بادشاہتی مناد رپورٹ دیتے ہیں
انہوں نے اپنا طرزندگی تبدیل کر لیا
بلاشُبہ آپ نے انہیں گلی محلوں میں دوسروں سے باتچیت کرتے، گھرباگھر ملاقاتیں کرتے، یا پھر اپنے کنگڈم ہالوں میں مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم مناسب آرائشوزیبائش والے یہوواہ کے گواہوں کے نوجوانوں کی بابت بات کر رہے ہیں۔ شاید آپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہو کہ وہ گواہ اس لئے ہیں کیونکہ ان کے والدین نے انہیں یہی سکھایا ہے، اور ان میں سے بہتیروں کے معاملے میں ایسا ہی ہے۔ اس کے دوسری طرف بعض ایسے بھی نوجوان لوگ ہیں جو کہ بہت مختلف پسمنظر رکھتے ہیں اور جن کا پچھلا طرززندگی ان کی اس زندگی سے جو وہ اب گزار رہے ہیں یکسر مختلف تھا۔ درحقیقت، جن لوگوں کی بابت ہم بات کریں گے وہ ایسے گروہوں سے تعلق رکھتے تھے جن میں جرم اور منشیات کا ناجائز استعمال روزمرہ کا معمول تھا۔ کیا چیز ان کے اپنی زندگیوں کو یوں مکمل طور پر تبدیل کرنے کا باعث بنی؟ آئیے ہم ناروے کے ایک قصبے میں چلیں اور بعض ایسے نوجوان لوگوں سے ملاقات کریں جنہوں نے ایسی تبدیلیاں کی ہیں۔
تبدیلی کیلئے بنیاد
جب دو گواہ گھرباگھر منادی کے کام کے دوران اینیٹ سے ملے تو وہ ۱۹ برس کی تھی۔ ”مجھے اکثر یہی کہا گیا تھا کہ یہوواہ کے گواہوں سے کبھی بات نہ کرنا، لیکن مجھے تجسس تھا اور یوں میں نے انہیں اندر آنے کی دعوت دی،“ وہ یاد کرتی ہے۔ وہ ۱۱ سال کی عمر ہی سے منشیات کا استعمال کرتی رہی تھی اور متعدد چوریوں اور کار کی چوریوں میں ملوث تھی۔
بادشاہت کی خوشخبری اسے دلکش لگی۔ پانچ سال کی عمر میں اپنی ماں کو کھو دینے کے باعث اس نے امیدقیامت سے خاص طور پر حوصلہافزائی پائی تھی۔ پس اس نے مُفت بائبل مطالعہ قبول کیا اور کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر آنا شروع کر دیا۔ جو کچھ وہ سیکھ رہی تھی اسکی بابت اس نے اپنے بوائے فرینڈ اور دیگر لوگوں کو بھی بتایا۔ ردعمل؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس چیز سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ اور انہوں نے اینیٹ پر برینواش کر دئے جانے کا الزام لگایا۔ تاہم، جو زیادہ مخالفت کر رہے تھے ان میں سے بعض نے بعد میں بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔
مثال کے طور پر، ۲۰ سالہ نوجوان شخص، ایسپن کو لے لیں۔ اس نے اینیٹ کے بوائے فرینڈ سے بادشاہتی خوشخبری کی بابت سنا اور وہ فوراً ہی بائبل مطالعہ کرنا چاہتا تھا۔ تاہم، وہ چار ماہ کی قید کی سزا بھگتنے کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ وہ بھی منشیات کی سمگلنگ کرنے، اور اینیٹ کی طرح، کئی دیگر چوریوں میں ملوث تھا۔ اس کے علاوہ وہ، تمباکو، میریحوآنا، اور دوسری کئی منشیات کا عادی تھا۔ تو پھر، کیا چیز ایک شخص کو جو ایسی چیزوں میں ملوث رہا ہو بائبل کا مطالعہ شروع کرنے کی خواہش رکھنے پر آمادہ کر سکتی ہے؟ ایسپن نے اپنے طرززندگی کے بےمقصد اور فضول ہونے کو سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے: ”مستقبل کی بابت بائبل کے وعدوں نے مجھے متاثر کیا تھا جس نے کہ میری زندگی کو بامقصد بنا دیا۔ پس میں نے یہ جاننے کے لئے کہ آیا مجھے سچ بتایا گیا ہے مطالعہ شروع کر دیا۔“
دیگر بائبل کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں
اسی عرصہ کے دوران نوجوان لوگوں کے اسی گروہ کے ایک اور نوجوان نے خوشخبری کو سنا، اور اس نے بھی مطالعہ کرنا اور اجلاسوں پر حاضر ہونا شروع کر دیا۔ اسکے بعد، انہی نوجوانوں میں سے ایک اور کیساتھ مطالعہ شروع ہو گیا اور اس نے بھی اجلاسوں پر حاضر ہونا شروع کر دیا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد، ایک اور نوجوان بائبل مطالعہ کرنے اور روحانی ترقی کرنے کیلئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آ ملا۔ اسکے بعد، اسی گروہ کا ایک اور نوجوان ان مثبت تبدیلیوں سے نہایت متاثر ہوا جو اس کے ساتھی اپنی زندگیوں میں لا رہے تھے اور جلد ہی وہ بھی بائبل مطالعہ کرنا چاہتا تھا۔
اب اسی گروہ کے ایک نوجوان موسیقار گلبرٹ نے بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ چونکہ اس کے والدین کینسر کی وجہ سے وفات پا چکے تھے، لہذا اسے بھی بائبل کی امیدقیامت سے بڑی تسلی حاصل ہوئی۔ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) وہ بھی میریحوآنا استعمال کر رہا تھا اور ایک بدکار زندگی بسر کر رہا تھا، اور اس کی آرزو تھی کہ وہ راک موسیقی کا سٹار بنے۔ تاہم، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ، اس نے عمدہ روحانی ترقی کی اور جلد ہی یہوواہ کا ایک گواہ بننے کا فیصلہ کر لیا۔ اور آخر میں ایسپن کے چھوٹے بھائی نے بھی بائبل کی چھانبین شروع کر دی اور گواہوں کے ساتھ رفاقت رکھنے لگا۔
بائبل سچائی زندگیاں تبدیل کرتی ہے
ایک بڑی تبدیلی ان نوجوان لوگوں میں واقع ہوئی جو بےڈھنگے لباس پہنتے، بکھرے ہوئے بال رکھتے اور منشیات کے ناجائز استعمال، چوری، اور دیگر جرائم میں ملوث تھے۔ اینیٹ ایک عمدہ بادشاہتی پبلشر ہے اور اس نے تقریباً ایک سال تک پائنیر کے طور پر خدمت کی ہے۔ ایسپن اور گلبرٹ نے بطور امدادی پائنیروں کے خدمت کی ہے اور وہ خدمتگزار خادم بھی ہیں۔ ان دونوں نے مسیحی کلیسیا کے اندر ہی شادیاں کی ہیں۔ ماضی کے اس گروہ کے چار اور اشخاص بھی سرگرم بادشاہتی مناد ہیں!
اس چار ماہ کی سزا کا کیا ہوا جو ایسپن کو بھگتنی تھی؟ ان تبدیلیوں کی وجہ سے جو وہ اپنی زندگی میں لایا تھا، اسکی سزا کو ۸۰ گھنٹے کیلئے فلاحی کام کرنے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ پولیس اور دیگر لوگوں کے باہمی صلاح مشورے کے مطابق اس نے یہ گھنٹے یہوواہ کے گواہوں کے مقامی کنگڈم ہال میں کام کرنے میں صرف کئے۔ پولیس اس بندوبست سے بےحد خوش تھی۔
جیہاں، پوری دنیا میں بہتیرے نوجوان لوگوں کا پسمنظر مجرمانہ ہے۔ لیکن خدا کے کلام کی سچائی نے انہیں اہم سوالات کے جوابات اور مستقبل کیلئے یقینی امید فراہم کی ہے۔ اسلئے اب وہ مجرم یا منشیات کے استعمال کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ بےڈھنگے لباس میں ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ اپنے طرززندگی کو تبدیل کرنے کے بعد، وہ بالکل انہیں لوگوں کی طرح ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے—نوجوان، اچھی آرائشوزیبائش والے اور سرگرم یہوواہ کے گواہ۔ وہ دوسروں کو بائبل سے آج کل کے بہتیرے نوجوانوں کو درپیش مسائل کے دائمی حل بتانا چاہتے ہیں۔—دیکھیں ۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱۔ (۷ ۲/۱ w۹۳)
[تصویر]
ایسپن، اینیٹ، اور گلبرٹ