یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏5 ص.‏ 26-‏29
  • ‏”‏آئیں ہم بھی ہر ایک بوجھ کو اتار پھینکیں“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏آئیں ہم بھی ہر ایک بوجھ کو اتار پھینکیں“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • وجہ تلاش کرنا
  • مادی چیزوں کے لئے ایک متوازن نظریہ
  • معقول‌پسندی نہایت اہم ہے
  • خدا کے حضور فروتنی سے چلیں
  • بوجھ اٹھانے میں یہوواہ ہماری مدد کرتا ہے
  • ‏”‏میرا جُوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • تھکے ہوئے پر ماندہ نہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • ‏’‏میرے پاس آئیں، مَیں آپ کو تازہ‌دم کر دوں گا‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • بوجھ سے آرام—‏ایک عملی حل
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏5 ص.‏ 26-‏29

‏”‏آئیں ہم بھی ہر ایک بوجھ کو اتار پھینکیں“‏

‏”‏میں بہت غمگین اور بے‌حوصلہ ہوں،“‏ میری نے یوں اظہارافسوس کیا۔ مسیحی ذمہ‌داریوں کے بوجھ کا حوالہ دیتے ہوئے اس مسیحی عورت نے اضافہ کیا:‏ ”‏میں دوستوں کو جانیں ہلکان کرتے ہوئے دیکھتی ہوں۔ میں خود بھی تھکن اور دباؤ محسوس کرتی ہوں۔ مہربانی سے اس کی وجہ سمجھنے کے لئے میری مدد کریں۔“‏

کیا آپ بھی محسوس کرتے ہیں کہ آپ دباؤ تلے ہیں، اور اپنی تھیوکریٹک ذمہ‌داریوں کو صحیح طور پر پورا کرنے کے لئے بہت تھک چکے ہیں؟ کیا بعض اوقات ایسے لگتا ہے کہ مسیحی خدمتگزاری ایک بھاری بوجھ ، ایک ناقابل‌برداشت وزن ہے؟ بہت سے وفادار مسیحی حوصلہ‌شکنی کے اوقات سے گزرتے ہیں، اسلئے کہ ہم مسلسل منفی قوتوں کے نرغے میں رہتے ہیں جو ہماری خوشی کو کم کر سکتی ہیں۔ آجکل ایک حقیقی مسیحی ہونا واقعی ایک چیلنج ہے۔ لہذا، بسااوقات بعض شاید محسوس کریں کہ مسیحی خدمتگزاری ایک بھاری بوجھ ہے۔‏

وجہ تلاش کرنا

صحائف یہ واضح کرتے ہیں کہ یہوواہ نے ہم سے غیرمعقول مطالبے نہیں کئے۔ یوحنا رسول نے کہا کہ خدا کے ”‏حکم سخت نہیں۔“‏ ‏(‏۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏)‏ اسی طرح سے یسوع نے اپنے پیروکاروں سے کہا تھا:‏ ”‏میرا جؤا اپنے اوپر اٹھالو اور مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔ کیونکہ میرا جؤا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔“‏ (‏متی ۱۱:‏۲۹، ۳۰‏)‏ واضح طور پر یہ یہوواہ کی مرضی نہیں کہ ہم اسکے لئے اپنی خدمت کی بابت بہت زیادہ بوجھ تلے دبے یا لدے ہوئے محسوس کریں۔‏

تو پھر کیونکر ایک وفادار مسیحی اپنی مسیحی ذمہ‌داریوں کو ایک بھاری بوجھ کے طور پر خیال کرنے لگتا ہے؟ غالباً، اس میں کئی عوامل شامل ہیں۔ پولس رسول کے ان الفاظ پر غور کریں:‏ ”‏آئیں ہم بھی ہر ایک بوجھ کو اتار پھینکیں .‏ .‏ .‏ ، اور اس دوڑ میں برداشت کے ساتھ دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۱‏، NW)‏ پولس کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ بعض اوقات ایک مسیحی شاید خود پر غیرضروری بوجھ ڈال لیتا ہے۔ ضروری طور پر اس میں سنگین گناہ شامل نہیں ہو تے۔ لیکن ایک مسیحی فیصلے کرنے میں ایسی غلطیاں کر سکتا ہے جو اسکی زندگی کو شدید طور پر پیچیدہ بنا دیتی ہیں جسکی وجہ سے اس کیلئے اس دوڑ میں دوڑنا نہایت مشکل بن جاتا ہے جو ہمیں درپیش ہے۔‏

مادی چیزوں کے لئے ایک متوازن نظریہ

مثال کے طور پر، دنیاوی ملازمت کے معاملے ہی کو لے لیں۔ بہت سارے ممالک میں، معاشی حالتوں کی وجہ سے ممکن ہے ایک مسیحی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا کہ وہ دیر تک کام کرے۔ اگرچہ لوگ اکثر صرف دوسروں سے آگے نکل جانے یا عیشں کا سامان جمع کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ اپنی حقیقی ضروریات کا پھر سے اندازہ لگانے سے، بعض مسیحیوں نے اپنی ملازمت کی حالت میں ردوبدل کرنے کو دانشمند پایا ہے۔ ڈیبی اور اسکے خاوند کے ساتھ یہی معاملہ تھا، جو کہ دونوں یہوواہ کے گواہ ہیں۔ وہ کہتی ہے:‏ ”‏ہماری مالی حالت بدل چکی تھی، اور اب میرے لئے کوئی خاص ضرورت نہ تھی کہ کل وقتی ملازمت کو جاری رکھوں۔ لیکن اسے چھوڑنا مشکل تھا۔“‏ جلد ہی اس نے بہت زیادہ کام کرنے کا بوجھ محسوس کرنا شروع کر دیا۔ وہ وضاحت کرتی ہے:‏ ”‏گھر کا کام‌کاج کرنے کے لئے میرے پاس صرف ہفتے کا دن فارغ تھا۔ اکثر میں میدانی خدمت میں باہر جانا پسند نہیں کرتی تھی۔ مجھے اسکے لئے افسوس ہوا، اور میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑا، لیکن مجھے اپنی ملازمت بھی بڑی عزیز تھی! آخرکار، مجھے حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔ صرف ایک ہی حل تھا۔ میں نے ملازمت چھوڑ دی۔“‏ مسلمہ طور پر، ایسی بڑی تبدیلی بعض کے لئے شاید ممکن نہ ہو۔ تاہم، اپنے کام کے جدول کا ایک محتاط جائزہ بعض تبدیلیوں کی ضرورت کو آشکارہ کر سکتا ہے۔‏

غیرضروری بوجھ سے خود کو رہائی دلانے کے دوسرے طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔ اپنے تفریحی سفر، کھیلوں کی سرگرمیوں، یا تفریح‌وطبع کی تعداد بشمول ٹیلیویژن دیکھنے پر صرف ہونے والے وقت میں کمی کی بابت کیا ہے؟ اور ان حلقوں میں مطلوبہ توازن حاصل کر لینے کے بعد بھی، ایسے توازن کو قائم رکھنے کیلئے ہمیشہ تبدیلیوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔‏

معقول‌پسندی نہایت اہم ہے

ایسے معاملات میں معقول‌پسندی ہمیں نئے حالات کے پیدا ہونے کی صورت میں ان کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد دے گی۔ یوں ہم اپنی خدمتگزاری کی بابت ایک مثبت نظریہ قائم رکھ سکتے ہیں۔ افسیوں ۵:‏۱۵-‏۱۷،‏ فلپیوں ۴:‏۵‏۔‏

کیا آپ خدا کی خدمت میں دوسروں کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش میں خود کو دباؤ تلے محسوس کرتے ہیں؟ یہ بھی آپکی زندگی میں فکر اور مایوسی کا اضافہ کر سکتا ہے۔ اگرچہ دوسروں کا اچھا نمونہ زیادہ کام کرنے کے لئے یقینی طور پر آپکی حوصلہ‌افزائی کر سکتا ہے، لیکن معقول‌پسندی آپکی اپنی لیاقتوں اور حالات کی مطابقت میں حقیقت‌پسندانہ منازل قائم کرنے میں آپکی مدد کریگی۔ صحائف ہمیں بتاتے ہیں:‏ ”‏پس ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے اس صورت میں اسے اپنی ہی بابت فخر کرنے کا موقع ہو گا نہ کہ دوسرے کی بابت۔ کیونکہ ہر شخص اپنا ہی بوجھ اٹھائیگا۔“‏ گلتیوں ۶:‏۴، ۵‏۔‏

مقامی رسومات اور روایات بھی ہمارے بوجھ میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ یسوع کے دنوں میں، لوگ انسان کے قائم‌کردہ بہت سے مذہبی قوانین اور روایات کی پیروی کرنے کی کوشش کرنے سے تھک چکے تھے۔ آجکل، یہوواہ کے لوگ جھوٹی مذہبی روایات سے آزاد ہو چکے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں یوحنا ۸:‏۳۲‏۔)‏ پھر بھی، ایک مسیحی خود کو غیرواجب طور پر مقامی رسوم میں الجھا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، شادی‌بیاہ کے مواقع کافی جوش‌وخروش والی رسومات کے نرغے میں ہوتے ہیں۔ یہ رسومات شاید غلط نہ بھی ہوں، اور وہ انوکھی اور دلچسپ بھی ہو سکتی ہیں۔ تاہم، مسیحیوں کے پاس ایسی تمام چیزوں پر عمل‌پیرا ہونے کیلئے شاید وقت یا مالی ذرائع نہ ہوں، اور ایسا کرنے کی کوشش کرنا دوسرے غیرضروری بوجھ میں اضافہ کر سکتا ہے۔‏

غور کریں اس وقت کیا واقع ہوا جب یسوع مرتھا نام کی ایک عورت کے گھر اترا۔ اسکی الہیٰ حکمت سے پورا فائدہ اٹھانے کی بجائے، ”‏مرتھا خدمت کرتے کرتے گھبرا گئی۔“‏ وہ کام کی زیادتی کے بوجھ تلے تھی۔ (‏لوقا ۱۰:‏۴۰‏)‏ لیکن یسوع نے مہربانی کے ساتھ تجویز پیش کی کہ وہ اپنے کھانے کی ترکیبوں میں تسہیل پیدا کر سکتی ہے تاکہ اسکی تعلیم سے فائدہ اٹھا ئے۔ (‏لوقا ۱۰:‏۴۱، ۴۲‏)‏ یہ خوب واضح کرتا ہے کہ اچھی بصیرت اور معقول‌پسندی اپنی مسیحی خدمتگزاری میں ایک صحیح توازن حاصل کرنے میں آپکی مدد کرے گی۔ یعقوب ۳:‏۱۷‏۔‏

اپنے ساتھیوں کا انتخاب کرتے وقت بھی اچھی بصیرت درکار ہے۔ امثال ۲۷:‏۳ آ گاہ کرتی ہے:‏ ”‏پتھر بھاری ہے اور ریت وزندار ہے لیکن احمق کا جھنجھلانا ان دونوں سے گراں‌تر ہے۔“‏ یکساں طور پر، آپکے نزدیکی ساتھی آپ کے اندازفکر پر ایک گہرا اثر کریں گے۔ جو کلیسیا میں دوسروں پر نکتہ‌چینی کرتے اور نقص تلاش کرنے میں جلدی کرتے ہیں ان کے ساتھ رفاقت رکھنا آپ میں منفی اندازفکر اور حوصلہ‌شکنی کے بیج بو سکتا ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳‏)‏ اگر آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ایک مسئلہ ہے، تو جو صحبت آپ رکھتے ہیں اس میں بعض تبدیلیاں آپکے بوجھ کو ہلکا کر سکتی ہیں۔‏

خدا کے حضور فروتنی سے چلیں

میکاہ ۶:‏۸ میں ہم سوچ کو ابھارنے والا یہ سوال پاتے ہیں:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ تجھ سے اسکے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو .‏ .‏ .‏ اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟“‏ فروتنی کی تعریف کسی کا اپنی حدود سے باخبر ہونے کے طور پر کی گئی ہے۔ جو اپنی حدود کو نہیں پہچانتے وہ بہت ساری ذمہ‌داریوں کے بوجھ تلے خود کو کچل سکتے ہیں۔ یہ پختہ مسیحیوں، حتی‌کہ نگہبانوں کے ساتھ بھی واقع ہوا ہے، جو حوصلہ‌شکنی، مایوسی، اور خوش چھن جانے پر منتج ہوتا ہے۔ کینتھ ، جو ایک مسیحی بزرگ ہے، اس نے تسلیم کیا ہے:‏ ”‏میں نے خود کو افسردگی کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا، اور میں نے کہا، ”‏میں اپنے ساتھ یہ واقع نہیں ہونے دوں گا۔“‏ لہذا میں نے اپنی کچھ ذمہ‌داریوں میں کمی کی اور جو کچھ میں کر سکتا تھا اس پر پوری توجہ مرکوز کر دی۔“‏

اپنی حدود کو پہچاننے میں تو فروتن نبی موسیٰ کو بھی مشکل تھی۔ اسلئے اسکے خسر، یترو نے بہت زیادہ کام کے سلسلے میں جسے موسیٰ خود ہی نپٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اسکی سمجھ کو بہتر بنایا۔ ”‏یہ کیا کام ہے جو تو لوگوں کے لئے کرتا ہے؟“‏ یترو نے سوال کیا۔ ”‏تو [‏اچھے طریقے سے ]‏ کام نہیں کرتا۔ اس سے تو قطعی گھل جائیگا .‏ .‏ .‏ کیونکہ یہ کام تیرے لئے بہت بھاری ہے۔ تو اکیلا اسے نہیں کر سکتا۔ .‏ .‏ .‏ تو ان لوگوں میں سے ایسے لائق اشخاص چن لے .‏ .‏ .‏ اور ایسا ہو کہ بڑے بڑے مقدمے تو وہ تیرے پاس لائیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ خود ہی کر دیا کریں۔ یوں تیرا بوجھ ہلکا ہو جائیگا اور وہ بھی اسکے اٹھانے میں تیرے شریک ہونگے۔“‏ موسیٰ نے فوری طور پر دوسروں کو کام تفویض کرنا شروع کر دیا، اور یوں اس کام سے رہائی حاصل کی جو اس کے لئے ناقابل‌برداشت بوجھ بن رہا تھا۔ خروج ۱۸:‏۱۳-‏۲۶۔‏

ایک اور موقع پر موسیٰ نے یہوواہ سے کہا:‏ ”‏میں اکیلا ان سب لوگوں کو نہیں سنبھال سکتا کیونکہ یہ میری طاقت سے باہر ہے۔“‏ جواب پھر دوسروں کو کام تفویض کر دینے کے لئے تھا۔ اگر آپ بہت زیادہ ذمہ‌داریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے محسوس کرتے ہیں تو آپکی مشکل کا حل بھی یہی ہو سکتا ہے۔ گنتی ۱۱:‏۱۴-‏۱۷۔‏

بوجھ اٹھانے میں یہوواہ ہماری مدد کرتا ہے

یسوع نے کہا تھا کہ اسکا جؤا ملائم تھا اور اسکا بوجھ ہلکا، لیکن بے‌وزن نہیں۔ یسوع نے جس جوئے کو اپنے اوپر اٹھانے کے لئے ہمیں دعوت دی ہے وہ آرام‌طلبی کا جؤا نہیں ہے۔ یہ یسوع مسیح کے شاگردوں کے طور پر خدا کے لئے مکمل مخصوصیت کا جؤا ہے۔ اسلئے، ایک حقیقی مسیحی ہونے کے ساتھ کسی حد تک بوجھ یا دباؤ آ جاتا ہے۔ (‏متی ۱۶:‏۲۴-‏۲۶،‏ ۱۹:‏۱۶-‏۲۹،‏ لوقا ۱۳:‏۲۴‏)‏ جب دنیا کی حالتیں خراب‌تر ہوتی ہیں، تو دباؤ بڑھیں گے۔ تاہم، ہمارے پاس اپنے نکتہءنظر میں مثبت بننے کی وجہ ہے کیونکہ یسوع کی دعوت دلالت کرتی ہے کہ دوسرے اسکے ساتھ اس کے جوئے تلے آ سکتے ہیں اور یہ کہ وہ انکی مدد کریگا۔‏a پس جب تک ہم مسیح کی ہدایت پر چلتے ہیں، ہمارا بوجھ آسانی سے سنبھالنے کے قابل رہے گا کیونکہ وہ ہماری مدد کریگا۔‏

خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اس سے محبت رکھتے ہیں، اور وہ ان سب کے دلوں اور خیالوں کو محفوظ رکھتا ہے جو دعا کے ساتھ اپنا بوجھ اس پر ڈال دیتے ہیں۔ (‏زبو ۵۵:‏۲۲،‏ فلپیوں ۴:‏۶، ۷،‏ ۱-‏پطرس ۵:‏۶، ۷‏)‏ زبورنویس نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ مبارک ہو جو ہر روز ہمارا بوجھ اٹھاتا ہے وہی ہمارا نجات دینے والا خدا ہے۔“‏ (‏زبور ۶۸:‏۱۹‏)‏ جی‌ہاں، یقین رکھیں کہ اگر آپ ہر ایک بوجھ کو اتار پھینکیں اور اس دوڑ میں برداشت کے ساتھ دوڑیں جو آپ کو درپیش ہے تو خدا ہر روز آپ کا بوجھ بھی اٹھائیگا۔ (‏۲۱ ۱۰/۱۵ w۹۱)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a فٹ‌نوٹ کی عبارت یہ ہے:‏ ”‏میرے ساتھ میرے جوئے کو اٹھاؤ۔“‏

‏[‏تصویر]‏

دانشمند بزرگ بعض کاموں کو تفویض کرنے اور بوجھ کو بانٹنے کیلئے رضامند ہوتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں