یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏6 ص.‏ 21-‏26
  • بادشاہتی امید میں خوش رہو

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بادشاہتی امید میں خوش رہو
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • حقیقی خوشی دل کی ایک کیفیت
  • مسائل کے باوجود امید میں خوش ر ہنا
  • اپنی امید کو یاد رکھنا
  • فردوسی امید میں اب خوش رہنا
  • امید جو زندگی کو بسر کرنے کے لائق بناتی ہے
  • مستقبل کے حوالے سے آپ کی اُمید ضرور پوری ہوگی
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • یہوواہ کی آس رکھیں اور دلیر بنیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • یہوؔواہ میں خوش رہو!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • خوشدلی سے یہوؔواہ کی خدمت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏6 ص.‏ 21-‏26

بادشاہتی امید میں خوش رہو

‏”‏امید میں خوش رہو۔ مصیبت میں برداشت کرو۔“‏ رومیوں ۱۲:‏۱۲‏، NW۔‏

۱.‏ ہم کیوں یہوواہ کی رفاقت میں خوشی حاصل کر سکتے ہیں، اور پولس رسول نے مسیحیوں کو کیا کرنے کی تلقین کی؟‏

‏”‏خوش باش خدا۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۱:‏۱۱‏)‏ یہ یہوواہ کی کیا ہی خوب صفت بیان کرتا ہے! کیوں؟ اسلئے کہ اسکے سب کام اسے بڑی مسرت بخشتے ہیں۔ چونکہ یہوواہ تمام اچھی اور خوش کرنے والی چیزوں کا منبع ہے، اسلئے اسکی تمام ذہین مخلوق اسکی رفاقت میں خوشی حاصل کر سکتی ہے۔ موزوں طور پر، پولس رسول نے مسیحیوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ یہوواہ کو جاننے کے اپنے پرمسرت شرف کی قدر کریں، اور اسکی تمام شاندار تخلیقی بخششوں کیلئے اسکے شکرگزار ہوں، اور جو مشفقانہ مہربانیاں وہ کرتا ہے ان کیلئے خوش ہوں۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏خداوند میں ہر وقت خوش رہو۔ پھر کہتا ہوں کہ خوش رہو!“‏ فلپیوں ۴:‏۴،‏ زبور ۱۰۴:‏۳۱‏۔‏

۲.‏ ونسی امید بڑی خوشی کا باعث ہوتی ہے، اور اس امید کے سلسلے میں مسیحیوں کو کیا کرنے کی حوصلہ‌افزائی دی گئی ہے؟‏

۲ کیا مسیحی اس نصیحت پر دھیان دے رہے ہیں جو پولس نے پیش کی؟ بیشک وہ دے رہے ہیں! یسوع مسیح کے روحانی بھائی اس شاندار امید میں خوش ہیں جو خدا نے ان کے لئے کھول دی۔ (‏رومیوں ۸:‏۱۹-‏۲۱،‏ فلپیوں ۳:‏۲۰، ۲۱‏)‏ جی‌ہاں، وہ جانتے ہیں کہ مسیح کے ساتھ آسمانی بادشاہتی حکومت میں خدمت کرنے سے، وہ زندوں اور مردوں، دونوں طرح کے انسانوں کی مستقبل کی بابت بڑی امید کو پورا کرنے کے کام میں شریک ہوں گے۔ ذرا تصور کریں کہ وہ ہم‌میراث بادشاہوں اور کاہنوں کے طور پر خدمت کرنے کے اپنے استحقاقات سے کس قدر خوش ہوں گے! (‏مکاشفہ ۲۰:‏۶‏)‏ انہیں کیا ہی خوشی حاصل ہوگی جب وہ وفادار بنی‌آدم کو کاملیت حاصل کرنے میں مدد دیں گے اور ہماری زمین پر فردوس کو بحال کرنے میں راہنمائی کریں گے! تو پھر سچ ہے کہ خدا کے تمام خادموں کے پاس ”‏ہمیشہ کی زندگی کی امید ہے جس کا وعدہ ازل سے خدا نے کیا ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔“‏ (‏ططس ۱:‏۲‏)‏ اس شاندار امید کے پیش نظر، پولس رسول تمام مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے:‏ ”‏امید میں خوش رہو۔“‏ رومیوں ۱۲:‏۱۲‏۔‏a

حقیقی خوشی دل کی ایک کیفیت

۳، ۴.‏ (‏ا)‏اصطلا‌ح ”‏خوش رہو“‏ کا کیا مطلب ہے، اور مسیحیوں کو کتنی بار خوشی کرتے رہنا چاہیے؟ (‏ب)‏ حقیقی خوشی کیا ہے، اور یہ کس چیز پر منحصر ہے؟‏

۳ ”‏خوش رہنے“‏ کا مطلب ہے کہ خوشی کو محسوس کرنا اور اس کا اظہار کرنا، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مستقل فرحت یا زندہ دلی کی حالت میں رہنا۔ بائبل میں ”‏خوشی،“‏ ”‏شادمانی،“‏ اور ”‏خوش ہو نے“‏ کے لئے استعمال کئے گئے عبرانی اور یونانی الفاظ کے ساتھ مطابقت رکھنے والا فعل خوشی کے اندرونی احساس اور بیرونی اظہار دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔ مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ ”‏خوش رہیں،“‏ ہمیشہ خوش رہیں۔“‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱۱،‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۶‏۔‏

۴ لیکن کیسے کوئی ہر وقت خوش رہ سکتا ہے؟ یہ ممکن ہے کیونکہ حقیقی خوشی دل کی ایک کیفیت ہے، ایک عمیق اندرونی کیفیت، ایک روحانی حالت۔ (‏استثنا ۲۸:‏۴۷،‏ امثال ۱۵:‏۱۳،‏ ۱۷:‏۲۲‏)‏ یہ خدا کی روح کے پھلوں میں سے ایک ہے، جسے پولس نے محبت کے بعد تحریر کیا ہے۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲‏)‏ ایک باطنی کیفیت کے طور پر، یہ ظاہری چیزوں پر منحصر نہیں، اور نہ ہی اسکا انحصار ہمارے بھائیوں پر ہے۔ لیکن یہ خدا کی پاک روح پر انحصار کرتی ہے۔ اور یہ اس علم کے گہرے اندرونی اطمینان سے حاصل ہوتی ہے کہ آپ کے پاس سچائی ہے، بادشاہتی امید ہے، اور یہ کہ آپ یہوواہ کو خوش کرنے کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ لہذا، خوشی محض ایک شخصیتی وصف نہیں ہے جس کیساتھ ہم پیدا ہوئے ہیں، یہ ”‏نئی انسانیت“‏ کا ایک حصہ ہے، جو کہ ان تمام خوبیوں کا ایک مجموعہ ہے جس نے یسوع مسیح کو ممتاز کر دیا ۔‏افسیوں ۴:‏۲۴،‏ کلسیوں ۳:‏۱۰‏۔‏

۵.‏ کب اور کیسے خوشی کے ظاہری اظہار کئے جا سکتے ہیں؟‏

۵ اگرچہ خوشی دل کی ایک کیفیت ہے، تاہم یہ بعض اوقات بیرونی طور پر ظاہر کی جا سکتی ہے۔ خوشی کے یہ وقتاًفوقتاً ظاہری اظہارات کیا ہیں؟ یہ چہرے کے پرسکون ہونے سے لے کر خوشی کے لئے کودنے پھاندنے تک کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ (‏۱-‏سلاطین ۱:‏۴۰،‏ لوقا ۱:‏۴۴،‏ اعمال ۳:‏۸،‏ ۶:‏۱۵‏)‏ تو پھر، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ جو باتونی نہیں یا جو ہر وقت مسکراتے نظر نہیں آتے وہ خوش نہیں ہیں؟ نہیں! حقیقی خوشی خود کو متواتر گفتگو، قہقہوں، مسکرانے، یا کھسیانی ہنسی سے ظاہر نہیں کرتی۔ حالات خوشی کو مختلف طریقوں سے خود کو ظاہر کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ صرف خوشی ہی نہیں جو ہمیں کنگڈم ہال میں پسندیدہ بناتی ہے بلکہ، اس کی بجا ئے، یہ ہمارا برادرانہ پیار اور محبت ہے۔‏

۶.‏ ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنے کے باوجود بھی مسیحی کیونکر ہمیشہ خوش رہ سکتے ہیں؟‏

۶ کسی مسیحی کی نئی انسانیت کی دلی خصوصیت کے طور پر خوشی کا مستقل پہلو اسکی باطنی مضبوطی ہے جو ہر وقت خوش ہونے کو ممکن بناتا ہے۔ بیشک ، بعض اوقات شاید ہم کسی وجہ سے پریشان ہوں، یا شاید ہمیں ناخوشگوار حالات کا سامنا ہو۔ لیکن پھر بھی ہم دلی طور پر خوش ہو سکتے ہیں۔ بعض ابتدائی مسیحی غلام تھے، ایسے آقاؤں کے جنہیں خوش کرنا بڑا مشکل تھا۔ کیا ایسے مسیحی ہر وقت خوش رہ سکتے تھے؟ جی‌ہاں، اپنی بادشاہتی امید اور اپنے دلوں کی خوشی کے باعث۔ یوحنا ۱۵:‏۱۱،‏ ۱۶:‏۲۴،‏ ۱۷:‏۱۳‏۔‏

۷.‏ (‏ا)‏مصیبت میں خوش رہنے کی بابت یسوع نے کیا کہا؟ (‏ب)‏ مصیبت میں کیا چیز ہمیں برداشت کرنے میں مدد دیتی ہے؟ اور اس سلسلے میں کس نے اچھا نمونہ قائم کیا؟‏

۷ پولس رسول نے یہ کہنے کے فوراً بعد کہ :‏ ”‏امید میں خوش رہو،“‏ اس نے مزید یہ اضافہ کیا:‏ ”‏مصیبت میں برداشت کرو۔“‏ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۲‏، NW)‏ یسوع نے بھی مصیبت میں خوش ہونیکا ذکر کیا جب اس نے متی ۵:‏ ۱۱، ۱۲ میں کہا:‏ ”‏جب لوگ تم کو لعن‌طعن کریں اور ستائیں تو تم مبارک ہوگے .‏ .‏ .‏ خوشی کرنا اور نہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے۔“‏ یہاں پر خوشی کرنے اور شادمان ہونے کو بلا‌شبہ حقیقی طور پر ظاہری نہیں ہونا تھا، یہ اولین طور پر وہی گہرا اندرونی اطمینان ہے جو کسی بھی شخص کو مصائب تلے مضبوطی سے کھڑے رہنے سے یہوواہ اور یسوع کو خوش کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ (‏اعمال ۵:‏۴۱‏)‏ درحقیقت، یہ خوشی ہی ہے جو ہمیں مشکلات میں برداشت کرنے میں مدد دیتی ہے۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۶‏)‏ اس سلسلے میں، یسوع نے اچھا نمونے قائم کیا۔ صحائف ہمیں بتاتے ہیں:‏ ”‏اس خوشی کیلئے جو اسکی نظروں کے سامنے تھی اس نے سولی کا دکھ سہا۔“‏ عبرانیوں ۱۲:‏۲‏۔‏

مسائل کے باوجود امید میں خوش ر ہنا

۸.‏ مسیحیوں کو کس قسم کے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں، لیکن مسائل ایک مسیحی کی خوشی کو کیوں نہیں چھین لیتے؟‏

۸ یہوواہ کا خادم ہونا کسی کو مسائل سے آزاد نہیں کرتا۔ خاندانی مسائل، معاشی مشکلات، کمزور صحت، یا کسی عزیز کی موت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ایسی چیزیں غم پیدا کر سکتی ہیں، لیکن یہ بادشاہتی امید میں خوش رہنے کی ہماری بنیاد کو چھین نہیں سکتیں، یعنی اس اندرونی خوشی کو جو کہ ہمارے دل میں ہے۔ ۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱۳‏۔‏

۹.‏ ابرہام کو کونسے مسائل درپیش تھے، اور ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ اس کے دل میں خوشی تھی؟‏

۹ مثال کے طور پر، ابرہام پر غور کریں۔ زندگی اس کیلئے ہمیشہ خوشگوار نہ تھی۔ اسکو خاندانی مسائل کا سامنا تھا۔ اسکی لونڈی، ہاجرہ، اور اسکی بیوی سارہ، اکٹھی گذارہ نہیں کر سکتی تھیں۔ معمولی باتوں پر جھگڑا ہوتا تھا۔ (‏پیدایش ۱۶:‏۴، ۵‏)‏ اسمعیل اضحاق کا تمسخر اڑاتا، اور اسے اذیت دیتا تھا۔ (‏پیدایش ۲۱:‏۸، ۹،‏ گلتیوں ۴:‏۲۹‏)‏ آخرکار، ابرہام کی پیاری بیوی سارہ ، مر گئی۔ (‏پیدایش ۲۳:‏۲‏)‏ ان مسائل کے باوجود، وہ بادشاہتی نسل یعنی ابرہام کی نسل کی امید پر خوش تھا، جسکے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائینگی۔ (‏پیدایش ۲۲:‏۱۵-‏۱۸‏)‏ اپنے دل کی خوشی کی بدولت، اپنے آبائی شہر کو چھوڑ دینے کے سو سال بعد بھی وہ یہوواہ کی خدمت میں ثابت قدم رہا۔ اسلئے اسکی بابت یہ تحریر ہے:‏ ”‏وہ اس پائدار شہر کا امیدوار تھا جسکا بنانے والا خدا ہے۔“‏ مسیحائی بادشاہت پر ابرہام کے ایمان کی وجہ سے، خداوند یسوع، خدا کی طرف سے مقرر شدہ بادشاہ بننے کے بعد، یہ کہہ سکتا تھا:‏ ”‏ابرہام میرا دن دیکھنے کی امید پر بہت خوش تھا چنانچہ اس نے دیکھا اور خوش ہوا۔“‏ عبرانیوں ۱۱:‏۱۰،‏ یوحنا ۸:‏۵۶‏۔‏

۱۰، ۱۱.‏ (‏ا)‏بطور مسیحیوں کے ہمیں کونسی کشمکش کا سامنا ہے، اور ہم اس سے کیسے چھڑائے جاتے ہیں؟ (‏ب)‏ کیا چیز اپنی گنہگارانہ کمزوریوں کے خلاف کامل طور پر لڑائی لڑنے کے لئے ہماری نااہلی کی تلافی کر دیتی ہے؟‏

۱۰ ناکامل انسانوں کے طور پر، ہماری بھی گنہگارانہ کمزوریاں ہیں جن کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے، اور جو کچھ درست ہے اسے کرنے کی یہ کوشش بڑی تکلیفدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم، کمزوریوں کے خلاف ہماری لڑائی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری کوئی امید نہیں ہے۔ پولس بھی ایسی لڑائی پر نہایت رنجیدہ تھا، اور اس نے کہا:‏ ”‏اس موت کے بدن سے مجھے کون چھڑائے گا؟ اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے خدا کا شکر کرتا ہوں۔“‏ (‏رومیوں ۷:‏۲۴، ۲۵‏)‏ یسوع مسیح اور جو قربانی اس نے فراہم کی اس کے وسیلہ سے، ہم چھڑائے جاتے ہیں۔ رومیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱‏۔‏

۱۱ مسیح کی فدیہ کی قربانی کامل طور پر لڑائی لڑنے کیلئے ہماری نااہلی کی تلافی کر دیتی ہے۔ ہم اس فدیہ کیلئے خوش ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ پاک ضمیر اور گناہوں کی معافی کو ممکن بناتا ہے۔ عبرانیوں ۹:‏۱۴ میں پولس ”‏مسیح کے خون“‏ کا ذکر کرتا ہے جس میں ”‏ہمارے دلوں کو مردہ کاموں سے پاک“‏ کرنے کی قوت ہے۔ پس، مسیحیوں کے ضمیروں کو مذمت اور احساس‌جرم کے بوجھ سے دبے رہنے کی ضرورت نہیں۔ یہ اس امید کے ساتھ جو ہمارے پاس ہے، مسرورکن خوشی کیلئے مضبوط قوت کو تشکیل دیتا ہے۔ (‏زبور ۱۰۳:‏۸-‏۱۴،‏ رومیوں ۸:‏۱، ۲،‏ ۳۲‏)‏ اپنی امید پر غور کرتے ہوئے، ہم سب کامیابی سے لڑائی لڑنے کیلئے حوصلہ پائیں گے۔‏

اپنی امید کو یاد رکھنا

۱۲.‏ ممسوح مسیحی کس امید پر غور کر سکتے ہیں؟‏

۱۲ یہ روح سے مسح شدہ بقیہ اور دوسری بھیڑوں دونوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنی ”‏نجات کی امید“‏ کو بطور ایک حفاظتی خود کے پہنتے ہوئے، ذہن میں رکھیں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۸‏)‏ ممسوح مسیحی آسمان میں غیرفانی زندگی حاصل کر نے، یہوواہ خدا تک رسائی پا نے، اور جلالی یسوع مسیح اور رسولوں اور ۱۴۴،۰۰۰ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ جنہوں نے صدیوں کے دوران اپنی سالمیت کو برقرار رکھا ہے ذاتی رفاقت سے لطف‌اندوز ہونے کے شاندار شرف پر غور کر سکتے ہیں۔ رفاقت کی کیا ہی ناقابل‌بیان دولت!‏

۱۳.‏ زمین پر باقی ممسوح لوگ ابھی تک اپنی امید کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

۱۳ ابھی تک زمین پر موجود چند ممسوح اپنی بادشاہتی امید کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ اس کا خلاصہ اس شخص کے الفاظ میں کیا جا سکتا ہے جس نے ۱۹۱۳ میں بپتسمہ لیا:‏ ”‏ہماری امید یقینی ہے، اور یہ چھوٹے گلے کے ۱۴۴،۰۰۰ ممبروں میں سے ہر ایک کے حق میں ہمارے تصور کی حد سے بڑھ کر پوری ہوگی اسی حد تک جہاں تک ہم نے خیال کیا ہے۔ بقیہ کے ہم لوگ جو ۱۹۱۴ کے سال میں بالکل تیار تھے، جب ہم سب آسمان پر جانے کی توقع کرتے تھے، اس وقت سے لے کر ہم نے اس امید کی اپنی قدر کے مفہوم کو گنوایا نہیں ہے۔ بلکہ ہم اس کے لئے آج بھی اتنے ہی مضبوط ہیں جتنے اس وقت تھے، اور جتنی زیادہ اس کے برآنے میں تاخیر ہوتی ہے اتنی ہی ہم اس کی مزید قدر کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو انتظار کے لائق ہے، چاہے اس کے لئے لاکھوں سال ہی کیوں نہ لگ جائیں۔ میں اپنی امید کی پہلے سے زیادہ قدر کرتا ہوں اور میں اس کے لئے اپنی قدر کو کبھی نہیں گنوانا چاہتا۔ چھوٹے گلے کی امید دوسری بھیڑوں کی بڑی بھیڑ کی اس توقع کی بھی یقین دہانی کراتی ہے، کہ وہ بھی کسی طرح کی ناکامی کے بغیر ہمارے شاندار تصورات سے بڑھ کر پوری ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس وقت تک اسے مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں، اور ہم اس وقت تک تھامے رہیں گے جبتک خدا درحقیقت ”‏اپنے قیمتی اور نہایت بڑے وعدوں“‏ کے لئے خود کو سچا ثابت نہیں کر دیتا۔“‏ ۲-‏پطرس ۱:‏۴،‏ گنتی ۲۳:‏۱۹،‏ رومیوں ۵:‏۵‏۔‏

فردوسی امید میں اب خوش رہنا

۱۴.‏ بڑی بھیڑ کو کس امید کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے؟‏

۱۴ خوشی بخش ایمان کا ایسا اظہار دوسری بھیڑوں کی بڑی بھیڑ کے اندر خوش ہونے کی شاندار وجوہات کو تحریک دیتا ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۱۵، ۱۶‏)‏ ایسے لوگوں کو ہرمجدون سے بچ نکلنے کی امید کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ جی‌ہاں، ہم یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ خدا کی بادشاہت اس بڑی مصیبت کو لاکر یہوواہ خدا کی عالمگیر حاکمیت کو سچا ثابت کرے اور اسکے جلالی نام کی تقدیس کرے جو زمین کو ان بدکاروں سے پاک کردیگی جن کا خدا شیطان رہا ہے۔ اس بڑی مصیبت سے بچ نکلنا کس قدر خوشی بخش ہوگا! دانی‌ایل ۲:‏۴۴،‏ مکاشفہ ۷:‏۱۴‏۔‏

۱۵.‏ (‏ا)‏جب یسوع زمین پر تھا تو اس نے شفا کے کونسے کام کیے، اور کیوں؟ (‏ب)‏ ہرمجدون سے بچنے والوں کی صحت سے متعلق کونسی ضروریات ہوں گی، اور وہ قیامت پانے والوں سے کیوں مختلف ہیں؟‏

۱۵ بڑی بھیڑ کی بابت، مکاشفہ ۷:‏۱۷ کہتی ہے:‏ ”‏برہ .‏ .‏ .‏ انکی گلہ‌بانی کرے گا اور انہیں آب‌حیات کے چشموں کے پاس لے جائے گا۔ اور خدا انکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔“‏ اگرچہ اس پیشینگوئی کی روحانی تکمیل اب ہو رہی ہے، لیکن ہرمجدون سے بچنے والے اسے حقیقی طور پر تکمیل پاتے دیکھیں گے۔ وہ کیسے؟ جب یسوع زمین پر تھا تو اس نے کیا کیا؟ اس نے معذورں کو تندرست کیا، لنگڑوں کو چلایا، بہروں کے کان کھولے اور اندھوں کی آنکھیں وا کیں، اور اس نے کوڑھ ، فالج، اور ”‏ہر طرح کی بیماری اور کمزوری“‏ سے شفا بخشی۔ (‏متی ۹:‏۳۵،‏ ۱۵:‏۳۰، ۳۱‏)‏ کیا آج بھی مسیحیوں کو اسی کی ضرورت نہیں؟ بڑی بھیڑ اس پرانی دنیا کی معذوریاں اور کمزوریاں ساتھ لئے ہوئے نئی دنیا میں داخل ہوگی۔ اس سلسلے میں ہم برہ سے کیا کرنے کی توقع کرتے ہیں؟ ہرمجدون سے بچنے والوں کی ضروریات قیامت پانے والوں کی ضروریات سے بہت مختلف ہوں گی۔ غالباً قیامت پانے والے مکمل طور پر اچھے تندرست بدنوں کیساتھ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، اگرچہ وہ ابھی تک انسانی کاملیت کو نہیں پہنچے ہوں گے۔ تو بھی یہ بات واضح ہے کہ قیامت کے معجزے کی بدولت، اب انہیں ماضی کی کسی بھی طرح کی معذوریوں سے تندرستی پانے کے لئے شفا کے معجزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس، ہرمجدون سے بچنے کے بینظیر تجربے کی وجہ سے، بڑی بھیڑ میں سے بہتیروں کو معجزانہ تندرستی درکار ہوگی اور انہیں دی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ یسوع کے شفا بخشنے کا خاص مقصد یہی تھا کہ بڑی بھیڑ کی حوصلہ افزائی کے لئے وہ اس خوش‌آئند امکان کا عکس پیش کرے کہ وہ نہ صرف زندہ بچیں گے بلکہ اس کے بعد شفا بھی پائیں گے۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ہرمجدون سے بچنے والوں کی معجزانہ شفا کب واقع ہو سکتی ہے، اور کس نتیجے کے ساتھ ؟ (‏ب)‏ عہدہزارسالہ کے دوران ہم کس امید پر خوش رہنا جاری رکھیں گے؟‏

۱۶ ایسی معجزانہ شفا منطقی طور پر ہرمجدون کے فوراً بعد اور قیامت کے شروع ہونے سے کافی پہلے وقوع‌پزیر ہوگی۔ (‏یسعیاہ ۳۳:‏۲۴،‏ ۳۵:‏۵، ۶،‏ مکاشفہ ۲۱:‏۴‏، مقابلہ کریں مرقس ۵:‏۲۵-‏۲۹‏۔)‏ اسکے بعد لوگ عینکیں، چھڑیاں، بیساکھیاں، ویل‌چیرز، مصنوعی دانت، آلات‌سماعت، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں اتار پھینکیں گے۔ خوش ہونے کی کیا ہی وجہ! ہرمجدون سے بچنے والوں کو بطور نئی زمین کی بنیاد کے بہت شروع میں یسوع کی طرف سے بحال کئے جانے کا یہ عمل کسقدر ہم آہنگ ہے! اپاہج کرنے والے روگ ختم کر دیے جائیں گے تاکہ یہ بچنے والے بڑے شوق سے آگے بڑھ سکیں، تاکہ اپنے آگے پھیلی ہوئی عہدہزارسالہ کی شاندار کارگزاری کو اشتیاق سے دیکھ سکیں، اور پرانے نظام نے انہیں جس بھی طرح سے دکھ دیا تھا اسکی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ جی‌ہاں، ہرمجدون کے بعد بھی، بڑی بھیڑ ہزار سال کے اختتام پر کامل انسانی زندگی حاصل کرنے کی اس شاندار امید سے خوش ہوتی رہیگی پورے ہزار سال کے دوران، وہ اس خوش‌کن منزل تک پہنچنے کی امید میں شادماں رہینگے۔‏

۱۷.‏ جب فردوس کو بحال کرنے کا کام جاری رہے گا تو خوشی کے کونسے مواقع ہوں گے؟‏

۱۷ اگر آپ کی بھی یہی امید ہے، تو زمین پر فردوس کو بحال کرنے کی خوشی میں شریک ہونے پر بھی غور کریں۔ (‏لوقا ۲۳:‏۴۲، ۴۳‏)‏ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرمجدون سے بچنے والے زمین کو صاف کرنے میں مدد دیں گے اور یوں ایسی خوشگوار جگہیں فراہم کریں گے جہاں مردے قیامت پائیں گے۔ قیامت پانے والوں کے لیے جنازوں کے بدلے خوش‌آمدید کے اجتماع منعقد کئے جائیں گے، بشمول ہمارے اپنے ان عزیزوں کے جو ہم سے موت کی وجہ سے جدا ہو گئے ہیں۔ اور ذرا گذشتہ صدیوں کے ایماندار آدمیوں اور عورتوں کے ساتھ بابرکت رفاقت کی بابت بھی خیال کریں۔ آپ بالخصوص کس کے ساتھ گفتگو کرنا چاہیں گے؟ کیا یہ ہابل، حنوک ، نوح، ایوب، ابرہام، سارہ، اضحاق، یعقوب، یوسف، موسیٰ، یشوع، راحب، دبورہ ، سمسون، داؤد، الیشع، ایلیاہ ، یرمیاہ حزقی‌ایل، دانی‌ایل، یا یوحنا اصطباغی ہیں؟ تو پھر یہ خوشگوار امکان بھی آپکی امید کا ایک حصہ ہے۔ آپ ان سے گفتگو کر نے، ان سے سیکھنے، اور پوری زمین کو فردوس بنانے کیلئے ان کیساتھ ملکر کام کرنیکے قابل ہونگے۔‏

۱۸.‏ ہم کونسی مزید خوشیوں کی بابت غوروفکر کر سکتے ہیں؟‏

۱۸ اسکے علاوہ، صحت بخش خوراک ، صاف پانی، اور صاف‌ستھری ہوا کا بھی تصور کریں، جبکہ ہماری زمین بالکل اسی کامل ماحول کے توازن کیساتھ بحال کر دی جائیگی جس کیساتھ یہوواہ نے اسے تخلیق کیا تھا۔ اس وقت زندگی، نہ محض کاملیت کی انفعالی خوشی ہی ہوگی، بلکہ خوشگوار کارگزاریوں میں ایک فعالی اور بامعنی شرکت ہوگی۔ لوگوں کے ایک ایسے عالمی معاشرے پر غور کریں جو جرم، خودغرضی، حسد، فساد سے پاک ہوگا ایک ایسی برادری جن میں خدا کی روح کے پھل کاشت کئے جاتے اور پیدا کئے جاتے ہیں۔ کسقدر ہیجان‌خیز! گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

امید جو زندگی کو بسر کرنے کے لائق بناتی ہے

۱۹.‏ (‏ا)‏جس خوشی کا ذکر رومیوں ۱۲:‏۱۲ میں کیا گیا ہے اس کا تجربہ کب ہوگا؟ (‏ب)‏ ہمیں کیوں یہ ٹھان لینا چاہیے کہ زندگی کی فکریں ہماری امید کو ہم سے الگ نہ کر دیں؟‏

۱۹ جب توقع برآئے تو وہ امید نہیں رہتی، اسلئے جس خوشی کا ذکر پولس نے رومیوں ۱۲:‏۱۲ میں کیا اسکا تجربہ اب کیا جانا چاہیے۔ (‏رومیوں ۸:‏۲۴‏)‏ مستقبل کی ان برکات کی بابت سوچنا جو خدا اپنی بادشاہت کے وسیلہ سے لائیگا اب ہمارے لئے اس امید میں خوش ہونیکی وجہ ہے۔ لہذا اس خراب دنیا میں زندگی کی فکروں کو ہماری شاندار امید کو دبانے نہ دیں۔ ہمت نہ ہاریں اور بیدل نہ ہوں، تاکہ اپنی نظروں کے سامنے امید کو کھو نہ بیٹھیں۔ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۳‏)‏ مسیحی روش کو ترک کر دینے سے آپکے مسائل حل نہیں ہو جائینگے۔ یاد رکھیں، کہ اگر کوئی محض زندگی کی فکروں کی وجہ سے اب خدا کی خدمت کرنا ترک کر دیتا ہے، تو وہ فکریں تو پھر بھی اس کیساتھ ہی رہتی ہیں، لیکن وہ امید کو کھو بیٹھتا ہے اور یوں مستقبل قریب کے شاندار امکانات سے حاصل ہونیوالی ممکنہ خوشی کو کھو بیٹھتا ہے۔‏

۲۰.‏ بادشاہتی امید ان پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے جو اسے قبول کرتے ہیں اور کیوں؟‏

۲۰ یہوواہ کے لوگوں کے پاس خوشگوار زندگیاں گزارنے کی ہر وجہ موجود ہے۔ ان کی روشن، جوش پیدا کرنے والی امید زندگی کو آسانی سے بسر کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اور وہ اس مسرورکن امید کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے۔ نہیں، بلکہ وہ دوسروں کو اس میں شریک کرنے کے لئے بیتاب ہیں۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۲‏)‏ پس یہ ایسے ہے کہ جو بادشاہتی امید کو اپنا لیتے ہیں وہ معتمد لوگ ہیں، اور وہ دوسروں کو بھی خدا کی یہ خوشخبری سنا کر حوصلہ‌افزائی دینے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی زندگیوں کو جو اس شاندار امید کو قبول کرتے ہیں معمور کرتی ہے جو کہ شاید ہی کبھی تمام نوع‌انسان کو دی گئی ہو اس بادشاہت کی امید جو زمین پر فردوس کو بحال کرے گی۔ اگرچہ لوگ اسے قبول نہ کریں، پھر بھی ہم خوش رہنا جاری رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس امید ہے۔ وہ جو اس کی طرف سے کان بند کر لیتے ہیں وہ خسارے میں ہیں، نہ کہ ہم۔ ۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۳، ۴‏۔‏

۲۱.‏ کیا چیز بالکل قریب ہے، اور ہمیں اپنی امید کا اہمیت کا اندازہ کیسے لگانا چاہئے؟‏

۲۱ خدا کا وعدہ ہے:‏ ”‏دیکھو میں سب چیزوں کو نیا بنا رہا ہوں۔“‏ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۵‏)‏ نئی دنیا اپنی تمام‌تر مسرورکن اور دائمی برکات کے ساتھ بالکل قریب ہے۔ ہماری امید خواہ آسمانی ہو یا زمینی فردوس پر رہنے کی وہ بیش‌قیمت ہے، اسے تھامے رہیں۔ ان آخری برے دنوں کے دوران، پہلے کی نسبت زیادہ اسے ”‏جان کا ایسا لنگر جو ثابت اور اور قائم ہے“‏ خیال کریں۔ اپنی امید کو یہوواہ پر ڈالتے ہو ئے، ”‏جو ابدی چٹان ازلی چٹان ہے،“‏ ہمارے پاس یقیناً اب اس ”‏امید میں خوش رہنے“‏ کی قوی اور مسرورکن وجہ ہے جو ہمارے سامنے رکھی ہوئی ہے عبرانیوں ۶:‏۱۹،‏ یسعیاہ ۲۶:‏۴‏، دی ایمپلیفائیڈ بائبل۔ (‏۸ ۱۲/۱۵ w۹۱)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ۱۹۹۲ کے دوران، دنیا بھر میں یہوواہ کے گواہوں کی سالانہ آیت یہ ہوگی:‏ ”‏امید میں خوش رہو۔ .‏ .‏ .‏ دعا کرنے میں مشغول رہو۔“‏ رومیوں ۱۲:‏۱۲‏، NW۔‏

نظرثانی کے لئے سوالات

▫ بنی آدم کی بڑی امید کیا ہے؟‏

▫ حقیقی خوشی کیا ہے؟‏

▫ ہرمجدون سے بچنے والوں کی معجزانہ شفا غالباً کب شروع ہوگی؟‏

▫ ہمیں زندگی کی فکروں کو اپنی امید کو پس‌پشت ڈالنے کی اجازت کیوں نہیں دینی چا ہیے؟‏

▫ نئی دنیا میں آپ کن خوشیوں کو دیکھنے کے متمنی ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

جیسی شفائیں یسوع نے بخشیں ان کی بابت گواہی دینا کیا آپ کے دل کو خوشی سے نہ بھر دے گا؟‏

‏[‏تصویر]‏

وہ جو بادشاہت سے خوش ہیں دوسروں کو اپنی امید میں شریک کرکے ان کو حوصلہ دیتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں