۱۹۱۴—وہ سال جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا
۱۹۱۴-۱۹۱۸ کی جنگ عظیم جھلسی ہوئی زمین کی پٹی کی طرح اس زمانے کو ہمارے زمانے سے جدا کرتی ہے۔ اتنی زیادہ زندگیوں کو نیست کرنے . . . ، اعتقادات کو تباہ کر نے، نظریات کو تبدیل کرنے، اور ناامیدی کے ناقابلعلاج زخم چھوڑنے سے، اس نے دو زمانوں کے درمیان جسمانی اور نفسیاتی خلیج پیدا کر دی ہے۔“ دی پراؤڈ ٹاور اے پوٹریٹ آف دی ورلڈ بیفور دی وار ۱۸۹۰-۱۹۱۴، سے، از بابرا ٹکمین۔
”یہ تقریباً تاریخ کا حصہ ہے مگر بالکل پورا نہیں، کیونکہ کئی ہزار لوگ جو اس نہایت ہی اہم بیسویں صدی کے شروع میں نوجوان تھے ابھی تک زندہ ہیں۔“ لین میکڈونلڈ کی کتاب ۱۹۱۴ سے جو ۱۹۸۷ میں شائع ہوئی۔
۱۹۱۴ میں کیوں دلچسپی لیں؟ آپ کہہ سکتے ہیں، ”میرا تعلق تو مستقبل سے ہے نہ کہ ماضی سے۔“ عالمگیر آلودگی، خاندانی زندگی میں انتشار، جرم میں اضافے، ذہنی بیماری، اور بیروزگاری جیسے مسائل کیساتھ انسان کا مستقبل مایوسکن دکھائی دے سکتا ہے۔ تاہم، ۱۹۱۴ کی اہمیت پر غوروفکر کرنے والے بہتیرے لوگوں کو ایک بہتر مستقبل میں امید کے لئے بنیاد حاصل ہو گئی۔
کئی دہوں تک مینارنگہبانی وضاحت کر چکا ہے کہ ۱۹۱۴ میں نسلانسانی کو اس چیز کا تجربہ ہوا ہے جسے ”مصیبتوں کا شروع“ کہا گیا ہے۔ یہ اظہار ان واقعات کی بابت یسوع مسیح کی عظیم پیشینگوئی کے حصے کو تشکیل دیتا ہے جو شریر انسانی نظام کے خاتمے سے پہلے واقع ہوں گے۔ متی ۲۴:۷، ۸۔
آجکل، نسلانسانی کا کچھ فیصد ابھی تک ۱۹۱۴ کے ڈرامائی واقعات کو یاد کر سکتا ہے۔ کیا وہ عمررسیدہ نسل مر جائیگی اس سے پیشتر کہ خدا زمین کو تباہی سے بچائے گا؟ بائبل پیشینگوئی کے مطابق نہیں۔ یسوع نے وعدہ کیا کہ ”جب تم ان سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدیک بلکہ دروازہ پر ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جبتک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہوگی۔“ متی ۲۴:۳۳، ۳۴۔
اس بات کی قدر کرنے کے لئے کہ کیوں ۱۹۱۴ ایسی تاریخی اہمیت کا حامل ہے، ۱۹۱۴ کے وسط تک کی عالمی حالت پر غور کریں۔ اس دور سے پہلے، روس کے زار نکولس، جرمنی کے قیصر ولہلم، آسٹریا۔ ہنگری کے شہنشاہ فرانز جوزف جیسے حکمران بڑی قوت رکھتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک شخص چار ملئن سے زائد جنگجو آدمیوں کو حرکت میں لا سکتا اور لڑائی کیلئے بھییج سکتا تھا۔ لیکن ان کے آباؤاجداد نے ایک معاہدہ کیا ہوا تھا جسے یہ دعوی کرتے ہوئے مقدس اتحاد کا نام دیا گیا تھا کہ خدا نے حکومت کرنے کیلئے عظیم ”مسیحی قوم“ کے مختلف حصوں کو ان کے سپرد کیا ہے۔
دی انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق، اس دستاویز نے ”۱۹ ویں صدی کے دوران یورپی سفارت کے طریقہءکار پر بڑا گہرا اثر چھوڑا۔“ اسے جمہوری تحریکوں کی مخالفت کرنے اور بادشاہوں کے نامنہاد خدائی حق کی حمایت کرنے کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ قیصر ولہلم نے زار نکولس کو لکھا کہ ”ہم مسیحی بادشاہوں پر ایک ہی مقدس ذمہداری ہے جو ہم پر خدا نے عائد کی ہے کہ اس اصول [بادشاہوں کے خدائی حق] کو سربلند کریں۔“ کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ یورپ کے بادشاہوں کا کسی نہ کسی طرح سے خدا کی بادشاہت سے تعلق تھا؟ (مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۴:۸۔) اور ان چرچز کی بابت کیا ہے جنہوں نے ان بادشاہوں کی حمایت کی تھی؟ کیا مسیحیت کی بابت ان کا اقرار حقیقی تھا؟ ان سوالوں کا جواب ۱۹۱۴ کے فوراً بعد کے سالوں سے واضح ہو گیا۔
اچانک اگست میں
”۱۹۱۴ کے موسم گرما اور بہار یورپ میں غیرمعمولی سکون کے لئے مشہور تھے،“ برطانوی مدبر ونسنٹ چرچل نے لکھا۔ لوگ عام طور پر مستقبل کی بابت پرامید تھے۔ لوئیس سنائدر نے اپنی کتاب ورلڈ وار ون میں کہا کہ ”۱۹۱۴ کی دنیا آس اور امید سے پر تھی۔“
درست ہے کہ بہت سالوں تک برطانیہ اور جرمنی کے درمیان سخت رقابت رہی تھی۔ تاہم، جیسے تاریخدان جی۔پی۔ گوچ اپنی کتاب انڈر سکس رینز میں وضاحت کرتا ہے: ”۱۹۱۱، ۱۹۱۲ یا ۱۹۱۳ کی بہنسبت ۱۹۱۴ میں یورپی آویزش کا امکان کم دکھائی دیتا تھا۔ . . . دونوں حکومتوں کے تعلقات کئی سال پہلے کی نسبت بہتر تھے۔“ برطانیہ کی ۱۹۱۴ کی کابینہ کے رکن ونسنٹ چرچل کے مطابق: ”جرمنی امن لانے کے لئے ہمارے ساتھ متفق دکھائی دیتا تھا۔“
تاہم، جون ۲۸، ۱۹۱۴ میں سیرایوا کے مقام پر آسٹریا۔ ہنگری کی سلطنت کے ولی عہد شہزادے کے مکارانہ قتل کے ساتھ افق پر سیاہ بادل منڈلانے لگے تھے۔ ایک ماہ بعد شہنشاہ فرانز جوزف نے سربیا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور اس کے بعد اپنی فوجوں کو اس سلطنت پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اسی اثنا میں، اگست ۳، ۱۹۱۴ کی رات کو قیصر ولہلم کے حکم سے ایک بھاری جرمن فوج نے بلجیم کی سلطنت پر اچانک حملہ کر دیا اور فرانس کی طرف بڑھنے لگی۔ اگلے دن برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ جہاں تک زار نکولس کا تعلق ہے تو وہ کثیر روسی فوج کو جرمنی اور آسٹریا۔ ہنگری کیساتھ جنگ کیلئے حرکت میں آنے کا حکم دے چکا تھا۔ مقدس اتحاد یورپی بادشاہوں کو اس براعظم کو باہمی قتل عام کے خونینغسل میں دھکیلنے سے روکنے میں ناکام ہو چکا تھا۔ لیکن بڑے تصادم ابھی ہونے والے تھے۔
کرسمس کے موقع پر ختم ہو گئی؟
جنگ کے اچانک شروع ہو جانے سے لوگوں کی رجائیت ماند نہ پڑی۔ بہتیروں کا یقین تھا کہ یہ ایک بہتر دنیا کو وجود میں لائے گی، اور پورے یورپ میں کثیر ازدحام اس کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اے۔ جے۔ پی ٹیلر اپنی کتاب دی سٹرگل فار ماسٹری ان یورپ ۱۸۴۸-۱۹۱۸ میں لکھتا ہے، ”۱۹۱۴ میں کسی نے بھی، ماسوائے فوجی پہلو کے، جنگ کے خطروں پر سنجیدگی سے توجہ نہ کی . . . کسی نے بھی معاشری تباہی کا خیال نہ کیا۔“ اس کی بجائے بہتیروں نے پیشبینی کی کہ چند مہینوں میں جنگ ختم ہو جائیگی۔
تاہم، اس سے بہت پہلے کہ یورپی ۱۹۱۴ کے اپنے کرسمس کو منا سکتے، جنوب میں سوئٹزرلینڈ سے لیکر شمال میں بلجیم کے ساحل کے ساتھ ساتھ ۷۰۰ کلومیٹر تک کے خونی تعطل کے مورچوں کا سلسلہ قائم ہو چکا تھا۔ اسے مغربی محاذ کا نام دیا گیا تھا، اور جرمن مصنف ہربٹ سالزبیک نے اپنی ڈائری کے ایک اندراج میں اس کا ذکر کیا ہے جو ۱۹۱۴ کے آخری دن پر لکھی گئی تھی۔ اندراج یوں پڑھا جاتا ہے: ”یہ ہولناک جنگ چلتی ہی جاتی ہے جبکہ شروع میں آپ نے سوچا تھا کہ یہ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، مگر خاتمے کا اب کوئی نشان نظر نہیں آتا۔“ اس اثنا میں یورپ کے دوسرے حصوں میں روس، جرمنی، آسٹریا۔ ہنگری، اور سربیا کی فوجوں کے درمیان خونی لڑائیاں زوروں پر تھیں۔ جلد ہی لڑائی یورپ سے باہر پھیل گئی، اور سمندروں اور افریقہ، مشرق وسطی، اور بحرالکاہل کے جزائر میں لڑائیاں لڑی گئیں تھیں۔
چار سال بعد یورپ اجڑ گیا تھا۔ جرمنی، روس اور آسڑیا۔ ہنگری ہر ایک نے ایک سے لیکر دو ملئن فوجیوں کا نقصان اٹھایا۔ روس تو ۱۹۱۷ کے بالشویکی انقلاب میں اپنی شہنشاہیت بھی کھو چکا تھا۔ یورپ کے بادشاہوں اور ان کے حمایتی پادریوں کے لئے کتنا بڑا صدمہ تھا! جدید تاریخدان ابھی تک حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنی کتاب رائل سنسیٹ، میں گورڈن بروک شیپرڈ پوچھتا ہے: ”یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ تمام حکمران جوکہ زیادہتر خونی یا شادی کے رشتے کی بدولت آپس میں جڑے ہوئے تھے اور سب کے سب بادشاہی کو محفوظ رکھنے کیلئے مخصوص تھے، انہوں نے خود کو اپنے ہی رشتےداروں کے خون میں خونینغسل پر اتر آنے کی اجازت دے دی جس نے ان میں سے اکثر کو صفحہہستی سے مٹا ڈالا اور تمام بچنے والوں کو کمزور بنا دیا؟“
ریپبلک آف فرانس نے بھی ایک ملئن سے زائد فوجیوں کا نقصان اٹھایا اور برطانوی سلطنت نے ۹،۰۰،۰۰۰ سے زائد کا نقصان اٹھایا جس کی شہنشاہیت جنگ سے بہت پہلے ہی کمزور پڑ چکی تھی۔ سب ملا کر ۹ ملئن سے زیادہ سپاہی ہلاک ہوئے اور مزید ۲۱ ملئن زخمی ہوئے تھے۔ غیرجنگی نقصانات کی بابت، دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے: ”کوئی نہیں جانتا کہ کتنے زیادہ شہری بیماری، بھکمری، اور جنگ سے متعلقہ دوسری وجوہات سے مر گئے۔ بعض تاریخدانوں کا خیال ہے کہ جتنے فوجی ہلاک ہوئے، اتنے ہی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔“ ۱۹۱۸ کے سپینش فلو کی وبا نے تمام دنیا میں مزید ۲،۱۰،۰۰،۰۰۰ زندگیاں لے لیں۔
یکسر تبدیلی
جنگ عظیم کے بعد دنیا کبھی ویسی نہ رہی، جیسے کہ اسے اس وقت کہا گیا تھا۔ مسیحی دنیا کے بہت سارے چرچوں نے چونکہ اس میں جوشوخروش کیساتھ حصہ لیا تھا، اسلئے اسکے طلسم سے آزاد بہت سے بچنے والوں نے دہریت کی حمایت میں مذہب سے اپنے منہ موڑ لئے۔ دوسرے مادی دولت اور عشرت کے حصول کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اپنی کتاب رائٹس آف سپرنگ میں پروفیسر ماڈرس ایکسٹائینز کے مطابق ۱۹۲۰ کے دہے نے ”توہمپرستی اور خودپرستی کے غیرمعمولی تناسبوں کو دیکھا۔“
پروفیسر ایکسٹائینز وضاحت کرتا ہے کہ ”جنگ نے اخلاقی معیاروں پر بھی حملہ کیا تھا۔“ دونوں فریقین کی جانب سے آدمی سیاسی، فوجی اور مذہبی لیڈروں سے تعلیم پا چکے تھے کہ قتلعام کو اخلاقی طور پر نیکی خیال کریں۔ ایکسٹائینز تسلیم کرتا ہے کہ یہ تو صرف ”اخلاقی نظموضبط پر نہایت ہی ناشائستہ حملے تھے جسے یہودی۔ مسیحی اخلاقیات کی بنیاد ہونے کا دعوی کیا جاتا تھا۔“ وہ اضافہ کرتا ہے کہ ”مغربی محاذ پر جلد ہی قحبہخانے فوجی کیمپوں کے باضابطہ لوازمات تھے۔ . . . داخلی زندگی میں مرد اور عورتیں شرموحیا کا لباس اتار کر بداخلاق بن گئے۔ عصمتفروشی میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا۔“
بیشک ۱۹۱۴ نے بہت کچھ تبدیل کر دیا۔ جیسے کہ بہتیرے لوگوں نے توقع کی تھی اس نے ایک بہتر دنیا کو پیدا نہیں کیا تھا، اور جنگ ”تمام جنگوں کو ختم کرنے والی جنگ“ ثابت نہیں ہوئی تھی۔ اسکی بجائے جیسے کہ تاریخدان بابرا ٹکمین بیان کرتی ہے: ”پرشکوہ تصورات اور جوشوخروش جو ۱۹۱۴ تک ممکن تھے رفتہرفتہ طلسمشکنی کے گہرے سمندر کے نیچے ڈوب گئے۔“
تاہم، جن بعض لوگوں نے ۱۹۱۴ کے المیے کو دیکھا تھا اس سال کے واقعات سے حیرتزدہ نہ تھے۔ درحقیقت، لڑائی کے شروع ہونے سے پیشتر وہ ”تکلیف کے ایک دہشتناک دور“ کی توقع کر رہے تھے۔“ وہ کون تھے؟ اور انہیں کونسی ایسی بات معلوم تھی جس کا دوسروں کو علم نہیں تھا؟ (۳ ۵/۱ w۹۲)
[صفحہ 5 پر بکس]
۱۹۱۴ میں برطانوی رجائیت
”تقریباً ایک صدی تک ہمارے جزیرے کے چوگرد سمندروں میں کوئی دشمن دکھائی نہیں دیا تھا۔ . . . ان پرامن ساحلوں کیلئے ایک خطرے کے امکان کی بابت سوچنا بھی مشکل تھا۔ . . . لندن اس سے پہلے کبھی اتنا زیادہ کامیاب اور زندہدل دکھائی نہیں دیا تھا۔ وہاں پہلے کبھی اتنا کچھ نہیں تھا جو کرنے اور دیکھنے اور سننے کے قابل رہا ہو۔ بوڑھوں اور جوانوں کو گمان بھی نہ تھا کہ وہ ۱۹۱۴ کے لاثانی زمانے کے دوران جوکچھ وہ دیکھ رہے تھے، وہ درحقیقت، ایک زمانے کا آخیر تھا۔“ بیفور دی لیمپس وینٹ آؤٹ، از جیوفری مرقس۔