے ہیں:‏ ”‏خدا کو جاننے کیلئے انکا پیدائشی انکار“‏ (‏دی اینکر بائبل)‏، ”‏علم کے بغیر کیونکہ انہوں نے اسکے لئے اپنے دلوں کو بند کر لیا ہے“‏ (‏جیروسیلم بائبل)‏۔ کیونکہ وہ خدا کے صحیح علم کو مسترد، یا جان بوجھ کر ٹھکرا دیتے ہیں، اسلئے انکے پاس اسطرح کی زندگی حاصل کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے جیسے یہوواہ انکو پیش کرتا ہے جو اسکے بیٹے پر ایمان رکھتے ہیں، جس نے کہا:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدای‌واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏—‏یوحنا ۱۷:‏۳،‏ ۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۹‏۔‏

۱۵.‏ دنیا کے خدا کی زندگی سے خارج ہونے میں کیا چیز معاونت کرتی ہے؟‏

۱۵ عام دنیا کے خدا کی زندگی سے خارج ہونے کی وجہ ”‏انکے دلوں کی بے‌حسی“‏ ہے۔ (‏افسیوں ۴:‏۱۸‏، NW)‏ بنیادی طور پر یہاں ”‏بے‌حسی“‏ کا مطلب سختی ہے، جیسے کہ کھرنڈ سے ڈھکی ہوئی جلد۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کھرنڈ کیسے بنتی ہیں۔ شروع میں جلد نرم اور حساس ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسے بار بار کسی دباؤ یا رگڑ کا سامنا کرنا پڑے، تو یہ سخت اور موٹی ہو جاتی ہے یعنی ایک کھردراپن پیدا کر لیتی ہے۔ اب یہ کوئی جلن محسوس نہیں کرتی۔ اسی طرح سے لوگ ایک سخت اور بے‌حس دل کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے تاکہ وہ خدا کیلئے خودبخود بے‌حس ہوں۔ مگر چونکہ ہم دنیا میں رہتے ہیں اور اسکے مسلّط ذہنی رجحان کا سامنا کرتے ہیں، اسلئے اگر دل کی حفاظت نہ کی جائے تو دل کو بے‌حس یا سخت بننے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ اسی وجہ سے پولس نے خبردار کیا:‏ ”‏خبردار!‏ .‏.‏.‏ تم میں سے کوئی گناہ کے فریب میں آ کر سخت دل نہ ہو جائے۔“‏ (‏عبرانیوں ۳:‏۷-‏۱۳،‏ زبور ۹۵:‏۸-‏۱۰‏)‏ اسلئے یہ بات کتنی توجہ طلب ہے کہ ہم ذہن میں نئے اور دل میں روشن‌خیال رہیں!‏

‏”‏سن ہو کر“‏

۱۶.‏ دنیا کی ذہنی تاریکی اور خدا کی زندگی سے خارج ہونے کا انجام کیا ہے؟‏

۱۶ ایسی تاریکی اور خارج ہونے کے نتیجے کا خلاصہ پولس نے آگے کے الفاظ میں کیا ہے:‏ ”‏انہوں نے سن ہو کر شہوت‌پرستی کو اختیار کیا تاکہ ہر طرح کے گندے کام حرص سے کریں۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۱۹‏)‏ ”‏سن ہو کر“‏ کے اظہار کا لفظی مطلب ہے ”‏درد“‏، اخلاقی درد ”‏کا احساس ختم ہو جانا۔“‏ اسی طرح سے ایک دل بے‌حس ہو جاتا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ ضمیر کی ٹیس کو اور خدا کے سامنے جوابدہی کے احساس کو محسوس کرنا بند کر دیتا ہے تو کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔ لہذا پولس نے کہا کہ انہوں نے گندے کام اور شہوت‌پرستی کو ”‏اختیار کیا۔“‏ یہ ایک دیدہ‌دانستہ سرکش قدم ہے۔ لفظ ”‏شہوت‌پرستی،“‏ جیسے کہ بائبل میں استعمال ہوا ہے، گستاخ اور بے‌شرم رویے، کو ظاہر کرتا ہے جو قانون اور اختیار والوں کیلئے حقارت‌آمیز ہے۔ اسی طرح سے، ”‏ہر طرح کے گندے کام“‏ میں نہ صرف جنسی کجروی شامل ہے بلکہ مذہب کے نام سے کئے جانے والے بے‌شرمی کے کام بھی، جیسے کہ افسس میں ارتمس کے مندر پر باروری کی رسومات اور مذہبی رسوم ادا کی جاتی تھیں، جن سے پولس کے پڑھنے والے بخوبی واقف تھے۔—‏اعمال ۱۹:‏۲۷،‏ ۳۵‏۔‏

۱۷.‏ پولس نے کیوں کہا کہ جو لوگ سن ہو جاتے ہیں ”‏حرص سے“‏ گناہ کرتے ہیں؟‏

۱۷ گویا شہوت‌پرستی اور ہر طرح کے گندے کام میں بے‌قابو الجھاؤ اتنا برا نہیں تھا، پولس اضافہ کرتا ہے کہ ایسے اشخاص ”‏حرص سے“‏ کام کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگ کوئی گناہ کرتے ہیں جو کسی حد تک اخلاقی احساس رکھتے ہیں، تو کم‌ازکم شاید وہ ندامت محسوس کریں اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی سخت کوشش کریں۔ لیکن جو ”‏سن ہو کر“‏ ایسے کام کرتے ہیں وہ ”‏حرص سے“‏ گناہ کرتے ہیں (‏”‏اور بھی چاہتے ہیں،“‏)‏ (‏دی اینکر بائبل)‏۔ ایک ریڈیو مفسر نے ایک مرتبہ اسے یوں بیان کیا:‏ ”‏جب آپ کو رنگ رلیوں کی عادت پڑ جاتی ہے تو آپ خوب سے خوب‌تر کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔“‏ وہ بڑے اشتیاق سے برائی کے بھنور کی پستی میں میں کود جاتے ہیں جبتک کہ وہ بدکاری کی گہرائیوں میں غرق نہیں ہو جاتے—‏اور اسے عام بات خیال کرتے ہیں۔ ”‏قوموں کی مرضی“‏ کی کیا ہی درست تصویرکشی!‏—‏۱-‏پطرس ۳:‏۳، ۴‏۔‏

۱۸.‏ خلاصہ کیلئے، پولس دنیا کی روحانی اور ذہنی حالت کی کس قسم کی تصویر پیش کرتا ہے؟‏

۱۸ پس صرف تین آیات میں، افسیوں ۴:‏۱۷-‏۱۹‏، پولس دنیا کی اصلی اخلاقی اور روحانی حالت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ وہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ خیالات اور نظریات جنکو دنیاوی مفکرین نے فروغ دیا، اور دولت اور عشرت کا ماند نہ پڑنے والا حصول، مکمل طور پر غیرنفع بخش ہیں۔ وہ واضح کرتا ہے کہ ذہنی اور روحانی تاریکی کی وجہ سے دنیا اخلاقی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اور پہلے سے زیادہ دھنستی جا رہی ہے۔ آخر میں، خود سے عائدکردہ جہالت اور بے‌حسی کی وجہ سے دنیا مایوس‌کن طور پر اس زندگی سے خارج ہو گئی ہے جو خدا کی ملکیت ہے۔ یقینی طور پر ہمارے پاس غیرقوموں کی روش کے موافق نہ چلتے رہنے کی اچھی وجوہات ہیں!‏

۱۹.‏ کونسے ضروری سوالات پر ابھی غور کرنا باقی ہے؟‏

۱۹ چونکہ دنیا دل اور ذہن کی تاریکی کی وجہ سے یہوواہ خدا سے جدا ہو گئی ہے اسلئے ہم اپنے دلوں اور ذہنوں سے تمام تاریکی کو کیسے نکال سکتے ہیں؟ جی‌ہاں، ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ ہم نور کے فرزندوں کی طرح چل سکیں اور خدا کی خوشنودی حاصل کریں۔ اس پر اگلے مضمون میں غور کیا جائیگا۔ (‏۹ ۳/۱ W۹۳)‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

▫ افسیوں ۴:‏۱۷-‏۱۹ میں پرزور مشورت دینے کیلئے پولس کو کس چیز نے آمادہ کیا؟‏

▫ دنیا کی روشیں بیہودہ اور تاریکی میں ڈوبی ہوئی کیوں ہیں؟‏

▫ اصطلا‌ح ”‏خدا کی زندگی سے خارج“‏ کیا مطلب ہے؟‏

▫ ایک تاریک‌شدہ ذہن اور بے‌حس دل کے نتائج کیا ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

افسس اپنی اخلاقی تنزلی اور بت‌پرستی کیلئے بدنام تھا

۱۔ افسس میں رومی گلیڈئیٹر [‏تماشہ‌گر]‏

۲۔ ارتمس کے مندر کے کھنڈرات

۳۔ افسس میں تھئیٹر

۴۔ افسس کی ارتمس، باروری کی دیوی

‏[‏تصویر]‏

دنیا کی ممتاز شخصیات کے پاس پیش کرنے کے لئے کیا بصیرت موجود ہے؟‏

نیرو

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Musei Capitolini, Roma

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں