شادی میں تابعداری کا کیا مطلب ہے؟
جب ایک مسیحی عورت شادی کرتی ہے تو اسے بہتسی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔ شاید ان میں سے سب سے بڑی اس کی آزادی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک تنہا بالغ کے طور پر، شاید وہ کسی سے مشورہ کئے بغیر اپنے بہتسے ذاتی فیصلے کرنے کیلئے آزاد رہی ہو۔ لیکن اب جبکہ اس کا خاوند ہے تو وہ اس سے مشورہ کرنے اور بہتسے کام کرنے کیلئے اس کی اجازت حاصل کرنے کی پابند ہے جن کے فیصلے وہ خود کرنے کی عادی تھی۔ یہ ایسے کیوں ہے؟
کیونکہ جب بنیآدم کے خالق نے پہلی عورت کو پہلے آدمی کو شادی میں دے دیا تو اس نے آدمی کو اسکی بیوی اور آئندہ کو انکے بچوں کا سر ہونے کیلئے مقرر کر دیا۔ یہی معقول بھی تھا۔ لوگوں کے کسی منظم گروپ میں، کسی کو پیشوائی کرنے اور آخری فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شادی کے معاملے میں، خالق نے فرمان جاری کیا کہ ”شوہر بیوی کا سر ہے۔“ افسیوں ۵:۲۳۔
اس کی حمایت میں، الہی ہدایت بیان کرتی ہے: ”اے بیویو! اپنے شوہروں کی تابع رہو۔“ (افسیوں ۵:۲۲) جس طرح سے ایک بیوی اس انتظام سے متاثر ہوتی ہے اس کا انحصار دو چیزوں پر ہے: پہلی، اس انتظام کی اطاعت کرنے کے لئے وہ کس قدر رضامند ہے؟ اور دوسری، اس کا شوہر اپنے اختیار کو کس طرح عمل میں لائے گا؟ حق بات تو یہ ہے کہ جب دونوں بیاہتا ساتھی اس انتظام پر موزوں طور پر غور کرتے ہیں تو وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ بیوی، شوہر، اور ان کے بچوں کے لئے ایک برکت ہے۔
ایک جابرفرمانروا نہیں
ایک شوہر کو اپنے اختیار کو کس طرح عمل میں لانا چاہیے؟ خدا کے بیٹے کے عمدہ نمونے کی پیروی کرنے سے۔ بائبل کہتی ہے: ”شوہر بیوی کا سر ہے جیسےکہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے۔ اے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کرکے اپنے آپ کو اس کے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔“ (افسیوں ۵:۲۳، ۲۵) یسوع مسیح کا سرداری کو عمل میں لانا کلیسیا کے لئے ایک برکت تھی۔ وہ ایک جابر فرمانروانہیں تھا۔ اس نے اپنے شاگردوں کو محدود اور مظلوم ہونے کا احساس نہ ہونے دیا۔ اس کی بجائے، اس نے ان کے لئے اپنے پرمحبت اور رحمدلانہ برتاؤ سے سب کا احترام حاصل کیا۔ اپنی بیویوں کے ساتھ اپنے برتاؤ میں شوہروں کے لئے پیروی کرنے کا کیا ہی عمدہ نمونہ ہے!
اگرچہ، ایسے خاوند ہیں جو اس عمدہ نمونے کی پیروی نہیں کر تے۔ وہ اپنی خداداد سرداری کو اپنی بیویوں کی بھلائی کی بجائے، خودغرضانہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں پر جابر حاکموں کی طرح سے حکومت کرتے ہوئے مکمل تابعداری کا تقاضا کرتے اور اکثر انہیں اپنے لئے کوئی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں د یتے۔ قابلفہم طور پر، ایسے خاوندوں کی بیویاں اکثر ناخوش زندگی بسر کرتی ہیں۔ اور اسطرح سے ایسا خاوند بھی تکلیف اٹھاتا ہے کیونکہ وہ اپنی بیوی کے پرمحبت احترام کو حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
سچ ہے کہ خدا تقاضا کرتا ہے کہ ایک بیوی اپنے شوہر کے مرتبے کا احترام کرے جو وہ خاندان کے سر کے طور پر رکھتا ہے۔ لیکن اگر شوہر ایک شخص کے طور پر اپنے لئے اسکے دلی احترام سے لطف اٹھانا چاہتا ہے تو اسکو اسے حاصل کرنا چاہیے، اور ایسا کرنے کا بہترین طریقہ ذمہدارانہ طریقے سے کام کرنا اور گھرانے کے سردار کے طور پر عمدہ، خدائی صفات پیدا کرنا ہے۔
تابعداری نسبتی ہے
ایک شوہر کا اپنی بیوی پر اختیار ہمہگیر نہیں ہے۔ بعض طریقوں سے ایک بیوی کی تابعداری کا موازنہ ایک دنیاوی حاکم کیلئے مسیحیوں کی تابعداری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ خدا حکم دیتا ہے کہ ایک مسیحی کو ”اعلی حکومتوں کے تابع رہنا“ چاہیے۔ (رومیوں ۱۳:۱) تاہم جوکچھ ہمیں خدا کو ادا کرنا ہے اسکے ساتھ اس تابعداری کا ہمیشہ توازن رہنا چاہیے۔ یسوع نے کہا: ”جو قیصر ہے قیصر کو ادا کرو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“ (مرقس ۱۲:۱۷) اگر قیصر (دنیاوی حکومت) اس چیز کا تقاضا کرتی ہے جو خدا کی ہے تو جو کچھ پطرس رسول نے کہا تھا وہ ہمیں یاد ہے: ”ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“ اعمال ۵:۲۹۔
کچھ اسی طرح سے، اگر ایک مسیحی عورت ایک ایسے آدمی سے بیاہی ہوئی ہے جو مسیحی اصولوں کو نہیں سمجھتا یا قدر کرنے میں قاصر رہتا ہے تو پھر بھی، وہ اسکی تابعداری کرنے کی پابند ہے۔ خدا کے اس مقرر کردہ انتظام کے خلاف بغاوت کرنے کی بجائے، وہ اسکے ساتھ محبت اور پاسولحاظ سے پیش آ کر اچھا کریگی اور یوں اسکا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کریگی۔ شاید اسطرح کا اچھا چالچلن اسکے شوہر کو بدل دے، یہ اسے سچائی کیلئے بھی جیت سکتا ہے۔ (۱-پطرس ۳:۱، ۲) اگر اسکا شوہر اسے کوئی ایسا کام کرنے کا حکم دیتا ہے جسے خدا نے منع کیا ہے تو اسے یاد رکھنا ہوگا کہ اسکا سب سے بڑا حاکم خدا ہے۔ اگر وہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ بداخلاق جنسی کاموں میں حصہ لے، جیسے کہ بیوی بدلنا تو وہ پابند ہے کہ تابعداری نہ کرے۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰) اپنے شوہر کیلئے تابعداری کا انحصار اسکے ضمیر اور خدا کیلئے اسکی اولین تابعداری پر ہے۔
شاہ داؤد کے زمانے میں، ابیجیل نابال سے بیاہی ہوئی تھی، وہ ایک ایسا شخص تھا جو خدائی اصولوں کا احترام نہیں کرتا تھا اور جس نے داؤد اور اس کے آدمیوں سے نامہربانہ اور سخت سلوک کیا تھا۔ انہوں نے نابال کی ہزاروں بھیڑوں اور بکریوں کی حفاظت کی تھی، لیکن جب داؤد نے خوراک فراہم کرنے کی درخواست کی تو نابال نے کوئی بھی چیز دینے سے انکار کر دیا۔
جب اس نے سنا کہ اسکے شوہر کا بخیلانہ رویہ اسکے گھرانے پر تباہی لانے والا تھا تو ابیجیل نے داؤد کے پاس کھانا لے جانے کا خود فیصلہ کیا۔ ”تب ابیجیل نے جلدی کی اور دو سو روٹیاں اور مے کے دو مشکیزے اور پانچ پکیپکائی بھیڑیں اور بھنے ہوئے اناج کے پانچ پیمانے اور کشمش کے ایک سو خوشے اور انجیر کی دو سو ٹکیاں ساتھ لیں اور انکو گدھوں پر لاد لیا۔ اور اپنے چاکروں سے کہا تم مجھ سے آگے جاؤ دیکھو میں تمہارے پیچھے پیچھے آتی ہوں اور اس نے اپنے شوہر نابال کو خبر نہ کی۔“ ۱-سموئیل ۲۵:۱۸، ۱۹۔
کیا ابیجیل اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف کام کرنے میں غلط تھی؟ اس معاملے میں نہیں۔ ابیجیل کی تابعداری نے اس سے یہ تقاضا نہیں کیا تھا اپنے شوہر کی طرح نامہربان ہو، خاصطور پر جب نابال کی غیردانشمندانہ روش نے اسکے سارے گھرانے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ لہذا داؤد نے اس سے کہا: ”[یہوواہ] اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے تجھے آج کے دن مجھ سے ملنے کو بھیجا۔ اور تیری عقلمندی مبارک ہو۔“ (۱-سموئیل ۲۵:۳۲، ۳۳) اسیطرح سے مسیحی بیویوں کو اپنے شوہروں کی سرداری کے خلاف بغاوت اور اضطراب سے کام نہیں لینا چاہیے، لیکن اگر یہ کوئی غیرمسیحی روش اختیار کریں تو اس سلسلے میں بیویوں کو انکی پیروی نہیں کرنی ہوگی۔
سچ ہے، افسیوں کے نام اپنے خط میں پولس کہتا ہے: ”جیسے کلیسیا مسیح کے تابع ہے ویسے ہی بیویاں بھی ہر بات میں اپنے شوہروں کے تابع ہوں۔“ (افسیوں ۵:۲۴) پولس کے لفظ ”ہربات“ کے استعمال کا یہاں پر یہ مطلب نہیں کہ بیوی کی تابعداری کے لئے کوئی حدود نہیں ہیں۔ پولس کا یہ اظہار، ”جیسے کلیسیا مسیح کے تابع ہے،“ ظاہر کرتا ہے کہ اسکے ذہن میں کیا تھا۔ ہربات جسکا مسیح اپنی کلیسیا سے تقاضا کرتا ہے وہ خدا کی مرضی کی مطابقت میں، راستبازی ہے۔ اسلئے، کلیسیا ہربات میں بآسانی اور خوشی کیساتھ اسکی تابعداری کر سکتی ہے۔ اسی طرح سے، ایک مسیحی شوہر جو خلوصدلی سے یسوع کے نمونے کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسکی بیوی ہربات میں اسکی تابعدار ہونے سے خوش ہوگی۔ وہ جانتی ہے کہ وہ اسکے بہترین مفادات کیلئے بڑی فکر رکھتا ہے، اور وہ کبھی جان بوجھکر اسکو کوئی ایسا کام کرنے کیلئے نہیں کہیگا جو خدا کی مرضی کی موافقت میں نہ ہو۔
ایک شوہر اپنی بیوی کی محبت اور احترام کو حاصل کریگا جب وہ اپنے سر، یسوع مسیح کی خدائی صفات کو ظاہر کرتا ہے، جس نے اپنے شاگردوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا حکم دیا تھا۔ (یوحنا ۱۳:۳۴) اگرچہ ایک شوہر خطاپذیر اور ناکامل ہے، اگر وہ مسیح کی اعلی سرداری کی مطابقت میں اپنے اختیار کو چلاتا ہے تو وہ اسے اپنی بیوی کے لئے آسانتر بناتا ہے تاکہ اسے اپنے سر کے طور پر مانتے ہوئے خوش ہو۔ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) اگر ایک بیوی پرمحبت مہربانی اور انکساری کی مسیحی صفات پیدا کرتی ہے تو اس کے لئے خود کو اپنے شوہر کے تابع کرنا مشکل نہیں ہے۔
فروتن اور معقول
کلیسیا میں شوہر اور بیویاں یہوواہ کے سامنے مساوی حیثیت کے ساتھ روحانی بہن بھائی ہیں۔ (مقابلہ کریں گلتیوں ۳:۲۸۔) تاہم، آدمیوں کو خدا کی طرف سے کلیسیا کی نگہبانی کرنے کی تفویض دی گئی ہے۔ راستدل عورتیں اسے پوری اطاعتشعاری کیساتھ خوشی سے قبول کرتی ہیں۔ اور جس بھاری ذمہداری کو یہ آدمیوں پر ڈالتی ہے کہ گلے پر حکومت نہ جتائیں، اسکو کلیسیا میں پختہ آدمی فروتنی سے تسلیم کرتے ہیں۔ ۱-پطرس ۵:۲، ۳۔
اگر کلیسیا میں آدمیوں اور عورتوں کے درمیان ایسا رشتہ ہے تو ایک مسیحی شوہر اپنی بیوی، اپنی روحانی بہن کے ساتھ ایک جابرحکمران کے طورپر اپنے برتاؤ کو کیسے جائز قرار دے سکتا ہے؟ اور بیوی کس طرح سے سرداری کے لئے اپنے شوہر کے ساتھ مقابلے کو جائز قرار دے سکتی ہے؟ اس کی بجائے، انہیں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا سلوک کرنا چاہیے جیسے پطرس کلیسیا کے تمام افراد کو نصیحت کرتا ہے: ”غرض سب کے سب یکدل اور ہمدرد رہو۔ برادرانہ محبت رکھو۔ نرمدل اور فروتن بنو۔“ (۱-پطرس ۳:۸) پولس نے بھی مشورہ دیا: ”دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل کا لباس پہنو۔ اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے جیسے [یہوواہ] نے تمہارے قصور معاف کئے ویسے ہی تم بھی کرو۔“ کلسیوں ۳:۱۲، ۱۳۔
ایسے رحجانات کو کلیسیا میں پیدا کیا جانا چاہیے۔ اور انہیں مسیحی گھرانے کے اندر شوہر اور بیوی کے درمیان خاص طور پر پیدا کیا جانا چاہیے۔ ایک شوہر اپنی بیوی سے مشوروں کو سننے سے اپنی پرمحبت چاہت اور نرمی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسے خاندان کو متاثر کرنے والا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے نقطہءنظر پر غور کرنا چاہیے۔ مسیحی بیویاں خالیالذہن نہیں ہیں۔ وہ اکثر اپنے شوہروں کو قابلقدر تجاویز پیش کر سکتی ہیں، جیسے سارہ نے اپنے شوہر، ابرہام کو پیش کی تھی۔ (پیدایش ۲۱:۱۲) اس کی دوسری طرف، ایک مسیحی بیوی غیرمعقول طورپر اپنے شوہر سے مطالبہ کرنے والی نہیں ہوگی۔ وہ اسکے فیصلوں کی حمایت کرنے اور اسکی پیشوائی کی پیروی کرنے سے اپنی مہربانی اور مزاج کی غربت ظاہر کریگی، اگرچہ بعضاوقات وہ اسکی اپنی ترجیحات سے بھی فرق ہو سکتے ہیں۔
ایک معقول شوہر، ایک معقول بزرگ کی طرح، مہربان اور قابلرسائی ہوتا ہے۔ ایک پرمحبت بیوی ہمدرد اور متحمل، اور اسکی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے جواب دیتی ہے جو وہ زندگی کے دباؤ اور ناکاملیت کے باوجود اپنی ذمہداریوں کو پورا کرنے کیلئے کرتا ہے۔ جب شوہر اور بیوی دونوں کی طرف سے ایسے رحجانات پیدا کئے جاتے ہیں تو شادی میں تابعداری کوئی مسئلہ نہیں بنیگی۔ بلکہ، یہ خوشی، سلامتی، اور دائمی قناعت کا سرچشمہ ہے۔ (۱۹ ۱۲/۱۵ w۹۱)