یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏6 ص.‏ 3-‏4
  • ناقابل فراموش سیلاب

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ناقابل فراموش سیلاب
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • سیلاب کی بابت بائبل کا بیان
  • کشتی کی تلاش کرنا
  • ایک بہت بڑا طوفان
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • آٹھ لوگ زندہ بچ گئے
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • نوح کی کشتی اور بحری جہازوں کی تعمیر
    جاگو!‏—‏2007ء
  • نوح اور بڑے طوفان کی کہانی—‏کیا یہ صرف ایک افسانہ ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏6 ص.‏ 3-‏4

ناقابل فراموش سیلاب

تقریباً ۴،۳۰۰ سال پہلے، ایک تباہ‌کن سیلاب نے زمین کو غرق کر دیا۔ ایک ہی زبردست چکر میں، اس نے تقریباً ہر جاندار چیز کا صفایا کر دیا۔ وہ اتنا ضخیم تھا کہ اس نے بنی‌آدم پر ایک امٹ تأثر چھوڑا اور ہر نسل نے آنے والی نسل کیلئے اسکی کہانی چھوڑی۔‏

سیلاب کے کوئی ۸۵۰ سال بعد، عبرانی مصنف موسیٰ نے اس زمین‌گیر سیلاب کی سرگزشت کو تحریری شکل دی۔ یہ بائبل کی کتاب پیدایش میں محفوظ ہے، جہاں ہم ۶-‏۸ ابواب میں اسکی واضح تفصیلات کو پڑھ سکتے ہیں۔‏

سیلاب کی بابت بائبل کا بیان

ظاہری طور پر پیدایش یہ تفصیلات دیتی ہے بظاہر ایک چشمدید گواہ کی طرف سے:‏ ”‏نوح کی عمر کا چھ سواں سال تھا کہ اس کے دوسرے مہینے کی ٹھیک سترھویں تاریخ کو بڑے سمندر کے سب سوتے پھوٹ نکلے اور آسمان کی سب کھڑکیاں کھل گئیں۔ اور چالیس دن تک زمین پر طوفان رہا اور پانی بڑھا اور اس نے کشتی کو اوپر اٹھا دیا سو کشتی زمین پر سے اٹھ گئی۔ اور پانی زمین پر بہت ہی چڑھا اور سب اونچے پہاڑ جو دنیا میں ہیں چھپ گئے۔“‏ پیدایش ۷:‏۱۱،‏ ۱۷،‏ ۱۹‏۔‏

جاندار چیزوں پر اس سیلاب کے اثر کی بابت، بائبل کہتی ہے:‏ ”‏اور سب جانور جو زمین پر چلتے تھے پرندے اور چوپائے اور جنگلی جانور اور زمین پر کے رینگنے والے جاندار اور سب آدمی مر گئے۔“‏ تاہم، نوح اور سات دوسرے اشخاص، مع ہر جانور، اڑنے والے پرندے، اور رینگنے والے جاندار کے جوڑے کے ساتھ بچ گئے۔ (‏پیدایش ۷:‏۲۱،‏ ۲۳‏)‏ ان سب کو ایک بڑی تیرنے والی کشتی میں محفوظ کر لیا گیا تھا جو کہ تقریباً ۱۳۳ میٹر لمبی، ۲۲ میٹر چوڑی، اور ۱۳ میٹر اونچی تھی۔ چونکہ کشتی کا واحد کام یہ تھا کہ وہ پنروک ہو اور یہ کہ وہ تیرتی رہے، اس لیے اس میں کوئی گول پیندا، تیز ماتھا، ریلنے کے ذرائع یا سمت‌وار آلہ نہ تھا۔ نوح کی کشتی ایک سادہ سا مستطیل، صندوق نما جہاز تھی۔‏

طوفان شروع ہونے کے پانچ ماہ بعد، کشتی اراراط کے پہاڑوں پر ٹک گئی، جو کہ زمانہءجدید کے مشرقی ترکی میں واقع ہیں۔ نوح اور اس کے خاندان نے سیلاب شروع ہونے کے ایک سال بعد کشتی سے باہر خشک زمین پر پاؤں رکھا اور عام زندگی کے معمول کا ازسرنو آغاز کیا۔ (‏پیدایش ۸:‏۱۴-‏۱۹‏)‏ وقت گذرنے کیساتھ ، بنی‌آدم اس قدر بڑھ گئے کہ دریائے فرات کے قریب بابل کے شہر اور اسکے رسوا ئے‌زمانہ برج کو تعمیر کر سکیں۔ وہیں سے آہستہ آہستہ لوگ زمین کے تمام حصوں میں پھیل گئے جب خدا نے بنی‌آدم کی زبانوں میں اختلاف ڈالا۔ (‏پیدایش ۱۱:‏۱-‏۹‏)‏ لیکن کشتی کا کیا ہوا؟‏

کشتی کی تلاش کرنا

۱۹ ویں صدی سے لے کر، اراراط کے پہاڑوں پر کشتی کی تلاش کے لیے بیشمار کوششیں کی گئی ہیں۔ ان پہاڑوں کی دو نمایاں چوٹیاں ہیں، ایک ۵،۱۶۵ میٹر اونچی اور دوسری ۳،۹۱۴ میٹر اونچی۔ ان دونوں میں سے اونچی چوٹی ہمیشہ برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے جو کہ سیلاب کے بعد عمل میں آئیں، کشتی جلد ہی برف سے ڈھک گئی ہوگی۔ بعض تفتیش کرنے والے یہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ کشتی ابھی تک وہیں گلیشیر میں گہری دفن ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایسے وقت رہے ہیں جب برف اس حد تک پگھل گئی تھی کہ کشتی کے حصے دکھائی دیے ہوں گے۔‏

ان سرچ آف نوآز آرک کتاب میں ایک آرمینیا کے رہنے والے، جارج ہیگوپین کا حوالہ دیا گیا ہے، جس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کوہ‌اراراط کو سر کیا ہے اور ۱۹۰۲ میں اور دوبارہ ۱۹۰۴ میں کشتی کو دیکھا ہے۔ پہلے دورے کے دوران، وہ کہتا ہے کہ اس نے درحقیقت کشتی کو پار کیا۔ ”‏میں نے سیدھے کھٹرے ہو کر کشتی کے چاروں طرف دیکھا۔ یہ لمبی تھی۔ اس کی اونچائی تقریباً ۱۲ میٹر تھی۔“‏ اپنے بعد کے دورے کے مشاہدے کی بابت، وہ کہتا ہے:‏ ”‏میں نے کوئی حقیقی گولائی تو نہیں دیکھی۔ میں نے آج تک جتنی بھی کشتیاں دیکھی ہیں یہ ان سے مختلف تھی۔ یہ زیادہ‌تر ایک چپٹے پیندے والے بجرے کے مشابہ تھی۔“‏

۱۹۵۲ سے لے کر۱۹۶۹ تک ، کشتی کی شہادت کو تلاش کرنے کی خاطر فرننڈ نیوارا نے چار بار کوشش کی۔ کوہ‌اراراط پر اپنے تیسرے چکر میں، اس نے گلیشیر کے ایک شگاف کے پیندے کی طرف سفر کیا، جہاں اسے برف میں جما ہوا کالی لکڑی کا ٹکڑا ملا۔ اس نے کہا:‏ ”‏وہ یقیناً کافی لمبا ہوگا، اور شاید کشتی کے ڈھانچے کے دوسرے حصوں کے ساتھ ابھی تک جڑا ہوا ہوگا۔ میں لکڑی کی دھاریوں کے ساتھ ساتھ کوئی ۵.‏ا میٹر لمبا ٹکڑا ہی کاٹنے کے قابل ہوا۔“‏

لکڑی کی جانچ کرنے والے متعدد ماہرین میں سے ایک پروفیسر رچڑڈ بلس، کہتے ہیں:‏ ”‏نیوارا کا لکڑی کا نمونہ ایک ڈھانچے کے شہتیر کا ٹکڑا ہے اور بیٹومینس رال سے رنگا ہوا ہے۔ اس کی سال اور چول بھی ہیں۔ اور یہ یقیناً ہاتھ سے کٹی ہوئی اور مربع‌شدہ ہے۔“‏ لکڑی کی عمر کا اندازہ تقریباً چار یا پانچ ہزار سال لگایا گیا۔‏

اگرچہ کوہ‌اراراط پر کشتی کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم اس بات کا یقینی ثبوت کہ تباہ‌کن سیلاب سے بچاؤ کیلئے اسے استعمال کیا گیا تھا، بائبل کی کتاب پیدایش کے تحریری ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس ریکارڈ کی تصدیق سیلاب کی بابت ان بیشمار کہانیوں سے کی جا سکتی ہے جو پوری دنیا میں پرانے لوگوں میں عام تھیں۔ اگلے مضمون میں انکی تصدیق پر غور کریں۔ (‏۳ ۱/۱۵ w۹۲)‏

‏[‏صفحہ 4، 5 پر تصویر]‏

کشتی میں ۱۰ مال گاڑیوں کے برابر چیزیں رکھنے کی گنجائش تھی جن میں سے ہر ایک میں ۲۵ امریکی بکس‌کاریں لگی ہوں!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں