یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏11 ص.‏ 24-‏26
  • ‏”‏محبت کی بنا پر نصیحت کرنا“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏محبت کی بنا پر نصیحت کرنا“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک بھگوڑا واپس آتا ہے
  • محبت سے معاملات کو سلجھانا
  • آجکل کے مسیحیوں کیلئے اسباق
  • پولس رسول روم میں
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • فلیمون–‏ابواب کا خاکہ
    کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
  • ططس، فلیمون اور عبرانیوں کے خطوط سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏11 ص.‏ 24-‏26

‏”‏محبت کی بنا پر نصیحت کرنا“‏

تقریباً ۶۰-‏۶۱ س۔ع۔ میں، ایک بھگوڑے غلام نے روم کو چھوڑ کر واپس جنوب مغربی ایشیائے کوچک کے ایک شہر، اپنے گھر کُلسّے کی طرف ۱،۴۰۰ کلومیٹر کے سفر کا آغاز کیا۔ اس کے پاس اپنے مالک کے لئے ایک ہاتھ سے تحریرشدہ پیغام تھا جسے پولس رسول کے علاوہ کسی اور نے تحریر نہیں کیا تھا۔ آجکل، وہ خط بائبل کا ایک حصہ ہے اور اسے اسکے وصول‌کنندہ، فلیمون کا نام دے دیا گیا ہے۔‏

فلیمون کے نام خط قابل‌یقین، موقع‌شناس استدلال کا ایک شاہکار ہے۔ تاہم، اس سے بھی بڑھ کر، اس میں آجکل کے مسیحیوں کیلئے کوئی ایک عملی اسباق پنہاں ہیں جن میں سے ایک مسیحی محبت کی بنا پر ایکدوسرے کو نصیحت کرنے کی اہمیت کی بابت ہے۔ آئیے ہم اس مختصر لیکن پرزور خط کا ایک قریبی جائزہ لیں۔‏

ایک بھگوڑا واپس آتا ہے

فلیمون ایک مسیحی، کلسیوں کی کلیسیا کا ایک نہایت ہی عزیز ممبر تھا۔ (‏فلیمون ۴، ۵‏)‏ جی‌ہاں، وہاں کی کلیسیا اس کے گھر کو جمع ہونے کی جگہ کے طور پر استعمال کرتی تھی! (‏آیت ۲)‏ مزیدبرآں، فلیمون کی پولس رسول سے ذاتی واقفیت تھی، ہو سکتا ہے رسول اس کے مسیحی بننے کا ایک ذریعہ رہا ہو۔ سچ ہے، پولس یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے ذاتی طور پر کُلسّے میں منادی نہیں کی تھی۔ (‏کلسیوں ۲:‏۱‏)‏ تاہم، اس نے افسس میں دو سال تک اس قدر منادی کرنے میں وقت گذارا کہ ”‏آسیہ [‏جس میں کُلسّے بھی شامل تھا]‏ کے رہنے والوں کیا یہودی کیا یونانی سب نے خداوند کا کلام سنا۔“‏ (‏اعمال ۱۹:‏۱۰‏)‏ غالباً فلیمون ان اچھے سننے والوں میں سے ایک تھا۔‏

بہرصورت، اس زمانے کے بہتیرے دولتمند آدمیوں کی طرح، فلیمون غلاموں کا مالک تھا۔ قدیم وقتوں میں، غلامی ہمیشہ ذلت والی نہیں ہوتی تھی۔ یہودیوں کے درمیان، خود کو یا خاندان کے ممبروں کو غلامی میں بیچ دینا قرض ادا کرنے کا ایک قابل‌قبول طریقہ تھا۔ (‏احبار ۲۵:‏۳۹، ۴۰)‏ رومی دور کی بابت دی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا یوں تبصرہ کرتا ہے:‏ ”‏لوگوں کی ایک بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر خود کو غلامی میں بیچ دیتی تھی، سب سے بڑھ کر اس لئے کہ ایک غریب آزاد شخص کی نسبت زیادہ آسان اور زیادہ محفوظ زندگی اختیار کرے، اچھی ملازمت حاصل کرے، اور معاشرتی طور پر ترقی کرے۔ .‏ .‏ .‏ بہتیرے غیر رومیوں نے منصفانہ توقعات کے پیش‌نظر، جن پر رومی قانون بڑے احتیاط سے عمل‌پیرا تھا، خود کو رومی شہریوں کے ہاتھ فروخت کر دیا، تاکہ جب آزاد ہوں تو خود رومی شہری بن سکیں۔“‏

تاہم، مسئلہ اس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب فلیمون کے غلاموں میں سے، انیسمس نام ایک آدمی، اسے چھوڑ کر روم کو بھاگ گیا، ممکن ہے اس نے اپنے فرار کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے فلیمون کے کچھ پیسے بھی چرا لئے ہوں۔ (‏آیت ۱۸)‏ روم میں، انیسمس کی ملاقات رسول پولس سے ہوگئی جوکہ وہاں پر قید تھا۔‏

‏”‏سابقہ نکما“‏ غلام جو کہ خدمت کرنے سے فرار ہو گیا تھا۔ اب ایک مسیحی بن گیا۔ اس نے خود کو پولس کی خدمت میں پیش کر دیا اور قیدی رسول کیلئے مفید خدمات دیں۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ انیسمس نے پولس کی ”‏دلی شفقت“‏ میں مقام پیدا کر لیا اور پولس کیلئے ”‏ایک عزیز بھائی“‏ بن گیا! ۱۱، ۱۲، ۱۶ آیات۔‏

رسول پولس نے انیسمس کو اپنے پاس رکھنا پسند کیا ہوتا، لیکن فلیمون کو انیسمس کا جائز مالک ہونے کا حق حاصل تھا۔ لہذا انیسمس کا یہ فرض تھا کہ وہ واپس اپنے قانونی مالک کی خدمت میں حاضر ہو۔ تو پھر، فلیمون اسے کیسے قبول کریگا؟ کیا وہ غصہ سے اسے سخت سزا دینے کے اپنے حق کو استعمال کریگا؟ کیا وہ انیسمس کے ایک ساتھی مسیحی ہونے کے دعویٰ کی وفاداری کو چیلنج کریگا؟‏

محبت سے معاملات کو سلجھانا

پولس نے فلیمون کو انیسمس کی بابت لکھنے کی تحریک پائی۔ اس نے اپنے دستور کے مطابق ایک سیکریٹری کو استعمال کرنے کی بجائے خود اپنے ہاتھ سے اس خط کو لکھا۔ (‏آیت ۱۹)‏ فلیمون کے نام اس مختصر سے خط کو مکمل طور پر پڑھنے کیلئے چند منٹ صرف کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ خود کو متعارف کروانے اور فلیمون اور اس کے خاندان کو ”‏فضل اور اطمینان“‏ کی دعا دینے کے بعد، پولس نے فلیمون کی ”‏خداوند یسوع اور سب مقدسوں کے لئے محبت اور ایمان“‏ کی تعریف کی۔ آیات ۱-‏۷۔‏

پولس بڑی آسانی سے اپنے رسول ہونے کے اختیار کو استعمال کر سکتا اور ”‏فلیمون کو مناسب اقدام اٹھانے کا حکم دے سکتا تھا“‏ لیکن اس کی بجائے پولس نے ”‏محبت کی [‏بنا پر نصیحت کی، NW۔]‏“‏ اس نے اس حقیقت کی ضمانت دی کہ بلا‌شبہ انیسمس ایک مسیحی بھائی بن گیا تھا یعنی ایک ایسا شخص جس نے خود کو پولس کیلئے کارآمد ثابت کیا تھا۔ رسول نے اس بات کا اعتراف کیا:‏ ”‏اس [‏انیسمس]‏ کو میں اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تاکہ تیری طرف سے اس قید میں جو خوشخبری کے باعث ہے میری خدمت کرے۔ لیکن،“‏ پولس آگے کہتا ہے، ”‏تیری مرضی کے بغیر میں نے کچھ کرنا نہ چاہا تاکہ تیرا نیک کام لاچاری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو۔“‏ آیات ۸-‏۱۴۔‏

پس اس طرح سے رسول نے فلیمون کو تاکید کی کہ وہ اپنے پہلے کے غلام کو بطور ایک بھائی کے قبول کرے۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏اسے اسی طرح قبول کرنا جس طرح مجھے۔“‏ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لازمی طور پر انیسمس غلامی سے آزاد ہو جائیگا۔ پولس اپنے زمانے کے رائج معاشرتی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے تحریک نہیں چلا رہا تھا۔ (‏مقابلہ کریں افسیوں ۶:‏۹،‏ کلسیوں ۴:‏۱،‏ ۱-‏تیمتھیس ۶:‏۲‏۔)‏ تاہم، اب سے لیکر فلیمون اور انیسمس کے مابین مالک اور نوکر کا رشتہ ان کے درمیان موجود مسیحی بندھن سے ضرور اعتدال پر آ جائیگا۔ فلیمون انیسمس کو ایک ”‏غلام سے بہتر یعنی ایک عزیز بھائی کی طرح“‏ جانیگا۔ آیات ۱۵-‏۱۷۔‏

تاہم، اس قرض کی بابت کیاہے، جو انیسمس پر شاید چوری کرنے کی وجہ سے چڑھ گیا تھا؟ پھر، پولس نے فلیمون کیساتھ اپنی دوستی کا واسطہ دیتے ہوئے کہا:‏ ”‏اگر اس نے تیرا کچھ نقصان کیا یا اس پر تیرا کچھ آتا ہے تو اسے میرے نام لکھ لے۔“‏ پولس نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ فلیمون پولس کے التماس سے کہیں زیادہ معاف کرنے کے جذبے کا اظہار کریگا۔ چونکہ پولس کو جلد ہی قید سے رہائی کی امید تھی، اسلئے اس نے مستقبل قریب میں فلیمون کی مہمان‌نوازی سے لطف‌اندوز ہونے کا بھی بندوبست کیا۔ فلیمون کو کچھ مزید پیغام‌تہنیت دینے اور ”‏خداوند یسوع مسیح کے فضل“‏ کی دعا دینے کے بعد، پولس نے اپنے خط کا اختتام کیا۔ آیات ۱۸-‏۲۵۔‏

آجکل کے مسیحیوں کیلئے اسباق

فلیمون کی کتاب آجکل کے مسیحیوں کے لئے عملی اسباق سے پر ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ یہ ہمیں معاف کر دینے کی ضرورت کی یاددہانی کراتی ہے، اس وقت بھی جب کسی ساتھی مسیحی نے سنگین حد تک ہمیں نقصان پہنچایا ہے۔ یسوع نے کہا:‏ ”‏اگر تم آدمیوں کے قصور معاف کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تمکو معاف کریگا۔“‏ متی ۶:‏۱۴‏۔‏

آجکل مسیحی کلیسیا میں اختیار رکھنے والے لوگ خاص طور پر فلیمون کے خط سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہ قابل‌غور بات ہے کہ پولس نے فلیمون کو یہ حکم دینے کیلئے کہ وہی کرے جو مناسب ہے، رسولی اختیار کو استعمال کرنے سے گریز کیا۔ اس کے علاوہ، پولس نے اس بات کا تقاضا نہ کیا کہ انیسمس کو اس کی خدمت کرنے کیلئے روم میں ہی رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ پولس نے دوسروں کے مالکانہ حقوق کی قدر کی۔ اس نے اس بات کی بھی قدر کی کہ اگرچہ ایک بااختیار رسائی شاید باعث‌تعمیل ثابت ہوتی، یہ اچھا ہوگا کہ فلیمون اپنے دل سے کام کرے۔ اس نے محبت کی بنا پر اپیل کی تاکہ دلی محرک کو جان سکے۔‏

اس لئے آجکل مسیحی بزرگوں کو کبھی بھی اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے یا گلے کے ساتھ برتاؤ کے دوران سخت حاکمانہ رویہ استعمال کرتے ہوئے ”‏خدا کے گلہ پر حکومت نہیں جتانی“‏ چاہیے۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۱-‏۳‏)‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏تم جانتے ہو کہ غیرقوموں کے سردار ان پر حکم چلاتے اور امیر ان پر اختیار جتاتے ہیں۔ تم میں ایسا نہ ہو۔“‏ (‏متی ۲۰:‏۲۵، ۲۶‏)‏ نگہبانوں نے عموماً یہ دیکھا ہے کہ گلے کے لوگ حکم کی بجائے محبت بھری اپیل سے کہیں زیادہ اثرپذیر ہوتے ہیں۔ وہ جو مایوسی کے شکار ہیں وہ ان نگہبانوں کی قدر کرتے ہیں جو ان کے مسائل کو مہربانی سے سننے کے لئے وقت نکالتے ہیں اور سمجھدارانہ مشورے دیتے ہیں۔‏

پولس کا خط بزرگوں کو قدرافزائی اور موقع‌شناسی کی مزید یاددہانی کراتا ہے۔ وہ اس کا آغاز اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کرتا ہے کہ ”‏مقدسوں کے دل فلیمون کی محبت سے تازہ ہوئے تھے۔“‏ (‏آیت ۷)‏ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مخلص قدرافزائی نے فلیمون کو اور زیادہ اثرپذیر ذہنی حالت عطا کی۔ اسی طرح آجکل، نصیحت یا مشورت کی پشت پناہی اکثر مخلص، گرم‌جوش قدرافزائی سے کی جا سکتی ہے۔ اور ایسی نصیحت کو منہ‌پھٹ یا بے‌تکی نہیں بلکہ فیاضی کے ساتھ ”‏نمکین“‏ ہونا چاہیے تاکہ سننے والوں کو اور زیادہ خوشذائقہ لگے۔ کلسیوں ۴:‏۶‏۔‏

رسول پولس نے یہ کہتے ہوئے کہ ”‏تیری فرمانبرداری کا یقین کرکے تجھے لکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ جو کچھ میں کہتا ہوں تو اس سے بھی زیادہ کریگا“‏ مزید اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ فلیمون وہی کریگا جو ٹھیک ہے۔ (‏آیت ۲۱)‏ اے بزرگو، کیا آپ بھی اپنے ساتھی مسیحیوں پر اسی طرح کے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں؟ کیا اس سے ان کی مدد نہیں ہوتی کہ وہی کرنا چاہیں جو ٹھیک ہے؟‏

دلچسپی کی بات ہے کہ اکثر والدین نے بھی یہ دیکھا ہے کہ اپنی اولاد پر اعتماد کا اظہار کرنا اچھے اثر کا حامل ہوا ہے۔ رضاکارانہ فرمانبرداری محض تقاضوں کو پورا کرنے سے کہیں آگے بڑھ جانے کی خواہش کو پہچانتے ہوئے والدین اپنے بچوں کو کسی حد تک عزت‌نفس دے سکتے ہیں۔ والدین والے احکامات یا درخواستیں، جب ممکن ہو، نرم اور شفیق آواز میں دئے جانے چاہییں۔ لازم ہے کہ ہمدردی دکھائی جائے، دلائل دئے جائیں۔ جب وہ اسطرح کی قدرافزائی کے مستحق ہوں تو والدین کو اپنے بچوں کی پرجوش قدرافزائی کرنی چاہیے اور ان پر حد سے زیادہ نکتہ چینی کرنے سے گریز کریں، خاص طور پر دوسروں کے سامنے۔‏

اسی طرح سے، شوہر بھی اپنی بیویوں کی تعریف کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنے سے، معقول‌پسندی اور نرم‌مزاجی کی خوبیوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہ بیوی کے طور پر تابعداری کو خوشگوار اور لطف اور تازگی کا ذریعہ بنا دے گا! امثال ۳۱:‏۲۸،‏ افسیوں ۵:‏۲۸‏۔‏

فلیمون نے پولس کے خط کے لئے جس قسم کا ردعمل دکھایا اس کا ذکر نہیں ملتا۔ مگر، ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کسی بھی طرح سے پولس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی تھی۔ دعا ہے کہ مسیحی بزرگ ، والدین، اور شوہر بھی آجکل اپنے برتاؤ میں اسی قسم کی کامیابی حاصل کریں، زبردستی کرنے، حکم چلانے، یا دباؤ ڈالنے سے نہیں، بلکہ ”‏محبت کی [‏بنا پر نصیحت کرکے، NW۔]‏“‏ (‏۲۳ ۴/۱۵ w۹۲)‏

‏[‏تصویر]‏

ایک رسول کے طور پر اپنے اختیار کی طرف توجہ مبذول کرانے کی بجائے پولس نے مسیحی محبت کی بنا پر فلیمون کو نصیحت کی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں