”تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا“
جب وہ مجرم، اذیت سے مرتے ہوئے، سولی پر لٹک رہا تھا تو اس نے اپنے پہلو والے آدمی سے التجا کی: ”اے یسوع جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا۔“ اگرچہ یسوع بھی سخت درد سے مر رہا تھا تو بھی اس نے جواب دیا: ”میں آج تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“ (لوقا ۲۳:۴۲، ۴۳، NW) مرتے ہوئے آدمی کو پیش کرنے کیلئے کیا ہی اطمینانبخش امید!
کیا آپ نے غور کیا کہ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن وہ ترجمہ جس کا حوالہ گذشتہ پیراگراف میں دیا گیا یسوع کے ان الفاظ کا ترجمہ کرتے وقت رموزاوقاف کو مختلف جگہ پر رکھنے کی وجہ سے الفاظ ”آج“ کو پہلے جزوجملہ میں شامل کرتا ہے؟ یہ اس خیال کو پیش کرتا ہے کہ اپنی موت کے دن بھی یسوع اس مجرم کیساتھ فردوس میں زندگی کا وعدہ کرنے کے قابل تھا۔ اس کے دوسری طرف، دی نیو انگلش بائبل مختلف رموزاوقاف کے ساتھ یسوع کے الفاظ کو اس طرح پیش کرتی ہے: ”میں تجھ سے یہ کہتا ہوں: تو آج میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“ زیادہتر دوسرے ترجمے یہ خیال پیش کرتے ہوئے دی نیو انگلش بائبل کے ساتھ متفق ہیں کہ یسوع اور وہ مرنے والا مجرم اسی دن فردوس میں جا رہے تھے۔ یہ اختلاف کیوں؟ اور کون سے رموزاوقاف درست ہیں؟
درحقیقت، بائبل کے ابتدائی یونانی مسودوں میں کوئی رموزاوقاف نہیں ہوتے تھے۔ لہذا، جب رموزاوقاف کو متعارف کرایا گیا تو بائبل کے نقلنویسوں اور مترجموں نے انہیں اپنی بائبل سچائی کی سمجھ کے مطابق لگانا تھا۔ پس، کیا روایتی ترجمہ درست ہے؟ کیا یسوع اور وہ بدکار جس دن مرے اسی دن فردوس میں چلے گئے؟
نہیں، بائبل کے مطابق، وہ اس جگہ گئے جو یونانی میں ہیڈیز اور عبرانی میں شیعل کہلاتی ہے اور یہ دونوں ہی بنیآدم کی عام قبر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ (لوقا ۱۸:۳۱-۳۳، ۲۴:۲۶، اعمال ۲:۳۱) جو اس جگہ میں ہیں ان کی بابت بائبل کہتی ہے: ”مردے کچھ بھی نہیں جانتے . . . پاتال [یونانی، ہیڈیز ] میں جہاں تو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ۔ نہ علم نہ حکمت۔ بمشکل ہی فردوس! واعظ ۹:۵، ۱۰۔
تیسرے دن تک یسوع ہیڈیز میں سے زندہ نہ گیا تھا۔ پھر، تقریباً چھ ہفتوں کے دوران وہ فلسطین کے علاقے میں اپنے پیروکاروں پر کئی بار ظاہر ہوا۔ ان میں سے ایک موقع پر، یسوع نے مریم کو بتایا: ”میں اب تک باپ کے پاس اوپر نہیں گیا۔“ (یوحنا ۲۰:۱۷) پس، اسوقت تک بھی وہ کسی ایسی جگہ نہیں پہنچا تھا جسے فردوس کہا جا سکے۔ مکاشفہ ۲:۷۔
تیسری صدی س۔ع۔ میں جب مسیحی تعلیم کو یونانی فلاسفی کیساتھ جوڑنا تیزی سے جاری تھا تو اوریگن نے یسوع کے الفاظ کا حوالہ اسطرح دیا: ”آج تو میرے ساتھ خدا کے فردوس میں ہوگا۔“ چوتھی صدی س۔ع۔ میں چرچ کے مصنفوں نے ”آج“ کے بعد رموزاوقاف ڈالنے کے خلاف بحث کی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کے الفاظ کو روایتی انداز سے پڑھنے کیساتھ ایک طویل تاریخ وابستہ ہے۔ لیکن یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ چوتھی صدی س۔ع۔ میں بھی بعض لوگ یسوع کے الفاظ کو اس انداز سے بھی پڑھتے تھے جسطرح کہ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
آجکل بھی، اگرچہ بہتیرے مترجم لوقا ۲۳:۴۳ کے رموزاوقاف چرچ کی روایت کے مطابق لگاتے ہیں، پھر بھی بعض اسکے رموزاوقاف نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے مطابق لگاتے ہیں۔ مثال کیطور پر، پروفیسر ولہیم میخائیلس کے جرمن ترجمے میں، یسوع کے الفاظ کو یوں پڑھا جاتا ہے: ”سچ ہے کہ میں آج ہی تجھے یہ یقین دلاتا ہوں: تو (کسی دن) میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“
تو پھر یسوع کے الفاظ اس بدکار کیلئے کیا مطلب رکھتے تھے؟ ہو سکتا ہے اس نے یہ دعوے سنے ہوں کہ یسوع موعودہ بادشاہ ہے۔ بلاشبہ، وہ اس خطاب کو جانتا تھا جو پیلاطس نے کندہ کروا کے یسوع کے سر پر لٹکوایا تھا۔ (لوقا ۲۳:۳۵-۳۸) اگرچہ مذہبی لیڈروں نے ہٹدھرمی سے یسوع کو رد کر دیا تھا، اس تائب مجرم نے یہ کہتے ہوئے اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا: ”اے یسوع جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا۔“ وہ یسوع کے ساتھ مل کر حکمرانی کرنے کی توقع نہیں کرتا تھا بلکہ یسوع کی حکمرانی سے استفادہ کرنا چاہتا تھا۔ پس، اس نہایت مشکل دن پر بھی یسوع نے وعدہ کیا کہ وہ غلط کار فردوس میں اس کے ساتھ ہوگا۔
کس فردوس میں؟ بائبل میں حقیقی فردوس وہ پارک نما باغعدن تھا جسے ہمارے پہلے والدین نے کھو دیا تھا۔ بائبل وعدہ کرتی ہے کہ وہ فردوس خدا کی بادشاہت کے تحت بحال کیا جائیگا جسکا بادشاہ یسوع ہے۔ (زبور ۳۷:۹-۱۱، میکاہ ۴:۳، ۴) لہذا، یسوع اس غلط کار اور دیگر بیشمار مردوں کیساتھ ہوگا جب وہ انہیں فردوسی زمین پر زندگی کیلئے اور خدا کی مرضی پوری کرنے کی تعلیم حاصل کرنے اور ہمیشہ زندہ رہنے کا موقع پانے کیلئے قبر سے زندہ کریگا۔ یوحنا ۵:۲۸، ۲۹، مکاشفہ ۲۰:۱۱-۱۳، ۲۱:۳، ۴۔ (۲۹ ۱۰/۱۵ w۹۱)