یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏11 ص.‏ 19-‏23
  • ‏”‏آخری زمانہ“‏ میں جاگتے رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏آخری زمانہ“‏ میں جاگتے رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • انتشارخیال کا مقابلہ کریں
  • پوری سنجیدگی سے دعا کریں
  • خدا کی تنظیم اور اسکے کام کیساتھ جڑے رہیں
  • اپنی ذات کا تجزیہ کریں
  • تکمیل‌یافتہ پیشینگوئیوں پر غوروفکر کریں
  • جس وقت ہم ایمان لائے تھے اس وقت کی نسبت ہماری نجات نزدیک ہے
  • ‏”‏جاگتے رہو“‏!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • یہوواہ کے روزِعظیم کیلئے تیار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • ‏”‏جاگتے رہو“‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۰
  • کیا ہم جاگ رہے ہیں—‏انتشارِخیال سے بچتے ہوئے؟‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۵
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏11 ص.‏ 19-‏23

‏”‏آخری زمانہ“‏ میں جاگتے رہیں

‏”‏خبردار! جاگتے .‏ .‏ .‏ رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئیگا۔“‏ مرقس ۱۳:‏۳۳‏۔‏

۱.‏ جب اس ”‏خاتمے کے وقت“‏ میں ہیجان‌خیز واقعات کھل کر سامنے آتے ہیں تو ہمیں کیسا ردعمل دکھانا چاہیے؟‏

جیسے ہی ہیجان‌خیز واقعات اس ”‏آخری زمانہ“‏ میں کھل کر سامنے آتے ہیں تو مسیحیوں کا ردعمل کیسا ہونا چاہیے؟ (‏دانی‌ایل ۱۲:‏۴‏)‏ انہیں کسی طرح کے تذبذب میں نہیں چھوڑا گیا۔ یسوع مسیح نے ایک مرکب نشان والی پیشینگوئی کی جو اس بیسویں صدی میں زیرتکمیل رہی ہے۔ اس نے بہتیری ایسی خصوصیات بیان کیں جنہوں نے ۱۹۱۴ سے لیکر اس زمانے کو بطور بینظیر نمایاں کیا ہے۔ ”‏آخری زمانہ“‏ کی بابت دانی‌ایل کی پیشینگوئی سے واقف ہوتے ہوئے، اپنے شاگردوں کو ”‏جاگتے رہنے“‏ کی تاکید کرنے سے یسوع نے اپنی عظیم پیشینگوئی کی پیروی کی۔ لوقا ۲۱:‏۳۶‏۔‏

۲.‏ روحانی طور پر جاگتے رہنے کی بڑی ضرورت کیوں ہے؟‏

۲ کیوں جاگتے رہیں؟ کیونکہ یہ انسانی تاریخ کا نہایت ہی خطرناک دور ہے۔ اس وقت میں روحانی اونگھ کو اپنے اوپر حاوی ہونے کی اجازت دینا مسیحیوں کیلئے تباہ‌کن ہوگا۔ اگر ہم اپنے آپ میں مگن ہو جاتے یا اپنے دلوں کو زندگی کی فکروں کے بوجھ تلے دب جانے دیتے ہیں تو ہم خطرے میں پڑ جائیں گے۔ لوقا ۲۱:‏۳۴، ۳۵ میں، یسوع مسیح ہمیں آگاہ کرتا ہے:‏ ”‏پس خبردار رہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل خمار اور نشہ‌بازی اور اس زندگی کی فکروں سے سست ہو جائیں اور وہ دن تم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔ کیونکہ جتنے لوگ تمام رو ئے‌زمین پر موجود ہونگے ان سب پر وہ اسی طرح آ پڑیگا۔“‏

۳، ۴.‏ (‏ا)‏یہ کہنے سے یسوع کا کیا مطلب تھا کہ خدا کے قہر کا دن لوگوں پر اچانک ”‏ایک [‏جال ،NW]‏ کی طرح“‏ آ پڑے گا؟ (‏ب)‏ چونکہ خدا وہ جال نہیں لگاتا تو پھر وہ دن زیادہ لوگوں پر غیرمتوقع طور پر کیوں آئے گا؟‏

۳ اس کی معقول وجہ تھی کہ کیوں یسوع نے یہ کہا تھا کہ یہوواہ کا دن ”‏[‏جال، NW]‏ کی طرح ناگہاں آپڑیگا۔“‏ جال میں اکثر ایک پھندا لگا ہوتا ہے، اور یہ پرندوں اور دودھ پلانے والے جانوروں کو پکڑنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پھندے کی ایک لبلبی ہوتی ہے، اور جو کوئی اس پر چڑھ جاتا ہے وہ لبلبی کو حرکت میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ پھر پھندا بند ہو جاتا ہے، اور شکار پکڑا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ آن کی آن میں واقع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے یسوع نے کہا کہ روحانی طور پر بے‌عمل لوگ بھی بے‌خبری میں خدا کے ”‏قہر کے دن“‏ اچانک پکڑے جائیں گے۔ امثال ۱۱:‏۴‏۔‏

۴ کیا یہوواہ خدا لوگوں کیلئے پھندا لگاتا ہے؟ نہیں، وہ بے‌خبر لوگوں کو تباہ کرنے کیلئے پکڑنے کا منتظر نہیں رہتا۔ لیکن وہ دن عام لوگوں پر اچانک آپڑیگا کیونکہ وہ خدا کی بادشاہت پر اولین توجہ نہیں دیتے۔ وہ اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کے مفہوم کو نظرانداز کرتے ہوئے زندگی کے حاصلات میں اپنی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں۔ تاہم، یہ سب خدا کے جدول کو تبدیل نہیں کرتا۔ وہ معاملات کو نپٹانے کیلئے اپنا ذاتی معین وقت رکھتا ہے۔ اور، مہربانہ طور پر، وہ بنی‌آدم کو اپنے مستقبل کے فیصلوں سے بے‌خبر نہیں رکھتا۔ مرقس ۱۳:‏۱۰‏۔‏

۵، ۶.‏ (‏ا)‏آنے والی عدالت کے پیش‌نظر خالق نے انسانی خلائق کیلئے کیا پرمحبت بندوبست کیا ہے، لیکن کس عمومی نتیجے کیساتھ ؟ (‏ب)‏ جاگتے رہنے کیلئے ہماری مدد کرنے کیلئے کس چیز پر غور کیا جائیگا؟‏

۵ یہ بروقت آگاہی اس عظیم خالق کی طرف سے ایک پرمحبت اہتمام ہے، جو یہاں اپنے پاؤں کی علامتی چوکی پر رہنے والی انسانی مخلوق کی بہبود میں دلچسپی رکھتا ہے۔ (‏یسعیاہ ۶۶:‏۱‏)‏ وہ اس جگہ کے باشندوں کو عزیز رکھتا ہے جسے اس کے پاؤں کی چوکی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ پس اپنے زمینی قاصدوں اور ایلچیوں کے ذریعے، وہ انہیں آنے والے حالات سے آگاہ رکھتا ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۲۰‏)‏ تاہم، دی گئی تمام آگاہیوں کے باوجود، وہ واقعات انسانی خاندان پر اس قدر اچانک رونما ہونگے گویا کہ وہ ایک پھندے میں پھنس گئے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ لوگوں کی اکثریت روحانی طور پر سوئی ہوئی ہے۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۶‏)‏ مقابلتاً تھوڑے ہی سے لوگ اس آگاہی پر کان لگائیں گے اور خدا کی نئی دنیا میں داخل ہونگے۔ متی ۷:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

۶ تو پھر، اس آخری زمانہ میں ہم کیونکر بیدار رہ سکتے ہیں تاکہ ان میں شمار کئے جائیں جو بچائے جائینگے؟ یہوواہ درکار مدد فراہم کرتا ہے۔ آئیے ہم ان سات کاموں پر غور کریں جو ہم کر سکتے ہیں۔‏

انتشارخیال کا مقابلہ کریں

۷.‏ انتشارخیال کے سلسلے میں یسوع نے کیا آگاہی دی تھی؟‏

۷ سب سے پہلے تو یہ کہ ہمیں انتشارخیال کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ متی ۲۴:‏۴۲،‏ ۴۴ میں، یسوع نے کہا:‏ ”‏پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئیگا۔ اس لئے تم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہوگا ابن‌آدم آ جائیگا۔“‏ جو زبان یسوع نے استعمال کی وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس پرخطر زمانے میں، بہت زیادہ انتشارخیال ہوگا، اور انتشارخیال تباہی کا باعث ہو سکتا ہے۔ نوح کے دنوں میں بہتیری چیزوں نے لوگوں کو حد سے زیادہ مصروف کر دیا تھا۔ نتیجہ کے طور پر، منتشرخیال لوگوں نے اپنے اردگرد ہونے والے واقعات پر ”‏بالکل دھیان نہ دیا“‏ اور طوفان ان سب کو بہا لے گیا۔ اسی کی مطابقت میں، یسوع نے لوگوں کو آگاہ کیا:‏ ”‏اسی طرح ابن‌آدم کا آنا ہوگا۔“‏ متی ۲۴:‏۳۷-‏۳۹‏۔‏

۸، ۹.‏ (‏ا)‏کس طرح سے زندگی کے معمولی حاصلات خطرناک طور پر ہماری توجہ ہٹا سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ یسوع اور پولس نے ہمیں کیا آگاہیاں دی ہیں؟‏

۸ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ لوقا ۲۱:‏۳۴، ۳۵ میں، یسوع زندگی کے عام پہلوؤں پر گفتگو کر رہا تھا۔ جیسے کھانا، پینا، اور روزی کمانے کی فکر میں رہنا۔ بشمول خداوند یسوع کے شاگردوں کے یہ چیزیں سب انسانوں کے لئے عام ہیں۔ (‏مقابلہ کریں مرقس ۶:‏۳۱‏۔)‏ یہ چیزیں بذات خود شاید بے‌ضرر ہوں، لیکن اگر انہیں حاوی ہونے دیا جائے تو یہ ہمارے خیال کو منتشر کر سکتی ہیں، سمیں حد سے زیادہ مصروف کر سکتی ہیں، اور یوں ہمارے اوپر خطرناک روحانی اونگھ طاری کر سکتی ہیں۔‏

۹ اس لئے آئیے ہم نہایت اہم بات الہی مقبولیت حاصل کرنے سے غفلت نہ کریں۔ زندگی کی عام سی چیزوں میں منہمک ہونے کی بجائے، آئیے ہم انہیں زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے ایک محدود حد تک ہی استعمال کریں۔ (‏فلپیوں ۳:‏۸‏)‏ انہیں ہمارے بادشاہتی مفادات کو پس‌پشت نہیں ڈالنا چاہیے۔ جیسا کہ رومیوں ۱۴:‏۱۷ بیان کرتی ہے، ”‏خدا کی بادشاہی کھانے پینے پر نہیں بلکہ راستبازی اور میل‌ملاپ اور اس خوشی پر موقوف ہے جو روح‌القدس کی طرف سے ہوتی ہے۔“‏ یسوع کے ان الفاظ کو یاد رکھیں جب اس نے کہا:‏ ”‏بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس ‎“کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائینگی۔“‏ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ مزید، لوقا ۹:‏۶۲ میں یسوع نے کہا:‏ ”‏جو کوئی اپنا ہاتھ ہل پر رکھ کر پیچھے دیکھتا ہے وہ خدا کی بادشاہی کے لائق نہیں۔“‏

۱۰.‏ اگر ہم اپنی آنکھوں کو بالکل سامنے کی طرف منزل‌مقصود پر نہیں لگائے رکھتے تو کونسا خطرہ موجود ہے؟‏

۱۰ کنایتاً بات کرتے ہوئے، جب ہم ایک مرتبہ ہل چلانا شروع کرتے ہیں تو ہمیں سیدھی قطار میں رہنا چاہیے۔ ایک ہل چلانے والا جو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے وہ سیدھی ریگھاری نہیں بنائیگا۔ اسکی توجہ ہٹ جاتی ہے اور آسانی سے غلط سمت جا سکتا ہے یا کسی رکاوٹ سے رک سکتا ہے۔ ہم لوط کی بیوی کی طرح نہ بنیں، جس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور محفوظ مقام پر کبھی نہ پہنچی۔ ہمیں اپنی آنکھوں کو بالکل سامنے کی طرف منزل‌مقصود پر لگائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کیلئے ہمیں انتشارخیال کے خلاف نبردآزما ہونے کی ضرورت ہے۔ پیدایش ۱۹:‏۱۷،‏ ۲۶،‏ لوقا ۱۷:‏۳۲‏۔‏

پوری سنجیدگی سے دعا کریں

۱۱.‏ انتشارخیال کے خطرے سے آگاہ کرنے کے بعد یسوع نے کس چیز پر زور دیا؟‏

۱۱ تاہم، کچھ اور بھی ہے جو جاگتے رہنے کیلئے ہم کر سکتے ہیں۔ ایک اہم دوسری چیز ہے:‏ پوری سنجیدگی سے دعا کریں۔ زندگی کے عام حاصلات کے ذریعے منتشرخیال ہو جانے کے خلاف ہمیں آگاہ کرنے کے بعد، یسوع نے یہ نصیحت دی:‏ ”‏پس ہر وقت جاگتے رہو اور دعا کرتے رہو تاکہ تم کو ان سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور ابن آدم کے حضور کھڑے ہونے کا مقدور ہو۔“‏ لوقا ۲۱:‏۳۶‏۔‏

۱۲.‏ کس قسم کی دعا ضروری ہے، اور کس نتیجے کے ساتھ ؟‏

۱۲ لہذا، اپنی حالت کے خطرے اور مستعد رہنے کی اپنی ضرورت کے متعلق ہمیں ہمیشہ التجا کرتے رہنا چاہیے۔ پس آئیں ہم دعائیہ طور پرسنجیدہ التجاؤں کیساتھ خدا کے پاس جائیں۔ پولس رومیوں ۱۲:‏۱۲ میں کہتا ہے:‏ ”‏دعا کرنے میں مشغول رہو۔“‏ افسیوں ۶:‏۱۸ میں بھی ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏اور ہر وقت اور ہر طرح سے روح میں دعا اور منت کرتے رہو اور اسی غرض سے جاگتے رہو۔“‏ یہ محض دعا کرنے کا معاملہ ہی نہیں ہے گویا کہ یہ بغیر کسی بڑی اہمیت کے کوئی ضمنی واقعہ ہو۔ ہمارا وجود ہی خطرے میں ہے۔ اسلئے ہمیں الہی مدد کیلئے سنجیدگی سے التجا کرنے کی ضرورت ہے:‏ (‏مقابلہ کریں عبرانیوں ۵:‏۷‏۔)‏ اس طریقے سے ہم خود کو یہوواہ کی جانب قائم رکھینگے۔ اسکو انجام دینے کیلئے ہماری مدد کرنے میں کوئی بھی چیز اس سے زیادہ فائدہ‌مند نہیں ہوگی کہ ہم اپنے لئے ”‏ہر وقت دعا کرتے رہیں۔“‏ تب یہوواہ ہمیں آگاہی کی ایک چوکس حالت میں رکھیگا۔ تو پھر، دعا میں مشغول رہنا کتنا اہم ہے!‏

خدا کی تنظیم اور اسکے کام کیساتھ جڑے رہیں

۱۳.‏ جاگتے رہنے کیلئے کس قسم کی رفاقت کی ضرورت ہے؟‏

۱۳ ہم ان تمام چیزوں سے بچنا چاہتے ہیں جو دنیا پر آئیں گی۔ ہم ابن‌آدم کے سامنے، اسکی مقبولیت رکھتے ہوئے کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تیسری چیز ہے جو ہم کر سکتے ہیں:‏ ناقابل‌شکستہ طور پر یہوواہ کی تھیوکریٹک تنظیم کے ساتھ پورے دل سے لگے رہیں۔ ہمیں پورے دل سے اس تنظیم کیساتھ رفاقت رکھنے اور اسکی سرگرمیوں میں شریک ہونے کی ضرورت ہے۔ یقیناً اس طریقے سے ہم ان مسیحیوں کے طور پر اپنی شناخت کرائیں گے جو جاگتے ہیں۔‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏کس کام میں مشغول ہونا جاگتے رہنے میں ہماری مدد کرے گا؟ (‏ب)‏ منادی کے کام کے ختم ہونے کے وقت کا تعین کون کرتا ہے، اور اس کام کی بابت ہمیں کیسا محسوس کرنا کرنا چاہیے؟ (‏پ)‏ بڑی مصیبت کے بعد، جب ہم ماضی میں کئے گئے بادشاہتی منادی کے کام پر غور کریں گے تو ہم کیا سمجھ لیں گے؟‏

۱۴ اسکے ساتھ جڑی ہوئی چوتھی چیز ہے جو جاگتے رہنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ ہمیں ان لوگوں میں ہونا چاہیے جو لوگوں کو اس نظام‌العمل کے آنے والے خاتمے سے آگاہ کر رہے ہیں۔ اس پرانے نظام کا مکمل خاتمہ اس وقت تک نہیں آئیگا جب تک کہ ”‏بادشاہی کی اس خوشخبری“‏ کی منادی اس حد تک نہیں ہو جاتی جسکا قادرمطلق خدا نے قصد کیا ہوا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ یہوواہ کے گواہ اس بات کا تعین نہیں کرتے کہ منادی کا کام کب مکمل ہو جاتا ہے۔ یہوواہ اس حق کو اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ (‏مرقس ۱۳:‏۳۲، ۳۳‏)‏ گویا ہم اٹل ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو سخت کام کریں، اور اس وقت تک کریں جب تک بہترین حکومت یعنی خدا کی بادشاہت کی بابت منادی کرنا ضروری ہے، جسے نسل‌انسانی کبھی حاصل کر سکتی ہے۔ جبکہ ہم ابھی اس کام میں مصروف ہونگے تو ”‏بڑی مصیبت“‏ اچانک شروع ہو جائے گی۔ (‏متی ۲۴:‏۲۱‏)‏ پورے مستقبل کے دوران، بچنے والے ماضی پر غور کرنے کے قابل ہونگے اور جوش‌وخروش سے تصدیق کرینگے کہ یسوع مسیح کوئی جھوٹا نبی نہ تھا۔ (‏مکاشفہ ۱۹:‏۱۱‏)‏ منادی کا کام اس درجہ سے کہیں زیادہ ہو چکا ہو گا جسکی اس میں حصہ لینے والوں سے توقع کی گئی تھی۔‏

۱۵ چنانچہ اس نہایت ہی اہم دور میں جب یہ کام خدا کی اپنی تسلی کیلئے مکمل ہو چکا ہوگا، غالباً ماضی کے کسی بھی دور سے زیادہ لوگ اس میں حصہ لے رہے ہونگے۔ اس شاندار کام میں حصہ لے چکنے کی بابت ہم کتنے شکرگزار ہوں گے! پطرس رسول ہمیں یقیندہانی کراتا ہے کہ یہوواہ ”‏کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۹‏)‏ نتیجتاً، قادرمطلق خدا کی سرگرم قوت آجکل پہلے سے کہیں زیادہ زور سے کام کر رہی ہے، اور یہوواہ کے گواہ روح سے تحریک پانے والی اس کارگزاری کو جاری رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پس خدا کی تنظیم کی گہری قربت میں رہیں، اور اس کی اعلانیہ خدمتگزاری میں مصروف رہیں۔ آپ کے جاگتے رہنے کے لئے یہ ایک مدد ہوگی۔‏

اپنی ذات کا تجزیہ کریں

۱۶.‏ ہمیں اپنی موجودہ روحانی حالت کا ذاتی تجزیہ کیوں کرنا چاہیے؟‏

۱۶ ایک پانچویں بات ہے جو ہم کر سکتے ہیں تاکہ جاگتے رہیں۔ انفرادی طور پر، ہمیں اپنی موجودہ حالت کا ایک ذاتی تجزیہ کرنا چاہیے۔ اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ مناسب ہے۔ ہمیں ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم عزم‌مصمم کیساتھ کس کی طرف کھڑے ہیں۔ گلتیوں ۶:‏۴ میں پولس نے کہا:‏ ”‏پس ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے۔“‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۶-‏۸ میں پولس کے الفاظ کی مطابقت میں اپنی ذات کا تجزیہ کریں:‏ ”‏پس اوروں کی طرح سو نہ رہیں بلکہ جاگتے اور ہوشیار رہیں۔ کیونکہ جو سوتے ہیں رات ہی کو سوتے ہیں اور جو متوالے ہوتے ہیں رات ہی کو متوالے ہوتے ہیں۔ مگر ہم جو دن کے ہیں ایمان اور محبت کا بکتر لگا کر اور نجات کی امید کا خود پہنکر ہوشیار رہیں۔“‏

۱۷.‏ ذاتی تجزیہ کرتے وقت، ہمیں خود سے کونسے سوال پوچھنے چاہیے؟‏

۱۷ ہماری بابت کیا ہے؟ جب ہم صحائف کی روشنی میں خود کا تجزیہ کرتے ہیں، تو کیا ہم دیکھتے ہیں کہ ہم جاگ رہے ہیں، اور نجات کی امید کو خود کے طور پر پہنے ہوئے ہیں؟ کیا ہم وہ اشخاص ہیں جنہوں نے یقینی طور پر خود کو پرانے دستورالعمل سے الگ کر لیا ہے اور اب اسکے خیالات کو ذہن میں نہیں لاتے؟ کیا ہم واقعی خدا کی نئی دنیا کی روح رکھتے ہیں؟ کیا ہم پوری طرح باخبر ہیں کہ یہ نظام کس طرف جا رہا ہے؟ اگر ایسے ہے تو یہوواہ کا دن ہم پر ایسے نہیں آئیگا کہ گویا ہم چور تھے۔ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۴‏، NW۔‏

۱۸.‏ ہمیں خود سے کونسے مزید سوال پوچھنے کی ضرورت ہو سکتی ہے، اور کس نتیجے کے ساتھ ؟‏

۱۸ اس وقت کیا ہوگا اگر ہمارا ذاتی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ایک نفیس، لطیف، آرامدہ، تفریحی طرززندگی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہو اگر ہم معلوم کرتے ہیں کہ ہماری روحانی آنکھیں اونگھ اور نیند کی وجہ سے بوجھل ہو گئی ہیں؟ کیا ہم ایک خواب جیسی حالت میں، کسی دنیاوی تخیل کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آئیے ہم بیدار ہو جائیں! ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۴‏۔‏

تکمیل‌یافتہ پیشینگوئیوں پر غوروفکر کریں

۱۹.‏ بعض پیشینگوئیاں کونسی ہیں جنکو ہم نے پورا ہوتے دیکھا ہے؟‏

۱۹ اب ہم چھٹی بات پر آتے ہیں جو ہمیں جاگتے رہنے میں مدد دیگی:‏ ان بہت سی پیشینگوئیوں پر غوروفکر کریں جو خاتمے کے اس دور میں پوری ہو چکی ہیں۔ ۱۹۱۴ میں قوموں کی میعاد کے ختم ہونے کے وقت سے لیکر ہم پہلے ہی ۷۷ ویں سال کو گزار چکے ہیں۔ جب ہم پیچھے اس صدی کے تین چوتھائی حصوں پر غور کرتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح سے ایک پیشینگوئی کے بعد دوسری پوری ہو چکی ہے سچی پرستش کی بحالی، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بچ کر ممسوح بقیے کا روحانی فردوس میں داخلہ، عالمگیر پیمانے پر بادشاہت کی خوشخبری کی منادی، بڑی بھیڑ کا ظہور۔ (‏یسعیاہ ۲:‏۲، ۳،‏ باب ۳۵‏، زکریا ۸:‏۲۳، متی ۲۴:‏۱۴،‏ مکاشفہ ۷:‏۹‏)‏ یہوواہ کے عظیم نام اور عالمگیر حاکمیت کی تمجید ہوئی ہے اور یہوواہ کے عین وقت پر سب کچھ کرنے سے سب سے چھوٹا بڑھ کر ایک ہزار بن گیا ہے اور سب سے حقیر ایک زبردست قوم۔ (‏یسعیاہ ۶۰:‏۲۲،‏ حزقی‌ایل ۳۸:‏۲۳)‏ اور مکاشفہ کے بیان میں یوحنا رسول کی رویتیں اپنے عروج کے قریب پہنچ رہی ہیں۔‏

۲۰ یہوواہ کے گواہ کونسا مشترکہ پختہ‌یقین رکھتے ہیں اور حقیقت میں وہ کیا ثابت ہوئے ہیں؟‏

۲۰ لہذا پہلے سے کہیں زیادہ یہوواہ کے گواہ ۱۹۱۴ سے لیکر دنیا کے معاملات کے مطلب کی اپنی سمجھ کی درستی سے پوری طرح قائل ہیں۔ ایسا پختہ یقین رکھنے سے، وہ بلندوبالا خدا کے ہاتھوں میں ہتھیار ثابت ہوئے ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہیں اس نہایت ہی اہم وقت میں الہی پیغام کو پہنچانے کی ذمہ‌داری دی گئی ہے۔ (‏رومیوں ۱۰:‏۱۵،‏ ۱۸‏)‏ جی‌ہاں، خاتمے کے دور کی بابت یہوواہ کے الفاظ سچے ثابت ہوئے ہیں۔ (‏یسعیاہ ۵۵:‏۱۱‏)‏ اسے، پھر، ہمیں اس وقت تک کام کرتے رہنے کی تحریک دینی چاہیے جبتک ہم یسوع مسیح کے ذریعے خدا کے تمام وعدوں کی آخری تکمیل کو دیکھ نہیں لیتے۔‏

جس وقت ہم ایمان لائے تھے اس وقت کی نسبت ہماری نجات نزدیک ہے

۲۱.‏ روحانی طور پر جاگتے رہنے کیلئے ہمیں کونسی ساتویں مدد حاصل ہے؟‏

۲۱ آخر میں ہمارے جاگتے رہنے کیلئے ساتویں مدد:‏ ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ ہماری نجات اس وقت سے زیادہ نزدیک ہے جب ہم پہلے ایمان لائے تھے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہوواہ کی عالمگیر حاکمیت کی سچائی کا جواز اور اس کے نام کی تقدیس زیادہ قریب ہیں۔ اسلئے جاگتے رہنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ پولس رسول لکھتا ہے:‏ ”‏اور وقت کو پہچان کر ایسا ہی کرو۔ اسلئے کہ اب وہ گھڑی آ پہنچی کہ تم نیند سے جاگو کیونکہ جس وقت ہم ایمان لائے تھے اس وقت کی نسبت اب ہماری نجات نزدیک ہے۔“‏ رومیوں ۱۳:‏۱۱، ۱۲‏۔‏

۲۲.‏ ہماری نجات کی نزدیکی کو ہم پر کیسے اثرانداز ہونا چاہیے؟‏

۲۲ اپنی نجات کے اتنا زیادہ قریب ہوتے ہوئے، ہمیں جاگتے رہنا چاہیے! ہمیں کسی ذاتی یا دنیاوی مفادات کو ان سب کے لئے اپنی قدردانی سے زیادہ اہم خیال کرنے دینا نہیں چاہیے جو یہوواہ خاتمے کے اس وقت کے دوران اپنے لوگوں کے لئے کر رہا ہے۔ (‏دانی‌ایل ۱۲:‏۳‏)‏ ہمیں پہلے کی نسبت زیادہ مستقل‌مزاجی دکھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس راہ سے نہ ہٹیں جسے خدا کا کلام صاف طور پر ہمارے لئے تجویز کرتا ہے۔ (‏متی ۱۳:‏۲۲‏)‏ شہادت واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ یہ دنیا اپنے آخری دنوں میں ہے۔ جلد ہی اسے ہمیشہ کیلئے صفحہءہستی سے مٹا دیا جائے گا تاکہ راستبازی کی نئی دنیا کے لئے جگہ خالی کی جائے۔ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

۲۳.‏ کس طریقے سے یہوواہ ہماری مدد کرتا ہے، اور کس بابرکت نتیجے کے ساتھ ؟‏

۲۳ آئیے، پھر ہم یقینی طور پر جاگتے رہیں۔ وقت کے جس دھارے میں ہم ہیں اس کے لئے ہوشیار رہنے کی ضرورت پہلے کبھی نہیں پڑی۔ یاد رکھیے، اس معاملے میں یہوواہ کبھی نہیں سوئے گا۔ اس کے برعکس، وہ خاتمے کے اس دور میں جاگتے رہنے میں ہمیشہ ہماری مدد کرے گا۔ رات بہت گزر چکی ہے۔ دن نکلنے والا ہے۔ اس لئے جاگتے رہیں! جب مسیحائی بادشاہت زمین کے سلسلے میں یہوواہ کے مقصد کو پورا کرے گی تو بہت جلد ہم تمام دنوں سے زیادہ خوبصورت دن کو دیکھیں گے! مکاشفہ ۲۱:‏۴، ۵‏۔ (‏۲ ۱۹ ۵/۱ w۹)‏

آپکے جواب کیا ہیں؟‏

▫ یسوع کا کیا مطلب تھا جب اس نے کہا کہ خدا کے قہر کا دن لوگوں پر ”‏[‏جال، NW]‏ کی طرح“‏ آئیگا؟‏

▫ ہم کو انتشارخیال کے خلاف کیوں نبردآزما ہونا چاہیے، اور ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

▫ جاگتے رہنے کیلئے کس قسم کی دعا ضروری ہے؟‏

▫ کس قسم کی رفاقت نہایت اہم ہے؟‏

▫ اپنی روحانی حالت کا ذاتی تجزیہ کیوں کریں؟‏

▫ ہمیں بیدار رکھنے میں پیشینگوئی کیا کردار ادا کرتی ہے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں