یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏5 ص.‏ 30-‏32
  • حقیقی مسیحیت کی کنجی کیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • حقیقی مسیحیت کی کنجی کیا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک درست محرک
  • ایک خودغرض دنیا میں محبت
  • کلیسیا میں محبت
  • ایک دوسرے کیلئے اپنی محبت کو زیادہ کرنا
  • محبت سے تقویت پائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • یہوواہ خدا کی محبت کے لئے جوابی‌عمل دکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • محبت ایک بیش‌قیمت خوبی
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
  • اپنی محبت کو کبھی ٹھنڈا نہ پڑنے دیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏5 ص.‏ 30-‏32

حقیقی مسیحیت کی کنجی کیا ہے؟‏

آجکل زیادہ لوگ کسی دوسرے مذہبی گروہ کی بہ‌نسبت مسیحیت کے فرد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن ان دعویدار مسیحیوں کے اعتقادات تردیدی ہیں، انکے اندر کوئی اتحاد نہیں، اور بعض اوقات تو وہ ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہیں۔ واضح طور پر، بہت سے حقیقی مسیحی نہیں ہیں۔ یسوع نے کہا تھا کہ ہمارے دنوں میں بہت سے اسے ”‏خداوند، خداوند،“‏ کہیں گے، دوسرے لفظوں میں، مسیحی ہونے کا دعویٰ کریں گے، تاہم وہ ان سے کہے گا:‏ ”‏میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی اے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔“‏ (‏متی ۷:‏۲۱،‏ ۲۳‏)‏ یقینی طور پر، ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ان میں سے ایک ہو! پس ہم کس طرح بتا سکتے ہیں کہ گویا ہم حقیقی مسیحی ہیں؟‏

حقیقت تو یہ ہے کہ ایک حقیقی مسیحی بننے کیلئے بہت سی چیزیں درکار ہیں۔ حقیقی مسیحی کو مضبوط ایمان رکھنا چاہیے کیونکہ ”‏بغیر ایمان کے [‏خدا]‏ کو پسند آنا ناممکن ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۶‏)‏ اس مضبوط ایمان کے ساتھ راست اعمال کا ہونا ضروری ہے۔ یعقوب شاگرد نے آ گاہ کیا تھا کہ ”‏ایمان بغیر اعمال کے مردہ ہے۔“‏ (‏یعقوب ۲:‏۲۶‏)‏ اسکے علاوہ، ایک مسیحی کو ”‏دیانتدار اور عقلمند خادم“‏ کے اختیار کو تسلیم کرنا چا ہیے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ لیکن حقیقی مسیحیت کی کنجی ان تمام چیزوں سے الگ ہے۔‏

وہ کنجی کیا ہے؟ پولس رسول نے کرنتھیوں کے نام اپنے پہلے خط میں وضاحت کی:‏ ”‏اگر میں آدمیوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تو میں ٹھنٹھناتا پیتل یا جھنجھناتی جھانجھ ہوں۔ اور اگر مجھے نبوت ملے اور سب بھیدوں اور کل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہو کہ پہاڑوں کو ہٹا دوں اور محبت نہ رکھوں تو میں کچھ بھی نہیں۔ اور اگر اپنا سارا مال غریبوں کو کھلا دوں یا اپنا بدن جلانے کو دے دوں اور محبت نہ رکھوں تو مجھے کچھ فائدہ نہیں۔“‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱-‏۳‏۔‏

لہذا، حقیقی مسیحیت کی کنجی محبت ہے۔ ایمان، اعمال، اور درست صحبت نہایت اہم، ناگزیر ہیں۔ مگر محبت کے بغیر، انکی قدرافزائی نہیں ہوتی۔ ایسا کیوں ہے؟‏

بنیادی طور پر، جس خدا کی ہم پرستش کرتے ہیں اسکی وجہ سے۔ یوحنا رسول نے یہوواہ کو سچی مسیحیت کے خدا کے طور پر ان الفاظ میں پیش کیا ہے:‏ ”‏خدا محبت ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۴:‏۸‏)‏ یہوواہ خدا بہت سی دوسری صفات رکھتا ہے، جیسے کہ قوت، انصاف، اور دانائی، لیکن چونکہ وہ ممتاز طور پر محبت کا خدا ہے، اسلئے وہ کس قسم کے لوگوں کو اپنے پرستار بنانا چاہے گا؟ یقینی طور پر، ایسے لوگ جو اسکی نقل کرتے ہیں اور محبت کو ترقی دیتے ہیں۔ متی ۵:‏۴۴، ۴۵،‏ ۲۲:‏۳۷-‏۳۹‏۔‏

ایک درست محرک

جی‌ہاں، محبت مسیحیوں کیلئے اس خدا کی مانند بننے کا سبب بنتی ہے جسکی وہ پرستش کرتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ انکے محرکات خدا کے محرکات کی طرح کے ہیں۔ سب سے بڑھکر کس محرک نے یہوواہ خدا کو تحریک دی کہ ہمیں ابدی زندگی حاصل کرنے کا موقع دینے کے لئے یسوع کو زمین پر بھیجے؟ محبت نے۔ ”‏خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پا ئے۔“‏ (‏یوحنا ۳:‏۱۶‏)‏ پس خدا کی مرضی پوری کرنے کیلئے ہمارا محرک کیا ہونا چا ہیے۔ ایک مرتبہ پھر، محبت۔ ”‏خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اسکے حکموں پر عمل کریں۔“‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏۔‏

کیا ایک غلط محرک کے ساتھ خدا کی خدمت کرنا ممکن ہے؟ جی‌ہاں، پولس نے اپنے زمانے کے بعض لوگوں کا ذکر کیا جو حسد اور رقابتوں کی وجہ سے خدمت کر رہے تھے۔ (‏فلپیوں ۱:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ یہ ہمارے ساتھ بھی واقع ہو سکتا ہے۔ یہ دنیا بڑی مقابلہ‌باز ہے، اور یہی روح ہمیں بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ہم یہ سوچنے کے لئے مغرور ہو سکتے ہیں کہ ہم بہتر مقرر ہیں اور دوسروں کی نسبت زیادہ لٹریچر پیش کرنے کے قابل ہیں۔ ہم اپنی خدمتی مراعات کا ان سے مقابلہ کر سکتے ہیں جن سے کوئی دوسرا لطف اندوز ہوتا ہے اور برخود اہم یا حاسد بن جاتے ہیں۔ ایک بزرگ اپنے مرتبے کے اختیار کیلئے اس حد تک حاسد ہو سکتا ہے کہ ایک لیاقت رکھنے والے جوان شخص کو ترقی کرنے سے روکے۔ ذاتی نفع کی خواہش ہمیں تحریک دے سکتی ہے کہ زیادہ دولتمند مسیحیوں کے ساتھ دوستی قائم کریں جبکہ غریب اشخاص کو نظرانداز کر دیں۔‏

ایسی چیزیں رونما ہو سکتی ہیں کیونکہ ہم ناکامل ہیں۔ تاہم، اگر یہوواہ کی طرح ہم محبت کو اپنا اصلی محرک بناتے ہیں، تو ہم ایسے رحجانات کے خلاف نبردآزما ہو نگے۔ خودغرضی، خودستائی کی ایک خواہش، یا شوخ‌چشمی کا غرور محبت کو گھیرے میں لے سکتا ہے، تاکہ ہمیں ”‏کچھ بھی فائدہ نہ ہو۔“‏ امثال ۱۱:‏۲،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۳‏۔‏

ایک خودغرض دنیا میں محبت

یسوع نے کہا تھا کہ اسکے پیروکار ”‏اس دنیا کا حصہ نہیں ہو نگے۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۴‏، NW)‏ ہم اپنے چوگرد کی دنیا کے اثر کی دلدل میں پھنسنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ محبت مدد کریگی۔ مثال کے طور پر، آجکل آدمی ”‏خدا کی نسبت عیش‌وعشرت کو زیادہ دوست رکھنے وا لے“‏ ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۴‏)‏ یوحنا نے ہمیں آ گاہ کیا تھا کہ اس طرح کے نہ بنیں۔ اس نے کہا:‏ ”‏نہ دنیا سے محبت رکھو نہ ان چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اس میں باپ کی محبت نہیں کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔“‏ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵، ۱۶‏۔‏

پھر بھی، ”‏جسم کی خواہش“‏ اور ”‏آنکھوں کی خواہش“‏ سے اپنے منہ موڑنا آسان نہیں ہے۔ ان چیزوں سے واقعی محبت کی جاتی ہے کیونکہ یہ ہمارے جسم کو بہت دلکش لگتی ہیں۔ اس کے علاوہ، جو کچھ یوحنا کے زمانے میں دستیاب تھا، آجکل اسکی نسبت کہیں زیادہ مختلف قسم کے خوشی کے سامان موجود ہیں، اسلئے اگر آنکھوں کی خواہش تب ایک مسئلہ تھی، تو اب تو خاص طور پر ایسا ہے۔‏

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ دنیا جو خوشی کے بہتیرے جدید سامان پیش کرتی ہے وہ بذات‌خود تو غلط نہیں ہیں۔ ایک بڑا گھر، ایک اچھی سی کار، ایک ٹیلیویژن سیٹ، یا ایک سٹیریو یونٹ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اور نہ ہی لمبے، دلچسپ سفر کرنے اور پرجوش تعطیلات سے لطف اٹھانے سے کوئی بائبلی قانون ٹوٹتا ہے۔ تو پھر، یوحنا کی آ گاہی کا اصلی نکتہ کیا ہے؟ ایک بات تو یہ ہے کہ اگر ایسی چیزیں ہمارے لئے ضرورت سے زیادہ اہم بن جاتی ہیں تو یہ ہمارے اندر خودغرضی، مادہ‌پرستی، اور تکبر کی روح کو فروغ دے دیتی ہیں۔ اور انہیں حاصل کرنے کے لئے پیسہ کمانے کی کوشش یہوواہ کی خدمت کرنے کے لئے ہماری راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ان چیزوں سے لطف اٹھانے کے لئے بھی وقت درکار ہے، اور جبکہ ایک معقول حدتک تفر یح تازگی لاتی ہے، بائبل مطالعہ کر نے، پرستش کیلئے اپنے ساتھی مسیحیوں کے ساتھ رفاقت رکھنے، اور بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے کی اپنی ذمہ‌داری کے پیش‌نظر، ہمارا وقت محدود ہے۔ زبور ۱:‏۱-‏۳،‏ متی ۲۴:‏۱۴،‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰،‏ عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

اس مادہ‌پرست دور میں، ”‏خدا کی بادشاہت کو پہلا درجہ د ینے“‏ اور ”‏دنیا ہی کے ہو کر رہ جا نے“‏ کا مقابلہ کرنے کے لئے عزم‌مصمم کی ضرورت ہوتی ہے۔ (‏متی ۶:‏۳۳،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۱‏)‏ مضبوط ایمان مدد کریگا۔ لیکن خاص‌طور پر، یہوواہ اور اپنے پڑوسیوں کے لئے حقیقی محبت ان پرکشش چیزوں کی مزاحمت کرنے کیلئے ہمیں تقویت دیگی جن میں اگرچہ بذات‌خود تو کوئی غلطی نہیں، پھر بھی وہ ہمیں ”‏پوری طرح سے اپنی خدمتگزاری انجام دینے سے“‏ روک سکتی ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۴:‏۵‏)‏ ایسی محبت کے بغیر، ہماری خدمتگزاری کا معیار آسانی سے گر سکتا ہے جو صرف برائے نام ہی رہ سکتی ہے۔‏

کلیسیا میں محبت

یسوع نے محبت کی اہمیت کو روشن کیا جب اس نے کہا:‏ ”‏اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“‏ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۵‏)‏ اگر بزرگ ساتھی مسیحیوں سے محبت نہ رکھتے ہوں تو ان کی مدد کرنے اور گلہ‌بانی کرنے کے کام میں اتنا وقت کیوں صرف کریں گے؟ اگر محبت کی وجہ نہیں تو کلیسیا اپنے ساتھیوں بشمول بزرگوں کی کمزریوں کی برداشت کیوں کریگی؟ جب وہ سنتے ہیں کہ دوسرے حاجتمند ہیں تو محبت مسیحیوں کو جسمانی لحاظ سے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ (‏اعمال ۲:‏۴۴، ۴۵‏)‏ ایذارسانی کے وقتوں میں، مسیحی ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے جان بھی دے دیتے ہیں۔ کیوں؟ محبت کی وجہ سے۔ یوحنا ۱۵:‏۱۳‏۔‏

بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں سے محبت کے ثبوت ملتے ہیں۔ پہلے ہی زیادہ کام کے بوجھ کے دباؤ کے تحت، ایک بزرگ کے پاس ایک ساتھی مسیحی آ سکتا ہے جو پھر ایک شکایت لاتا ہے جو بزرگ کے لئے بہت غیرمعمولی دکھائی دیتی ہے۔ کیا بزرگ کو غصے میں آ جانا چاہیے؟ اسکو تفرقے کا سبب بننے کی اجازت دینے کی بجائے، وہ اپنے بھائی کے ساتھ صبر اور مہربانی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ وہ معاملے پر ملکر بات‌چیت کرتے ہیں، اور یہ انکی دوستی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ (‏متی ۵:‏۲۳، ۲۴،‏ ۱۸:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ اسکی بجائے کہ ہر کوئی اپنے حقوق پر اصرار کرے، سب کو اپنے بھائیوں کو ”‏ستر بار تک“‏ معاف کرنے کے لئے تیار ہوتے ہوئے کشادہدل بننے کی کوشش کرنی چا ہیے، جسکی یسوع نے سفارش کی تھی۔ (‏متی ۱۸:‏۲۱، ۲۲‏)‏ یوں، مسیحی خود کو محبت سے ملبس کرنے کے لئے سخت کوشش کرتے ہیں، ”‏کیونکہ یہ اتحاد کا کامل پٹکا ہے۔“‏ کلسیوں ۳:‏۱۴‏، NW۔‏

ایک دوسرے کیلئے اپنی محبت کو زیادہ کرنا

جی‌ہاں، یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے محبت درست محرک ہے۔ محبت دنیا سے الگ رہنے کے لئے ہمیں تقویت دے گی، اور محبت اس چیز کو یقینی بنائے گی کہ کلیسیا واقعی مسیحی ر ہے۔ استعداد کی قدر کو کم نہ کرتے ہوئے بھی یہ اختیار رکھنے والوں کی مدد کریگی کہ اسقدر استعدادپسند نہ بنیں کہ دوسروں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں حلم‌مزاجی اور مہر بانی کو بھول جائیں۔ محبت ہم سب کی مدد کرتی ہے کہ ”‏اپنے پیشواؤں کے فرمانبردار اور تابع رہیں۔“‏ عبرانیوں ۱۳:‏۱۷‏۔‏

پطرس رسول نے ہمیں تلقین کی ہے کہ ایک دوسرے کے لئے ”‏بڑی محبت رکھیں“‏ کیونکہ ”‏محبت بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۴:‏۸‏)‏ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ آدمی خدا کی صورت پر خلق کیا گیا تھا اور یوں محبت کرنے کی طبعی لیاقت رکھتا ہے۔ لیکن جس محبت کی ہم یہاں بات کر رہے ہیں وہ کچھ مزید تقاضا کرتی ہے۔ درحقیقت، یہ خدا کی روح کا سب سے اہم پھل ہے۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲‏)‏ لہذا، محبت کو پیدا کرنے کے لئے، ہمیں خود کو خدا کی روح کے اثر میں رکھنا چا ہیے۔ کیسے؟ بائبل کا مطالعہ کرنے سے، جسں کا الہام یہوواہ کی روح کے ذریعے ہوا تھا۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ یہوواہ اور اپنے بھائیوں کیلئے اپنی محبت کو بڑھانے کی خاطر یہوواہ کی روح کے لئے دعا کرنے سے۔ اور مسیحی کلیسیا کے ساتھ رفاقت رکھنے سے، جہاں پر کہ روح آزادی کیساتھ رواں‌دواں رہتی ہے۔‏

ہمیں اپنی ذات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ کسی غیرمحبانہ افعال یا خیالات کو دریافت کیا جا ئے۔ یاد رکھیں کہ محبت دل کی ایک صفت ہے، اور ”‏دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ‌باز اور لاعلاج ہے۔“‏ (‏یرمیاہ ۱۷:‏۹‏)‏ اس تمام مدد کے باوجود جو یہوواہ دیتا ہے، ہم بعض اوقات محبت سے عاری طریقوں سے کام لیں گے۔ ہم کسی ساتھی مسیحی کے ساتھ غیرضروری تلخ‌کلامی سے بات‌چیت کر سکتے ہیں، یا جو کچھ کہا گیا ہے ہم اسکے لئے تنکنے لگتے اور ناراض ہو جاتے ہیں۔ پس، ہم داؤد کی دعا پر نظرثانی کرکے اچھا کرتے ہیں:‏ ”‏اے خدا! تو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کو جان لے اور دیکھ کہ مجھ میں کوئی بری روش تو نہیں اور مجھکو ابدی راہ میں لے چل۔“‏ زبور ۱۳۹:‏۲۳، ۲۴‏۔‏

جیسے کہ بائبل کہتی ہے ”‏محبت کو زوال نہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۸‏)‏ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت کرنے پر عمل کرتے ہیں، تو ہم آزمائش کے اوقات میں کبھی بھی بے‌یارومددگار نہیں ہوں گے۔ جو محبت خدا کے لوگوں کے درمیان پائی جاتی ہے اس روحانی فردوس کے لئے بہت معاونت کرتی ہے جو آجکل موجود ہے۔ جو دل سے ایک دوسرے سے بڑی محبت رکھتے ہیں صرف وہی نئی دنیا میں زندہ رہنے سے خوشی حاصل کریں گے۔ لہذا، ایسی محبت ظاہر کرنے میں یہوواہ کی نقل کریں اور یوں اتحاد کے پٹکے کو مضبوط بنائیں۔ محبت پیدا کریں، اور حقیقی مسیحیت کی کنجی کو قبضے میں کر لیں۔ (‏۲۰ ۱۰/۱ w۹۱)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں