بادشاہتی مناد رپورٹ دیتے ہیں
یہوواہ کے گواہ اچھے نتائج کے ساتھ غیر رسمی طور پر منادی کرتے ہیں
بہتیرے لوگوں کو پہلی بار بائبل سچائی سے اس وقت آشنائی ہوئی جب یہوواہ کے گواہوں میں کسی ایک نے غیررسمی طور پر ان کو منادی کی تھی۔ اس سلسلے میں گواہ یسوع مسیح کے نمونے کی پیروی کرتے ہیں، جس نے غیررسمی طور پر ایک سامری عورت کو ایک کنوئیں پر منادی کی تھی جب وہ پانی بھرنے آئی تھی۔ (یوحنا ۴ باب) مشرقی افریقہ میں یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک نے ایک کیتھولک راہبہ کو غیررسمی طور پر منادی کی۔ جو کچھ نتیجہ برآمد ہوا اس کی بابت واچ ٹاور سوسائٹی کا برانچ آفس بیان کرتا ہے:
▫ ایک صبح سویرے شہر کی طرف جاتے ہوئے، ایک گواہ ایک کیتھولک راہبہ سے ملی۔ اس نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راہبہ سے پوچھا: ”آپ اتنی صبح کہاں جا رہی ہیں؟“ جواب تھا: ”میں اپنے خدا سے دعا کرنے جا رہی ہوں۔“ اس نے پھر راہبہ سے ایک سول پوچھا: ”کیا آپ اپنے خدا کا نام جانتی ہیں؟“ ”کیا اسکا نام خدا نہیں ہے؟“ راہبہ نے جواب دیا۔ گواہ نے اس سہپہر اسکے گھر خدا کے نام پر باتچیت کرنے کیلئے آنے کیلئے اسے پیشکش کی۔ گفتگو کے بعد راہبہ اپنے چرچ چلی گئی اور پادریوں میں سے ایک سے پوچھا کہ آیا وہ جانتا ہے کہ ”یہوواہ“ کا کیا مطلب ہے۔ جواب دیا، ”یہ خدا کا نام ہے۔“ راہبہ کو یہ سنکر بڑی حیرانی ہوئی کہ پادری یہ جانتا تھا مگر اس نے اسے یہ کبھی نہیں سکھایا تھا۔
گواہ اس خاتون کے پاس نو دن تک مسلسل جاتی رہی اور تثلیث، جان، دوزخ، اور مردوں کے لئے امید کی بابت اسے سچائی سکھاتی رہی۔ اس خاتون نے ہر چیز کے بارے میں علم حاصل کیا اور پھر گواہ سے کہا کہ اسے کچھ وقت دے تاکہ وہ ان تمام نئی تعلیمات پر سوچبچار کر سکے۔ دو ہفتوں کے بعد اس نے گواہ کے ساتھ پھر رابطہ قائم کیا اور مزید مباحثوں کیلئے درخواست کی۔ اس وقت تک راہبہ چرچ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی اور پہلے ہی اپنے مجسموں، تسبیحوں، اور صلیب کو نیستونابود کر چکی تھی۔ پادری نے اسے واپس لانے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سچائی کے حصول کی کوشش میں لگے رہنے کے لئے اٹل تھی۔ بعد میں اس نے بپتسمہ لیا اور اپنی کمزور صحت اور ضعیفالعمری کے باوجود کئی مہینوں تک ایک باقاعدہ امدادی پائنیر کے طور پر خدمت کی ہے۔
چونکہ اس کا گھر بڑا ہے، اس لئے اس نے اسے کنگڈم ہال کے طور پر استعمال کرنے کے لئے کلیسیا کو پیش کیا۔ بھائیوں نے پرانی چھت کو بدل دیا، اندرونی دیواریں گرا دیں، اور عمارت کے بڑے حصے کو ایک پرکشش میٹنگ کی جگہ بنا لیا۔ وہ سابقہ کیتھولک راہبہ، ہال کے پیچھے ایک کمرے میں رہتی ہے۔ یہوواہ کی پرستش کیلئے یہ پیشکش کرنے کے قابل ہونے سے وہ بڑی خوش ہے۔
▫ ایک اور تجربہ جو غیررسمی گواہی کی حکمت کو ظاہر کرتا ہے وہ کمپالا، یوگنڈا سے آتا ہے۔ ایک سرکاری دفتر میں جاتے وقت، ایک گواہ مشنری نے اپنے ساتھ ایلیویٹر میں سوار دوسرے لوگوں سے غیررسمی طور پر باتچیت کی۔ ایک آدمی مسٹر ایل نے پیش کئے گئے لٹریچر کو قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس وقت لے نہ سکا۔ لہذا اس نے مشنری کو اپنا نام اور اپنے دفتر کا پتہ دیا۔ بعد میں مشنری وہاں گیا اور مسٹر ایل کے بارے میں پوچھا۔ اسے بلایا گیا مگر مشنری کی خلافتوقع، ایک مختلف آدمی نمودار ہوا۔ وہاں اس دفتر میں ایک ہی نام کے دو آدمی کام کرتے تھے۔ دوسرے مسٹر ایل کو مختصر سی گواہی دی گئی، اور اس نے غیرمعمولی دلچسپی ظاہر کی۔ جبکہ پہلا مسٹر ایل دلچسپی کھو چکا تھا، دوسرے مسٹر ایل کے ساتھ ایک بائبل مطالعہ شروع کر دیا گیا۔ اب وہ بپتسمہیافتہ گواہ ہے، اور اسکی بیوی اور بیٹا بپتسمے کے لئے خوب ترقی کر رہے ہیں۔
یسوع مسیح اچھا چرواہا ہے اور ان بھیڑخصلت اشخاص کو جانتا ہے جنکے دل راستی کی طرف مائل ہیں۔ یہ تجربے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے پیروکاروں کو ایسے اشخاص کی طرف لے جاتا ہے۔ غیررسمی منادی پھلدار ہو سکتی ہے! یوحنا ۱۰:۱۴۔ (۲۶ ۱/۱ w۹۲)