خدائی تابعداری ہم سے جو تقاضا کرتی ہے
”پس خدا کے تابع ہو جاؤ۔“—یعقوب ۴:۷۔
۱. جس قسم کے خدا کی ہم پرستش کرتے ہیں اسکی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟
یہوواہ کتنا عظیمالشان خدا ہے! متعدد طریقوں سے لاثانی، بیمثال، بےنظیر، منفرد! وہ بلندوبالا، عالمگیر حاکم ہے جس میں حقیقی اقتدار سکونت کرتا ہے۔ وہ ازل سے ابد تک ہے اور اتنا پرشکوہ ہے کہ کوئی انسان اسے دیکھکر زندہ نہیں رہ سکتا۔ (خروج ۳۳:۲۰، رومیوں ۱۶:۲۶) وہ قوت اور حکمت میں لامحدود، انصاف میں مطلقاً کامل، اور محبت کا عظیم تجسم ہے۔ وہ ہمارا خالق، ہمارا حاکم، ہمارا شریعت دینے والا، اور ہمارا بادشاہ ہے۔ ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اسکی طرف سے آتا ہے۔—زبور ۱۰۰:۳، یسعیاہ ۳۳:۲۲، یعقوب ۱:۱۷۔
۲. خدائی تابعداری میں کیا چیزیں شامل ہیں؟
۲ ان تمام حقائق کے پیشنظر، اسکی تابعداری میں رہنے کیلئے ہمارے فرض کی بابت کوئی سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس میں ہمارے لئے کیا کچھ شامل ہے؟ کئی ایک باتیں۔ چونکہ ہم ذاتی طور پر یہوواہ خدا کو دیکھ نہیں سکتے، اسلئے اسکی تابعداری میں تعلیمیافتہ ضمیر کی آواز پر دھیان دینا، خدا کی زمینی تنظیم کیساتھ تعاون کرنا، دنیاوی اختیارات کو تسلیم کرنا، اور خاندانی دائرے کے اندر سرداری کے اصول کا احترام کرنا شامل ہے۔
نیک ضمیر رکھنا
۳. نیک ضمیر رکھنے کیلئے، ہمیں کس قسم کی ممانعتوں کی فرمانبرداری کرنی چاہیے؟
۳ نیک ضمیر رکھنے کیلئے، ہمیں ناقابلنفاذ قوانین کیلئے فرمانبردار ہونا چاہیے، یعنی ان آئین یا اصولوں کیلئے جن پر انسان عملدرآمد نہیں کرا سکتے۔ مثال کے طور پر، دس احکام کے دسویں حکم نے لالچ کرنے کے خلاف ہدایت کی، جسے انسانی حکام نافذ کرانے کے قابل نہ تھے۔ برسبیلتذکرہ، یہ دس احکام کے الہٰی اصل سے ہونے کی تصدیق کرتا ہے، کیونکہ کوئی بھی انسانی قانونساز مجلس ایسا قانون نہیں بنائیگی جسکی اگر خلافورزی کی جائے تو سزا کے ذریعے اس پر عملدرآمد نہ کرایا جا سکے۔ اس قانون کے ذریعے یہوواہ خدا نے ہر اسرائیلی پر خود اپنا ہی پولیسمین بننے کی ذمہداری دی—اگر وہ نیک ضمیر رکھنا چاہتا ہو۔ (خروج ۲۰:۱۷) اسی طرح سے، حسد اور رشک جسم کے ان کاموں میں سے ہیں جو کسی کو خدا کی بادشاہت کے وارث ہونے سے روکیں گے۔—ایسے ردعمل جن کے خلاف انسانی منصف سزا کا حکم نافذ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ (گلتیوں ۵:۱۹-۲۱) لیکن نیک ضمیر رکھنے کیلئے ہمیں ان سے گریز کرنا چاہیے۔
۴. نیک ضمیر رکھنے کیلئے، ہمیں کن بائبل اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہیے؟
۴ جیہاں، ہمیں بائبل اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہیے۔ ان اصولوں کا خلاصہ دو حکموں میں پیش کیا جا سکتا ہے جنہیں یسوع مسیح نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت سے پیش کیا کہ موسوی ضابطے کا سب سے بڑا حکم کیا تھا۔ ”خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ ... اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔“ (متی ۲۲:۳۶-۴۰) ان حکموں میں سے دوسرے میں جو کچھ شامل ہے اسے سمجھانے کیلئے متی ۷:۱۲ میں درج یسوع کے الفاظ ہیں: ”پس جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی انکے ساتھ کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی تعلیم یہی ہے۔“
۵. ہم یہوواہ خدا کے ساتھ ایک اچھا رشتہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟
۵ پس لازم ہے کہ ہم وہی کریں جو ہم جانتے ہیں کہ درست ہے اور وہ کام کرنے سے باز رہیں جو ہم جانتے ہیں کہ غلط ہے، خواہ دوسرے اسے دیکھیں یا نہ دیکھیں۔ اس وقت بھی ایسا ہوتا ہے جب ہم اس کام کے نہ کرنے سے جو ہمیں کرنا چاہیے یا اس کام کے کرنے سے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے بچ جانے کے قابل ہو سکتے ہوں۔ اسکا مطلب اس آگاہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے آسمانی باپ کیساتھ ایک اچھا رشتہ رکھنا ہے جسکا اظہار پولس رسول نے عبرانیوں ۴:۱۳ میں کیا: ”اس سے مخلوقات کی کوئی چیز چھپی نہیں بلکہ جس سے ہم کو کام ہے اسکی نظروں میں سب چیزیں کھلی اور بےپردہ ہیں۔“ درست کام کرنے میں مشغول رہنا ابلیس کے فریبی منصوبوں کے خلاف نبردآزما ہونے، دنیا کے دباؤ کا مقابلہ کرنے، اور خودغرضی کے موروثی رحجان کے خلاف لڑنے کیلئے ہماری مدد کریگا۔—مقابلہ کریں افسیوں ۶:۱۱۔
خدا کی تنظیم کیلئے تابعداری
۶. مسیحی زمانے سے پہلے، یہوواہ نے رابطے کے کن ذرائع کو استعمال کیا؟
۶ یہوواہ خدا نے یہ فیصلہ کرنے کی تمامتر ذمہداری ہم پر نہیں چھوڑی کہ انفرادی طور پر ہم اپنی زندگیوں میں بائبل اصولوں کا اطلاق کیسے کرتے ہیں۔ نوعانسانی کی تاریخ کی ابتدا ہی سے، خدا نے انسانوں کو رابطے کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ پس، حوا کیلئے آدم خدا کا نمائندہ تھا۔ حوا کے خلق کئے جانے سے پیشتر ممنوع پھل کی بابت حکم آدم کو دیا گیا تھا، اسلئے آدم نے حوا کو ضرور بتا دیا ہوگا کہ اسکے لئے خدا کی مرضی کیا ہے۔ (پیدایش ۲:۱۶-۲۳) نوح اپنے خاندان اور طوفان سے قبل دنیا کیلئے خدا کا نبی تھا۔ (پیدایش ۶:۱۳، ۲-پطرس ۲:۵) ابرہام اپنے خاندان کیلئے خدا کا نمائندہ تھا۔ (پیدایش ۱۸:۱۹) اسرائیل کی امت کیلئے خدا کا نبی اور رابطے کا ذریعہ موسی تھا۔ (خروج ۳:۱۵، ۱۶، ۱۹:۳، ۷) اسکے بعد، یوحنا اصطباغی تک، بہت سے نبیوں، کاہنوں، اور بادشاہوں کو خدا نے استعمال کیا تھا تاکہ اسکے لوگوں کو اسکی مرضی سے آگاہ کریں۔
۷، ۸. (ا)مسیحا کی آمد کیساتھ کن کو خدا کے نمائندوں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے؟ (ب) خدائی تابعداری آجکل کے یہوواہ کے گواہوں سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
۷ مسیحا، یسوع مسیح، کی آمد کے ساتھ، خدا نے اسے اور اسکے ساتھ قریبی رفاقت رکھنے والے رسولوں اور شاگردوں کو استعمال کیا تاکہ اسکے نمائندوں کی حیثیت سے کام کریں۔ بعدازاں، یسوع مسیح کے ممسوح وفادار پیروکاروں کو ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے طور پر خدمت کرنی تھی تاکہ یہوواہ کے لوگوں کو بتائیں کہ اپنی زندگیوں میں بائبل اصولوں کو کیسے استعمال کریں۔ خدائی تابعداری کا مطلب اس آلۂکار کو تسلیم کرنا تھا جسے یہوواہ خدا استعمال کر رہا تھا۔—متی ۲۴:۴۵-۴۷، افسیوں ۴:۱۱-۱۴۔
۸ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ آجکل ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ رفاقت رکھتا ہے جسکی نمائندگی ان گواہوں کی گورننگ باڈی کے ذریعے ہوتی ہے۔ پھر مقامی سطح پر کام کی ہدایتکاری کیلئے یہ باڈی، نگہبانوں کا مختلف حیثیتوں میں تقرر کرتی ہے—جیسے کہ بزرگ اور سفری نمائندے مقامی سطح پر کام کو چلانے کیلئے۔ خدائی تابعداری ہر مخصوصشدہ گواہ سے عبرانیوں ۱۳:۱۷ کے مطابق ان نگہبانوں کی تابعداری میں رہنے کا تقاضا کرتی ہے: ”اپنے پیشواؤں کے فرمانبردار اور تابع رہو کیونکہ وہ تمہاری روحوں کے فائدہ کیلئے انکی طرح جاگتے رہتے ہیں جنہیں حساب دینا پڑیگا تاکہ وہ خوشی سے یہ کام کریں نہ کہ رنج سے کیونکہ اس صورت میں تمہیں کچھ فائدہ نہیں۔“
تنبیہ قبول کرنا
۹. خدائی تابعداری میں اکثر کیا شامل ہوتا ہے؟
۹ خدائی تابعداری اکثر ان کی طرف سے تنبیہ قبول کرنے کا معاملہ ہے جو نگہبانوں کے طور پر خدمت کرتے ہیں۔ اگر ہم ہمیشہ خود کو ضروری تربیت نہیں دیتے تو ہمیں انکی طرف سے مشورت اور تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے جو ایسا کرنے کا تجربہ اور اختیار رکھتے ہیں، جیسے کہ ہمارے کلیسیائی بزرگ۔ ایسی تنبیہ کو قبول کرنا دانشمندی کی روش ہے۔—امثال ۱۲:۱۵، ۱۹:۲۰۔
۱۰. جو تربیت دیتے ہیں انکی ذمہداری کیا ہے؟
۱۰ ظاہر ہے کہ تربیت دینے والے بزرگوں کو خود بھی خدائی تابعداری کے عمدہ نمونے ہونا چاہیے۔ کیسے؟ گلتیوں ۶:۱ کے مطابق انکے پاس نہ صرف مشورت دینے کا عمدہ طریقہ ہونا چاہیے بلکہ انہیں قابلنمونہ ہونا چاہیے: ”اے بھائیو! اگر کوئی آدمی کسی قصور میں پکڑا بھی جائے تو تم جو روحانی ہو اسکو حلممزاجی سے بحال کرو اور اپنا بھی خیال رکھ۔ کہیں تو بھی آزمایش میں نہ پڑ جائے۔“ دوسرے لفظوں میں ضرور ہے کہ بزرگ کی مشورت اسکے نمونے کے مطابق ہو۔ ایسی بات ۲-تیمتھیس ۲:۲۴، ۲۵ اور ططس ۱:۹ میں دی گئی نصیحت کے مطابق ہے۔ جیہاں، وہ جو سرزنش یا اصلاح کرتے ہیں انہیں بہت محتاط ہونا چاہیے کہ کبھی سختگیر نہ ہوں۔ انہیں ہمیشہ نرممزاج، مہربان، مگر خدا کے کلام کے اصولوں کو برقرار رکھنے والا ہونا چاہیے۔ انہیں غیرجانبدار سننے والا ہو کر، محنت اٹھانے والوں اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگوں کو تازگی دینے والا ہونا چاہیے۔—مقابلہ کریں متی ۱۱:۲۸-۳۰۔
اعلی حکومتوں کیلئے تابعداری
۱۱. مسیحیوں سے دنیاوی حکومتوں کے ساتھ انکے تعلقات کے سلسلے میں کیا تقاضا کیا گیا ہے؟
۱۱ خدائی تابعداری ہم سے دنیاوی حکومتوں کی فرمانبرداری کرنے کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ ہمیں رومیوں ۳:۱ مشورت دی گئی ہے: ”ہر شخص اعلی حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔“ یہ الفاظ، دوسری چیزوں کیساتھ، ہم سے ٹریفک قوانین کی فرمانبرداری کرنے اور ٹیکسوں اور خراج کی ادائیگی کرنے میں ایماندار ہونے کا تقاضا بھی کرتے ہیں، جیسے کہ رومیوں ۱۳:۷ میں پولس رسول قلمبند کرتا ہے۔
۱۲. کس مفہوم میں قیصر کیلئے ہماری تابعداری نسبتی ہے؟
۱۲ تاہم، ضرور ہے کہ قیصر کیلئے ایسی تمام تابعداری نسبتی ہو۔ ضرور ہے کہ ہم اس اصول کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں جسے یسوع مسیح نے بیان کیا، جو کہ متی ۲۲:۲۱ میں درج ہے: ”پس جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“ رومیوں ۱۳:۱ پر آکسفورڈ اینآئیوی [نیو انٹرنیشنل ورشن] سکوفیلڈ اسٹڈی بائبل اظہارخیال کرتی ہے: ”اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسے بداخلاق یا مسیحیت کے خلاف ضابطوں کی فرمانبرداری کرنی ہے۔ ایسے معاملات میں اسکی ذمہداری یہ ہے کہ انسانوں کی نسبت خدا کی فرمانبرداری کرے (اعمال ۵:۲۹، سیپی۔ دانیایل ۳:۱۶-۱۸، ۶:۱۰ایفایف)۔“
خاندانی دائرے میں خدائی تابعداری
۱۳. خاندانی دائرے میں خدائی تابعداری اپنے ممبروں سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
۱۳ خاندانی دائرے میں خاوند اور باپ سردار کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ تقاضا کرتا ہے کہ بیویاں افسیوں ۵:۲۲، ۲۳ میں دی گئی مشورت پر دھیان دیں: ”اے بیویو! اپنے شوہروں کی ایسی تابع رہو جیسے خداوند کی۔ کیونکہ شوہر بیوی کا سر ہے جیسے کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے۔“ a جہانتک بچوں کا تعلق ہے تو وہ خود اپنے ضابطے قائم نہیں کرتے بلکہ باپ اور ماں دونوں کیلئے خدائی تابعداری کے پابند ہیں، جیسے کہ پولس افسیوں ۶:۱-۳ میں واضح کرتا ہے: ”اے فرزندو! خداوند میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ واجب ہے۔ اپنے باپ کی اور ماں کی عزت کر (یہ پہلا حکم ہے جسکے ساتھ وعدہ بھی ہے)۔ تاکہ تیرا بھلا ہو اور تیری عمر زمین پر دراز ہو۔“
۱۴. خدائی تابعداری خاندانی سرداروں سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
۱۴ بلاشُبہ، جب خاوند اور باپ خود خدائی تابعداری ظاہر کرتے ہیں تو یہ بیویوں اور بچوں کیلئے ایسی خدائی تابعداری بجا لانے کو آسان بنا دیتا ہے۔ وہ اسے اپنی سرداری کو بائبل اصولوں کی مطابقت میں عمل میں لانے سے کرتے ہیں، جیسے کہ وہ جو افسیوں ۵:۲۸، ۲۹ اور ۶:۴ میں ملتے ہیں: ”اسی طرح شوہروں کو لازم ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں۔ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے محبت رکھتا ہے۔ کیونکہ کبھی کسی نے اپنے جسم سے دشمنی نہیں کی بلکہ اسکو پالتا اور پرورش کرتا ہے جیسے مسیح کلیسیا کو۔“ ”اے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر انکی پرورش کرو۔“
خدائی تابعداری دکھانے میں امداد
۱۵. خدائی تابعداری دکھانے کیلئے روح کا کونسا پھل ہماری مدد کریگا؟
۱۵ ان مختلف حلقوں میں خدائی تابعداری دکھانے کیلئے کیا چیز ہماری مدد کریگی؟ پہلا، بےغرض محبت ہے—یہوواہ خدا اور انکے لئے محبت جنہیں اس نے ہمارے اوپر مقرر کیا ہے۔ ہمیں ۱-یوحنا ۵:۳ میں بتایا گیا ہے: ”اور خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اسکے حکموں پر عمل کریں اور اسکے حکم سخت نہیں۔“ یسوع نے اسی نکتے کو یوحنا ۱۴:۱۵ میں بیان کیا: ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“ واقعی، محبت—روح کے پھلوں میں سے اولین—ہماری مدد کریگی کہ اس سب کی قدر کریں جو یہوواہ نے ہمارے لئے کیا ہے اور یوں خدائی تابعداری کو عمل میں لانے کیلئے ہماری مدد کریگی۔—گلتیوں ۵:۲۲
۱۶. خدائی تابعداری دکھانے میں خدائی خوف کیا مدد کرتا ہے؟
۱۶ دوسرا، خدائی خوف ہے۔ یہوواہ خدا کو ناراض کرنے کا خوف ہماری مدد کریگا کیونکہ اسکا مطلب ”بدی سے عداوت ہے۔“ (امثال ۸:۱۳) یقینی طور پر، یہوواہ کو ناراض کرنے کا خوف ہمیں انسان کے ڈر کی وجہ سے مصالحت کرنے سے باز رکھیگا۔ یہ خدا کی ہدایات کی فرمانبرداری کرنے کیلئے بھی ہماری مدد کریگا خواہ اس کے لئے ہمیں کتنی ہی مشکلات پر قابو پانا پڑے۔ اسکے علاوہ، یہ ہمیں آزمائشوں یا غلط کاری کی رغبتوں کے سامنے جھک جانے سے بھی بچائے گا۔ صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ یہوواہ کا خوف ہی تھا جس نے ابرہام کو اپنے پیارے بیٹے اضحاق کو قربانی کے پر طور پیش کرنے کی کوشش کرنے کے قابل بنایا، اور یہ یہوواہ کو ناراض کرنے کا خوف ہی تھا جس نے یوسف کو فوطیفار کی بیوی کے بداخلاق اظہارمحبت کا کامیابی کیساتھ مقابلہ کرنے کے قابل بنایا۔—پیدایش ۲۲:۱۲، ۳۹:۹۔
۱۷. ہماری طرف سے خدائی تابعداری کو عمل میں لانے میں ایمان کیا کردار ادا کرتا ہے؟
۱۷ تیسری مدد یہوواہ خدا پر ایمان ہے۔ ایمان ہمیں امثال ۳:۵، ۶ میں دی گئی مشورت پر دھیان دینے کے قابل بنائیگا۔ ”سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا۔“ جب ہم غیرمنصفانہ طور پر تکلیف اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں یا ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہماری نسل یا قومیت کی وجہ سے یا بعض شخصیتی تصادم کی وجہ سے امتیاز برتا گیا ہے تو ایمان خاص طور پر ہماری مدد کریگا۔ جب بعض کی ایک بزرگ یا ایک خدمتگزار خادم کے طور پر خدمت کرنے کیلئے سفارش نہیں کی جاتی تو وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ انہیں ناروا طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ اگر ہم ایمان رکھتے ہیں، تو ہم یہوواہ کا انتظار کرینگے کہ اپنے مقررہ وقت پر معاملات کو درست کرے۔ اس اثنا میں ہمیں صبر سے برداشت کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔—نوحہ ۳:۲۶۔
۱۸. ہماری طرف سے خدائی تابعداری دکھانے کیلئے چوتھی مدد کیا ہے؟
۱۸ چوتھی مدد فروتنی ہے۔ ایک فروتن شخص کو خدائی تابعداری دکھانے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی کیونکہ ”ذہنی انکساری سے وہ سمجھتا ہے کہ دوسرے اس سے بہتر ہیں۔“ ایک فروتن شخص خود کو ”سب سے چھوٹا“ رکھنے کیلئے تیار ہوتا ہے۔ (فلپیوں ۲:۲-۴، لوقا ۹:۴۸) لیکن مغرور شخص تابعداری میں رہنے سے آزردہ ہوتا اور اس پر غصے میں لال پیلا ہوتا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ایسا شخص تنقید کے ذریعے بچائے جانے کی نسبت تعریف سے برباد ہوگا۔
۱۹. واچٹاور سوسائٹی کے سابق صدر نے فروتنی کی کونسی عمدہ مثال فراہم کی؟
۱۹ فروتنی اور خدائی تابعداری کی ایک عمدہ مثال ایک بار واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے دوسرے صدر جوزف روتھر فورڈ نے فراہم کی۔ جب ہٹلر نے جرمنی میں یہوواہ کے گواہوں کے کام پر پابندی عائد کر دی تو وہاں کے بھائیوں نے اسے یہ پوچھنے کیلئے لکھا کہ اپنے اجلاسوں اور اپنی منادی کی کارگزاری پر پابندی کے پیشنظر انہیں کیا کرنا چاہیے۔ اس نے اسکا ذکر بیتایل خاندان سے کیا اور صافگوئی سے تسلیم کیا کہ وہ نہیں جانتا کہ جرمن بھائیوں کو کیا بتائے، خاص طور پر متعلقہ سخت سزاؤں کے پیشنظر۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی جانتا ہے کہ انہیں کیا بتایا جائے تو وہ اسے سنکر خوش ہوگا۔ کیا ہی فروتن روح!b
خدائی تابعداری ظاہر کرنے کے فوائد
۲۰. خدائی تابعداری ظاہر کرنا کن برکات پر منتج ہوتا ہے؟
۲۰ یہ پوچھنا بھی اچھا ہو سکتا ہے کہ خدائی تابعداری دکھانے کے فائدے کیا ہیں؟ یقیناً، بہت سے ہیں۔ ہم ان پریشانیوں اور مایوسیوں سے بچتے ہیں جو ان کا حصہ ہے جو خودمختاری سے کام کرتے ہیں۔ ہم یہوواہ خدا کے ساتھ ایک اچھے رشتے سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ ہم اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ بہترین رفاقت رکھتے ہیں۔ اسکے علاوہ، قانون کے مطابق کام کرنے سے ہم دنیاوی حکومتوں سے غیرضروری تکلیف اٹھانے سے بچتے ہیں۔ ہم خاوندوں، بیویوں، والدین، اور بچوں کے طور پر ایک خوشحال خاندانی زندگی سے بھی لطف اٹھاتے ہیں۔ علاوہازیں، خدائی تابعداری قائم رکھنے سے، ہم امثال ۲۷:۱۱ میں دی گئی مشورت کی مطابقت میں عمل کرتے ہیں: ”اے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ میں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔“ (۱۴ ۲/۱ W۹۳)
[فٹنوٹ]
a ایک پائنیر خادم نے ایک غیرشادیشدہ پائنیر کے سامنے اپنے بیوی کے احترام اور پرمحبت حمایت کی تعریف کی۔ غیرشادیشدہ پائنیر نے سوچا کہ اس کے دوست کو اپنی بیوی کی دیگر صفات کی بابت بھی کچھ کہنا چاہیے تھا۔ مگر کئی سال بعد جب اس غیرشادیشدہ پائنیر نے خود شادی کی تو اسے معلوم ہوا کہ ازدواجی خوشحالی کیلئے بیوی کی طرف سے پرمحبت حمایت کتنی زیادہ اہم ہوتی ہے۔
b کافی زیادہ دعا اور خدا کے کلام کے مطالعے کے بعد، جوزف روتھر فورڈ نے واضح طور پر اس جواب کو بھانپ لیا جو اسے جرمنی میں بھائیوں کو دینا چاہیے تھا۔ یہ اس کا کام نہیں تھا کہ انہیں بتائے کہ کیا کریں یا کیا نہ کریں۔ انکے پاس خدا کا کلام تھا جس نے واضح طور پر انہیں بتا دیا تھا کہ اکٹھے جمع ہونے اور گواہی دینے کی بابت انہیں کیا کرنا چاہیے۔ پس جرمن بھائیوں نے چھپ کر کام کرنا شروع کر دیا مگر اکٹھے جمع ہونے اور یہوواہ کے نام اور بادشاہت کے متعلق گواہی دینے کیلئے اس کے احکام کی تعمیل کرتے رہے۔
نظرثانی کے سوالات
▫ خدا نے کن انسانوں کو رابطے کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا ہے، اور اسکے خادم انہیں کیا دینے کے پابند تھے؟
▫ کن مختلف رشتوں میں خدائی تابعداری کا اطلاق ہوتا ہے؟
▫ کونسے اوصاف خدائی تابعداری دکھانے کیلئے ہماری مدد کرینگے؟
▫ خدائی تابعداری کن برکات پر منتج ہوتی ہے؟
[تصویر]
خدا نے یروشلیم کی ہیکل کی انتظامیہ کو اپنی امت کو اپنی مرضی سے آگاہ کرنے کیلئے استعمال کیا
[تصویریں]
وہ حلقے جہاں پر ہم خدائی تابعداری ظاہر کر سکتے ہیں