یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏11 ص.‏ 6-‏7
  • ۱۹۱۴—‏کی نسل اہم کیوں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ۱۹۱۴—‏کی نسل اہم کیوں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏11 ص.‏ 6-‏7

۱۹۱۴—‏کی نسل اہم کیوں؟‏

‏”‏ہمارے قارئین جانتے ہیں کہ ہم کچھ سالوں سے تکلیف کے ایک دہشتناک دور کے ساتھ اس زمانے کے ختم ہونے کی توقع کر رہے تھے اور ہم اکتوبر ۱۹۱۴ کے تھوڑی دیر بعد اس کے اچانک اور شدت کیساتھ شروع ہونے کی توقع کرتے ہیں۔“‏ دی واچ‌ٹاور اینڈ ہیرلڈ آف کرائسٹس پریزنس، مئی ۱۵، ۱۹۱۱ سے۔‏

۱۸۷۹ سے لیکر اس رسالے نے ۱۹۱۴ کی بائبل پیشینگوئی میں ایک امتیازی سال کے طور پر بارہا نشاندہی کی ہے جو اس وقت دی واچ‌ٹاور اینڈ ہیرلڈ آف کرائسٹس پریزنس کے طور پر جانا جاتا تھا (‏اب دی واچ‌ٹاور اناؤنسنگ جہوواہز کگنڈم کے طور پر جانا جاتا ہے)‏۔ جب وہ سال آ گیا تو قارئین کو یاددہانی کرائی گئی تھی کہ ”‏تکلیف کے ایک دہشتناک دور“‏ کی توقع کی جا سکتی ہے۔‏

ان معلومات کی نشرواشاعت ان مسیحیوں کے ذریعے دور دور تک کر دی گئی تھی، جنہوں نے بائبل میں متذکرہ ”‏سات دور“‏ اور ”‏غیر قوموں کی میعاد“‏ کی اپنی سمجھ کو اس کی بنیاد بنایا۔‏a انہوں نے اس مدت کو ۲،۵۲۰ سال سمجھا جسکا آغاز یروشلیم میں داؤد کے گھرانے کی قدیم بادشاہت کے خاتمے کیساتھ ہوا اور اختتام اکتوبر ۱۹۱۴ میں ہوا۔‏b دانی‌ایل ۴:‏۱۶، ۱۷،‏ لوقا ۲۱:‏۲۴‏۔‏

۲ اکتوبر، ۱۹۱۴ کو، اس وقت کے واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے صدر، چارلس ٹیز رسل نے دلیری سے اعلان کیا:‏ ”‏غیر قوموں کی میعاد ختم ہو چکی ہے، ان کے بادشاہ اپنا وقت پورا کر چکے ہیں۔“‏ اس کے الفاظ کتنے سچ ثابت ہوئے تھے! اکتوبر ۱۹۱۴ میں انسانی آنکھوں سے اوجھل، دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والی اہمیت کا واقعہ، آسمان میں رونما ہوا۔ ”‏داؤد کے تخت“‏ کے مستقل وارث، یسوع مسیح نے تمام نسل‌انسانی پر بادشاہ کے طور پر حکمرانی شروع کر دی۔ لوقا ۱:‏۳۲، ۳۳،‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۵‏۔‏

لیکن آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ”‏اگر مسیح نے ۱۹۱۴ میں حکمرانی شروع کر دی تھی تو زمین پر حالتیں خراب‌تر کیوں ہو گئیں؟“‏ اسلئے کہ نسل‌انسانی کا نادیدنی دشمن شیطان ابھی تک موجود تھا۔ ۱۹۱۴ تک شیطان آسمان تک رسائی رکھتا تھا۔ ۱۹۱۴ میں خدا کی بادشاہت کے قائم ہونے کیساتھ وہ صورت‌حال بدل گئی۔ ”‏آسمان پر لڑائی ہوئی۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۷‏)‏ شیطان اور اسکے شیاطین کو شکست دیکر نسل‌انسانی پر تباہ‌کن اثرات کیساتھ زمین پر پھینک دیا گیا تھا۔ بائبل نے پیشینگوئی کی تھی:‏ ”‏اے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اتر کر آیا ہے۔ اسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏ مکاشفہ ۱۲:‏۱۲‏۔‏

پہلی صدی س۔ع۔ میں یسوع نے کہا تھا کہ زمین کے نئے بادشاہ کے طور پر اسکی نادیدنی موجودگی ایک دیدنی نشان کے ذریعے واضح ہوگی۔ اس سے پوچھا گیا تھا:‏ ”‏[‏تیری موجودگی، NW]‏ اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“‏ اسکا جواب کیا تھا؟ ”‏قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی اور جگہ جگہ کال پڑینگے اور بھونچال آئینگے۔ لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہی ہونگی۔“‏ متی ۲۴:‏۳،‏ ۷، ۸‏۔‏

چنانچہ ۱۹۱۴ میں جو لڑائی چھڑی اس کے ساتھ خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی کیونکہ چار سالوں سے زائد عرصہ تک خوراک کی معیاری پیداوار میں خلل پیدا ہو گیا تھا۔ ”‏جگہ جگہ بھونچال“‏ آنے کی بابت کیا ہے؟ ۱۹۱۴ کے بعد کے دہے میں کم از کم دس تباہ‌کن زلزلوں نے ۳،۵۰،۰۰۰ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر ڈالا۔ (‏بکس کو دیکھیں۔)‏ یقیناً ۱۹۱۴ کی نسل نے ”‏مصیبتوں کے شروع“‏ کا تجربہ کیا تھا۔ اور اس وقت سے لیکر، مصیبتیں قدرتی تباہ‌کاریوں، کالوں، اور متعدد جنگوں کی صورت میں باقاعدگی سے آتی رہی ہیں۔‏

تاہم، ۱۹۱۴ میں خدا کی بادشاہت کے قائم ہونے کی خبر خوشخبری ہے کیونکہ وہ بادشاہت اس زمین کو تباہی سے بچائے گی۔ کیسے؟ یہ تمام جھوٹے، منافقانہ مذاہب، خراب حکومتوں، اور شیطان کے شریر اثرورسوخ کو ختم کر دیگی۔ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴،‏ رومیوں ۱۶:‏۲۰،‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۸،‏ ۱۸:‏۴-‏۸،‏ ۲۴‏)‏ اسکے علاوہ یہ ایک نئی دنیا کو لائیگی جس میں ”‏راستبازی بسی رہیگی۔“‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

پہلی عالمی جنگ کے تھوڑا بعد، بائبل کے مخلص طالبعلموں نے، جیسے‌کہ یہوواہ کے گواہ اس وقت جانے جاتے تھے، بادشاہ کے طور پر یسوع کی موجودگی کے نشان کے ایک اور پہلو کے سلسلے میں اپنے استحقاق کو سمجھنا شروع کر دیا۔ یسوع مسیح نے پیشینگوئی کی تھی:‏ ”‏اور بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“‏ متی ۲۴:‏۱۴‏۔‏

۱۹۱۹ میں ایک معمولی آغاز سے لیکر، یہوواہ کے گواہوں نے بلا‌توقف ”‏اس خوشخبری“‏ کو پھیلانا جاری رکھا ہے۔ نتیجے کے طور پر، اب ۲۰۰ سے زائد ممالک میں خدا کی بادشاہت کی رعایا کے طور پر لاکھوں لوگوں کو جمع کیا جا رہا ہے۔ اور کیا ہی برکات اس رعایا کی منتظر ہیں! یہ بادشاہت جنگ ، قحط ، جرم، اور ظلم کو ختم کر دے گی۔ یہ بیماری اور موت پر بھی قابو پا لے گی! زبور ۴۶:‏۹،‏ ۷۲:‏۷،‏ ۱۲-‏۱۴،‏ ۱۶،‏ امثال ۲:‏۲۱، ۲۲،‏ مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏۔‏

اس سے پیشتر کہ ۱۹۱۴ کی نسل ختم ہو بادشاہتی منادی کا کام اپنے مقصد کو پورا کر چکا ہوگا۔ یسوع نے پیشینگوئی کی تھی:‏ ”‏کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔ اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائیں گے۔“‏ متی ۲۴:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

۱۹۱۴ سے پہلے کی نسل نے جو غلطی کی وہ نہ کریں۔ حالتیں جیسے آجکل ہیں ہمیشہ ویسی نہیں رہیں گی۔ چونکا دینے والی تبدیلیاں قریب ہیں۔ لیکن جو دانشمندی سے کام کرتے ہیں انکے لئے شاندار امکان موجود ہیں۔‏

لہذا، قدیمی نبی کے الفاظ پر غور کریں:‏ ”‏اے ملک کے سب حلیم لوگو .‏ .‏ .‏ راستبازی کو ڈھونڈو۔ فروتنی کی تلاش کرو۔ شاید خداوند کے غضب کے دن تم کو پناہ ملے۔“‏ (‏صفنیاہ ۲:‏۳)‏ ہم اس نصیحت کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟ بعد کے مضامین اس سوال کا جواب دینے کیلئے ہماری مدد کرینگے۔ (‏۶ ۵/۱ w۹۲)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a سینیریو آف دی فوٹو ڈرامہ آف کرئیشن، ۱۹۱۴ کے صفحہ اول سے۔‏

b مزید تفصیلات کیلئے دی واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک انکارپوریٹڈ کی شائع کردہ کتاب یو کین لو فارایور ان پیراڈائز ان آرتھ کے باب ۱۶ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں