نیکی بمقابلہ بدی—ایک طویلالمدت کشمکش
ماضی کی فلموں میں، ”نیک شخص“ ہمیشہ بدی کی طاقتوں کو شکست دیتا تھا۔ لیکن حقیقت کبھی اتنی آسان نہیں ہوتی۔ اکثر اوقات، حقیقی دنیا میں، بدی کی بالادستی دکھائی دیتی ہے۔
رات کی خبروں میں برائی کے کاموں کی خوفناک خبریں باقاعدہ پیش کی جاتی ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے شمال میں، ملواکی کا ایک آدمی ۱۱ اشخاص کو قتل کرتا ہے اور انکے کٹے ہوئے جسموں کے بقیہ حصوں کو اپنے فریزر میں ذخیرہ کر لیتا ہے۔ جنوب کے دورافتادہ علاقے میں، ایک اجنبی ٹیکساس کے کیفیٹیریا میں اچانک نمودار ہوتا ہے اور دس منٹ تک بغیر سوچےسمجھے گولیاں چلانے سے خود سمیت ۲۳ آدمیوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ کوریا میں ایک غیرمطمئن مخالف یہوواہ کے گواہوں کے ایک کنگڈم ہال کو آگ لگا کر ۱۴ پرستاروں کو ہلاک کر دیتا ہے۔
برائی کے نہ صرف یہ شاذونادر واقعات ہیں بلکہ ایک مزید خوفناک برائی ہے جو دنیا پر اثر کرتی ہے---نسلکشی۔ یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ صرف اسی صدی میں ایک ملین آرمینینز، چھ ملین یہودی اور ایک ملین سے زائد کمبوڈینز کو نسلی اور سیاسی ناپسندیدگی کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ نام نہاد نسلی صفائی نے بہتیروں کو سابقہ یوگوسلاویہ میں متاثر کیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ پوری دنیا میں کتنے ملین بیگناہ لوگوں کو وحشیانہ طور پر اذیت دی گئی ہے۔
اسی طرح کے المیے ہمیں اس پریشانکن سوال کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں کیوں لوگ اس طرح کا طرزعمل دکھاتے ہیں؟ ہم ان مظالم کو چند دیوانے ذہنوں کی پیداوار کے طور پر خیال کرتے ہوئے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ ہماری اس صدی کے اندر کی جانے والی سراسر برائی کی وسعت کسی بھی ایسی وضاحت کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔
ایک برے فعل کی تشریح ایک ایسے کام کے طور پر کی جاتی ہے جو کہ اخلاقی طور پر غلط ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جسکا مرتکب ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو کہ اچھے اور برے کام کے کرنے میں امتیاز کر سکتا ہے۔ کسی نہ کسی وجہ سے اسکی اخلاقی بصیرت بگڑ جاتی ہے اور یوں برائی جیت جاتی ہے۔ لیکن کیوں اور کیسے یہ واقع ہوتا ہے؟
بدی کی بابت مذہبی تشریحات اکثر غیرتسلیبخش ہوتی ہیں۔ کیتھولک فلاسفر تھامس ایکویناس نے یہ دعوی کیا کہ ”اگر خدا بدی کو رہنے کی اجازت نہ دے تو بہت سی نیکیاں ختم ہو جائیں۔“ بہتیرے پروٹسٹنٹ فلاسفر بھی اسی طرح کے نظریات رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جیسے کہ دی انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں بیان کیا گیا ہے گوتفرید لائپنتز بدی کو ”دنیا میں نیکی کا محض موزانہ خیال کرتا تھا جو اسے مقابلتاً بڑھا دیتا ہے۔“ باالفاظدیگر، وہ یہ یقین رکھتا تھا کہ نیکی کی قدر کرنے کیلئے ہمیں بدی کی ضرورت ہے۔ ایسا استدلال بالکل اسی طرح ہے جیسے کہ ایک کینسر کے مریض کو یہ بتانا کہ کسی دوسرے کو حقیقی خوشی اور صحت کا احساس دینے کیلئے اسکا بیمار ہونا ضروری ہے۔
برے ارادے کہیں نہ کہیں سے تو آتے ہیں۔ کیا بالواسطہ طور پر خدا پر الزام لگایا جائے؟ بائبل جواب دیتی ہے: ”جب کوئی آزمایا جائے تو یہ نہ کہے کہ میری آزمایش خدا کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے۔“ اگر خدا اس کا ذمہدار نہیں تو پھر کون ہے؟ اگلی آیات جواب دیتی ہیں: ”ہاں۔ ہر شخص اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔ پھر خواہش حاملہ ہو کر گناہ کو جنتی ہے۔“ (یعقوب ۱:۱۳-۱۵) پس ایک برا کام اس وقت جنم لیتا ہے جب ایک بری خواہش کو مسترد کرنے کی بجائے پروان چڑھنے دیا جاتا ہے۔ تاہم، تمامتر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔
صحائف وضاحت کرتے ہیں کہ بری خواہشات اس لئے جنم لیتی ہیں کہ نوعانسان کے اندر ایک بنیادی عیب—موروثی ناکاملیت—ہے۔ رسول پولس نے لکھا: ”پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اسلئے کہ سب نے گناہ کیا۔“ (رومیوں ۵:۱۲) موروثی گناہ کی وجہ سے، ہماری سوچ میں خودغرضی شاید ممکن ہے مہربانی کی جگہ لے لے اور ظلم شاید رحم پر حاوی ہو جائے۔
بلاشُبہ، لوگوں کی اکثریت جبلی طور پر اس سے واقف ہے کہ کس قسم کا رویہ غلط ہے۔ انکا ضمیر—یا جیسے کہ پولس اسے کہتا ہے ”شریعت کی باتیں جو انکے دلوں پر لکھی ہیں“—انہیں برا کام کرنے سے باز رکھتا ہے۔ (رومیوں ۲:۱۵) تاہم، ایک ظالمانہ ماحول ایسے احساسات کو دبا سکتا ہے اور اگر بار بار اسے نظرانداز کیا جائے تو ضمیر مردہ ہو سکتا ہے۔a—مقابلہ کریں ۱-تیمتھیس ۴:۲۔
کیا فقط انسانی ناکاملیت ہمارے زمانے کی منظم برائی کی توجیہ کر سکتی ہے؟ تاریخنویس جیفری برٹن رسل نے بیان کیا: ”یہ سچ ہے کہ برائی ہم سب میں ہی ہے لیکن بیشمار لوگوں کی انفرادی برائیوں کو یکجا کر دینے سے بھی آشوتز (پولینڈ کے نازی کنسنٹریشن کیمپ کا نام) کا جواب نہیں ملتا ... اس پیمانہ پر برائی ماہیتی اور کمیتی طور پر فرق دکھائی دیتی ہے۔“ یہ یسوع مسیح کے سوا اور کوئی نہ تھا جس نے ماہیتی اعتبار سے بدی کے اس مختلف منبع کی نشاندہی کی۔
اپنی موت سے کچھ ہی دیر پہلے، یسوع نے یہ بیان کیا کہ جو لوگ اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے وہ مکمل طور پر اپنی ہی مرضی سے ایسا نہیں کر رہے تھے۔ ایک نادیدنی قوت انکی راہنمائی کرتی تھی۔ یسوع نے انہیں کہا: ”تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا۔“ (یوحنا ۸:۴۴) ابلیس، جسے یسوع نے ”اس دنیا کا سردار“ کہا، واضح طور پر برائی کو پھیلانے میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔—یوحنا ۱۶:۱۱، ۱-یوحنا ۵:۱۹۔
انسانی ناکاملیت اور شیطانی اثر دونوں ہی ہزاروں سالوں سے بہت زیادہ تکلیف کا باعث رہے ہیں۔ اور اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ بنیآدم پر انکی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ کیا برائی قائم رہے گی؟ یا کیا بالآخر نیکی کی قوتیں بدی کو ختم کر دینگی؟ (۳ ۲/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a حال ہی میں محققین نے ٹیلیوژن پر صریحی تشدد اور نابالغوں کے جرائم کے درمیان تعلق کو دیکھا ہے۔ ایسے علاقے جہاں پر جرم بہت زیادہ ہے اور شکستہ گھرانے بھی سماج دشمن طرزعمل کے اسباب ہیں۔ نازی جرمنی میں نسلی عصبیت کا مسلسل پروپیگنڈا بعض لوگوں کیلئے یہودیوں اور سلاوز کے خلاف ظلم کو—جائز—اور یہاں تک کہ قابلفخر خیال کرنے کا باعث ہوا۔
[صفحہ 2 پر تصویر کا حوالہ]
Cover: U.S. Army photo
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
U.S. Army photo