زر کی دوستی میں کیا خرابی ہے؟
پال اور میری ایک غریب افریقی علاقے میں ایک سپرمارکیٹ چلا رہے تھے۔a رات دن سخت محنت کرنے سے انہوں نے بہت زیادہ دولت حاصل کرلی۔ ایک وقت آیا کہ میری پرتکلف فرنیچر سے آراستہ ایک بہت بڑے نئے گھر کی بابت فخر کر سکتی تھی۔ جہاں تک پال کا تعلق ہے، وہ اس قابل تھا کہ ایک پرتکلف کار میں ادھر ادھر گھوم سکے۔
ایک دن ایک ایسا گروپ ان کے پاس آیا جو حکومت کا مخالف تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا: ”ہم چاہتے ہیں کہ آپکا کاروبار ہر ماہ ہمارے کام کی حمایت کیلئے [۱۰۰ ڈالر] کا عطیہ دے۔“ سیاسی جدوجہد میں غیرجانبدار رہنے کی خواہش رکھتے ہوئے، پال اور میری نے بڑی دلیری سے انکار کر دیا۔ غیرجانبدارانہ موقف کی وجہ سے ان پر شک کیا گیا تھا کہ انکو حکومت سے مالی امداد حاصل ہوتی ہے۔ ایک چھٹی والے دن، جب پال اور میری شہر سے باہر تھے ان کی دوکان کو لوٹ لیا گیا اور انکی کار اور خوبصورت گھر کو نذرآتش کر دیا گیا۔
بلاشُبہ، یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، لیکن کیا ہم اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ بہتیرے جنہوں نے دولتمند ہونے کیلئے سخت محنت کی ہے شاید ان سب کو تو اس طرح کا حادثہ پیش نہ آیا ہو جس نے انکی تمام دولت کو چھین لیا، تاہم مستقبل کی بابت کیا ہے؟ کیوں بائبل یہ کہتی ہے کہ ”جو دولتمند ہونا چاہتے ہیں وہ ایسی آزمایش اور پھندے اور بہت سی بیہودہ اور نقصان پہنچانے والی خواہشوں میں پھنستے ہیں جو آدمیوں کو تباہی اور ہلاکت کے دریا میں غرق کر دیتی ہیں“؟—۱-تیمتھیس ۶:۹۔
پیسے کی بابت ایک متوازن نظریہ
بائبل کے مطابق، ایک سچے مسیحی کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے خاندان کے دستنگر افراد کی مادی ضروریات کو پورا کرے۔ بےروزگاری اور صحت سے متعلق مسائل جیسے حالات بعض اوقات اسے مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس کے دوسری طرف، ایک مسیحی جو جانبوجھ کر اپنے گھرانے کی کفالت سے غفلت برتتا ہے وہ ”ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“—۱-تیمتھیس ۵:۸۔
بعض دیہی علاقوں میں، لوگ جانور پال کر اور اپنی فصلیں اگا کر اپنی زمینوں کے سہارے زندگی بسر کرتے ہیں۔ بعض زندگی کی ضروریات حاصل کرنے کیلئے اشیاء اور خدمات کا لیندین کرنے سے کم پیسہ استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، سب سے عام طریقہ جس سے گھر کے کمانے والے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح کی ملازمت ہے جس کے بدلے انہیں تنخواہ دی جاتی ہے۔ وہ کمائے گئے پیسے کو خوراک اور دیگر چیزیں خریدنے کیلئے استعمال کرتے ہیں جو انکے خاندان کی بہبود کیلئے معاون ہوتی ہیں۔ اسکے علاوہ، دانشمندی سے بچایا ہوا پیسہ مشکل یا تکلیفدہ اوقات میں بھی کسی حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، شاید اسے طبّی اخراجات کو پورا کرنے یا اپنے گھر کے اندر ضروری مرمت وغیرہ کروانے کیلئے استعمال کیا جائے۔ اسی لئے بائبل حقیقتپسندانہ طور پر بیان کرتی ہے کہ [”پیسہ ایک تحفظ ہے،“NW] اور یہ کہ ”روپیہ سے سب مقصد پورے ہوتے ہیں۔“—واعظ ۷:۱۲، ۱۰:۱۹۔
چونکہ پیسہ اتنا کچھ کر سکتا ہے اس لئے اس کی طاقت کی بابت ایک غیرحقیقت پسندانہ نظریہ قائم کر لینے کا خطرہ موجود ہے۔ دیگر زیادہ اہم باتوں سے موازنہ کرتے ہوئے ایک مسیحی کو اس کی حدبندیوں سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، بائبل پیسے کی اہمیت کا موازنہ خدائی حکمت کیساتھ یہ کہتے ہوئے کرتی ہے: ”کیونکہ حکمت ویسی ہی پناہگاہ ہے جیسے روپیہ لیکن علم کی خاص خوبی یہ ہے کہ حکمت صاحبحکمت کی جان کی محافظ ہے۔“ (واعظ ۷:۱۲) کس طرح سے خدائی حکمت کو پیسے پر یہ فضیلت حاصل ہے؟
ماضی سے ایک سبق
جو واقعات ۶۶ س۔ع۔ کے سال میں یروشلیم میں پیش آئے، وہ پیسے کی نسبت خدائی حکمت کے فائدہ کو واضح کرتے ہیں۔ چڑھائی کرنے والی رومی فوجوں کو واپس کر دینے کے بعد، یروشلیم میں یہودیوں نے بظاہر یہ سمجھ لیا تھا کہ اب کاروباری امکانات بالکل ٹھیک تھے۔ بلاشُبہ، اپنی نئی حاصلکردہ آزادی کا جشن منانے میں انہوں نے اپنا سکہ جاری کرنا شروع کر دیا۔ ان کے سکوں پر عبرانی میں کچھ اس طرح کی تحریریں کندہ تھیں جیسے ”صیون کی آزادی کیلئے“ اور ”مقدس یروشلیم۔“ ہر نئے سال، انہوں نے کندہ تحریروں کیساتھ نئے سکے رائج کئے جو کہ اس کی نشاندہی کرتے تھے کہ اب وہ ”دوسرے سال“ ”تیسرے سال“ اور ”چوتھے سال“ کے ہیں۔ آثارقدیمہ کے ماہرین نے کھدائی میں چند ایسے سکے بھی حاصل کئے ہیں جن پر ”پانچ سال“ کی تحریر درج ہے جو کہ ۷۰ س۔ع۔ کی مماثل ہے۔ کیا یہودی مسیحیوں نے نئے یہودی پیسے کو دائمی آزادی کی ایک یقینی علامت خیال کیا؟
نہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنے مالک کے باحکمت الفاظ کو ذہن میں رکھا تھا۔ یسوع نے ۶۶ س۔ع۔ میں ہونے والے رومی حملے کی بابت پہلے ہی سے بتا دیا تھا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو نصیحت کی تھی کہ جب یہ واقع ہو تو وہ ”جو یروشلیم کے اندر ہوں باہر نکل جائیں۔“ (لوقا ۲۱:۲۰-۲۲) تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے کہ یہودی مسیحیوں نے بالکل ایسے ہی کیا۔ صاف ظاہر ہے کہ یروشلیم کو چھوڑنے کی وجہ سے وہ جائداد، اثاثوں، اور کاروباری مواقع کا نقصان برداشت کرنے کو تیار تھے۔ چار سال بعد، رومی فوجیں واپس آئیں اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔
ایک چشمدید گواہ، تاریخنویس جوزیفس کے مطابق ”شہر میں بہت زیادہ سونا تھا۔“ لیکن پیسے کی افراط بھی یروشلیم کو اس قحط سے نہ بچا سکی جو کہ آہستہ آہستہ ”بہت شدت اختیار کر گیا“ اور ”پورے پورے خاندانوں اور گھرانوں کو نگل گیا۔“ بعض باشندوں نے سونے کے سکے نگل لئے اور شہر سے فرار ہو جانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اپنے دشمنوں کے ہاتھوں مارے گئے جنہوں نے پیسہ حاصل کرنے کیلئے انکے پیٹ چاک کر دئے۔ جوزیفس وضاحت کرتا ہے، ”دولتمندوں کیلئے شہر سے فرار بھی اتنا ہی خطرناک تھا جتنا کہ اس میں رہنا، کیونکہ پیسہ حاصل کرنے کی خاطر بہتیرے آدمیوں کو اس بہانے سے قتل کر دیا گیا تھا کہ وہ فراری ہیں۔“
محاصرہ شروع ہونے کے بعد چھ ماہ سے بھی کم عرصہ میں یروشلیم کو برباد کر دیا گیا اور اس کے باشندوں میں سے ایک ملین سے زائد قحط، وبا، اور تلوار سے مارے گئے۔ زر کی دوستی نے بہتیروں کو تباہی اور بربادی میں دھکیلتے ہوئے اندھا کر دیا تھا، جبکہ حکمت کے الفاظ کے اطلاق نے یہودی مسیحیوں کو بچنے کے قابل بنایا تھا۔
تاریخ میں یہی ایک واحد واقعہ نہیں جب مصیبت کے وقت میں پیسے نے لوگوں کو نہ بچایا۔ زر کی دوستی کتنی ظالم آقا ہو سکتی ہے! (متی ۶:۲۴) اس کے علاوہ، یہ آپ کی موجودہ خوشی کو بھی چھین سکتی ہے۔
خوشیاں جنہیں پیسہ نہیں خرید سکتا
دولتمند بننے کا بھوت ایک شخص کو ایسی بہت سی خوشیوں سے بےبہرہ کر سکتا ہے جن کیلئے بہت سا پیسہ درکار نہیں۔ مثلاً، خوشگوار خاندانی رشتوں، سچے دوستوں، قدرتی عجائب، ایک دلکش غروب آفتاب، ایک اثرآفریں طوفان برقوباراں، تاروں بھرے آسمان، جانوروں کی مضحکہخیز حرکات، یا ایک خراب نہ کئے ہوئے جنگل میں درختوں اور پھولوں پر غور کریں۔
سچ ہے کہ بعض دولتمند لوگوں کے پاس مذکورہبالا خوشیوں سے لطفاندوز ہونے کیلئے زیادہ وقت ہے، لیکن ان کی اکثریت اپنی دولت کو محفوظ کرنے یا اسے بڑھانے کی کوشش میں انتہائی مصروف ہے۔ شاید یہ حیرانکن لگے لیکن خوشی اونچے طبقے کے لوگوں کو بھی اکثر طرح دے جاتی ہے۔ یہ بات جدید محققوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ تھامس وائزمین اپنی کتاب دا منی موٹیو—اے اسٹڈی آف این اوبسیشن میں سوال کرتے ہیں کہ ”ہم اس حقیقت کو کیسے بیان کر سکتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز جس کے اتنے زیادہ لوگ اس شدت سے خواہشمند ہیں اور جسے تمام چیزوں کا علاج خیال کیا جاتا ہے، جب وہ حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کی وسعت مایوسی سے لیکر شدید تکلیف تک ہو سکتی ہے؟“
ایک چیز جو دولتمند شخص کی خوشی کو چھین سکتی ہے وہ یہ جاننے میں دشواری ہے کہ اس کے حقیقی دوست کون ہیں۔ دولتمند بادشاہ سلیمان کو اس کا تجربہ ہوا تھا کہ ”جب مال کی فراوانی ہوتی ہے تو اسکے کھانے والے بھی بہت ہو جاتے ہیں۔“ (واعظ ۵:۱۱) بہتیرے دولتمند لوگ اپنی دولت میں اضافہ کرنے یا اسے محفوظ رکھنے کی کوشش میں پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ اکثر ان سے خوشگوار نیند کو چھین لینے کا باعث بنتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”محنتی کی نیند میٹھی ہے خواہ وہ تھوڑا کھائے خواہ بہت لیکن دولت کی فراوانی دولتمند کو سونے نہیں دیتی۔“—واعظ ۵:۱۲۔
زر کی دوستی خاندان اور دوستوں کے مابین رشتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ یہ کسی شخص کو بددیانتی اور جرم کے کاموں کی آزمائش میں ڈال سکتی ہے۔ دولت کے دلدادہ اکثر جوئےبازی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ افسوس، کہ جوئے کی بس ایک اور بازی کی خواہش کے تجربے نے بہتیروں کو مقروض بنا دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ایک نفسیاتی امراض کے معالج نے کہا: ”جب تک وہ مجھ تک پہنچتے ہیں، [جوئے بازی کے شیدائی] عموماً واپسی کے قابل نہیں ہوتے، وہ ملازمت، کاروبار، گھر سب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں، اور اکثر انکے خاندان انہیں ترک کر چکے ہوتے ہیں۔“ بائبل کی آگاہی کسقدر سچ ہے: ”دیانتدار آدمی برکتوں سے معمور ہوگا لیکن جو دولتمند ہونے کیلئے جلدی کرتا ہے بےسزا نہ چھوٹیگا۔“—امثال ۲۸:۲۰۔
”[یہ] ... پر لگا کر ... اڑ جاتی ہے“
زر کی دوستی کے اس قدر خطرناک ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ انسانی حکومتیں بھرپور تعاون کرنے یا یہ یقیندہانی کرانے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں کہ پیسے کو بینالااقوامی طور پر استحقام حاصل ہے، اور نہ ہی وہ مالی کاروبار کی دستکشی، کسادبازاری اور سٹاک مارکیٹ کے چوپٹ ہونے کو روک سکی ہیں۔ دھوکا، چوری، اور افراط زر بھی ان الہامی الفاظ کی صداقت کو اور زیادہ نمایاں کرتے ہیں: ”مالدار ہونے کیلئے پریشان نہ ہو۔ اپنی اس دانشمندی سے باز آ۔ کیا تو اس چیز پر آنکھ لگائے گا جو ہے ہی نہیں؟ کیونکہ دولت یقیناً عقاب کی طرح پر لگا کر آسمان کی طرف اڑ جاتی ہے۔“—امثال ۲۳:۴، ۵۔
افراط زر۔ یقیناً یہ مسئلہ صرف غریب ممالک تک ہی محدود نہیں۔ اس صدی کے اوائل میں، تیزی سے بڑھتے ہوئے افراط زر نے وسطی یورپ کی صنعتی قوموں کو لپیٹ میں لے لیا۔ مثال کے طور پر، پہلی جنگ عظیم سے پہلے، ایک جرمن مارک ایک برطانوی شلنگ، ایک فرنچ فرانک یا ایک اطالوی لیرا کے تقریباً برابر تھا۔ دس سال بعد، فرانک، اور لیرا کموبیش ۱،۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰ مارک کے برابر تھے۔ مالدار معاشروں کے لوگوں پر اس بڑھتے ہوئے افراط زر کا کیا اثر ہوتا ہے؟ ایڈم فرگوسن اپنی کتاب وین منی ڈائیز میں بیان کرتا ہے: ”۱۹۲۰ کے شروع کے دہوں میں جو کچھ شکستخوردہ وسطی طاقتوں کے ساتھ ہوا، اگر اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو پھر [مالی کمزوری] بڑی حد تک خوف کے باعث ایسے لالچ، جرموتشدد، ناخوشی اور نفرت کا باعث بنتی ہے جس سے متاثر ہوئے بغیر اور مفلوج ہوئے بغیر کوئی معاشرہ بچ نہیں سکتا۔“
۱۹۲۳ میں، جرمنی نے ۱۲ صفر ہٹاتے ہوئے اپنے پیسے کی قیمت اس قدر کم کر دی کہ ۱،۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰ پرانے مارک اچانک ایک نئے مارک کے برابر ہو گئے۔ اس قدم نے افراط زر کو تو روک دیا لیکن اس کے دیگر تباہکن نتائج برآمد ہوئے۔ فرگوسن بیان کرتا ہے: ”نظامزر کے متعلق اس ہوشمندانہ استحکام کا قائم کیا جانا جس نے، ہزاروں کو دیوالیہ کر دیا، اور لاکھوں سے ان کے روزگار چھین لئے اور مزید کئی لاکھ سے ان کی امیدیں چھین لیں، بالواسطہ ایک ایسی خوفناک قیمت کا تقاضا کیا جو ساری دنیا کو ادا کرنا تھی۔“ صاف ظاہر ہے کہ ”خوفناک قیمت“ جس کے بارے میں مصنف سوچ رہا تھا وہ نازیازم اور دوسری جنگ عظیم کا ابھرنا تھا۔
یہ کہ بڑے بڑے بینک کھاتے ماضی میں ناکام ہوئے ہیں، اسے عالمگیر معاشی غیریقینی کے وقتوں میں ایک سنجیدہ آگاہی ثابت ہونا چاہیے۔ خدا کے اپنے بیٹے نے یہ آگاہی دی کہ دولت ناکام ہوگی جو کہ یہ کئی دفعہ ہو چکی ہے۔ (لوقا ۱۶:۹) لیکن نظامزر سے متعلق بہت بڑی اور وسیع ناکامی کا سامنا اس وقت ہوگا جب یہوواہ خدا اس شریر دنیا پر عدالتی سزا لائیگا۔ ”قہر کے دن مال کام نہیں آتا لیکن صداقت موت سے رہائی دیتی ہے۔“—امثال ۱۱:۴۔
اسلئے، یہ کتنا اہم ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے حقیقی رفیقوں یعنی یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کیساتھ راست حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے سخت محنت کرے!
ابدی خوشی کا سرچشمہ
شروع میں بیانکردہ پال اور میری، یہوواہ کے گواہ تھے۔ کئی سالوں تک انہوں نے بشارت کے کام میں پورے وقت کیلئے شرکت کی۔ تاہم، دولت کیلئے ان کی خواہش ان کے مسیحی کلیسیا کے اجلاسوں پر حاضر ہونے میں رکاوٹ کا باعث بنی اور انہوں نے عوامی خدمت کے ذریعے اپنے ایمان کا اقرار کرنے میں شرکت کرنا بھی ترک کر دیا۔ لیکن وہ بیدار ہو گئے۔ اپنی تمام چیزوں کی چوری ہو جانے اور اپنے گھر کے برباد ہو جانے کے بعد میری کہتی ہے: ”اب میں دیکھ سکتی ہوں کہ یہ کسقدر حماقت تھی کہ میں نے اپنا سارا وقت اور قوت ایک ایسی چیز کیلئے صرف کر دی جو کہ چند منٹوں میں ختم ہو سکتی ہے۔“ خوشی کی بات ہے کہ اس جوڑے نے جلد سبق سیکھ لیا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاتی۔ جیہاں، سب سے بڑا نقصان جو زر کی دوستی پہنچا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک شخص کے یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کیساتھ مقبول رشتے کو ختم کر سکتی ہے۔ ان دوستوں کے بغیر، اس شریر دنیا کے خاتمے سے بچ کر وعدہکردہ راست نئے نظام میں داخل ہونے کی ہمارے پاس کیا امید ہو سکتی ہے؟—متی ۶:۱۹-۲۱، ۳۱-۳۴، ۲-پطرس ۳:۱۳۔
پس اس سے قطعنظر کہ آپ خود کو دولتمند خیال کرتے ہیں یا غریب، زر کی دوستی پیدا کرنے سے بچیں۔ سب سے بڑا خزانہ—یہوواہ خدا کیساتھ مقبول حیثیت—حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کیلئے کام کریں۔ یہ آپ اس فوری دعوت پر مستقل توجہ دینے سے کر سکتے ہیں: ”روح اور دلہن کہتی ہیں آ اور سننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبحیات مُفت لے۔“—مکاشفہ ۲۲:۱۷۔ (۸ ۲/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a ان کے اصلی نام استعمال نہیں کئے گئے۔