تکلیف اور خطرے کے باوجود وہ آئے
تاریخ ۲ جنوری ۱۹۹۲ تھی۔ مقام مکیکی، صوبہ انیامبا نے۔ ریڈیو لگاتے ہی موزمبیق کی رات کی آوازوں میں یک لخت خلل سا آ گیا۔ ”یہوواہ کے گواہ ہمارے صوبے میں اپنی ”محبانآزادی“ کنونشن منعقد کر رہے ہیں،“ خبریں نشر کرنے والے نے اعلان کیا۔ ”ان کا مقصد لوگوں کو اس چیز کی بابت سکھانا ہے کہ آج کی دنیا میں حقیقی آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ سب کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔“
افریقہ کے اس دورافتادہ کونے میں کوئی ایسی بات واقع ہو رہی تھی جس کو کافی عرصے تک یاد رکھا جائے گا! پہلی دفعہ یہوواہ کے گواہوں کی ڈسٹرکٹ کنونشن منعقد ہو رہی تھی اور اس سے مستفید ہونے کے لئے ۱۰۲۴ اشخاص حاضر تھے۔ چند سال قبل، موزمبیق میں ایسی تقریب کھلمکھلا منعقد نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ اس وقت یہوواہ کے گواہوں کے کام پر پابندی تھی۔ کیا آپ ان دلیرانہ قربانیوں کی بابت سننا چاہیں گے جو اس کنونشن میں شرکت کرنے کے لئے کی گئی تھیں؟
افریقہ کے دیگر بہتیرے حصوں کی طرح، انیامبانے کا صوبہ بہت زیادہ خوبصورت ہے۔ مستولی جہاز نما تکونی بادبانوں والی مچھلی پکڑنے والی کشتیاں اس کے ساحل کے ساتھ ساتھ سمندر میں چلتی ہیں۔ ناریل کے درخت باافراط ہیں۔ مگر ایک مہیب خطرہ دیہات کو دبوچے ہوئے ہے: خانہ جنگی!
جو لوگ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی جھونپڑی میں صبح سویرے سوئے ہوئے ہیں ان کے لئے یہ غیرمعمولی بات نہیں کہ جب رات کے دوران جنگل میں جنگ جاری رہتی ہے تو بھاری تو پخانے کی توپوں کی بے کیف گرج انہیں جگا دے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معصوم شہری تکلیف اٹھاتے ہیں۔ بعض اوقات بچوں کو غائب یا کٹے ہوئے اعضا کے ساتھ لنگڑا کر چلتے دیکھا گیا ہے۔ بعض یہوواہ کے گواہ بھی اپنے چہروں اور بدنوں پر ان سفاکیوں کے زخموں کے نشان لئے پھرتے ہیں جو ان پر کی گئی ہیں۔
ان حالات کے تحت ان سب کی طرف سے ”محبان آزادی“ کنونشن کی بہت زیادہ قدر کی گئی جنہوں نے اس میں شرکت کی۔ کنونشن کی جانب راستے میں کمینگاہوں کے امکان کے باوجود دیہاتی علاقوں سے بہتیرے خاندانوں نے آنے کا پکا ارادہ کیا ہوا تھا۔ وہاں پر پہنچنا بھی آسان نہ تھا کیونکہ عوامی آمدورفت زیادہتر کھلے ٹرکوں پر ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایک ہی ٹرک پر ۴۰۰ کی تعداد تک مسافر گھس گھسا کر بیٹھ جاتے ہیں! کئی ایسے ٹرک مل کر حفاظتی قافلے تشکیل دینے کے لئے صفبستہ ہو جاتے ہیں جن کے ساتھ مسلح فوجی حفاظتی دستے چلتے ہیں۔
نورا اور اس کی تین بیٹیاں جن کی عمریں ایک سال، تین سال اور چھ سال ہیں ایک ایسا ہی خاندان تھیں جنہوں نے اس طریقے سے سفر کرکے اپنی جانیں جوکھوں میں ڈالیں۔ اس نے اس سفر کے اخراجات کے لئے تین ماہ پیشتر سے پیسہ بچایا تھا۔ اس حقیقت نے اس کی حوصلہشکنی نہیں کی کہ اس کنونشن پر سکونت کے لئے متعین جگہیں دستیاب نہیں تھیں۔ دیگر بہتیروں کے ساتھ مل کر، نورا اور اس کے خاندان نے بھی جا ئےاسمبلی پر ہی کھلے میدان میں کھانا پکایا، کھایا اور وہ وہیں پر سو ئے۔
منطقہ حارہ کے علاقوں کی شدید گرمی جس کے ساتھ موسلادھار بارش ہوتی ہے اس نے بھی بھائیوں کی نہ رکنے والی خوشی کو کم نہیں کیا جو اکٹھے مل کر روحانی ضیافت سے محظوظ ہو رہے تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے لئے کوئی چیز اس کنونشن پر حاضر ہونے سے بڑھکر اہم نہیں۔ کل ۱۷ اشخاص نے بحرہند کے گرم پانیوں میں اپنی مخصوصیت کے نشان کا اظہار کیا۔ جب بپتسمہ ہوا تو شادمان مشاہدین کے ایک بڑے ہجوم کو بیساختہ یہوواہ کی حمد گانے کی تحریک ملی۔
پرستاروں کے اس گروہ نے واقعی دریافت کر لیا تھا کہ محبانخدائی آزادی بننے کا کیا مطلب ہے۔ صدرمقام ماپوتو سے ایک نمائندے ہینس نے کہا: ”افریقہ کے اس حصے میں ہم نے یہوواہ کے گواہوں کے کام میں فقط ایک نئے باب کے آغاز کو دیکھا ہے۔ (۳۰ ۷/۱ w۹۲)