اپنے خاندان کو بچا کر خدا کی نئی دنیا میں لے جانے کیلئے کام کریں
”تو ہی اے خداوند! انکی حفاظت کریگا۔ تو ہی انکو اس پُشت سے ہمیشہ تک بچائے رکھیگا۔“—زبور ۱۲:۷۔
۱، ۲. (ا)بعض خاندان کسطرح آخری دنوں کے بوجھوں کے تحت نباہ کر رہے ہیں؟ (ب) مسیحی خاندان کسطرح بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟
”آج میرا دل خوشی سے معمور ہے!“ جان نامی ایک مسیحی بزرگ نے خوشی سے کہا۔ اس بےحد خوشی کی وجہ؟ ”میرے ۱۴ سالہ بیٹے اور ۱۲ سالہ بیٹی نے بپتسمہ پایا،“ وہ بیان کرتا ہے۔ لیکن اسکی خوشی یہاں پر ہی ختم نہ ہو گئی۔ ”میرا ۱۷ سالہ بیٹا اور ۱۶ سالہ بیٹی دونوں گزشتہ سال امدادی پائنیر رہے ہیں،“ وہ اضافہ کرتا ہے۔
۲ ہمارے درمیان بہت سے خاندان جب بائبل اصولوں کا اطلاق کرتے ہیں تو اسی طرح کے عمدہ نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم بعض مسائل کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ”ہمارے پانچ بچے ہیں،“ ایک مسیحی جوڑا لکھتا ہے، ”اور ان کے ساتھ نباہ کرنا بتدریج نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ ہم پہلے ہی ایک بچے کو اس فرسودہ نظام میں کھو چکے ہیں۔ ہمارے نوجوان نوعمر ٹھیک اس وقت شیطان کے حملے کا اولین میدان دکھائی دیتے ہیں۔“ ایسے جوڑے بھی ہیں جو سخت ازدواجی جھگڑے کا تجربہ کر رہے ہیں، جو بعض اوقات علیٰحدگی یا طلاق پر منتج ہو رہے ہیں۔ تاہم، وہ خاندان جو مسیحی صفات کو ترقی دیتے ہیں شاید ”بڑی مصیبت“ میں سے بچ جائیں اور خدا کی آنے والی نئی دنیا میں محفوظ کر لئے جائیں۔ (متی ۲۴:۲۱، ۲۔پطرس ۳:۱۳) تو پھر آپ اپنے خاندان کے بچاؤ کا یقین کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
رابطے کو بہتر بنانا
۳، ۴. (ا)خاندانی زندگی میں رابطہ کتنا اہم ہے، اور اکثر اسکے ساتھ مسائل کیوں پیدا ہو جاتے ہیں؟ (ب) شوہروں کو اچھا سننے والا بننے کی کوشش کیوں کرنی چاہیے؟
۳ اچھا رابطہ ایک صحتمند خاندان کا خونحیات ہے، جب اسکی کمی ہو تو دباؤ اور کھچاؤ بڑھتا ہے۔ ”صلاح کے بغیر ارادے پورے نہیں ہوتے،“ امثال ۱۵:۲۲ کہتی ہے۔ دلچسپی سے، ایک شادی کی مشیر رپورٹ دیتی ہے: ”سب سے زیادہ جانا پہچانا شکوہ جو میں بیویوں سے سنتی ہوں اور جس پر میں صلاح دیتی ہوں یہ ہے کہ ”وہ مجھ سے بات نہیں کریگا،“ اور ”وہ میری نہیں سنتا۔“ اور جب میں اس شکوے کی بابت انکے شوہروں سے بات کرتی ہوں تو وہ میری بھی نہیں سنتے۔“
۴ کونسی چیز رابطے کی کمی کا سبب بنتی ہے؟ ایک بات تو یہ ہے کہ مرد اور عورتیں مختلف ہوتے ہیں، اور اکثر وہ نمایاں طور پر رابطے کے مختلف انداز رکھتے ہیں۔ ایک مضمون نے ذکر کیا کہ ایک شوہر اپنی باتچیت میں ”براہراست اور عملی ہونے کی طرف مائل ہوتا ہے،“ جبکہ ”[ایک بیوی] سب سے زیادہ جس چیز کی خواہش کرتی ہے وہ ایک ہمدرد سننے والا ہے۔“ اگر یہ آپکی شادی میں ایک مسئلہ پیدا کرتا ہے تو معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ ایک مسیحی شوہر کو ایک اچھا سننے والا بننے کیلئے شاید سخت محنت کرنے کی ضروت پڑے۔ ”ہر آدمی،“ یعقوب کہتا ہے، ”سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا ... ہو۔“ (یعقوب ۱:۱۹) جب آپکی بیوی محض ”ہمدردی“ کی خواہاں ہو تو حکم چلانے، فہمائش کرنے، یا لکچر جھاڑنے سے باز رہنا سیکھیں۔ (۱۔پطرس ۳:۸) ”صاحب علم کمگو ہے،“ امثال ۱۷:۲۷ کہتی ہے۔
۵. بعض طریقے کونسے ہیں جن سے شوہر اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرنے میں بہتری پیدا کر سکتے ہیں؟
۵ دوسری طرف ”بولنے کا ایک وقت“ ہے، اور آپکو اپنے خیالات اور احساسات کا پوری طرح سے اظہار کرنے والا بننے کیلئے سیکھنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ (واعظ ۳:۷) مثال کے طور پر، کیا آپ اپنی بیوی کی کامرانیوں کی تعریف کرنے میں فراخدل ہیں؟ (امثال ۳۱:۲۸) کیا آپ خود کو اس محنت کیلئے شکرگزار ظاہر کرتے ہیں جو وہ آپکی مدد کرنے اور گھرانے کی دیکھ بھال کرنے میں کرتی ہے؟ (مقابلہ کریں کلسیوں ۳:۱۵۔) یا شاید آپکو زبان سے [”پیار کی باتیں، NW“] کرنے میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ (غزلالغزلات ۱:۲) شروع میں ایسا کرنا شاید آپکو عجیب دکھائی دے، لیکن اپنی بیوی کو اسکے لئے اپنی محبت میں تحفظ کا احساس دلانا مفید ہو سکتا ہے۔
۶. خاندانی رابطے کو بہتر بنانے کیلئے بیویاں کیا کر سکتی ہیں؟
۶ مسیحی بیویوں کی بابت کیا ہے؟ ایک بیوی کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا ہے کہ اسکا شوہر جانتا ہے کہ وہ اسکی قدر کرتی ہے، لہذا اسکے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اس سے یہ کہے۔ تاہم، مرد بھی قدرافزائی، تعریف، اور تعریفی کلمات سے پھلتے پھولتے ہیں۔ (امثال ۱۲:۸) اس سلسلے میں کیا آپکو زیادہ اظہار کرنیوالا ہونے کی ضرورت ہے؟ دوسری طرف، شاید آپ کو اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہو کہ آپ کیسی سننے والی ہیں۔ اگر آپکا شوہر اپنے مسائل، اندیشوں، یا تفکرات پر کھل کر باتچیت کرنے کو مشکل پاتا ہے تو کیا آپ نے یہ سیکھ لیا ہے کہ کیسے موقعشناسی اور مہربانی کیساتھ اسے کھل کر گفتگو کرنے کی تحریک دیں؟
۷. کیا چیز ازدواجی جھگڑوں کے چھڑنے کا سبب بن سکتی ہے، اور انہیں کسطرح روکا جا سکتا ہے؟
۷ بلاشُبہ، ایسے جوڑے جو بالعموم اچھی طرح سے رہتے ہیں کبھی کبھار رابطے میں خرابی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جذبہ استدلال پر چھا جائے یا شاید ایک پرسکون باتچیت تیزی سے ایک گرماگرم جھگڑے کی شکل اختیار کر لے۔ (امثال ۱۵:۱) ”ہم سب کے سب اکثر خطا کرتے ہیں،“ تاہم، شاید ہی کوئی ازدواجی تکرار شادی کے خاتمے پر منتج ہوا ہو۔ (یعقوب ۳:۲) مگر ”شوروغل اور بدگوئی“ ہر طرح کے رشتے کیلئے تباہکن اور غیرموزوں ہیں۔ (افسیوں ۴:۳۱) جب رنج پہنچانے والے الفاظ کا تبادلہ کیا جا چکا ہو تو صلح کرنے میں جلدی کریں۔ (متی ۵:۲۳، ۲۴) اگر آپ دونوں افسیوں ۴:۲۶ میں پولس کے الفاظ: ”سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے“ کا اطلاق کریں تو جھگڑوں کو اکثر شروع ہی میں روکا جا سکتا ہے۔ جیہاں، مسائل پر اس وقت باتچیت کریں جبکہ وہ ہنوز چھوٹے اور سلجھانے کے قابل ہیں، اس وقت تک انتظار نہ کریں جبتک کہ آپکے جذبات بھڑک اٹھنے کی حد کو نہیں پہنچ جاتے۔ تشویش پیدا کرنے والے معاملات پر باتچیت کرنے کیلئے ہر روز چند منٹ صرف کرنا رابطے کو ترقی دینے اور غلطفہمیوں کو روکنے کیلئے بہت کچھ کر سکتا ہے۔
”یہوواہ کی طرف سے ذہنی تربیت“
۸. بعض نوجوان سچائی سے آہستہ آہستہ دور کیوں جا سکتے ہیں؟
۸ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بعض والدین اپنے بچوں کے تھوڑی بہت راہنمائی کیساتھ پرورش پانے سے مطمئن ہیں۔ بچے اجلاسوں پر حاضر ہوتے اور میدانی خدمت میں کچھ حصہ لیتے ہیں، لیکن اکثر انہوں نے خدا کے ساتھ اپنا ذاتی رشتہ قائم نہیں کیا ہوتا۔ وقت آنے پر ”جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش“ ایسے بہت سے نوجوانوں کے سچائی سے دور ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ (۱-یوحنا ۲:۱۶) والدین کیلئے یہ کتنا افسوسناک ہوگا کہ خود تو ہرمجدون سے بچ جائیں مگر ماضی کی لاپرواہی کی وجہ سے اپنے بچوں کو مقتولوں کے طور پر پیچھے چھوڑ دیں!
۹، ۱۰. (ا)”یہوواہ کی طرف سے [ذہنی تربیت، NW] اور نصیحت دے دیکر“ بچوں کی پرورش کرنے میں کیا شامل ہے؟ (ب) بچوں کو اپنے احساسات کا آزادی سے اظہار کرنے کی اجازت دینا کیوں اہم ہے؟
۹ لہذا پولس نے لکھا: ”اے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر انکی پرورش کرو۔“ (افسیوں ۶:۴) ایسا کرنے کیلئے آپکو خود یہوواہ کے معیاروں سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے۔ جب تفریحوطبع کے انتخاب، ذاتی مطالعے، اجلاس پر حاضری، اور میدانی خدمت جیسے معاملات کی بات آتی ہے تو آپکو ایک صحیح نمونہ قائم کرنا چاہیے۔ پولس کے الفاظ یہ بھی دلالت کرتے ہیں کہ ایک باپ یا ماں کو (۱) اپنے بچوں پر تیزفہمی سے نگاہ رکھنے اور یہ کہ اسے (۲) انکے ساتھ اچھا رابطہ برقرار رکھنے والا ہونا چاہیے۔ تب ہی آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ انہیں کس بات میں ”ذہنی تربیت“ کی ضرورت ہے۔
۱۰ اٹھتی جوانی والوں کا کسی حد تک آزادی کیلئے کوشش کرنا قدرتی امر ہے۔ تاہم، آپکو انکی باتچیت، سوچ، لباس اور آرائش، اور دوستوں کے چناؤ میں دنیاوی اثر کی واضح علامات کے سلسلے میں چوکس رہنا چاہیے۔ ایک دانشمند باپ نے کہا جیسے کہ امثال ۲۳:۲۶ میں درج ہے: ”اے میرے بیٹے! اپنا دل مجھ کو دے۔“ کیا آپکے بچے اپنے احساسات اور جذبات میں آپکو شریک کرنے کیلئے آزاد محسوس کرتے ہیں؟ جب بچوں کو فوری مذمت کا خوف نہیں ہوتا تو وہ اسکا اظہار کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں کہ وہ غیرتدریسی سرگرمیوں، معاشقانہ ملاقاتوں، اعلی تعلیم، یا پھر عین بائبل سچائی جیسے معاملات کی بابت درحقیقت کیسا محسوس کرتے ہیں۔
۱۱، ۱۲. (ا)خاندانی رابطے کو ترقی دینے کیلئے کھانے کے اوقات کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ (ب) ایک والد یا والدہ کی طرف سے اپنے بچوں کیساتھ رابطے کو فروغ دینے کیلئے مستقل کوششوں کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟
۱۱ بہت سے ممالک میں یہ رواج ہے کہ خاندان ملکر کھانا کھاتے ہیں۔ لہذا دوپہر یا رات کا کھانا خاندان کے تمام افراد کیلئے ترقیبخش گفتگو میں حصہ لینے کا اچھا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ اکثروبیشتر ٹیوی اور دیگر تفریحات خاندانی کھانے کی جگہ لے لیتی ہیں۔ لگاتار کئی گھنٹوں تک، گویا، آپ کے بچے اسکول میں عملاً گرفتہ یرغمال اور دنیاوی سوچ کی زد میں ہوتے ہیں۔ کھانے کے اوقات اپنے بچوں کیساتھ رابطہ پیدا کرنے کیلئے ایک اچھا وقت ہوتے ہیں۔ ”ہم کھانے کے وقت کو ان چیزوں کی بابت باتچیت کرنے میں استعمال کرتے ہیں جو دن بھر رونما ہوئیں،“ ایک والدہ کہتی ہے۔ تاہم، کھانے کے اوقات کو پریشان کرنے والے تادیبی سیشن یا مباحثے بننے کی ضرورت نہیں۔ موقعے کو پرلطف اور پرسکون رکھیں!
۱۲ بچوں کو اپنے ساتھ آزادی سے باتچیت کرنے کیلئے آمادہ کرنا چیلنجخیز ہے اور بےپناہ صبر کا تقاضا کر سکتا ہے۔ تاہم، وقت آنے پر، آپ دل کو گرما دینے والے نتائج دیکھ سکتے ہیں۔ ”ہمارا ۱۴ سالہ بیٹا افسردہ اور بجھابجھا رہتا تھا،“ ایک فکرمند ماں یاد کرتی ہے۔ ”ہماری دعاؤں اور مستقلمزاجی کی بدولت، وہ سکوت توڑ رہا ہے اور اب باتچیت کرنا شروع کر رہا ہے!“
وہ خاندانی مطالعہ جو ترقی بخشتا ہے
۱۳. بچوں کی ابتدائی تربیت کیوں اتنی اہم ہے، اور اسے کسطرح انجام دیا جا سکتا ہے؟
۱۳ ”ذہنی تربیت“ میں خدا کے کلام سے باضابطہ ہدایت بھی شامل ہے۔ تیمتھیس کی طرح، ایسی تربیت کو ”بچپن سے“ شروع ہونا چاہیے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۵) ابتدائی تربیت بچوں کو ایمان کی آزمائشوں—سالگرہ کی تقریبات، محبالوطن رسومات، یا مذہبی تہواروں—کیلئے مضبوط بناتی ہے جو اسکول کے سالوں کے دوران آ سکتی ہیں۔ ایسی آزمائشوں کیلئے تیاری کے بغیر، ایک بچے کا ایمان کچلا جا سکتا ہے۔ پس ان اشاعتوں سے فائدہ اٹھائیں جو واچٹاور سوسائٹی نے چھوٹے بچوں کیلئے تیار کی ہیں جیسے کہ لسننگ ٹو دی گریٹ ٹیچر اور مائی بک آف بائبل سٹوریز کی کتابیں۔a
۱۴. خاندانی مطالعے کو کسطرح باقاعدہ رکھا جا سکتا ہے، اور ایک باقاعدہ خاندانی مطالعہ کرنے کیلئے آپ نے کیا کیا ہے؟
۱۴ ایک اور توجہطلب حلقہ خاندانی مطالعہ ہے جو آسانی سے بےقاعدگی کا شکار ہو سکتا ہے یا سُست، میکانکی معاملہ بن سکتا ہے جو بچوں اور والدین دونوں کیلئے کٹھن ہے۔ آپ معاملات کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟ پہلے آپ کو ٹیوی شو اور دیگر تفریحات کو مطالعے کی جگہ لینے کی اجازت نہ دیتے ہوئے اس کے لئے ”وقت نکالنا“ چاہئے۔ (افسیوں ۵:۱۵-۱۷) ”ہمیں اپنے خاندانی مطالعے کو باقاعدہ رکھنے میں مشکل تھی،“ ایک خاندانی سردار اعتراف کرتا ہے۔ ”ہم نے مختلف اوقات کو آزمایا جبتک کہ ہم نے آخرکار شام کو تھوڑا دیر سے وقت نکال لیا جو ہمارے لئے قابلعمل تھا۔ اب ہمارا خاندانی مطالعہ باقاعدہ ہے۔“
۱۵. آپ خاندانی مطالعے کو اپنے خاندان کی ضروریات کیساتھ کیسے ہم آہنگ کر سکتے ہیں؟
۱۵ اسکے بعد، اپنے خاندان کی خاص ضروریات پر غور کریں۔ بہتیرے خاندان مینارنگہبانی کے اپنے ہفتہواری سبق کو ملکر تیار کرنے سے لطف اٹھاتے ہیں۔ تاہم، وقتاًفوقتاً، آپکے خاندان کے پاس مخصوص مسائل ہو سکتے ہیں، بشمول سکول میں پیش آنے والی مشکلات کے، جن پر باتچیت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کتاب کویسچنز ینگ پیپل آسک—آنسرز دیٹ ورک اور مینارنگہبانی اور جاگو! سے مضامین اس ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ ”اگر ہمارے لڑکوں کی طرف سے کوئی رجحانات ہماری توجہ میں آتے ہیں جنہیں درستی کی ضرورت ہے،“ ایک والد کہتا ہے، ”تو ہم ینگ پیپل آسک کتاب کے اس خاص باب پر توجہ مرتکز کرتے ہیں جو اس کا احاطہ کرتا ہے۔“ اسکی بیوی اضافہ کرتی ہے: ”ہم لچکدار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے مطالعے کیلئے کسی چیز کا منصوبہ بنایا ہو، مگر کسی اور چیز پر گفتگو کرنے کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہو تو ہم ضرورت کے مطابق تبدیلی کرلیتے ہیں۔“
۱۶. (ا)آپ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے بچے سیکھ رہے ہیں اسے سمجھتے بھی ہیں؟ (ب) ایک خاندانی مطالعہ کرانے میں عام طور پر کس چیز سے گریز کرنا چاہیے؟
۱۶ آپ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ آپکے بچے جو کچھ سیکھ رہے ہیں اسکو واقعی سمجھتے ہیں؟ عظیم استاد، یسوع نے نظریاتی سوالات پوچھے تھے، جیسے کہ ”تو کیا سمجھتا ہے؟“ (متی ۱۷:۲۵) ایسا ہی کرنے سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپکے بچے حقیقت میں کیا سوچتے ہیں؟ ہر بچے یا بچی کی اپنے الفاظ میں جواب دینے کی حوصلہافزائی کریں۔ بلاشُبہ، اگر آپ غصے یا نفرت کیساتھ انکے دیانتدارانہ اظہارات کیلئے سخت ردعمل دکھاتے ہیں تو وہ آئندہ آپکے ساتھ باتچیت کرنے سے پہلے دوبار سوچیں گے۔ پس پرسکون رہیں۔ خاندانی مطالعے کو تادیب کا موقع بنانے سے اجتناب کریں۔ اسے پرلطف، ترقیبخش ہونا چاہیے۔ ”اگر مجھے پتہ چلے کہ میرے بچوں میں سے کسی ایک کو کوئی مسئلہ درپیش ہے،“ ایک والد کہتا ہے، ”تو میں اسکے ساتھ بعد کے کسی اور وقت پر نپٹوں گا۔“ ایک ماں اضافہ کرتی ہے کہ ”خاندانی مطالعے کے دوران نصیحت کرنے کی بجائے جب بچے کیساتھ الگ سے نپٹا جاتا ہے تو بچہ اتنا پریشان نہیں ہوتا اور زیادہ آزادی سے بات کرنے کی طرف راغب ہوتا ہے۔“
۱۷. خاندانی مطالعے کو دلچسپ بنانے کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے، اور آپ کے خاندان کیلئے کیا چیز کارگر ثابت ہوئی ہے؟
۱۷ بچوں کو خاندانی مطالعے میں حصہ لینے پر آمادہ کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب آپ کا واسطہ مختلف عمر کے بچوں سے ہو۔ چھوٹے بچے چلبلےپن، بیقراری کی طرف مائل ہو سکتے ہیں، یا کم وقت تک توجہ دینے کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ مطالعے کے ماحول کو اطمینانبخش رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کے بچوں کے توجہ دینے کے اوقات مختصر ہیں تو مختصرتر مگر متعدد سیشنوں کو آزما کر دیکھیں۔ اگر آپ پرجوش ہیں تو یہ بھی مدد کرتا ہے۔ ”پیشوا سرگرمی سے پیشوائی کرے۔“ (رومیوں ۱۲:۸) ہر ایک کو شریک کرتے رہیں۔ چھوٹے بچے تصاویر پر تبصرہ کرنے یا آسان سوالوں کا جواب دینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ نوعمروں سے اضافی تحقیق کرنے یا زیربحث مواد کا عملی اطلاق کرنے کیلئے کہا جا سکتا ہے۔
۱۸. والدین ہر موقع پر خدا کے کلام کو کسطرح ذہننشین کرا سکتے ہیں، اور کس نتیجے کیساتھ؟
۱۸ تاہم، روحانی ہدایت کو ہفتے میں ایک گھنٹے تک محدود نہ رکھیں۔ ہر موقع پر خدا کے کلام کو اپنے بچوں کے ذہننشین کریں۔ (استثنا ۶:۷) ان کی بات سننے کیلئے وقت نکالیں۔ جب ضروری ہو تو انہیں نصیحت اور تسلی دیں۔ (مقابلہ کریں ۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۱۔) ہمدرد اور مہربان ہوں۔ (زبور ۱۰۳:۱۳، ملاکی ۳:۱۷) ایسا کرنے سے آپ اپنے بچوں سے ”شادمانی حاصل“ حاصل کرینگے اور انکو نئی دنیا میں بچا کر لے جانے کا سہارا بنینگے۔—امثال ۲۹:۱۷۔
”ہنسنے کا ایک وقت ہے“
۱۹، ۲۰. (ا)تفریح خاندانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟ (ب) بعض طریقے کیا ہیں جن کے تحت والدین اپنے خاندان کیلئے تفریح کا بندوبست کر سکتے ہیں؟
۱۹ ”ہنسنے کا ایک وقت ہے ...، اور ناچنے کا ایک وقت ہے۔“ (واعظ ۳:۴) ”ہنسنے“ کیلئے عبرانی لفظ کا ترجمہ اسطرح کے اظہارات سے بھی کیا جا سکتا ہے جیسے کہ ”[جشن منانا، NW]“ ”کھیلنا،“ ”کھیل کرنا،“ یا ”ہنسی کھیل کرنا۔“ (۲-سموئیل ۶:۲۱، ایوب ۴۱:۵، قضاہ ۱۶:۲۵، خروج ۳۲:۶، پیدایش ۲۶:۸) کھیل ایک مفید مقصد کو پورا کر سکتا ہے، اور یہ بچوں اور نوجوانوں کیلئے اہم ہے۔ بائبل وقتوں میں والدین اپنے خاندانوں کیلئے تفریح اور کھیلتماشے کا بندوبست کرتے تھے۔ (مقابلہ کریں لوقا ۱۵:۲۵۔) کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟
۲۰ ”ہم عوامی تفریحگاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں،“ ایک مسیحی شوہر کہتا ہے۔ ”ہم بعض نوجوان بھائیوں کو دعوت دیتے ہیں اور گیند کیساتھ کھیلتے اور پکنک مناتے ہیں۔ وہ کھیلتے کودتے اور خوشگوار رفاقت سے لطف اٹھاتے ہیں۔“ ایک اور والد اضافہ کرتا ہے: ”ہم اپنے لڑکوں کے ساتھ کام کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ ہم تیراکی کرنے، گیند کے ساتھ کھیلنے، چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں۔ لیکن ہم کھیلتماشے کو اسکی مناسب جگہ پر رکھتے ہیں۔ میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔“ خوشگوار تفریح، جیسے کہ موزوں اجتماع، یا چڑیا گھروں اور عجائب گھروں کی سیریں، ایک بچے کو دنیاوی عشرتوں کی طرف راغب ہونے سے بچانے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
۲۱. والدین اپنے بچوں کو دنیاوی تہوار نہ منانے کی وجہ سے محرومیت کے احساس سے کیسے بچا سکتے ہیں؟
۲۱ یہ بھی اہم ہے کہ آپکے بچے محرومی کا احساس نہ رکھیں کیونکہ وہ جنمدنوں یا غیرمسیحی تہواروں کو نہیں مناتے۔ آپ کے خود کو کسی حد تک منظم کرنے کی بدولت وہ پورے سال میں بہتیرے پرلطف اوقات کی امید کر سکتے ہیں۔ ایک اچھے والد کو مادی طریقے سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کیلئے کسی تہوار کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں۔ اپنے آسمانی باپ کی طرح، وہ بیساختہ ”اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتا ہے۔“—متی ۷:۱۱۔
اپنے خاندان کیلئے ایک ابدی مستقبل محفوظ کرنا
۲۲، ۲۳. (ا)جب بڑی مصیبت آتی ہے تو خداترس خاندان کس چیز کا یقین رکھ سکتے ہیں؟ (ب) خدا کی نئی دنیا میں بچ کر جانے کیلئے خاندان کیا کر سکتے ہیں؟
۲۲ زبورنویس نے دعا کی: ”تو ہی اے خداوند! انکی حفاظت کریگا۔ تو ہی انکو اس پُشت سے ہمیشہ تک بچائے رکھیگا۔“ (زبور ۱۲:۷) شیطان کی طرف سے دباؤ میں اضافہ ہونا یقینی ہے—خاص طور پر یہوواہ کے گواہوں کے خاندانوں کے خلاف۔ تاہم، مسلسل بڑھنے والے اس حملے کے خلاف ڈٹے رہنا ممکن ہے۔ شوہروں، بیویوں، اور بچوں کی طرف سے مضبوط ارادے اور جانفشانی اور یہوواہ کی مدد سے خاندان—بشمول آپکا خاندان—بڑی مصیبت کے دوران زندہ بچائے جانے کی امید رکھ سکتے ہیں۔
۲۳ اے شوہرو اور بیویو! خدا کی طرف سے تفویض کردہ اپنے خداداد کردار ادا کرکے اپنی شادی میں صلح، ہمآہنگی لاؤ۔ اے اولاد والو! اپنے بچوں کیلئے موزوں نمونہ قائم کرنا جاری رکھو، انہیں تادیب اور تربیت دینے کیلئے وقت نکالو جسکی انہیں سخت ضرورت ہے۔ ان سے باتچیت کریں۔ انکی سنیں۔ انکی زندگیاں خطرے میں ہیں! اے بچو! اپنے والدین کی سنو اور انکی فرمانبرداری کرو۔ یہوواہ کی مدد سے آپ کامیاب ہو سکتے ہیں اور خدا کی آنے والی نئی دنیا میں اپنے لئے ایک ابدی مستقبل محفوظ کر سکتے ہیں۔ (۱۵ ۱۰/۱۵ W۹۲)
[فٹنوٹ]
a بعض زبانوں میں آیوڈیو کیسٹیں بھی دستیاب ہیں۔
کیا آپکو یاد ہے؟
▫ شوہر اور بیویاں کسطرح سے اپنے رابطے کو بہتر بنا سکتے ہیں؟
▫ والدین کسطرح ”یہوواہ کی طرف سے [ذہنی تربیت، NW] دے دیکر“ بچوں کی پرورش کر سکتے ہیں؟ (افسیوں ۶:۴)
▫ خاندانی مطالعے کو ترقیبخش اور زیادہ دلچسپ بنانے کے بعض طریقے کیا ہیں؟
▫ والدین اپنے خاندانوں کیلئے تفریح اور کھیلتماشے کا بندوبست کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟
[بکس]
موسیقی—ایک طاقتور اثر
بچوں کی پرورش کرنے کی بابت ایک کتاب کا مصنف کہتا ہے: ”اگر میں کچھ سامعین کے سامنے کھڑا ہوتا ... اور بلانوش محفلوں، کوکین، چرس، یا ذہن کو بدلنے والی دیگر منشیات کا نشہ کرنے کی وکالت کرتا تو وہ مجھے ہوشربا تعجب سے دیکھتے۔ ... [تاہم] والدین اپنے بچوں کو اکثر ایسے ریکارڈ یا کیسٹ ریکارڈنگ خریدنے کیلئے پیسے دیتے ہیں جو کھلمکھلا طور پر ان چیزوں کی حمایت کرتی ہیں۔“ (زگ زگلر کی، ریزنگ پازیٹو کڈز ان اے نیگیٹو ورلڈ) ۔ مثلاً، ریاستہائے متحدہ میں بہت سے نوجوان، جنسی طور پر واضح تحریک دینے والے نغمات گنگناتے ہیں۔ کیا آپ موسیقی کے چناؤ میں انتخابپسند ہونے کے لئے اپنے بچوں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ شیطانی پھندوں سے بچ جائیں۔
[تصویر]
کھانے کے اوقات پرلطف مواقع ہو سکتے ہیں جو خاندانی اتحاد اور رابطے کو ترقی دیتے ہیں