کیا نیکی کبھی بدی پر غالب آئیگی؟
کوئی دو ہزار سال پہلے، ایک بےگناہ شخص، یسوع مسیح، اپنی زندگی کے مقدمے کی سماعت سے دوچار تھا۔ برے آدمی اسے اس لئے ہلاک کرنے کی سازش کر رہے تھے کہ اس نے سچ بولا تھا۔ اس پر بغاوتانگیز تقاریر کرنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا اور ہجوم نے اسکے قتل کا پرزور مطالبہ کیا۔ ایک رومی گورنر جسے اپنا سیاسی وقار ایک فروتن بڑھئی کی زندگی سے کہیں زیادہ عزیز تھا، اس نے یسوع کو ایک اذیتناک موت کی سزا سنائی۔ ہر طرح سے یہی دکھائی دیتا تھا کہ بدی نے فتح پائی تھی۔
تاہم، اپنے قتل سے ایک رات پہلے، یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا: ”میں دنیا پر غالب آیا ہوں۔“ (یوحنا ۱۶:۳۳) اس کا کیا مطلب تھا؟ کسی حد تک یہ کہ دنیا کی بدی نے نہ تو اسے تلخ بنایا تھا اور نہ ہی انتقام لینے کا عمل اختیار کرنے پر اکسایا تھا۔ دنیا نے اسے بدی کے سانچے میں نہ ڈھالا تھا۔ (مقابلہ کریں رومیوں ۱۲:۲، فلپس۔) یہاں تک کہ جان دیتے وقت بھی اس نے اپنے قتل کرنے والوں کی خاطر دعا کی: ”اے باپ انکو معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔“—لوقا ۲۳:۳۴۔
یسوع نے—اپنی آخری سانس تک—اسکا مظاہرہ کیا کہ بدی پر غالب آیا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو بھی بدی کے خلاف اپنی جنگ لڑنے کی تاکید کی۔ وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اس صحیفائی مشورت پر دھیان دینے سے کہ ”بدی کے عوض کسی سے بدی نہ کرو“ اور یہ کہ ”نیکی کے ذریعے بدی پر غالب آؤ“ جیسے کہ یسوع نے کیا تھا۔ (رومیوں ۱۲:۱۷، ۲۱) لیکن کیا ایسی روش واقعی کارگر ہے؟
ڈاخاؤ میں بدی کے خلاف لڑائی
الزا ڈاخاؤ میں قید ایک جرمن عورت تھی جس نے ایک ۱۴-سالہ روسی لڑکی کو ایک بیشقیمت تحفہ دیا، جیہاں ایمان اور امید کا تحفہ۔
ڈاخاؤ سیاسی قیدیوں کا ایک بدنام کیمپ ہے جہاں ہزاروں کو زہریلی گیس کے ذریعے مار دیا جاتا تھا اور سینکڑوں، بشمول اس نوعمر روسی لڑکی کے خوفناک طبّی تجربوں کا ہدف تھے۔ ڈاخاؤ بدی کی ایک مختصر صورت دکھائی دیتا تھا۔ تاہم، اس بظاہر بنجر زمین میں نہ صرف نیکی پھوٹ نکلی بلکہ اس نے بہت ترقی بھی کی۔
الزا اس جواں سال لڑکی کے لئے بہت زیادہ افسردہ تھی جسے مجبور کیا گیا تھا کہ ایس ایس کے گارڈز کے ہاتھوں اپنی ماں کی وحشیانہ عصمتدری کو دیکھے۔ الزا نے، اپنی جان خطرے میں ڈال کر، اس لڑکی کیساتھ نیکی اور بدی کی بابت اور قیامت کی صیحفائی امید کی بابت گفتگو کرنے کے مواقع حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی چھوٹی دوست کو نفرت کی بجائے محبت کرنا سکھایا۔ اور الزا کی وجہ سے وہ روسی لڑکی ڈاخاؤ کی دہشت سے زندہ بچ نکلی۔
الزا نے جو کچھ بھی کیا وہ اسلئے تھا کیونکہ وہ مسیح کے بےغرض نمونے کی نقل کرنا چاہتی تھی۔ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کے طور پر اس نے یہ سیکھ لیا تھا کہ بدی کے عوض بدی نہیں کرنی چاہیے اور اس کے ایمان نے اسے تحریک دی کہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے میں مدد دے۔ اگرچہ اس نے ڈاخاؤ میں تکلیف اٹھائی، تو بھی اس نے بدی کے ایک نظامحکومت پر اخلاقی فتح حاصل کی۔ اور صرف وہی تنہا ایسی نہ تھی۔
پال جانسن نے اپنی کتاب اے ہسٹری آف کرسچینیٹی میں لکھا کہ ”[یہوواہ کے گواہوں] نے نازی ریاست کیساتھ کسی بھی طرح کا تعاون کرنے سے انکار کیا جس کی بابت وہ اعلانیہ یہ کہتے تھے کہ یہ بالکل برے ہیں۔ ... ستانوے فیصد نے کسی نہ کسی طرح کی اذیت اٹھائی۔“ کیا یہ بیکار جدوجہد تھی؟ کتاب ویلیوز اینڈ وایولینس ان آشوتز میں پولینڈ کے ماہرعمرانیات اینا پاول شنسکا نے گواہوں کی بات کہا: ”قیدیوں کا یہ چھوٹا سا گروہ ایک مضبوط نظریاتی قوت تھا اور انہوں نے نازیازم کے خلاف اپنی لڑائی جیتی۔“
اگرچہ، ہم میں سے اکثر کے لئے، بنیادی طور جنگ باہر کی برائی کے بجائے باطنی برائی کیخلاف لڑی جاتی ہے۔ یہ ہمارے اندر کی ایک کشمکش ہے۔
اپنے اندر کی بدی پر غالب آنا
رسول پولس نے اس لڑائی کو اس طرح سے بیان کیا: ”چنانچہ جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اسے کر لیتا ہوں۔“ (رومیوں ۷:۱۹) جیسے کہ پولس بھی جانتا تھا نیکی کرنا ہمیشہ فطرتاً واقع نہیں ہوتا۔
اوخینیوa ایک جوان ہسپانوی شخص تھا جس نے دو سال تک اپنی بری رغبتوں کے خلاف جنگ لڑی۔ وہ بیان کرتا ہے، ”مجھے اپنے اوپر بڑی سختی کرنی پڑی کیونکہ اوائل عمری ہی سے میرے اندر بداخلاق ہونے کا رجحان تھا۔ بطور ایک نوعمر کے میں جان بوجھ کر اغلام بازی کی رنگ رلیوں میں پڑا ہوا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میں اس قسم کے طرززندگی سے لطف اٹھاتا تھا۔“ بالآخر کس چیز نے اسے تبدیلی لانے پر آمادہ کیا؟
”میں خدا کو خوش کرنا چاہتا تھا، اور میں نے بائبل سے یہ سیکھ لیا کہ جیسی زندگی میں گزار رہا تھا وہ اسے پسند نہیں کرتا“، اوخینیو کہتا ہے۔ ”پس میں نے ایک مختلف طرح کا شخص بننے کا فیصلہ کیا، جو خدا کی ہدایات پر چلتا ہو۔ ہرروز مجھے منفی گندے، خیالات کے خلاف لڑنا پڑتا تھا جو کہ ابھی تک میرے ذہن میں امنڈ آتے تھے۔ میں اس جنگ کو جیتنے کا عزممُصمم کئے ہوئے تھا، اور میں نے لگاتار خدا کی مدد کے لئے دعا کی۔ دوسال کے بعد یہ بدترین حالت ختم ہو گئی، اگرچہ یہ بدترین حالت ختم ہو گئی، میں ابھی تک اپنے اوپر سختی کرتا ہوں۔ لیکن جدوجہد سودمند تھی۔ اب میرے پاس عزتنفس ہے، اچھی شادی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کیساتھ ایک اچھا رشتہ ہے۔ ذاتی تجربے سے میں یہ جانتا ہوں کہ اگر آپ واقعی کوشش کریں تو—برے خیالات کو بارور ہونے سے پہلے ہی دل سے دور کیا جا سکتا ہے۔“
ہر بار جب ایک برے خیال کو مسترد کیا جاتا ہے، تو ہر بار جب ہم بدی کے عوض بدی کرنے سے انکار کرتے ہیں بدی پر نیکی غالب آتی ہے۔ تاہم، ایسی فتوحات، اہمیت کی حامل ہونے کے باوجود، بدی کے دو خاص ذرائع کو ختم نہیں کر پاتیں۔ ہم کتنی ہی سخت کوشش کیوں نہ کریں، تو بھی، ہم مکمل طور پر اپنی موروثی کمزوریوں پر قابو نہیں پا سکتے، اور اسکے ساتھ ساتھ شیطان بھی ابھی تک بنیآدم پر اپنا بدکار اثرورسوخ رکھتا ہے۔ پس کیا یہ صورتحال کبھی تبدیل ہوگی؟
شیطان کو تباہ کرنا
یسوع کی جان دینے تک وفاداری شیطان کیلئے ایک بڑی شکست تھی۔ شیطان یسوع کی راستی کو توڑنے کی اپنی کوشش میں ناکام رہا اور اس ناکامی نے شیطان کے خاتمے کے آغاز کی نشاندہی کر دی۔ جیسے کہ بائبل بیان کرتی ہے، یسوع نے موت کا مزہ اس لئے چکھا تاکہ ”موت کے وسیلہ سے ... ابلیس کو تباہ کر دے۔“ (عبرانیوں ۲:۱۴) اپنے مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا: ”آسمان اور زمین کا کل اختیار مجھے دیا گیا ہے۔“ (متی ۲۸:۱۸) اور اس اختیار کو شیطان کے کاموں کو کالعدم قرار دینے کیلئے استعمال کیا جائیگا۔
مکاشفہ کی کتاب اس دن کی بابت بیان کرتی ہے جب یسوع شیطان کو آسمان سے نکال دیگا۔ اس سب سے بڑے بدکار کو، اسکے شیاطین کے ہمراہ زمین کے گردونواح تک محدود کر دیا جانا تھا۔ نتیجہ کے طور پر، بائبل آگاہ کرتی ہے کہ بدی بڑھ جائیگی: ”اے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اتر کر آیا ہے۔ اس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“—مکاشفہ ۱۲:۷-۹، ۱۲۔
بائبل پیشینگوئی ظاہر کرتی ہے کہ یہ تاریخی واقعہ پہلے ہی سے—پہلی عالمی جنگ کے وقت میں—رونما ہو چکا ہے۔b اس سے برائی میں خاطرخواہ اضافے کی وجہ کی وضاحت ہو جاتی ہے جسے ہم نے اپنے زمانے میں دیکھا ہے۔ لیکن جلد ہی شیطان پر مکمل پابندی لگا دی جائیگی تاکہ وہ پھر کبھی بھی کسی پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔—دیکھیں مکاشفہ ۲۰:۱-۳۔
اس سب کا بنیآدم کیلئے کیا مطلب ہوگا؟
”وہ بدی نہ کرینگے“
خدا کی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر، یسوع جلد ہی ”زمین پر اپنے اختیار“ کو ایک ازسرنو روحانی تعلیم کے پروگرام کو منظم کرنے کیلئے استعمال کریگا۔ ”دنیا کے باشندے صداقت سیکھتے ہیں۔“ (یسعیاہ ۲۶:۹) ہر ایک کے لئے اس کے فوائد بالکل واضح ہونگے۔ بائبل ہمیں یقیندہانی کراتی ہے: ”وہ ... ضرر نہ پہنچائینگے [”وہ بدی نہ کرینگے“، گرینز انٹرلینئر ہبریو/گریک انگلش بائبل] نہ ہلاک کرینگے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہوگی۔“—یسعیاہ ۱۱:۹۔
اب بھی ہماری بہت سی بری رغبتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جب شیطانی اثر بالکل ہی نہ ہوگا تو یقیناً یہ اور زیادہ آسان ہوگا کہ ”بدی سے کنارہ [کریں] اور نیکی کو عمل میں [لائیں]۔“—۱-پطرس ۳:۱۱۔
ہمارے پاس یہ اعتماد رکھنے کی ہر وجہ ہے کہ بدی پر نیکی غالب آئیگی کیونکہ خدا نیک ہے اور اسکی مدد کیساتھ وہ جو نیکی کے خواہاں ہیں بدی پر غالب آ سکتے ہیں، جیسے کہ یسوع نے اپنے ذاتی نمونے سے ثابت کیا۔ (زبور ۱۱۹:۶۸) وہ جو اب بدی کا مقابلہ کرنے کے خواہشمند ہیں وہ ایک صاف ستھری زمین پر زندگی بسر کرنے کے مشتاق ہو سکتے ہیں جس پر خدا کی بادشاہت یعنی ایک ایسی حکومت حکمرانی کریگی جس نے بدی کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دینے کی ذمہداری اٹھائی ہے۔ زبورنویس انجام کو یوں بیان کرتا ہے: ”شفقت اور راستی باہم مل گئی ہیں۔ صداقت اور سلامتی نے ایک دوسرے کا بوسہ لیا ہے۔ راستی زمین سے نکلتی ہے اور صداقت آسمان پر سے جھانکتی ہے۔“—زبور ۸۵:۱۰، ۱۱۔ (۵ ۲/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a یہ اس کا اصلی نام نہیں۔
b مزید تفصیلات کے لئے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب یو کین لو فار ایور ان پیراڈائز آن ارتھ کے صفحات ۲۰-۲۲ کو دیکھیں۔