دنیا کی داستانوں والا سیلاب
نوح کے دنوں کا سیلاب اس قدر تباہکن طوفان تھا کہ بنیآدم اسے کبھی بھول نہیں سکتے۔ تقریباً ۲،۴۰۰ سال بعد، یسوع مسیح نے اس کا ذکر تاریخ کی ایک حقیقت کے طور پر کیا۔ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) اس دہشتناک واقعے نے نسلانسانی پر ایسا امٹ تأثر چھوڑا کہ یہ پوری دنیا کے لئے ایک داستان بن گیا ہے۔
کتاب متھس آف کریئیشن میں فلپ فروئنڈ نے یہ اندازہ بیان کیا ہے کہ ۲۵۰ قبیلوں اور لوگوں کے درمیان ۵۰۰ سے زائد سیلاب کی بابت داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ جیسی کہ شاید توقع کی جا سکتی ہے، کئی صدیاں گذر جانے کے بعد بھی، فرضی واقعات اور کرداروں سے ان داستانوں کی حاشیہآرائی کی گئی ہے۔ تاہم، ان سب میں، کچھ بنیادی مماثلت تلاش کی جا سکتی ہے۔
حیرانکن مماثلتیں
جب سیلاب کے بعد لوگوں نے مسوپتامیہ سے ہجرت کی، تو وہ اس طوفان کی سرگزشتیں زمین کے تمام حصوں تک لے گئے۔ پس، ایشیا، جنوبی بحرالکاہل کے جزائر، شمالی امریکہ، وسطی امریکہ، اور جنوبی امریکہ کے باشندوں کے پاس اس اثرآفریں واقعے کی کہانیاں ہیں۔ اس سے پیشتر کہ یہ لوگ بائبل سے واقف ہوئے سیلاب کی بہتیری داستانیں موجود تھیں۔ تاہم، ان داستانوں میں طوفان کی بابت بائبل کے بیان کے ساتھ مطابقت رکھنے والے کچھ مشترکہ بنیادی نکات موجود ہیں۔
بعض داستانیں طوفان سے پہلے زمین پر تشدد کرنے والے سورماؤں کے رہنے کا ذکر کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں، بائبل اس کی نشاندہی کرتی ہے کہ طوفان سے پہلے نافرمان فرشتوں نے انسانی بدن اختیار کر لئے، عورتوں کیساتھ صحبت کی، اور سورماؤں کی ایک ایسی نسل پیدا کی جو جبار(نفلیم) کہلائی۔ پیدایش ۶:۱-۴، ۲-پطرس ۲:۴، ۵۔
سیلاب کی داستانیں عام طور پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایک آدمی کو آنے والے الہی طوفان سے آ گاہ کیا گیا۔ بائبل کے مطابق، یہوواہ خدا نے نوح کو آ گاہ کیا کہ وہ بدکار اور ظالم لوگوں کو ختم کرے گا۔ خدا نے نوح سے کہا: ”تمام بشر کا خاتمہ میرے سامنے آ پہنچا ہے کیونکہ ان کے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی ہے۔ سو دیکھ میں زمین سمیت ان کو ہلاک کرونگا۔“ پیدایش ۶:۱۳۔
سیلاب کی بابت داستانیں عام طور پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ عالمگیر تباہی لایا۔ اسی طرح سے، بائبل بیان کرتی ہے: ”اور پانی زمین پر بہت ہی زیادہ چڑھا اور سب اونچے پہاڑ جو دنیا میں ہیں چھپ گئے۔ اور خشکی کے سب جاندار جنکے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا مر گئے۔“ پیدایش ۷:۱۹، ۲۲۔
طوفان کی بابت اکثر داستانیں یہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی مع ایک یا چند آدمیوں کے بچا۔ بہتیری داستانیں یہ کہتی ہیں کہ اس نے اپنی بنائی ہوئی ایک کشتی میں پناہ لی، اور یہ کہتی ہیں کہ وہ ایک پہاڑ پر جا ٹکی۔ اس کے مقابلے میں، صحائف یہ کہتے ہیں کہ نوح نے ایک کشتی بنائی۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں: ”فقط ایک نوح باقی بچا یا وہ جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے۔“ (پیدایش ۶:۵-۸، ۷:۲۳) بائبل کے مطابق، طوفان کے بعد ”کشتی اراراط کے پہاڑوں پر ٹک گئی،“ جہاں نوح اور اس کا خاندان اترے۔ (پیدایش ۸:۴، ۱۵-۱۸) داستانیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ سیلاب سے بچنے والوں نے زمین کو آباد کرنا شروع کیا، جیسا کہ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ نوح کے خاندان نے کیا۔ پیدایش ۹:۱، ۱۰:۱۔
قدیم سیلابی داستانیں
مذکورہ بالا نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آیئے ہم سیلاب کی چند داستانوں پر غور کریں۔ فرض کریں کہ ہم سمیریوں کیساتھ شروع کرتے ہیں، قدیم زمانے کے یہ لوگ مسوپتامیہ میں آباد تھے۔ طوفان کی بابت ان کی کہانی نپور کے کھنڈرات کی کھدائی کے دوران ایک مٹی کے کتابہ پر تحریر ملی۔ یہ کتابہ کہتا ہے کہ سمیری دیوتاؤں آنو اور انلیل نے ایک بڑے سیلاب کے ذریعے بنیآدم کو تباہ کر دینے کا فیصلہ کیا۔ اینکی دیوتا کی طرف سے آ گاہی کے باعث، زیوسدرہ اور اس کا خاندان ایک بڑی سی کشتی میں پناہ لے کر بچنے کے قابل ہوئے۔
گلگمش کی بابلی رزمیہ نظم میں بھی اسکی بابت کافی معلومات موجود ہیں۔ اسکے مطابق، گلگمش اپنے بزرگ اتناپشتم کو ملا، جسے سیلاب سے بچنے کے بعد ابدی زندگی مل چکی تھی۔ گفتگو کے دوران، اتناپشتم نے یہ بتایا کہ اسے ایک جہاز بنانے اور گائے بیل، جنگلی جانور، اور اپنے خاندان کو اسکے اندر لے جانے کیلئے کہا گیا۔ اس نے ایک ۶۰ میٹر کا بہت بڑا مکعبنما چھ منزلہ جہاز بنایا۔ اس نے گلگمش کو بتایا کہ طوفان چھ دن اور چھ رات رہا، اور پھر وہ کہتا ہے: ”جب ساتواں دن آیا، تو اس طوفان بادوباراں، یعنی سیلاب، کا طلسم ٹوٹ چکا تھا، جو ایک لشکر کی مانند حملہآور ہوا تھا۔ سمندر ساکن ہو گیا، طوفانی گردباد ختم ہو گیا، سیلاب تھم گیا۔ میں نے سمندر کی طرف دیکھا تو سکوت طاری تھا۔ اور تمام انسان مٹی میں مل چکے تھے۔“
جب جہاز کوہنصیر پر ٹک گیا تو اتناپشتم نے ایک فاختہ کو اڑایا جو کہ بسیرا کرنے کی کوئی جگہ نہ پا کر کشتی میں واپس آ گئی۔ اس کے بعد ایک ابابیل کو بھیجا گیااور وہ بھی واپس آ گئی۔ اسکے بعد ایک پہاڑی کوا اڑایا گیا، اور جب وہ واپس نہ آیا تو وہ سمجھ گیا کہ پانی اتر چکا ہے۔ پھر اتناپشتم نے جانوروں کو باہر نکالا اور قربانی گذرانی۔
یہ قدیم داستان کسی حد تک طوفان کی بابت بائبل کے بیان کے مشابہ ہے۔ تاہم، اس میں واضح تفصیل اور بائبل کے بیان کی سی سادگی موجود نہیں ہے، اور یہ کشتی کے معقول طول و عرض کی بابت بھی کچھ نہیں بتاتی اور نہ ہی وقتی مدت کی نشاندہی کرتی ہے جیسا کہ صحائف میں بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، گلگمش کی رزمیہ نظم نے کہا کہ طوفان چھ دن اور چھ رات رہا، جبکہ بائبل یہ کہتی ہے کہ ”چالیس دن اور چالیس رات زمین پر بارش ہوتی رہی“ موسلا دھار بارش جس نے آخرکار پوری زمین کو پانی سے ڈھانپ دیا۔ پیدایش ۷:۱۲۔
اگرچہ بائبل طوفان سے بچنے والوں کی تعداد آٹھ بتاتی ہے، یونانی داستان میں صرف ڈیوکیلین اور اس کی بیوی پائرہا، ہی بچے۔ (۲-پطرس ۲:۵) اس داستان کے مطابق، سیلاب سے پہلے زمین پر ظالم اشخاص آباد تھے جنہیں کانسی کے آدمی کہا جاتا تھا۔ دیوتا زیوس نے انہیں ایک بڑے سیلاب کے ذریعے تباہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس نے ڈیوکیلین کو کہا کہ وہ لکڑی کا ایک بڑا سا صندوق بنا کر اس میں داخل ہو جائے۔ جب سیلاب تھم گیا تو صندوق کوہپارناسس پر ٹک گیا۔ ڈیوکیلین اور پائرہا پہاڑ سے نیچے اترے اور پھر سے نسلانسانی کا آغاز کیا۔
مشرق بعید کی داستانیں
بھارت میں بھی سیلاب کی بابت ایک داستان ہے جس میں مانو ایک بچنے والا انسان ہے۔ وہ ایک چھوٹی مچھلی سے دوستی کر لیتا ہے جو کہ بہت بڑی ہو جاتی ہے اور اسے ایک تباہکن سیلاب سے آ گاہ کرتی ہے۔ مانو ایک کشتی بناتا ہے، جسے وہ مچھلی اس وقت تک کھینچتی رہتی ہے جبتک کہ وہ کوہہمالیہ کی ایک پہاڑی پر نہیں جا ٹکتی۔ جب طوفان رک جاتا ہے تو مانو اپنی قربانی کے مجسمے ایدا، کے ساتھ پہاڑ سے نیچے اترتا ہے، اور نسلانسانی کا ازسرنو آغاز کرتا ہے۔
سیلاب کی چینی داستان کے مطابق، گرج کا دیوتا دو بچوں نووا اور فوکسی کو ایک دانت دیتا ہے۔ وہ انہیں ہدایت کرتا ہے کہ اسے بو دیں اور جو پیٹھا اس سے اگے گا، اس کے اندر پناہ لیں۔ بڑی جلدی ایک درخت اس دانت سے اگتا ہے اور ایک بہت بڑا پیٹھا اس سے پیدا ہوتا ہے۔ جب گرج کا دیوتا بارش کا شدید طوفان برپا کرتا ہے تو بچے اس پیٹھے پر چڑھ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں برپا ہونے والا طوفان اگرچہ زمین کے تمام رہنے والوں کو ڈبو دیتا ہے، نووا اور فوکسی بچ جاتے ہیں اور دنیا کو پھر سے آباد کرتے ہیں۔
امریکی خطوں میں
شمالی امریکہ کے اصلی باشندوں کے پاس بھی کئی داستانیں ہیں جن سب کا مشترکہ موضوع سیلاب ہی ہے جو محض چند کے علاوہ تمام لوگوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، آریکارا، یعنی کاڈو لوگ ، یہ کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب زمین ایسے قوی لوگوں کی نسل سے آباد تھی جو دیوتاؤں کا تمسخر اڑاتے تھے۔ دیوتا نیسارو نے ان جباروں کو ایک سیلابی طوفان کے ذریعے تباہ کر دیا لیکن اپنے لوگوں، جانوروں، اور مکئی کو ایک غار میں محفوظ کر لیا۔ ہواسوپائی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہوکومیٹا دیوتا نے طوفان بادوباراں برپا کیا جس نے بنیآدم کو تباہ کر دیا۔ تاہم، ایک شخص ٹوچوپا نے اپنی بیٹی پوکیہا کو ایک کھوکھلی لکڑی میں بند کرکے بچا لیا۔
وسطی اور جنوبی امریکہ کے اصلی باشندوں کے پاس بھی سیلاب سے متعلق اسی طرح کی بنیادی مشابہتوں والی داستانیں ہیں۔ وسطی امریکہ کے مایا یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ایک برساتی اژدہا نے دنیا کو پانی کے تیزدھاروں سے تباہ کر دیا۔ میکسیکو میں کیملپوپوکا کا بیان یہ بتاتا ہے کہ ایک سیلاب پہاڑوں کو زیرآب لے آیا۔ دیوتا ٹیزکیٹلیپوکا نے ناتا نامی ایک آدمی کو آ گاہ کیا، جس نے ایک شہتیر کو کھوکھلا کرکے اس میں ایک کھوہ بنا لی، جس میں اس نے، اور اس کی بیوی نینا نے پانی کے اتر جانے تک پناہ لی۔
پیرو میں کنکاؤں کی بھی ایسے پانچ روزہ سیلاب کی ایک داستان ہے جس نے ایک آدمی کے علاوہ، جس کو بولنے والے لاما نے ایک پہاڑ پر پناہ دی، باقی تمام دنیا کو تباہ کر دیا۔ پیرو اور بولیویا کے ایمارہ یہ کہتے ہیں کہ دیوتا ویراکوکا ایک جھیل ٹیٹیکاکا سے نکلا اور غیرمعمولی طور پر بڑے اور قویہیکل آدمیوں اور دنیا کو خلق کیا۔ لیکن چونکہ اس پہلی نسل نے اسے غصہ دلایا، ویراکوکا نے ان سب کو ایک سیلاب کے ذریعے تباہ کر دیا۔
برازیل کے ٹوپینامبا انڈین ایک ایسے وقت کا ذکر کرتے ہیں جب ایک بھاری سیلاب نے سوا ان کے جو ڈونگے میں سوار ہو کر یا اونچے درختوں پر چڑھ کر بچ گئے باقی تمام آباواجداد کو ڈبو دیا۔ برازیل کے کاشیناوا، گویانا کے ماکوشی، وسطی امریکہ کے کیرب، اور جنوبی امریکہ میں ٹائیرا ڈلفیگو کے اونا اور یاہگن ان بہت سے قبائل میں سے ہیں جن کے پاس سیلاب سے متعلق داستانیں ہیں۔
جنوبی بحرالکاہل اور ایشیا
پورے جنوبی بحرالکاہل میں، ایک ایسے سیلاب کی داستانیں عام ہیں جس میں محض چند جانیں بچیں۔ مثال کے طور پر، ساموآ میں ابتدائی وقتوں کے ایک ایسے سیلاب کی داستان ہے جس نے پیلی اور اس کی بیوی کے علاوہ تمام کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے ایک چٹان پر پناہ لی، اور سیلاب کے بعد انہوں نے زمین کو دوبارہ آباد کیا۔ ہوائی کے جزائر میں، دیوتا کینی انسانوں کیساتھ ناراض ہو گیا اور اس نے انہیں ختم کرنے کے لئے سیلاب بھیجا۔ صرف نویو نے ایک بڑی کشتی میں پناہ لی جو کہ انجام کار ایک پہاڑ پر ٹک گئی۔
فلپائن منڈاناؤ کے، عاٹا کہتے ہیں، کہ ایک وقت تھا جب ساری زمین پانی سے ڈھکی ہوئی تھی جس نے دو آدمیوں اور ایک عورت کے علاوہ ہر ایک کو تباہ کر دیا۔ بورنیو، سراواک کے آئبان کہتے ہیں کہ چند ہی لوگ اونچے پہاڑوں پر بھاگ کر ایک آبی طوفان سے بچے۔ فلپائن کی آئگورٹ داستان میں، صرف ایک بھائی اور بہن ہی کوہپوکس پر پناہ لے کر بچنے کے قابل ہوئے۔
سائبیریا، روس کے سویاٹ کہتے ہیں کہ ایک دیوقامت مینڈک جو زمین کو تھامے ہوئے تھا، اس نے حرکت کی اور زمین پر سیلاب لے آیا۔ ایک بوڑھا آدمی اور اس کا خاندان لکڑی کے تختے پر بیٹھ کر بچے جو اس نے خود ہی بنایا تھا۔ جب پانی اترنے لگا تو یہ تختہ ایک اونچے پہاڑ پر ٹک گیا۔ ہنگری اور مغربی سائبیریا کے اگریانز بھی کہتے ہیں کہ سیلاب سے بچنے والوں نے لکڑی کے تختے استعمال کئے لیکن بہ کر زمین کے مختلف حصوں کی طرف نکل گئے۔
مشترک ابتدا
سیلاب کی بابت ان مختلف داستانوں سے ہم کیا نتیجہ اخذ کریں گے؟ اگرچہ ان کی تفصیلات کافی مختلف ہیں، تو بھی ان کی بعض خصو صیات مشتر ک ہیں۔ یہ کسی عظیم اور ناقابلفراموش طوفان کی نشاند ہی کر تی ہیں۔ صدیوں کے دوران حقیقت کی رنگ آمیزی کے باوجود، ان کا اصل موضوع ڈور کی مانند ہے، جو انہیں ایک عظیم واقعے کے ساتھ جوڑے ہوئے ہے ایک عالمگیر طوفان جسے بائبل کے بیان میں رنگ آمیزی کے بغیر بڑی سادگی سے پیش کیا گیا ہے۔
چونکہ سیلابی داستانیں عموماً ان لوگوں کے درمیان پائی جاتی ہیں جو کہ حالیہ صدیوں سے پہلے بائبل سے واقف نہیں تھے، اس لئے یہ بحث کرنا کہ صحیفائی بیان نے انہیں متأ ثر کیا ہے ہوگا۔ اس کے علاوہ، دی انٹرنیشنل سینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے: ”سیلاب کے بیان کی ہمہگیری کو عام طور پر سیلاب کے ذریعے انسانیت کی عالمگیر تباہی کے لیے شہادت کے طور پر لیا جاتا ہے . . . اس کے علاوہ، بعض قدیمی بیانات ان لوگوں کے ذریعے لکھے گئے تھے جو کہ عبرانی مسیحی روایات کے سخت مخالف تھے۔“ (جلد ۲، صفحہ ۳۱۹) لہذا ہم یقین کے ساتھ یہ نتیجہ اخد کر سکتے ہیں کہ طوفان کی بابت افسانے بائبلی بیان کی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔
جبکہ ہم ظلم اور بداخلاقی سے بھری دنیا کے اندر رہ رہے ہیں، تو ہم بائبل میں سیلاب کی بابت بیان کو پڑھ کر اچھا کرتے ہیں، جیسا کہ پیدایش کے باب ۶ تا ۸ میں درج ہے۔ اگر ہم اس عالمگیر سیلاب کے آنے کی وجہ خدا کی نظر میں بدکار روش پر چلنے پر غوروخوض کرتے ہیں تو ہم اس میں ایک نہایت اہم آگاہی پائیں گے۔
جلد ہی موجودہ شریر نظام کو خدا کی طرف سے کڑی سزا کا تجربہ ہوگا۔ تاہم، خوشی کی بات ہے، کہ اس سے بچنے والے ہوں گے۔ آپ بھی ان میں شامل ہو سکتے ہیں اگر آپ پطرس رسول کے ان الفاظ پر دھیان دیتے ہیں: ”ان ہی کے ذریعہ سے اس [نوح کے] زمانہ کی دنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی۔ مگر اس وقت کے آسمان اور زمین اسی کلام کے ذریعہ سے اسلئے رکھے گئے ہیں کہ جلائے جائیں اور وہ بےدین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہینگے۔ . . . جب یہ سب چیزیں اس طرح پگھلنے والی ہیں تو تمہیں پاک چالچلن اور [خدائی عقیدت] میں کیسا کچھ ہونا چاہیے اور [یہوواہ] کے اس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہیے۔“ ۲-پطرس ۳:۶-۱۲۔
کیا آپ یہوواہ کے اس دن کو یاد رکھینگے؟ اگر آپ رکھینگے اور خدا کی مرضی کی مطابقت میں چلینگے، تو آپ عظیم برکات کا مزہ لینگے۔ لہذا وہ جو یہوواہ کو خوش کرتے ہیں وہ اس نئی دنیا پر ایمان رکھ سکتے ہیں جسکا پطرس حوالہ دیتا ہے جب وہ مزید بیان کرتا ہے: ”لیکن اسکے [خدا کے] وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“ ۲-پطرس ۳:۱۳۔ (۵ ۱/۱۵ w۹۲)
[صفحہ 7 پر تصویر]
سیلاب کی بابت بابلی داستانیں نسل درنسل جاتی تھیں
[صفحہ 8 پر تصویر]
یہوواہ کے دن کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا آپ پطرس کی آگاہی پر دھیان دیتے ہیں؟