حقیقی آزادی کس ذریعے سے؟
”انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔ اے [یہوواہ، NW] مجھے تنبیہ کر۔“ یرمیاہ ۱۰:۲۳، ۲۴۔
۱، ۲. لوگوں کی اکثریت آزادی کو کیسا خیال کرتی ہے، لیکن اور کس چیز پر غور کرنے کی ضرورت ہے؟
بلاشبہ آپ حقیقی آزادی کی قدر کرتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی ہو، آپ کو یہ فیصلہ کرنے کی آزادی ہو کہ کہاں اور کیسے رہیں۔ آپ اپنی پسند کے کام کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، اپنی خوراک ، موسیقی، اور دوستوں کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ آپ بہت سی چھوٹی بڑی چیزوں کی بابت ترجیحات رکھتے ہیں۔ کوئی بھی نارمل شخص بہت کم یا برائے نام آزاد مرضی کے بغیر، آمرانہ حاکموں کی غلامی میں رہنا نہیں چاہتا۔
۲ تاہم، کیا آپ بھی ایک ایسی دنیا نہیں چاہیں گے جہاں پر دوسرے اور آپ بھی حقیقی آزادی سے مستفید ہو نگے؟ کیا آپ ایسی دنیا پسند نہیں کرینگے جہاں آزادی کا تحفظ کیا جائیگا تاکہ ہر ایک کو اپنی مرضی سے زندگی گذارنے کا پورا حق حاصل ہو؟ اور اگر یہ ممکن ہوتا تو کیا آپ ایک ایسی دنیا بھی نہیں چاہیں گے جو کہ ڈر، جرم، بھوک ، غربت، آلودگی، بیماری، اور جنگ سے آزاد ہو؟ یقینی طور پر ایسی آزادیاں بیحد پسندیدہ ہیں۔
۳. ہم کیوں آزادی کی قدر کرتے ہیں؟
۳ ہم انسان آزادی کی بابت اس قدر زبردست احساس کیوں رکھتے ہیں؟ بائبل بیان کرتی ہے: ”جہاں کہیں [یہوواہ، NW] کا روح ہے وہاں آزادی ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۳:۱۷) پس یہوواہ آزادی کا خدا کا ہے۔ اور چونکہ اس نے ہمیں اپنی ”صورت اور شبیہ“ پر خلق کیا ہے، اس لئے اس نے ہمیں آزاد مرضی کی صلاحیت بھی عطا کی ہے تاکہ ہم آزادی کی قدر کر سکیں اور اس سے مستفید بھی ہو سکیں۔ پیدایش ۱:۲۶۔
آزادی کا غلط استعمال ہوا
۴، ۵. پوری تاریخ کے دوران کسطرح سے آزادی کا غلط استعمال کیا گیا ہے؟
۴ پوری تاریخ میں لاکھوں لوگ اس لئے غلام بنا دئے گئے، ستائے گئے، یا قتل کئے گئے ہیں کیونکہ دوسروں نے اپنی آزاد مرضی کا غلط استعمال کیا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ کوئی ۳،۵۰۰ سال پہلے، ”مصریوں نے بنی اسرائیل پر تشدد کرکے ان سے کام کرایا۔ اور انہوں نے ان سے سخت انکی زندگی تلخ کی۔“ (خروج ۱:۱۳، ۱۴) دی انسائیکلوپیڈیا امریکانا کہتا ہے کہ چوتھی صدی ق۔س۔ع۔ میں، اتھینے اور دوسرے دو یونانی شہروں میں غلاموں کی تعداد آزاد شہریوں کے مقابلے میں تقریباً ۴ میں سے ۱ سے بھی زائد تھی۔ یہی ذریعہ مزید کہتا ہے: ”روم کے اندر شروع میں غلام کے کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے۔ اسے کسی بھی معمولی سے جرم کیلئے موت کی سزا دی جا سکتی تھی۔“ کامپٹنز انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے: ”روم میں ملک کی بنیاد غلاموں کا کام تھا۔ . . . کھیتوں میں غلام اکثر زنجیروں میں بندھے ہوئے کام کرتے تھے۔ رات کے وقت انہیں اکٹھا باندھ دیا جاتا اور پھر بڑی بڑی جیلوں میں بند کر دیا جاتا تھا، جن کا آدھا حصہ زمین کے اندر دفن ہوتا تھا۔“ چونکہ غلاموں میں سے بہتیرے کبھی آزاد رہ چکے تھے، لہذا ان دل شکستہ جانوں کے غم کا تصور کریں!
۵ صدیوں تک ، مسیحی دنیا غلاموں کی ظالمانہ تجارت میں ملوث رہی۔ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا کہتی ہے: ”۱۵ ویں صدی سے ۱۸ ویں صدی تک ، یورپیوں نے دس ملئن سے زیادہ کالے غلاموں کو افریقہ سے مغربی کرہ میں بھیجا۔“ اس ۲۰ ویں صدی میں، حکومتی پالیسی کے تحت لاکھوں قیدیوں کو نازی اجتماعی کیمپوں میں جانلیوا مشقت کرنی پڑتی تھی یا انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان ستمرسیدہ لوگوں میں بہتیرے یہوواہ کے گواہ بھی شامل تھے جنہیں قاتل نازی حکومت کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے قید میں ڈال دیا گیا تھا۔
جھوٹے مذہب کی غلامی
۶. قدیم کنعان میں جھوٹے مذہب نے کیسے لوگوں کو غلام بنایا تھا؟
۶ ایک ایسی غلامی بھی ہے جو جھوٹے مذہب سے وابستگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، قدیم کنعان میں، بچوں کو مولک کیلئے قربان کیا جاتا تھا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ایک بھٹی اس جھوٹے معبود کی بہت بڑی مورت کے اندر بھڑکتی رہتی تھی۔ زندہ بچوں کو اس مورت کی پھیلی ہوئی بانہوں میں پھینک دیا جاتا تھا، جو ان میں سے پھسل کر نیچے جلتی آگ میں جا پڑتے تھے۔ بعض اسرائیلی بھی ایسی جھوٹی پرستش میں پڑ گئے تھے۔ خدا فرماتا ہے کہ انہوں نے ”اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو مولک کیلئے آگ میں سے گزارا جس کا میں نے انکو حکم نہیں دیا اور نہ میرے خیال میں آیا کہ وہ ایسا مکروہ کام کریں۔“ (یرمیاہ ۳۲:۳۵) مولک نے اپنے پرستاروں کو کیا فائدہ پہنچایا؟ آج وہ کنعانی اقوام اور مولک کے پرستار کہاں ہیں؟ وہ سب کے سب فنا ہو گئے ہیں۔ وہ جھوٹی پرستش تھی، یعنی ایسی پرستش جو کہ سچائی پر نہیں بلکہ جھوٹ پر مبنی تھی۔ یسعیاہ ۶۰:۱۲۔
۷. کونسا گھنونا کام ازٹک مذہب کا حصہ تھا؟
۷ صدیوں پہلے وسطی امریکہ میں، ازٹک جھوٹی پرستش کی غلامی میں پڑ گئے۔ لوگ اپنے ذاتی دیوتا رکھتے تھے، مظاہرقدرت کی بطور دیوتاؤں کے پرستش کی جاتی تھی، روزمرہ زندگی کی مختلف کارگزاریوں کے الگ الگ دیوتا ہوتے تھے، پودوں کے اپنے دیوتا ہوتے تھے، یہاں تک کہ خودکشی کا بھی دیوتا ہوتا تھا۔ کتاب دی انشنٹ سن کنگڈمز آف دی امریکاز بیان کرتی ہے: ”میکسیکو کی ازٹک حکومت کو سرتاپا اس طرح سے منظم کیا گیا تھا تاکہ وہ حمایت کرنے اور یوں ان دیکھی قوتوں کو زیادہ سے زیادہ انسانی دلوں سے تسکین بخشنے کے قابل ہو سکے جتنا کہ انہیں دینا ممکن تھا۔ خون دیوتاؤں کا مشروب تھا۔ دیوتاؤں کے لئے قربانی کے طور پر گذراننے کیلئے مناسب قیدی حاصل کرنے کیلئے، کبھی نہ ختم ہونے والی چھوٹی چھوٹی جنگیں لڑی جاتی تھیں۔“ ۱۴۸۶ میں جب ایک بہت بڑے حرم نما مندر کو مخصوص کیا گیا تو ہزاروں لوگ ”قربانگاہ پر نچھاور ہونے کیلئے بازو اور ٹانگیں پھیلائے ہوئے قطار باندھے منتظر کھڑے تھے۔ انکے دل کاٹ دئے گئے تھے اور انہیں تھوڑی دیر سورج کے سامنے پیش کیا گیا تھا“ تاکہ سورج دیوتا کو تسکین مل سکے۔ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا کہتی ہے: ”عبادتگزار بعض اوقات قربان ہونے والوں کے بدنوں کے حصے کھا جاتے تھے۔“ تاہم، یہ کام ازٹک سلطنت یا اسکے جھوٹے مذہب کو بچا نہ سکے۔
۸. ازٹکوں کے درمیان جو کچھ واقع ہوا اسکی نسبت جدید زمانے میں ہونے والے بہت زیادہ قتل و غارت کی بابت ایک ٹور گائیڈ نے کیا کہا؟
۸ ایک دفعہ سیاح ایک میوزیم کا دورہ کر رہے تھے جہاں پر ایک نمائشی الماری میں ازٹک کاہنوں کو ایک جوان آدمی کا دل کاٹتے دکھایا گیا تھا۔ جب ٹور گائیڈ نے نمائشکردہ چیز کی وضاحت کی تو سیاحت کرنے والے گروپ میں سے بعض کے منہ سے ہائے نکل گئی۔ تب گائیڈ نے کہا: ”میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ جھوٹے معبودوں کے سامنے جوان آدمیوں کو قربان کرنے کی ازٹک رسم سے پریشان ہوئے ہیں۔ تو بھی، اس بیسویں صدی میں، لاکھوں جوان آدمیوں کو جنگ کے دیوتا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ کیا یہ کوئی اس سے بہتر بات ہے؟“ یہ حقیقت ہے کہ جنگ میں تمام قوموں کے مذہبی راہنما فتح کے لئے دعا کرتے ہیں اور فوجوں کو برکت دیتے ہیں اگرچہ حریفین میں اکثر ایک ہی مذہب کے لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہوتے ہیں۔ ۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲، ۴:۸، ۲۰، ۲۱، ۵:۳۔
۹. کونسا کام تاریخ کے کسی اور واقع سے زیادہ کمسن جانیں لیتا ہے؟
۹ جوانوں کو مولک کے آگے، ازٹک دیوتاؤں کے آگے، یا جنگ کیلئے قربان کرنے کی بجائے، اب نازائیدہ بچوں کو اسقاط کے ذریعہ قتل کرنا حد سے آگے بڑھ گیا ہے، پوری دنیا میں ہر سال کوئی ۴۰ یا ۵۰ ملئن۔ گذشتہ تین سالوں کے اندر اسقاط کئے جانے والوں کی تعداد اس صدی کے دوران ہونے والی تمام جنگوں میں قتل ہونے والے سو ملئن لوگوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ نازی حکومت کے ۱۲ سالوں کے دوران قتل کئے جانے والے تمام لوگوں کی نسبت کئی گنا زیادہ بچے اسقاط کئے جاتے ہیں۔ حالیہ دہوں کے اندر مولک یا ازٹک دیوتاؤں کیلئے قربانکردہ تمام لوگوں کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ بچوں کا اسقاط کیا گیا ہے۔ تاہم بہتیرے (اگر اکثریت نہیں) جو اسقاط کرواتے ہیں، یا جو ایسا کرتے ہیں، مذہب رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
۱۰. ایک اور کونسا طریقہ ہے جس سے لوگ جھوٹے مذہب کی غلامی “ میں ہیں؟
۱۰ جھوٹا مذہب اور طریقوں سے بھی لوگوں کو غلام بناتا ہے۔ مثال کے طور پر، بہتیرے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ مردے عالمارواح میں زندہ ہیں۔ ایسے جھوٹے اعتقاد کا ایک نتیجہ مفروضہ فوائد حاصل کرنے کیلئے مردہ عزیزوں کا خوف اور انکی پرستش ہے۔ یہ عقیدہ لوگوں کو جادوگروں، بدروحوں کے آشناؤں، اور ایسے مذہبی طبقے کے غلام بنا دیتا ہے جو مردوں کو تشفی دینے میں زندوں کی مدد کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو پھر یہ سوال خوب پوچھا جا سکتا ہے، کیا ایسی غلامی سے آزادی کی کوئی راہ ہے؟ استثنا ۱۸:۱۰-۱۲، واعظ ۹:۵، ۱۰۔ (۳ ۴/۱ w۹۲)
[تصویر]
پوری تاریخ میں بعض نے دوسروں کو غلام بنانے کیلئے اپنی آزاد مرضی کا غلط استعمال کیا ہے