”جابجا وبائیں“
وباؤں کا بےنظیر تناسب ”[یسوع مسیح] کی موجودگی اور اس دستورالعمل کے خاتمے کے نشان“ کا پہلے سے بیانکردہ پہلو ہے۔ (متی ۲۴:۳، NW) انجیلنویس لوقا اس تفصیل میں اضافہ کرتا ہے جسکا ذکر مرقس اور متی کی تحریروں میں نہیں کیا گیا۔ (متی، ۲۴ اور ۲۵ ابواب، مرقس، ۱۳ باب) آخری دنوں میں، ”جا بجا“ مہلک بیماریوں اور وباؤں کا پھوٹ نکلنا واقع ہو گا۔ (لوقا ۱:۳، ۲۱:۱۱) یہ بیماریاں کہاں سے آ سکتی ہیں؟
”سائنسدان گرم مرطوب علاقوں میں چھپے ہوئے کئی وائرسوں سے واقف ہیں جو کارخانہءقدرت کی معمولی سی مدد سے اس سے کہیں زیادہ زندگی کی تباہی کر سکتے ہیں جو کہ شاید ہی ایڈز کے ذریعے واقع ہو گی۔“ سائنس نیوز جرنل بیان کرتا ہے۔ ”اگر دنیا کی وائرس سے متعلق فہرست جوں کی توں بھی رہتی ہے، تو بھی محققین کہتے ہیں کہ گرممرطوب علاقے زمین کی آبادی کے وسیع قطعوں کا صفایا کرنے کے لئے پہلے ہی سے کافی ”آتشیں قوت“ اپنے پاس موجود رکھتے ہیں۔“
جو کچھ ہمارے زمانے کو اضافیطور پر غیرمحفوظ بناتا ہے وہ زمین کی شہری آبادی اور گنجانآباد دنیا کی بہت زیادہ ضرورتیں ہیں۔ ”تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ جب انسان غیرمعروف خطوں میں آتے ہیں تو اکثر زندگی کے لئے خطرہ پیدا کرنے والی وائرل (وائرس کے متعلق) وبائیں ان کے پیچھے پیچھے آ کر پھوٹ نکلتی ہیں یا جب شہری زندگی کی حالتوں کا معیار کچھ لحاظ سے گر جاتا ہے تو وہ نئے وائرل میزبانوں کو دعوت دیتا ہے،“ سائنس نیوز کہتا ہے۔ جب انسان متعدی وائرس کے علاقوں میں چلے جاتے ہیں جن میں پہلے جانا ناممکن تھا، تو اکثر نئی وائرل وبائیں ان کا تعاقب کرتی ہیں۔ اس وقت بھی یہی کچھ واقع ہوتا ہے جب عالمی موسمی حالتیں تبدیل ہونے پر کیڑےمکوڑے اپنی حدود کو وسیع کر لیتے ہیں۔ ”مزیدبرآں“، رسالہ کہتا ہے، ”جدید میڈیکل ٹیکنالوجیز جیسے کہ ٹرانسفیوژن (انتقال خون) اور ٹرانسپلانٹیشن (اعضاؤں کی منتقلی) نے انسانی میز بانوں کے مابین وائرسوں کی نقلوحمل کے نئے ذرائع فراہم کئے ہیں۔ یوں مختلف طرح کی معاشرتی اور طورطریقوں کی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں، جن کا اثر دنیا بھر میں گھومنے پھرنے والے دولتمندوں اور مشہور لوگوں کے درمیان اور منشیات کے عادیوں میں مشترکہ ٹیکے کی سوئیاں استعمال کرنے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔“
مضمون اضافہ کرتا ہے، ”حالیہ تاریخ الگ تھلگ علاقوں میں وائرل جھڑ پوں کی واضح مثالیں پیش کرتی ہے جو مستقبل میں زیادہ بڑی وباؤں کے پھوٹ پڑنے کی جھلک دے سکتی ہیں۔“ اسکی مثالیں یہ ہیں: پہلے نامعلوم ماربرگ وائرس، گرم مرطوب علاقوں کا ایک وائرس جس نے ۱۹۶۰ کے عشرے کے آخر میں ویسٹ جرمنی میں درجنوں سائنسدانوں کو مارا، وائرس جو رفٹ ویلی فیور کا سبب بنا، اس نے ۱۹۷۷ میں مصر میں لاکھوں لوگوں کو بیمار کیا اور ہزاروں کی جان لے لی، گرم مرطوب علاقوں کا ایبولا وائرس جس نے ۱۹۷۶ میں زائیر اور سوڈان میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کو بیمار کر دیا اور کوئی ۵۰۰ کو مار ڈالا، جن میں سے زیادہ تر ڈاکٹر اور نرسیں تھیں جو اس وائرس کے شکار مریضوں کا علاج کر رہے تھے۔
تباہکن وائرل حملوں کی بابت شاذونادر ہی پہلے سے بتایا جا سکتا ہے۔ سائنس نیوز کہتا ہے، ”مثال کے طور پر، ۱۹۱۸ میں، خاص طور پر مہلک اثر پیدا کرنے والا انسانی انفلوئنزا تمام دنیا میں پھیل گیا، اور اندازاً ۲۰ ملین لوگوں کو ہلاک کر ڈالا۔ حال ہی میں، انسانوں میں ایک ایسے وائرس کے ظہور نے دنیا کو بےخبری میں گھیرے میں لے لیا ہے، جو کبھی غالباً صرف افریقی بندروں میں پایا جاتا تھا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اندازوں کے مطابق، ایڈز کے وائرس نے ۱۴۹ ملکوں میں اب ۵ ملین سے ۱۰ ملین لوگوں کو مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔ بہت سے وائرولوجسٹ فکرمند ہیں کہ اس نہایت ہی حالیہ وبا نے جتنی بھی توجہ حاصل کی ہے اس تمام کے باوجود، اور زیادہ خوفزدہ کرنے والی چیزیں بھی ہماری منتظر ہیں۔“
وبائیں جس قدر بھی تکلیفدہ ہیں، وہ جنگوں، کالوں، اور بڑے بڑے زلزلوں جیسے پہلوؤں کے ساتھ ، بادشاہتی جلال میں یسوع کی موجودگی کے مرکب نشان کا حصہ ہیں۔ (مرقس ۱۳:۸، لوقا ۲۱:۱۰، ۱۱) یہ پہلو خوش ہونے کے لئے ایک وجہ بھی ہیں، کیونکہ لوقا یسوع کے ان الفاظ کا مزید اضافہ کرتا ہے: ”اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اوپر اٹھانا اسلئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہو گی۔“ لوقا ۲۱:۲۸۔ (۷ ۱۱/۱۵ w۹۱)