یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏5 ص.‏ 9-‏14
  • خدائی تابعداری—‏کیوں اور کن کی طرف سے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدائی تابعداری—‏کیوں اور کن کی طرف سے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جس وجہ سے ہم یہوواہ خدا کی تابعداری کرنے کے پابند ہیں
  • یسوع مسیح، خدائی تابعداری کا کامل نمونہ
  • خدائی تابعداری کی قدیم مثالیں
  • پولس کی تابعداری کی مثال
  • خدائی تابعداری ہم سے جو تقاضا کرتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • شادی میں تابعداری کا کیا مطلب ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • اَے بیویو!‏ اپنے شوہروں کا دل سے احترام کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏5 ص.‏ 9-‏14

خدائی تابعداری—‏کیوں اور کن کی طرف سے؟‏

‏”‏اے خداوند!‏ میں جانتا ہوں کہ انسان کی راہ اسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“‏—‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳‏۔‏

۱.‏ خودمختاری کی کن اقسام کی بہت قدر کی گئی؟‏

انسانی دستاویزات میں سے نہایت ہی مشہور منشورآزادی کی دستاویز ہے، جس کے ذریعے ۱۸ ویں صدی میں شمالی امریکہ میں ۱۳ برطانوی نوآبادیاتی ممالک نے اپنے مادر وطن، برطانیہ سے اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا۔ وہ آزادی چاہتے تھے، اور غیرملکی کنٹرول سے خودمختاری اور آزادی ساتھ ساتھ تھیں۔ سیاسی اور معاشی خودمختاری بڑی سودمند ہو سکتی ہے۔ بعض مشرقی یورپی ممالک نے حالیہ وقتوں میں سیاسی خودمختاری کی طرف پیش‌رفت کی ہے۔ تاہم، یہ تسلیم کرنا پڑیگا کہ ان ممالک میں ایسی خودمختاری اپنے ساتھ بہت سے سنگین مسائل بھی لائی ہے۔‏

۲، ۳.‏ (‏ا)‏خودمختاری کی کونسی قسم ناپسندیدہ ہے؟ (‏ب)‏ اس حقیقت کو دراصل کیسے ذہن‌نشین کرایا گیا تھا؟‏

۲ خودمختاری کی مختلف اقسام خواہ کتنی بھی مرغوب ہوں، مگر خودمختاری کی ایک ایسی قسم بھی ہے جو پسندیدہ نہیں ہے۔ وہ کیا ہے؟ انسان کے خالق، یہوواہ خدا سے خودمختاری۔ یہ برکت نہیں بلکہ لعنت ہے۔ کیوں؟ کیونکہ انسان کو اس غرض سے کبھی نہیں بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے خالق سے خودمختار ہوکر کام کرے، جیسے کہ اوپر حوالہ‌شدہ یرمیاہ نبی کے الفاظ موزوں طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ باالفاظ‌دیگر، انسان کو بنایا ہی اسلئے گیا تھا کہ اپنے خالق کی تابعداری میں رہے۔ اپنے خالق کی تابعداری میں رہنے کا مطلب اسکے تابع‌فرمان ہونا ہے۔‏

۳ اس حقیقت کو پہلے انسانی جوڑے پر زوردار طریقے سے ان کیلئے یہوواہ کے حکم کے ذریعے واضح کر دیا گیا تھا جیسے کہ پیدایش ۲:‏۱۶، ۱۷ میں درج ہے:‏ ”‏تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے‌روک ٹوک کھا سکتا ہے۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا۔“‏ اپنے خالق کی تابعداری میں رہنے سے انکار کرنا آدم اور اسکی تمام اولاد پر گناہ، تکلیف، اور موت لے آیا۔—‏پیدایش ۳:‏۱۹،‏ رومیوں ۵:‏۱۲‏۔‏

۴، ۵.‏ (‏ا)‏خدا کی تابعداری میں رہنے کیلئے انسانوں کے انکار کرنے کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟ (‏ب)‏ کونسا اخلاقی قانون ناگزیر ہے؟‏

۴ انسان کا خدا کی تابعداری میں رہنے سے انکار کرنا غیردانشمندانہ، نیز اخلاقی طور پر غلط ہے۔ دنیا میں یہ وسیع لاقانونیت، جرم، تشدد، اور بشمول جنسی بداخلاقی کے جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں کے اسکے پھلوں پر منتج ہوا ہے۔ اسکے علاوہ، کیا آجکل کی نابالغوں کے جرائم کی وبا بڑی حد تک یہوواہ، نیز اپنے والدین اور ملکی قوانین کی تابعداری میں رہنے سے نوجوانوں کے انکار کی وجہ سے نہیں ہے؟ خودمختاری کی روح اس انوکھے اور بے‌سلیقہ طریقے سے، جس سے بہتیرے لوگ آراستہ ہوتے ہیں اور اس حقارت‌آمیز زبان سے دیکھی گئی ہے جسے وہ استعمال کرتے ہیں۔‏

۵ لیکن خالق کے لاتبدیل اخلاقی قانون سے کوئی نہیں بچ سکتا:‏ ”‏فریب نہ کھاؤ۔ خدا ٹھٹھوں میں نہیں اڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹیگا۔ جو کوئی اپنے جسم کیلئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹیگا اور جو روح کیلئے بوتا ہے وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹیگا۔“‏—‏گلتیوں ۶:‏۷، ۸‏۔‏

۶، ۷.‏ تابعداری میں رہنے سے انکار کرنے کی اصل وجہ کیا ہے، جسے کہ کن مثالوں سے دیکھا گیا ہے؟‏

۶ تابعداری میں رہنے کیلئے انکار کرنے کی اصلی وجہ کیا ہے؟ سادہ لفظوں میں، یہ خودغرضی اور تکبر ہے۔ اسی وجہ سے، پہلی عورت حوا، نے خود کو سانپ کے ذریعے فریب کھانے دیا اور ممنوع پھل میں سے لیکر کھایا۔ اگر وہ منکسرالمزاج اور فروتن ہوتی، تو خدا کی مانند بننے کی ترغیب—‏اپنے لئے فیصلہ کرنا کہ اچھا اور برا کیا ہے—‏اسے پسند نہ آئی ہوتی۔ اور اگر وہ بے‌غرض ہوتی، تو اس نے کسی ایسی چیز کی خواہش نہ کی ہوتی جسے اسکے خالق، یہوواہ خدا کی طرف سے قطعی طور پر منع کیا جا چکا تھا۔—‏پیدایش ۲:‏۱۶، ۱۷‏۔‏

۷ آدم اور حوا کے گناہ میں پڑنے کے کچھ ہی دیر بعد، تکبر اور خودغرضی قائن کیلئے اپنے بھائی ہابل کو قتل کرنے کا سبب بنی۔ نیز خودغرضی بعض فرشتوں کیلئے خودمختاری سے کام کرنے، اپنے اصلی مقام کو چھوڑنے اور انسانی صورت اختیار کرنے کا سبب بنی تاکہ جنسی شہوتوں کا مزہ لیں۔ تکبر اور خودغرضی نے نمرود کو ترغیب دی اور اسکے زمانے سے لیکر زیادہ‌تر دنیاوی حاکموں کا خاصہ بن گئی ہیں۔—‏پیدایش ۳:‏۶، ۷،‏ ۴:‏۶-‏۸،‏ ۱-‏یوحنا ۳:‏۱۲،‏ یہوداہ ۶‏۔‏

جس وجہ سے ہم یہوواہ خدا کی تابعداری کرنے کے پابند ہیں

۸-‏۱۱.‏ ہماری طرف سے خدائی تابعداری کو عمل میں لانے کیلئے چار پرزور وجوہات کیا ہیں؟‏

۸ ہم اپنے خالق، یہوواہ خدا کی تابعداری کرنے کے پابند کیوں ہیں؟ سب سے پہلے اسلئے کہ وہ کائنات کا حاکم‌اعلی ہے۔ تمام اختیار جائز طور پر اس میں سکونت کرتا ہے۔ وہ ہمارا حاکم، شریعت دینے والا، اور بادشاہ ہے۔ (‏یسعیاہ ۳۳:‏۲۲‏)‏ اسکی بابت کیا خوب لکھا گیا ہے:‏ ”‏جس سے ہم کو کام ہے اسکی نظروں میں سب چیزیں کھلی اور بے‌پردہ ہیں۔“‏—‏عبرانیوں ۴:‏۱۳‏۔‏

۹ اسکے علاوہ، ہمارا خالق چونکہ قادرمطلق ہے، اسلئے کوئی بھی کامیابی کیساتھ اسکی مخالفت نہیں کر سکتا، کوئی بھی اسکی تابعداری میں رہنے کے فرض کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ جلد یا بدیر، وہ جو انکار کرتے ہیں فنا کر دئے جائینگے جیسے کہ قدیمی فرعون کو فنا کیا گیا اور اسی طرح خدا کے معین وقت پر شیطان ابلیس کو بھی فنا کر دیا جائے گا۔—‏زبور ۱۳۶:‏۱،‏ ۱۱-‏۱۵،‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۷،‏ ۲۰:‏۱۰،‏ ۱۴‏۔‏

۱۰ تابعداری تمام ذی‌شعور مخلوقات کا فرض ہے اسلئے کہ وہ اپنے خالق کی خدمت کرنے کے مقصد کیلئے زندہ ہیں۔ مکاشفہ ۴:‏۱۱ بیان کرتی ہے:‏ ”‏اے ہمارے خداوند اور خدا تو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں“‏۔ وہ عظیم کمہار ہے، اور وہ انسانی ظروف بناتا ہے تاکہ اسکے مقصد کو پورا کریں۔—‏یسعیاہ ۲۹:‏۱۶،‏ ۶۴:‏۸‏۔‏

۱۱ ہمیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارا خالق پوری دانش رکھتا ہے، اسلئے وہ جانتا ہے کہ ہمارے لئے بہتر کیا ہے۔ (‏رومیوں ۱۱:‏۳۳‏)‏ اسکے آئین ”‏ہماری بھلائی“‏ کیلئے ہیں۔ (‏استثنا ۱۰:‏۱۲، ۱۳)‏ سب سے بڑھکر، ”‏خدا محبت ہے،“‏ اسلئے وہ صرف وہی چاہتا ہے جو ہمارے لئے بہتر ہے۔ اپنے خالق، یہوواہ خدا کی تابعداری میں رہنے کیلئے ہمارے پاس کتنی ہی تحریک دینے والی وجوہات موجود ہیں!‏—‏۱-‏یوحنا ۴:‏۸‏۔‏

یسوع مسیح، خدائی تابعداری کا کامل نمونہ

۱۲، ۱۳.‏ (‏ا)‏یسوع مسیح نے خدائی تابعداری کیسے ظاہر کی؟ (‏ب)‏ یسوع کے کونسے الفاظ اسکے اطاعت‌شعار رجحان کو ظاہر کرتے ہیں؟‏

۱۲ یقیناً، یہوواہ کا اکلوتا بیٹا، یسوع مسیح، ہمیں خدائی تابعداری کا کامل نمونہ دیتا ہے۔ رسول پولس فلپیوں ۲:‏۶-‏۸ میں اسکی نشاندہی کرتا ہے:‏ ”‏[‏یسوع]‏ نے اگرچہ خدا کی صورت پر تھا خدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا۔ بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دیا اور خادم کی صورت اختیار کی اور انسانوں کے مشابہ ہو گیا۔ اور انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو [‏مزید]‏ پست کر دیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔“‏ جب یسوع زمین پر تھا، تو اس نے بار بار یہ بیان کیا کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا، اس نے خودمختاری سے کام نہ کیا، بلکہ ہمیشہ اپنے آسمانی باپ کی تابعداری میں رہا۔‏

۱۳ ہم یوحنا ۵:‏۱۹،‏ ۳۰ میں پڑھتے ہیں:‏ ”‏پس یسوع نے ان سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سوا اسکے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جن کاموں کو وہ کرتا ہے انہیں بیٹا بھی اسی طرح کرتا ہے۔ میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ میں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔“‏ اسی طرح سے اپنے پکڑوائے جانے والی رات اس نے بار بار دعا کی:‏ ”‏تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔“‏—‏متی ۲۶:‏۳۹،‏ ۴۲،‏ ۴۴‏، نیز دیکھیں یوحنا ۷:‏۲۸،‏ ۸:‏۲۸،‏ ۴۲‏۔‏

خدائی تابعداری کی قدیم مثالیں

۱۴.‏ نوح نے کن طریقوں سے خدائی تابعداری ظاہر کی؟‏

۱۴ خدائی تابعداری کی ابتدائی انسانی مثالوں میں ایک نوح تھا۔ اس نے اپنی تابعداری کو تین طریقوں سے ظاہر کیا۔ اول، ایک راستباز انسان ہونے سے، اپنے ہمعصروں میں بے‌عیب ہونے سے، سچے خدا کیساتھ ساتھ چلنے سے۔ (‏پیدایش ۶:‏۹‏)‏ دوئم، کشتی بنانے سے۔ اس نے ”‏یوں ہی کیا۔ جیسا خدا نے اسے حکم دیا تھا ویسا ہی عمل کیا۔“‏ (‏پیدایش ۶:‏۲۲‏)‏ سوئم، ”‏راستبازی کے منادی کرنے والے“‏ کے طور پر آنے والے طوفان کی آگاہی کا اعلان کرنے سے۔—‏۲-‏پطرس ۲:‏۵‏۔‏

۱۵، ۱۶.‏ (‏ا)‏ابرہام نے خدائی تابعداری میں کونسی عمدہ مثال قائم کی؟ (‏ب)‏ سارہ نے کیسے تابعداری دکھائی؟‏

۱۵ ابرہام خدائی تابعداری کی ایک اور نمایاں مثال تھا۔ اس نے خدا کے حکم کی تعمیل کرنے سے تابعداری ظاہر کی:‏ ”‏تو اپنے وطن .‏.‏.‏ سے نکل کر .‏.‏.‏ جا۔“‏ (‏پیدایش ۱۲:‏۱‏)‏ اسکا مطلب ایک پردیسی ملک میں ایک سو برس تک خانہ‌بدوش کے طور پر مارا مارا پھرنے کیلئے، اور [‏کوئی غیر اہم شہر نہیں جیسا کہ آثارقدیمہ کی دریافتوں سے ظاہر کیا گیا ہے]‏ میں اپنے آرام‌دہ گردوپیش کو چھوڑنا تھا۔ ابرہام نے خاص طور پر اپنے بیٹے اضحاق کو قربان کرنے کیلئے رضامند ہونے سے بڑے امتحان پر پورا اتر کر خدائی عقیدت ظاہر کی۔—‏پیدایش ۲۲:‏۱-‏۱۲‏۔‏

۱۶ ابرہام کی بیوی سارہ ہمیں خدائی تابعداری کی ایک اور عمدہ مثال فراہم کرتی ہے۔ بلا‌شُبہ، پردیسی ملک میں ادھر ادھر گھومنا پھرنا بہت سی تکلیفیں لایا، لیکن ہم کہیں بھی اسے شکایت کرتے ہوئے نہیں پڑھتے۔ جب ابرہام نے مُلحد حکمرانوں کے سامنے اسے اپنی بہن کے طور پر متعارف کرایا تو دو موقعوں پر اس نے خدائی تابعداری کی عمدہ مثال قائم کی۔ دونوں مرتبہ اس نے تعاون کیا، اگرچہ نتیجتاً وہ قریب قریب انکے زنانخانوں کی ممبر بن گئی۔ اپنے خاوند، ابرہام کو اپنے دل میں اپنے طور پر ”‏خداوند“‏ کہنے سے اسکی خدائی تابعداری کی دلالت ہوتی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اسکے دل کا حقیقی رجحان تھا—‏پیدایش ۱۲:‏۱۱-‏۲۰،‏ ۱۸:‏۱۲،‏ ۲۰:‏۲-‏۱۸،‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۶‏۔‏

۱۷.‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ اضحاق نے خدائی تابعداری ظاہر کی؟‏

۱۷ آئیں ہم ابرہام کے بیٹے اضحاق کے ذریعے فراہم‌کردہ خدائی تابعداری کے نمونے کو بھی نظرانداز نہ کریں۔ یہودی روایت ظاہر کرتی ہے کہ اضحاق کی عمر تقریباً ۲۵ برس کی تھی جب یہوواہ نے اسکے باپ، ابرہام، کو اسے قربانی کے طور پر پیش کرنے کا حکم دیا۔ اگر اضحاق چاہتا تو وہ اپنے باپ کو بآسانی روک سکتا تھا، جو اس سے سو سال بڑا تھا۔ لیکن نہیں۔ اگرچہ اضحاق قربانی کے جانور کے نہ ہونے سے حیران تھا تو بھی اس نے خود کو عاجزی سے اپنے باپ کے حوالے کر دیا کہ اسے قربانگاہ پر رکھے، اور پھر اسکے ہاتھ اور پاؤں کو باندھے تاکہ ذبح کرنے والی چھری کے استعمال کی صورت میں نادانستہ ردعمل کو روکا جائے یا قابو میں رکھا جائے جو واقع ہو سکتا تھا۔—‏پیدایش ۲۲:‏۷-‏۹‏۔‏

۱۸.‏ موسی نے کیسے قابل‌نمونہ خدائی تابعداری ظاہر کی؟‏

۱۸ کئی سال بعد، موسی نے خدائی تابعداری میں ہمارے لئے ایک اچھی مثال قائم کی۔ یہ بات یقیناً اسے ”‏روی زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم“‏ ہونے کے طور پر بیان کئے جانے سے ظاہر ہوتی ہے۔ (‏گنتی ۱۲:‏۳)‏ اسکا فرمانبرداری سے بیابان میں ۴۰ سالوں تک یہوواہ کے احکام کی تعمیل کرنا، اسکی خدائی تابعداری کی مزید شہادت دیتا ہے، اگرچہ اسے دو سے تین ملین تعداد کی سرکش امت کی دیکھ بھال کرنی تھی۔ پس ریکارڈ کہتا ہے کہ ”‏موسی نے سب کچھ جیسا خداوند نے اسکو حکم کیا تھا اسی کے مطابق کیا۔“‏—‏خروج ۴۰:‏۱۶۔‏

۱۹.‏ کن اظہارات سے ایوب نے یہوواہ کیلئے تابعداری دکھائی؟‏

۱۹ ایوب ایک اور امتیازی شخصیت ہے جس نے خدائی تابعداری میں ہمارے لئے ایک اعلی مثال قائم کی۔ یہوواہ کے شیطان کو ایوب کی تمام جائداد کو برباد کرنے، اسکے بچوں کو ہلاک کرنے، اور پھر ”‏تلوے سے چاند تک دردناک پھوڑوں“‏ سے دکھ دینے کی اجازت دے دینے کے بعد ایوب کی بیوی نے اس سے کہا:‏ ”‏کیا تو اب بھی اپنی راستی پر قائم رہیگا؟ خدا کی تکفیر کر اور مر جا۔“‏ تاہم، ایوب نے اسے یہ کہنے سے اپنی خدائی تابعداری ظاہر کی:‏ ”‏تو نادان عورتوں کی سی باتیں کرتی ہے۔ کیا ہم خدا کے ہاتھ سے سکھ پائیں اور دکھ نہ پائیں؟“‏ (‏ایوب ۲:‏۷-‏۱۰‏)‏ اسی طرح کے ذہنی رحجان کو ظاہر کرنے والے اسکے الفاظ ایوب ۱۳:‏۱۵ میں درج ہیں:‏ ”‏[‏اگرچہ، NW]‏ وہ مجھے قتل کریگا، [‏کیا، NW]‏ میں انتظار نہیں کرونگا[‏؟، NW]‏“‏ اگرچہ، ایوب حقیقت میں اپنی ذاتی توجیہ کرنے کی بابت گہری فکرمندی رکھتا تھا، تو بھی ہمیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ آخر میں اسکے نقلی تسلی دینے والوں میں سے ایک سے یہوواہ نے کہا:‏ ”‏میرا غضب تجھ پر اور تیرے دونوں دوستوں پر بھڑکا ہے کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات نہ کہی جو حق ہے جیسے میرے بندہ ایوب نے کہی۔“‏ یقینی طور پر، ایوب ہمیں خدائی تابعداری کی عمدہ مثال دیتا ہے۔—‏ایوب ۴۲:‏۷‏۔‏

۲۰.‏ داؤد نے کن طریقوں سے خدائی تابعداری ظاہر کی؟‏

۲۰ عبرانی صحائف سے بیان کرنے کے لئے صرف ایک اور مثال، داؤد کی ہے۔ جب بادشاہ ساؤل داؤد کی تلاش میں تھا جیسے کہ وہ کوئی جانور ہو، تو داؤد کے پاس ساؤل کو قتل کرنے سے اپنی تکالیف کا خاتمہ کرنے کے دو موقعے تھے۔ تاہم، داؤد کی خدائی تابعداری نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔ اسکے الفاظ ۱-‏سموئیل ۲۴:‏۶ میں درج ہیں:‏ ”‏خداوند نہ کرے کہ میں اپنے مالک سے جو خداوند کا ممسوح ہے ایسا کام کروں کہ اپنا ہاتھ اس پر چلاؤں اسلئے کہ وہ خداوند کا ممسوح ہے۔“‏ (‏۱-‏سموئیل ۲۶:‏۹-‏۱۱ کو بھی دیکھیں۔)‏ اسی طرح سے جب اس نے خطائیں یا گناہ کئے تو اس نے سرزنش کو قبول کرنے سے اپنی خدائی تابعداری ظاہر کی۔—‏۲-‏سموئیل ۱۲:‏۱۳،‏ ۲۴:‏۱۷،‏ ۱‏-‏توریخ ۱۵:‏۱۳۔‏

پولس کی تابعداری کی مثال

۲۱-‏۲۳.‏ کن مختلف موقعوں پر پولس رسول نے خدائی تابعداری دکھائی؟‏

۲۱ مسیحی یونانی صحائف میں ہمارے پاس خدائی تابعداری کی ایک نمایاں مثال پولس رسول کی ہے۔ اس نے اس سلسلے میں اپنے مالک، یسوع مسیح، کی نقل کی جیسے کہ اس نے اپنی رسولی خدمتگزاری کے باقی تمام پہلوؤں میں کی۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۱‏)‏ اگرچہ یہوواہ خدا نے اسے دوسرے رسولوں میں سے ہر ایک سے زیادہ زوردار طریقے سے استعمال کیا، تو بھی پولس نے خودمختارانہ طریقے سے کبھی کام نہ کیا۔ لوقا ہمیں بتاتا ہے کہ جب سوال اٹھا کہ آیا غیرقوم نومریدوں کو ختنہ کرانے کی ضرورت ہے تو ”‏انہوں [‏انطاکیہ کے بھائیوں]‏ نے یہ ٹھہرایا کہ پولس اور برنباس اور ان میں سے چند اور شخص اس مسئلہ کیلئے رسولوں اور بزرگوں کے پاس یروشلیم جائیں۔“‏—‏اعمال ۱۵:‏۲‏۔‏

۲۲ جہانتک پولس کی مشنری کارگزاری کا تعلق ہے، ہمیں گلتیوں ۲:‏۹ میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏اور جب انہوں نے اس توفیق کو معلوم کیا جو مجھے ملی تھی تو یعقوب اور کیفا اور یوحنا نے جو کلیسیا کے رکن سمجھے جاتے تھے مجھے اور برنباس کو دہنا ہاتھ دیکر شریک کر لیا تاکہ ہم غیرقوموں کے پاس جائیں اور وہ مختونوں کے پاس۔“‏ خودمختارانہ طریقے سے کام کرنے کی بجائے، پولس ہدایت کا طلب‌گار ہوا۔‏

۲۳ اسی طرح سے، آخری مرتبہ جب پولس یروشلیم میں تھا تو اس نے ہیکل میں جانے اور شریعت کے دستور کی پیروی کرنے کے سلسلے میں بزرگوں کی طرف سے دی گئی مشورت کو قبول کیا تاکہ سب دیکھ لیں کہ جہانتک موسی کی شریعت کا تعلق تھا وہ کوئی مرتد نہ تھا۔ چونکہ اسکی اس روش کا انجام تباہ‌کن معلوم ہوتا تھا کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اسکے خلاف بھڑکایا گیا تھا، اسلئے اسکا ان بزرگوں کی تابعداری کرنا کیا ایک غلطی تھی؟ ہرگز نہیں، جیسے کہ جو کچھ ہم اعمال ۲۳:‏۱۱ میں پڑھتے ہیں اس سے واضح ہے:‏ ”‏اسی رات خداوند اسکے پاس آ کھڑا ہوا اور کہا خاطر جمع رکھ جیسے تو نے میری بابت یروشلیم میں گواہی دی ہے ویسے ہی تجھے رومہ میں بھی گواہی دینا ہوگا۔“‏

۲۴.‏ اگلے مضمون میں تابعداری کے مزید کن پہلوؤں پر بات‌چیت کی جائیگی؟‏

۲۴ واقعی، صحائف ہمارے تابعداری میں رہنے کیلئے ہمیں پرزور وجوہات اور انکی زبردست مثالیں دیتے ہیں جنہوں نے ایسی تابعداری دکھائی۔ اگلے مضمون میں ہم مختلف حلقوں پر جن میں ہم یہوواہ خدا کی تابعداری میں رہ سکتے ہیں، ہمارے ایسا ہونے کیلئے امدادی چیزوں پر اور اس کے نتیجے میں جو اجر حاصل ہوتے ہیں ان پر غور کریں گے۔ (‏۹ ۲/۱ W۹۳)‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ کس قسم کی خودمختاری پسندیدہ نہیں ہے؟‏

▫ تابعداری میں رہنے سے انکار کرنے کی اصل وجہ کیا ہے؟‏

▫ کن وجوہات کی بنا پر ہم یہوواہ کی تابعداری میں رہنے کے پابند ہیں؟‏

▫ صحائف خدائی تابعداری کی کونسی عمدہ مثالیں دیتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

نمرود، طوفان کے بعد خدائی تابعداری سے بغاوت کرنے والا پہلا حکمران

‏[‏تصویر]‏

نوح، خدائی تابعداری کا بے‌عیب نمونہ۔—‏پیدایش ۶:‏۱۴،‏ ۲۲

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں