یہوواہ کی قربت میں رہو
”دعا کرنے میں مشغول رہو۔“ رومیوں ۱۲:۱۲۔
۱. دعا کے سلسلے میں یہوواہ کی مرضی کیا ہے، اور دعا کرنے کی بابت پولس رسول نے کیا حوصلہافزائی دی؟
یہوواہ ہی اپنے تمام وفادار لوگوں کیلئے ”امید دینے والا خدا ہے۔“ ”دعا کے سننے وا لے“ کےطور پر، وہ مدد کیلئے انکی التجاؤں کو سنتا ہے تاکہ وہ اس خوشکن امید کو حاصل کرسکیں جو وہ ان کے سامنے رکھتا ہے۔ (رومیوں ۱۵:۱۳، زبور ۶۵:۲) اور اپنے کلام، بائبل کے ذریعے، وہ اپنے تمام خادموں کی حوصلہافزائی کرتا ہے کہ وہ جب چاہیں اسکے پاس آئیں۔ وہ ہر وقت انکی دلی فکروں پر توجہ دینے کا مشتاق رہتا ہے۔ درحقیقت، وہ ”دعا میں مشغول رہنے“ اور”لگاتار دعا کرتے رہنے“ کے لئے انکی حوصلہافزائی کرتا ہے۔a (رومیوں ۱۲:۱۲، ۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۷) یہوواہ کی مرضی یہ ہے کہ تمام مسیحی اسے ہمیشہ دعا میں پکاریں، اپنے دل اسکے سامنے انڈیل دیں اور اسکے پیارے بیٹے، یسوع مسیح کے نام کے وسیلے سے ایسا کریں۔ یوحنا ۱۴:۶، ۱۳، ۱۴۔
۲، ۳. (ا)خدا نے ہمیں ”دعا میں مشغول رہنے“ کی تلقین کیوں کی؟ (ب) ہمارے پاس کیا یقیندہانی ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم دعا کریں؟
۲ یہوواہ ہمیں یہ تلقین کیوں کرتا ہے؟ اسلئے کہ زندگی کے دباؤ اور ذمہداریاں ہمیں بوجھ تلے اسقدر دبا سکتی ہیں کہ ہم دعا کرنا ہی بھول سکتے ہیں۔ یا مسائل ہم کو کچل سکتے ہیں اور ہمارے لئے امید میں خوش ہونے میں رکاوٹ کا اور دعا بند کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ان چیزوں کے پیشنظر، ہمیں یاددہانیوں کی ضرورت ہے جو دعا کرنے اور مدد اور اطمینان کے سر چشمے، ہمارے خدا یہوواہ کے بہت قریب آنے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کرتی ہیں۔
۳ شاگرد یعقوب نے لکھا: ”خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئیگا۔“ (یعقوب ۴:۸) جیہاں، ہماری ناکامل انسانی حالت کے باوجود، خدا نہ تو اتنا مغرور ہے اور نہ ہی ہم سے اتنا دور ہے کہ اس کے حضور ہمارے اظہارجذبات کو وہ نہ سنے۔ (اعمال ۱۷:۲۷) علاوہازیں، وہ لاپرواہ اور بےفکر بھی نہیں ہے۔ زبورنویس کہتا ہے : ”[یہوواہ] کی نگاہ صادقوں پر ہے اور اسکے کان انکی فریاد پر لگے ہیں۔“ زبور ۳۴:۱۵، ۱-پطرس ۳:۱۲۔
۴. دعا کی طرف یہوواہ کی توجہ کو کیسے سمجھایا جا سکتا ہے؟
۴ یہوواہ دعا کرنے کو کہتا ہے۔ ہم اسکا موازنہ ایک مجمع سے کر سکتے ہیں جہاں پر کہ کافی لوگ آپس میں محوگفتگو ہوں۔ آپ وہاں پر، دوسروں کی گفتگو سن رہے ہیں۔ آپکا کردار ایک مبصر کا ہے۔ پھر کوئی آپکی طرف متوجہ ہوتا ہے، آپکا نام پکارتا ہے، اور اپنی باتچیت کا مرکز آپکو بناتا ہے۔ یہ ایک خاص طریقے سے آپکے لئے جاذبتوجہ بنتا ہے۔ اسی طرح سے، خدا ہمیشہ اپنے لوگوں کی طرف متوجہ رہتا ہے، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ (۲-تواریخ ۱۶:۹، امثال ۱۵:۳) پس وہ ہماری باتوں کو سنتا ہے، گویا کہ وہ محافظت اور دلچسپی سے غور کرتا ہے۔ لہذا، جب ہم دعا میں خدا کا نام لیتے ہیں، تو اسکی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، اور اب وہ صریحی طریقے سے ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اپنی قوتوں کے ذریعے، یہوواہ آدمی کی خاموش التجا کو بھی سمجھ لیتا اور دریافت کر سکتا ہے جو اسکے دل اور ذہن کے نہاںخانوں سے پیش کی گئی ہے۔ خدا ہمیں یقیندہانی کراتا ہے کہ وہ ان سب کے نزدیک آئیگا جو خلوص سے اسکا نام لیتے ہیں اور اسکی قربت میں رہنے کے متلاشی ہیں۔ زبور ۱۴۵:۱۸۔
خدا کے مقصد کی مطابقت میں جواب
۵. (ا)”دعا میں مشغول رہنے“ کی نصیحت ہماری دعاؤں کے سلسلے میں کیا ظاہر کرتی ہے؟ (ب) خدا دعاؤں کا جواب کیسے دیتا ہے؟
۵ دعا میں مشغول رہنے کیلئے نصیحت ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ بعضاوقات ہمیں تھوڑی دیر کیلئے کسی معاملے کی بابت دعا کرتے رہنے کی مہلت دے سکتا ہے اس سے پیشتر کہ اسکا جواب واضح ہو جائے۔ ہم پرمحبتمہربانی یا کرمفرمائی کیلئے خدا سے التجا کرنے سے تھکان محسوس کرنے کی طرف بھی مائل ہو سکتے ہیں جو نہایت ضروری مگر تاخیری دکھائی دے سکتا ہے۔ لہذا، یہوواہ خدا ہم سے التماس کرتا ہے کہ اس طرح “کے کسی رحجان کی طرف جھکاؤ نہ رکھیں بلکہ دعا کرتے رہیں۔ ہمیں یہ یقین رکھتے ہوئے اپنی فکروں کی بابت اس سے درخواست کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہماری دعا کا لحاظ رکھتا ہے اور ہماری حقیقی ضرورت کو پورا کریگا، محض اس چیز کیلئے نہیں جس کی خاطر ہم نے شاید دلیل دی ہو۔ بیشک یہوواہ خدا ہماری درخواستوں کو اپنے مقصد کی مطابقت میں متوازن رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہماری درخواست سے دوسرے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہم اس معاملے کا موازنہ ایک باپ کیساتھ کر سکتے ہیں جسکا بیٹا اس سے بائیسکل مانگتا ہے۔ باپ جانتا ہے کہ اگر وہ اس بیٹے کو بائیسکل خرید دیتا ہے، تو اسکا دوسرا بیٹا بھی بائیسکل مانگے گا۔ چونکہ ایک بیٹا بائیسکل کیلئے ابھی تک بہت چھوٹا ہو سکتا ہے، تو باپ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس خاص وقت پر کوئی بھی نہ خریدے۔ اسی طریقے سے، اپنے مقصد اور معاملات کے وقت کی روشنی میں، ہمارا آسمانی باپ فیصلہ کرتا ہے کہ کونسی چیز واقعی ہمارے لئے اور دوسروں کیلئے بہترین ہے۔ زبور ۸۴:۸، ۱۱، مقابلہ کریں حبقوق ۲:۳۔
۶. دعا کے سلسلے میں یسوع نے کیا تمثیل دی، اور دعا میں مشغول رہنا کیا ظاہر کرتا ہے؟
۶ ”ہر وقت دعا کرتے رہنا اور ہمت نہ ہارنا“ کی اپنے شاگردوں کی ضرورت کی بابت جو تمثیل یسوع نے دی وہ قابلغور ہے۔ انصاف حاصل کرنے کے ناقابل، ایک بیوہ، اس وقت تک ایک انسانی قاضی کو اپنی درخواست پیش کرتی رہی جبتک کہ اس نے بالآخر انصاف حاصل کر لیا۔ یسوع نے اضافہ کیا: ”پس کیا خدا اپنے برگزیدوں کا انصاف نہ کریگا؟“ (لوقا ۱۸:۱-۷) دعا میں مشغول رہنا ہمارے ایمان، یہوواہ پر ہمارے بھروسے، اسکی قربت میں رہنے اور ہمارے التجا کرنے، اور انجام کو اسکے ہاتھوں میں چھوڑ دینے کے لئے رضامندی کو ظاہر کرتا ہے۔ عبرانیوں ۱۱:۶۔
یہوواہ کی قربت میں رہنے کے نمونے
۷. یہوواہ کی قربت میں رہنے کیلئے ہم ہابل کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟
۷ بائبل خدا کے خادموں کے ذریعے پیش کی گئی دعاؤں کی سرگزشتوں سے پر ہے۔ یہ ”ہماری تعلیم کیلئے لکھی گئیں تاکہ [برداشت] سے اور کتابمقدس کی تسلی سے امید رکھیں۔“ (رومیوں ۱۵:۴) بعض ایسے لوگوں کے نمونوں پر ہمارے غوروفکر کرنے سے ہماری امید تقویت پاتی ہے جو یہوواہ کی قربت میں رہے تھے۔ ہابل نے خدا کے سامنے ایک پسندیدہ قربانی پیش کی، اگرچہ کسی دعا کا ذکر تو نہیں کیا گیا، مگر بلاشبہ اس نے دعا کے ذریعے یہوواہ سے منت کی ہوگی کہ اسکی قربانی کو قبول کر لیا جائے۔ عبرانیوں ۱۱:۴ کہتی ہے: ”ایمان ہی سے ہابل نے قائن سے افضل قربانی گذرانی اور اسی [ایمان] کے سبب سے اسکے راستباز ہونے کی گواہی دی گئی۔“ ہابل پیدایش ۳:۱۵ میں خدا کے وعدے سے واقف تھا، مگر جو کچھ اب ہم جانتے ہیں، اسکے مقابلے میں وہ بہت تھوڑا جانتا تھا۔ پھر بھی، ہابل نے اسی علم کے مطابق عمل کیا جو اسے حاصل تھا۔ اسی طرح سے آجکل، خدا کی سچائی میں نئینئی دلچسپی رکھنے والوں میں بعض کے پاس ابھی تک کافی علم نہیں ہے، لیکن وہ دعا کرتے ہیں اور ہابل کی طرح، جتنا علم انہیں حاصل ہے اسی سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جیہاں، وہ ایمان کیساتھ عمل کرتے ہیں۔
۸. ہم کیوں یقین رکھ سکتے ہیں کہ ابرہام یہوواہ کی قربت میں رہا تھا، اور ہمیں خود سے کیا سوال پوچھنا چاہیے؟
۸ خدا کا ایک اور وفادار خادم ابرہام تھا، ”وہ ان سب کا باپ ٹھہرا جو ایمان لاتے ہیں۔“ (رومیوں ۴:۱۱) آجکل، پہلے سے کہیں زیادہ، ہمیں مضبوط ایمان کی ضرورت ہے، اور ابرہام کی طرح، ہمیں ایمان کے ساتھ دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ پیدایش ۱۲:۸ (NW) کہتی ہے کہ اس نے ”یہوواہ کیلئے ایک قربانگاہ بنائی اور یہوواہ کا نام لیکر دعا کرنے لگا۔،“ ابرہام خدا کے نام سے واقف تھا اور اس نے اسے دعا میں استعمال کیا۔ وہ خلوص کیساتھ اکثر دعا کرنے میں مشغول رہتا تھا، اور اس نے ”یہوواہ کا نام لیکر دعا کی جو ابدی خدا ہے۔“ (پیدایش ۱۳:۴، ۲۱:۳۳، NW) ابرہام ایمان کیساتھ خدا کا نام لیکر دعا کرتا تھا جس کیلئے وہ مشہور ہو گیا تھا۔ (عبرانیوں ۱۱:۱۷-۱۹) بادشاہتی امید میں خوش رہنے کیلئے دعا نے ابرہام کی بہت مدد کی تھی۔ کیا ہم دعا میں مشغول رہنے کیلئے ابرہام کے نمونے کی پیروی کرتے ہیں؟
۹. (ا)آجکل خدا کے لوگوں کیلئے داؤد کی دعائیں کیوں اتنی زیادہ مفید ہیں؟ (ب) داؤد کی طرح یہوواہ کی قربت میں رہنے کیلئے ہمارا دعا کرنا کس چیز پر منتج ہو سکتا ہے؟
۹ دعا میں مشغول رہنے کے سلسلے میں داؤد بھی نمایاں تھا، اور دعاؤں کو جو کچھ ہونا چاہئے، اس کے مزامیر اسے واضح کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، خدا کے لوگ موزوں طور پر ایسی چیزوں کیلئے دعا کر سکتے ہیں جیسے کہ نجات یا چھٹکارا (۳:۷، ۸، ۶۰:۵) ، راہنمائی (۲۵:۴، ۵) ، حفاظت (۱۷:۸) ، گناہوں کی معافی، (۲۵:۷، ۱۱، ۱۸) اور پاک دل (۵۱:۱۰)۔ جب داؤد نے خود کو تکلیف میں پایا، تو اس نے دعا کی: ”یارب اپنے بندہ کی جان کو شاد کر دے۔“ (۸۶:۴) اسی طرح ہم بھی دل کی خوشی کے لئے دعا کر سکتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ یہوواہ یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی امید میں خوش رہیں۔ داؤد یہوواہ کی قربت میں رہا اور دعا کی: ”میری جان کو تیری ہی دھن ہے۔ تیرا دہنا ہاتھ مجھے سنبھالتا ہے۔“ (۶۳:۸) کیا ہم بھی داؤد کی طرح یہوواہ کی قربت میں رہیں گے؟ اگر ہم ایسا کرتے ہیں، تو وہ ہمیں بھی سنبھالے گا۔
۱۰. ایک مقام پر آسف کونسے غلط خیالات رکھتا تھا، لیکن اس نے کیا تسلیم کر لیا تھا؟
۱۰ اگر ہم نے یہوواہ کی قربت میں رہنا ہے تو ہمیں شریروں سے ان کی آزاد اور مادہ پرستانہ زندگیوں کی وجہ سے حسد کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مقام پر زبورنویس آسف نے یہ محسوس کیا کہ یہوواہ کی خدمت کرنا بالکل بیکار تھا، کیونکہ بدکار ”سدا چین سے رہتے ہیں۔“ اس کے باوجود، اس نے یہ جان لیا کہ اس کے دلائل غلط تھے اور یہ کہ شریر ”پھسلنی جگہ“ پر ہیں۔ اس نے یہ تسلیم کیا کہ یہوواہ کی قربت میں رہنے سے بہتر کوئی چیز نہیں، اور اس نے یہوواہ کے سامنے خود کو یوں پیش کیا: ”میں برابر تیرے ساتھ ہوں۔ تو نے میرا دہنا ہاتھ پکڑ رکھا ہے۔ کیونکہ دیکھ ! وہ جو تجھ سے دور ہیں فنا ہو جائیں گے۔ . . . لیکن میرے لئے یہی بھلا ہے کہ خدا کی نزدیکی حاصل کروں۔ میں نے [یہوواہ] خدا کو اپنی پناہ گاہ بنا لیا ہے۔ تاکہ تیرے سب کاموں کا بیان کروں۔“ (زبور ۷۳:۱۲، ۱۳، ۱۸، ۲۳، ۲۷، ۲۸) شریروں کی آزاد زندگیوں پر حسد کرنے کی بجائے، جو کہ بےامید لوگ ہیں، آئیے ہم یہوواہ کی قربت میں رہنے کے سلسلے میں آسف کی نقل کریں۔
۱۱. دانیایل یہوواہ کی قربت میں رہنے کا ایک اچھا نمونہ کیوں ہے، اور ہم کیسے اسکی نقل کر سکتے ہیں؟
۱۱ دانیایل بھی عزممصمم کے ساتھ دعا میں مشغول رہا، یہاں تک کہ جب وہ دعا پر سرکاری فرمان کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے شیروں کی ماند میں خطرے میں تھا۔ لیکن یہوواہ نے ”اپنے فرشتہ کو بھیجا اور شیروں کے منہ بند کر د ئے۔“ اور یوں دانیایل کو بچا لیا۔ (دانیایل ۶:۷-۱۰، ۲۲، ۲۷) دعا میں مشغول رہنے کی وجہ سے دانیایل کو بہت سی برکات ملیں۔ کیا ہم بھی دعا میں مشغول رہتے ہیں، بالخصوص جب ہماری بادشاہتی منادی کے کام کے سلسلے میں مخالفت کا سامنا ہو؟
یسوع، ہمارا نمونہ دینے والا
۱۲. (ا)اپنی خدمتگزاری کے شروع میں، یسوع نے دعا کے سلسلے میں کیا نمونہ قائم کیا، اور یہ کسطرح سے مسیحیوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ (ب) دعا کی بابت یسوع کی نمونے کی دعا کیا آشکارا کرتی ہے؟
۱۲ اپنی زمینی خدمتگزاری کے بالکل شروع ہی سے، یسوع کو دعا کرتے دیکھا گیا۔ بپتسمہ لیتے وقت اس کے دعائیہ رویے نے ان سب کے لئے جو جدید زمانوں میں پانی کا بپتسمہ لیتے ہیں ایک اچھا نمونہ قائم کیا۔ (لوقا ۳:۲۱، ۲۲) پانی کے بپتسمہ سے جس چیز کا اظہار کیا جاتا ہے اسے سرانجام دینے کے لئے ایک شخص خدا سے مدد کے لئے دعا کر سکتا ہے۔ یسوع نے دعا کے ذریعے یہوواہ تک رسائی کرنے کے لئے دوسروں کی بھی مدد کی۔ ایک موقع پر جب یسوع کسی جگہ پر دعا کر رہا تھا تو اسکے شاگردوں میں سے ایک نے بعد میں اس سے کہا: ”اے خداوند ہمیں دعا کرنا سکھا۔“ اس کے بعد یسوع نے انہیں وہ چیز بتائی جسے عام طور پر نمونے کی دعا کہا جاتا ہے، جس میں مضامین کی ترتیب یہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا کے نام اور اس کے مقاصد کو اولیت دی جانی چاہیے۔ (لوقا ۱۱:۱-۴) پس، اپنی دعاؤں میں ہمیں ”زیادہ ضروری چیزوں“ سے غفلت برتے بغیر، تناسب اور توازن کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ (فلپیوں ۱:۹، ۱۰) بیشک ، خاص ضروریات یا ایسے اوقات ہوتے ہیں جب ہمیں خاص مسائل کے لئے دعا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یسوع کی طرح، مسیحی بعض تفویضات کو جاری رکھنے یا کسی طرح کی مشکلات سے نپٹنے یا خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے دعا کے ذریعے خدا سے مدد کے طالب ہو سکتے ہیں۔ (متی ۲۶:۳۶-۴۴) درحقیقت، شخصی دعائیں عملیطور پر زندگی کے ہر پہلو کو شامل کر سکتی ہیں۔
۱۳. یسوع نے دوسروں کی بابت دعا کرنے کی اہمیت کو کیسے ظاہر کیا؟
۱۳ اپنے عمدہ نمونے سے یسوع نے دوسروں کیلئے دعا کرنیکی اہمیت کو ظاہر کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اسکے شاگردوں سے نفرت کی جائیگی اور انہیں ستایا جائیگا، بالکل اسی طرح جیسے اس کیساتھ کیا گیا۔ (یوحنا ۱۵:۱۸-۲۰، ۱-پطرس ۵:۹) اسلئے، اس نے خدا سے درخواست کی کہ ”شریر سے انکی حفاظت کر۔“ (یوحنا ۱۷:۹، ۱۱، ۱۵، ۲۰) اور اس خاص مشکل کو جانتے ہوئے جو پطرس کو پیش آنی تھی، اس نے اسے بتایا: ”میں نے تیرے لئے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ ر ہے۔“ (لوقا ۲۲:۳۲) یہ کسقدر مفید ہے کہ ہم بھی اپنے ہی مسائل اور دلچسپیوں پر نہیں بلکہ دوسروں کی بابت سوچتے ہوئے اپنے بھائیوں کیلئے دعا میں مشغول رہیں! فلپیوں ۲:۴، کلسیوں ۱:۹، ۱۰۔
۱۴. ہم کیسے جانتے ہیں کہ اپنی تمامتر زمینی خدمتگزاری کے دوران یسوع یہوواہ کی گہری قربت میں رہا، اور ہم اسکی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۴ اپنی پوری خدمتگزاری کے دوران، یہوواہ کے بہت قریب رہتے ہوئے، یسوع دعا کرنے میں مشغول رہا۔ (عبرانیوں ۵:۷-۱۰) پطرس رسول اعمال ۲:۲۵-۲۸، میں زبور ۱۶:۸ کا حوالہ دیتا اور اسے خداوند یسوع مسیح پر عائد کرتا ہے: ”داؤد اس کے حق میں کہتا ہے میں [یہوواہ] کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھتا ہوں کیونکہ وہ میری دہنی طرف ہے تاکہ مجھے جنبش نہ ہو۔“ ہم بھی اسی طرح کر سکتے ہیں۔ ہم خدا سے دعا کر سکتے ہیں کہ ہماری قربت میں ر ہے، اور ہم اسے ذہنی طور پر ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھنے سے یہوواہ پر اپنا بھروسہ ظاہر کر سکتے ہیں۔ (مقابلہ کریں زبور ۱۱۰:۵، یسعیاہ ۴۱:۱۰، ۱۳۔) پھر ہم ہر قسم کی مشکلات سے بچینگے، کیونکہ یہوواہ ہمیں سنبھالیگا، اور ہمیں کبھی جنبش نہ ہوگی۔
۱۵. (ا)دعا میں مشغول رہنے کیلئے ہمیں کس سلسلے میں کبھی قاصر نہیں رہنا چاہیے؟ (ب) ہماری شکرگزاری کے سلسلے میں کیا آ گاہی گئی ہے؟
۱۵ دعا ہے کہ ہمارے ساتھ یہوواہ کی نیکی کیلئے شکرگزاری کا اظہار کرنے میں ہم کبھی کوتاہی نہ کریں، جیہاں، ”بیان سے باہر خدا کی بخشش“ میں ہمارے گناہوں کیلئے فدیے کی قربانی کے طور پر اسکے بیٹے کی بخشش شامل ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۹:۱۴، ۱۵، مرقس ۱۰:۴۵، یوحنا ۳:۱۶، رومیوں ۸:۳۲، ۱-یوحنا ۴:۹، ۱۰) بلاشبہ، یسوع کے نام سے ”سب باتوں میں ہمارے خدا باپ کا شکر کرتے رہو۔“ (افسیوں ۵:۱۹، ۲۰، کلسیوں ۴:۲، ۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۸) ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ جو کچھ ہمارے پاس نہیں یا اپنے ذاتی مسائل میں اسقدر مدغم ہو جانے کی وجہ سے جو کچھ ہمارے پاس ہے اس کیلئے شکرگزاری کو خراب نہ ہونے دیں۔
اپنے بوجھ یہوواہ پر ڈالنا
۱۶. جب کوئی بوجھ ہمیں تکلیف دے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
۱۶ دعا میں ثابتقدمی ہماری مخصوصیت کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ جب ہم خدا کا نام لیتے ہیں، تو اسکی طرف سے ایک جواب ملنے سے پیشتر ہی ہم پر ایک اچھا اثر ہوتا ہے۔ اگر ہمارے ذہنوں کو کوئی بوجھ تکلیف پہنچا رہا ہے، تو ہم اس نصیحت پر عمل کرنے سے یہوواہ کی قربت میں رہ سکتے ہیں: ”اپنا بوجھ [یہوواہ] پر ڈال دے تو وہ تجھے سنبھالیگا۔“ (زبور ۵۵:۲۲) اپنے تمام بوجھ پریشانیاں، تفکرات، مایوسیاں، خوف، وغیرہ خدا پر ڈالنے سے، اور اس پر مکمل ایمان سے، ہم دل کا سکون پاتے ہیں، ”خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے۔“ فلپیوں ۴:۴، ۷، زبور ۶۸:۱۹، مرقس ۱۱:۲۴، ۱-پطرس ۵:۷۔
۱۷. ہم خدا کا اطمینان کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
۱۷ کیا خدا کا یہ اطمینان اچانک ہی آ جاتا ہے؟ اگرچہ ہمیں کچھ تسکین تو فوراً ہی مل سکتی ہے، لیکن یسوع نے روحالقدس کیلئے دعا کرنے کی خاطر جو کچھ کہا وہ یہاں سچ ثابت ہوتا ہے: ”مانگتے رہو تو تمہیں دیا جائیگا، ڈھونڈتے رہو تو پاؤگے، دروازہ کھٹکھٹاتے رہو تو تمہارے واسطے کھولا جائیگا۔“ (لوقا ۱۱:۹-۱۳، NW) چونکہ روحالقدس ہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہم پریشانی کو دور کرتے ہیں، لہذا ہمیں اپنے بوجھوں کے سلسلے میں خدا کے اطمینان اور اسکی مدد کے لئے درخواست کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ دعا میں مشغول رہنے سے، ہم مطلوبہ تسکین اور دل کا اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔
۱۸. اگر ہم صحیح طور پر یہ نہیں جانتے کہ کسی خاص حالت میں کیا دعا کریں تو یہوواہ ہمارے لئے کیا کرتا ہے؟
۱۸ لیکن اگر ہم صحیح طور پر یہ نہیں جانتے کہ کس چیز کیلئے دعا کریں تو پھر کیا ہو؟ ہم اکثر اپنے اندرونی کرب بیان نہیں کر سکتے کیونکہ ہم اپنی صورتحال کو پوری طرح سمجھتے ہی نہیں، یا پھر ہمیں کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہوواہ سے کیا کہیں۔ یہی وہ صورت ہے جہاں پر کہ روحالقدس ہمارے لئے سفارش کر سکتی ہے۔ پولس نے لکھا: ”کیونکہ جس طرح سے ہم کو دعا کرنا چاہیے ہم نہیں جانتے مگر روح خود ایسی آہیں بھربھر کر ہماری شفاعت کرتا ہے جن کا بیان نہیں ہو سکتا۔“ (رومیوں ۸:۲۶) کسطرح سے؟ خدا کے کلام میں ایسی پیشینگوئیاں اور دعائیں موجود ہیں جو ہماری صورتحال سے علاقہ رکھتی ہیں۔ گویا وہ انہیں ہماری شفاعت کرنے دیتا ہے۔ صرف اسی صورت میں کہ اگر ہم اپنی صورتحال میں ان کے معنی جانتے ہیں تو وہ انہیں ایسی چیز کے طور پر قبول کرلیتا ہے جس کیلئے ہم دعا کرینگے، اور وہ اسکی مطابقت میں انہیں پورا کر دیتا ہے۔
دعا اور امید کو جاری رہنا ہے
۱۹. دعا اور امید ہمیشہ تک کیوں باقی رہیں گی؟
۱۹ خاص طور پر نئی دنیا اور اسکی تمام برکات کیلئے شکرگزاری کے سلسلے میں اپنے آسمانی باپ سے دعا ہمیشہ تک جاری رہے گی۔ (یسعیاہ ۶۵:۲۴، مکاشفہ ۲۱:۵) ہم امید میں خوش رہنا بھی جاری رکھیں گے، کیونکہ کسی نہ کسی شکل میں امید باقی رہے گی۔ (مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۱۳:۱۳۔) جب یہوواہ زمین کے سلسلے میں خود پر عائدکردہ سبت کے دن کے تحت نہیں ہوگا تو وہ جن نئی چیزوں کو سامنے لائیگا، ہم انکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ (پیدایش ۲:۲، ۳) وہ ابدالآباد تک اپنے لوگوں کیلئے پرمحبت حیرتانگیز کام کرتا “رہیگا، اور اسکی مرضی پوری کرنے کی صورت میں مستقبل انکے لئے شاندار چیزوں کو تھامے ہوئے ہے۔
۲۰. ہمارا عزممصمم کیا ہونا چاہیے، اور کیوں؟
۲۰ دعا ہے کہ اپنے سامنے ایسی ہیجانخیز امید کیساتھ ہم سب دعا میں مشغول رہ کر یہوواہ کی قربت میں رہیں۔ دعا ہے کہ اپنی تمام برکات کیلئے اپنے آسمانی باپ کا شکر ادا کرنے کو کبھی بند نہ کریں۔ موزوں وقت پر، ہماری توقعات جو ہم کر سکتے تھے، ہمارے تصور یا اندازے سے بڑھکر خوشکن طریقے سے پوری ہو جائیں گی، کیونکہ یہوواہ ”ہماری درخواست اور خیال سے بہت زیادہ کام کر سکتا ہے۔“ (افسیوں ۳:۲۰) پس، اسکے پیشنظر، ہم ابدالآباد تک ”دعا کے سننے وا لے“ اپنے خدا یہوواہ کی پوری حمد، تمجید اور شکرگزاری کرتے رہیں۔ (۱۴ ۱۲/۱۵ W۹۱)
[فٹنوٹ]
a ویبسٹرز نیو ڈکشنری آف سنونمز کی مطابقت میں، ”مشغول رہنا [کیلئے انگریزی لفظ ] تقریباً ہمیشہ ایک قابلتعریف صفت کا مفہوم دیتا ہے، یہ ناکامی، مشکلات، یا شکوک کی وجہ سے حوصلہشکنی سے انکار، اور کسی ذمہداری یا حصولمقصد کیلئے مستقلمزاجی یا ثابتقدمی دونوں کی تجویز پیش کرتا ہے۔“
آپ کیسے جواب دیں گے؟
▫ ہمیں دعا میں مشغول رہنے کی ضرورت کیوں ہے؟
▫ ہم قبلاز مسیحیت دعا کے نمونوں سے کیا سیکھتے ہیں؟
▫ دعا کی بابت یسوع کا نمونہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
▫ ہم یہوواہ پر اپنے بوجھ کیسے ڈال سکتے ہیں اور کس نتیجے کیساتھ ؟
[تصویر]
شیروں کی ماند میں پھینکے جانے کے خطرے کے باوجود دانیایل دعا میں مشغول رہا