یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏2 ص.‏ 5-‏7
  • کیا آپ کے مستقبل کا تعین تقدیر سے ہوتا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ کے مستقبل کا تعین تقدیر سے ہوتا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مستقبل کے لیے خدا کے مقاصد
  • اپنے ذاتی مستقبل کو محفوظ بنانا
  • زندگی کا انتخاب کرنا
  • ہر چیز کا ایک وقت ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • کیا بائبل تقدیر پر یقین کی تعلیم دیتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • حادثات تقدیر یا حالات؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • کیا ہماری موت کا وقت پہلے سے طے ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏2 ص.‏ 5-‏7

کیا آپ کے مستقبل کا تعین تقدیر سے ہوتا ہے؟‏

اگر آپ ایک مہلک حادثے سے بچ جاتے تو کیا آپ یہ محسوس کرتے کہ آپ کی تقدیر نے آپ کا ساتھ دیا ہے؟ یا کیا آپ شکرگزار ہوں گے کہ آپ مناسب وقت پر مناسب جگہ پر تھے؟‏

دانشمند آدمی سلیمان نے کہا:‏ ”‏پھر میں نے توجہ کی اور دیکھا کہ دنیا میں نہ تو دوڑ میں تیزرفتار کو سبقت حاصل ہے نہ جنگ میں زورآور کو فتح اور نہ روٹی دانشمند کو ملتی ہے نہ دولت عقلمندوں کو اور نہ عزت اہل‌خرد کو بلکہ ان سب کے لیے وقت اور حادثہ ہے۔“‏ (‏واعظ ۹:‏۱۱‏)‏ غیرمتوقع واقعات کیسے اکثر رونما ہوتے ہیں! ایک ممتاز کھلاڑی زخمی ہو جاتا ہے، اور اس کا حریف جیت جاتا ہے۔ ایک عجیب‌وغریب حادثہ ایک ایماندار بزنس مین کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیتا ہے، اور یوں اس کا مشتبہ مدمقابل امیر ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا سلیمان نے ان خلاف‌قیاس واقعات کو بدنصیبی پر محمول کیا؟ ہرگز نہیں۔ یہ تمام باتیں محض ”‏وقت اور حاد ثے“‏ کے اثرات ہیں۔‏

یسوع مسیح نے بھی اسی طرح کا مشاہدہ کیا۔ ایک ایسے واقع کا حوالہ دیتے ہوئے جو اس کے سامعین کے لیے عام فہم تھا، یسوع نے پوچھا:‏ ”‏کیا وہ اٹھارہ آدمی جن پر شیلوخ کا برج گرا، اور دب کر مر گئے، تمہاری دانست میں یروشلیم کے اور سب رہنے والوں سے زیادہ قصوروار تھے؟“‏ (‏لوقا ۱۳:‏۴‏)‏ یسوع نے ان حادثات کے لیے کسی پراسرار تقدیر کو یا خدا کی مرضی کو موردالزام نہیں ٹھہرایا، اور نہ ہی وہ یہ یقین رکھتا تھا کہ حادثوں کا شکار ہونے والے کسی نہ کسی طرح دوسروں سے زیادہ موردالزام تھے۔ المناک حادثہ کارفرما وقت اور حادثے کی محض ایک اور مثال تھا۔‏

بائبل کہیں بھی اس نظریہ کی تائید نہیں کرتی کہ خدا نے ہماری موت کا وقت پہلے سے طے کر دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ واعظ ۳:‏۱، ۲ کہتی ہے:‏ ”‏ہر چیز کا ایک موقع اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے:‏ پیدا ہونے کا ایک وقت ہے اور مر جانے کا ایک وقت ہے۔ درخت لگانے کا ایک وقت ہے اور لگائے ہوئے کو اکھاڑنے کا ایک وقت ہے۔“‏ تاہم سلیمان محض زندگی اور موت کے تسلسل پر گفتگو کر رہا تھا جو ناکامل بنی‌آدم کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ ہم پیدا ہوتے ہیں، اور جب وقت آنے پر، نارمل زندگی کا سلسلہ عموماً ۷۰ یا ۸۰ سال یا اس کے لگ بھگ پہنچتا ہے تو ہم مر جاتے ہیں۔ تو بھی، موت کے حتمی وقت کا تعین کرنے میں خدا اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتا جیسے کہ ایک کسان لگائے ہوئے پودے کو ”‏بو نے“‏ اور ”‏اکھاڑ نے“‏ کی بابت فیصلہ کرنے کے لیے کرتا ہے۔‏

درحقیقت، بعد میں سلیمان نے یہ ظاہر کیا کہ کوئی شخص قبل‌ازوقت بھی مر سکتا ہے، اس نے کہا:‏ ”‏حد سے زیادہ بدکردار نہ ہو ‎“اور احمق نہ بن۔ تو اپنے وقت سے پہلے کاہے کو مرے گا؟“‏ (‏واعظ ۷:‏۱۷‏)‏ اس نصیحت کا کیا فائدہ اگر ایک شخص کی زندگی کی مدت کا تعین لاتبدیل طور پر پہلے ہی کیا جا چکا تھا؟ اس لیے بائبل تقدیر کے نظریے کو رد کرتی ہے۔ برگشتہ اسرائیل جنہوں نے اس غیرقوم نظریے کو اپنایا خدا کی طرف سے ان کو سخت مذمت کی گئی تھی۔ یسعیاہ ۶۵:‏۱۱ کہتی ہے:‏ ”‏لیکن تم جو [‏یہوواہ]‏ کو ترک کرتے اور اس کے کوہ‌مقدس کو فراموش کرتے اور مشتری کے لیے دسترخوان چنتے اور زہرہ کے لیے شراب ممزوج کا جام پر کرتے ہو۔“‏

تو پھر، یہ کتنی بڑی حماقت ہے، کہ حادثات اور دوسری بدبختیوں کو تقدیر، یا اس سے بھی بڑھ کر، خود خدا سے منسوب کیا جائے! بائبل کہتی ہے، ”‏خدا محبت ہے،“‏ اور اس پر یہ الزام لگانا کہ وہ بنی‌آدم کی تمام تکالیف کا ذمہ‌دار ہے اس بنیادی سچائی کی براہراست تردید کرتا ہے۔ ۱-‏یوحنا ۴:‏۸‏۔‏

مستقبل کے لیے خدا کے مقاصد

تاہم، نجات کے لیے ہمارے امکانات کی بابت کیا ہے؟ کیا یہ حقیقت کہ کوئی ناگزیر تقدیر ہماری زندگی کو کنٹرول نہیں کرتی یہ معنی رکھتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو بے‌مقصد گزار دینا چاہیے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ خدا نے بالعموم تمام نوع‌انسان کے مستقبل کا تعین کیا ہے۔ بائبل ”‏نئی زمین“‏ کا ذکر کرتی ہے جس میں ”‏راستبازی بسی رہے گی۔“‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

ایسا کرنے کے لیے، خدا براہراست انسانی معاملات میں مداخلت کرے گا۔ انجانے میں، شاید آپ نے اس دعا کو دہراتے ہوئے اس کے لیے دعا بھی کی ہو جو کہتی ہے:‏ ”‏تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“‏ (‏متی ۶:‏۱۰‏)‏ یہ بادشاہت ایک حقیقی حکومت ہے جو کہ آسمانوں میں قائم ہو چکی ہے۔ اس کے آنے کی بابت دعا کرنے سے، آپ یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ بادشاہت زمین پر کی موجودہ تمام حکومتوں کا اختیار سنبھال۔ دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏۔‏

اپنے ذاتی مستقبل کو محفوظ بنانا

یہ ڈرامائی واقعات آپ کے مستقبل کو جس طرح متاثر کریں گے، اس کا انحصار تقدیر یا وقت یا حادثے پر نہیں، بلکہ اس روش پر ہے جس کا انتخاب آپ کرتے ہیں۔ شیلوخ کے برج کے اس المیہ کو یاد کریں۔ یسوع نے ایک گہرا سبق سکھانے کے لیے اس افسوسناک واقع کا حوالہ دیا۔ اس برج کے گرنے سے متاثر ہونے والے اس حادثے سے خود کو بچانے سے قاصر تھے۔ اس کے برعکس، یسوع کے سامعین اس تباہی سے بچ سکتے تھے جو الہی ناراضگی کی وجہ سے آنے والی تھی۔ یسوع نے انہیں آگاہ کیا:‏ ”‏اگر تم توبہ نہ کروگے تو سب اسی طرح ہلاک ہوگے۔“‏ (‏لوقا ۱۳:‏۴، ۵‏)‏ واضح طور پر، وہ اپنے مستقبل کا انتخاب خود کر سکتے تھے۔‏

آج کل ہمیں بھی ویسا ہی موقع دیا جاتا ہے اپنی نجات کا سامان کرنے کے لیے (‏فلپیوں ۲:‏۱۲‏)‏ خدا یہ چاہتا ہے کہ ”‏سب آدمی .‏ .‏ .‏ سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۴‏)‏ اور اگرچہ ہم میں سے ہر ایک کسی حد تک وارثت اور پس‌منظر سے متاثر ہوتا ہے، خدا نے ہمیں آزاد مرضی جس طرح ہم اپنی زندگی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ (‏متی ۷:‏۱۳، ۱۴‏)‏ ہم جو اچھا ہو یا جو برا ہو اسے کر سکتے ہیں۔ ہم یہوواہ خدا کی نظر میں مقبول مقام حاصل کر کے ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکتے ہیں، یا ہم اس کی مخالفت کرکے مر سکتے ہیں۔‏

بہتیرے خدا سے آزاد ہو کر زندگی گزارنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ مادی اشیاء، عیش‌وعشرت یا شہرت کے حصول کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔ لیکن یسوع نے آ گاہ کیا:‏ ”‏خبردار! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھو کیونکہ کسی کی زندگی اس کے مال کی کثرت پر موقوف نہیں۔“‏ (‏لوقا ۱۲:‏۱۵‏)‏ تو پھر، ہماری زندگیوں کا انحصار، کس چیز پر ہے؟ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷‏، میں بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏نہ دنیا سے محبت رکھو نہ ان چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔ دنیا اور اس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“‏

زندگی کا انتخاب کرنا

آپ کیسے اس کا یقین کر سکتے ہیں کہ آپ درحقیقت خدا کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں؟ یسوع نے واضح کیا:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدای واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ بائبل سے صحیح علم ایمان کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ”‏بغیر ایمان کے اس کو پسند آنا ناممکن ہے اس لیے کہ خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہیے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۶‏)‏ وہ علم جسے حاصل کرنے کی آپ کو ضرورت ہے وہ آسانی سے دستیاب ہے۔ یہوواہ کے گواہوں نے بائبل کے مطالعہ کے ذریعے اسے حاصل کرنے کے لیے لاکھوں کی مدد کی ہے۔‏a

خدا کو پسند آنے کے لیے، آپ کو کچھ تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔ شاید بعض ایسی بری عادتیں ہوں جن پر قابو پانا ضروری ہو یا شاید بعض بداخلاقی کے ایسے کام ہوں جن کو ختم کرنا لازمی ہے۔ ہمت نہ ہاریں، گویا کہ آپ کے لیے بدلنا ناممکن ہے۔ یہ نظریہ کہ عادات کو بدلا نہیں جا سکتا تقدیر پر ایمان کے جھوٹے عقیدے سے حاصل ہونے والا ایک اور خیال ہے۔ یہوواہ کی مدد کے ساتھ، ہر ایک کے لیے ”‏اپنی عقل کو نیا بنانا“‏ اور ”‏نئی انسانیت“‏ کو حاصل کرنا ممکن ہے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۲،‏ افسیوں ۴:‏۲۲-‏۲۴‏)‏ خدا کو خوش کرنے کے لیے آپ کی کوششیں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وہ ان سب کی مدد کرنے کے لیے تیار رہتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتے ہیں۔‏

مسلمہ طور پر، بائبل کا سیکھ لینا ہی آپ کے تمام مسائل حل نہیں کر دے گا۔ خدا کے حقیقی خادم بھی دوسرے لوگوں کی طرح، حادثات اور ناموافق حالات کے تابع ہیں۔ تاہم، خدا ہمیں ناموافق حالات سے نپٹنے کے لیے حکمت عطا کر سکتا ہے۔ (‏یعقوب ۱:‏۵‏)‏ اس کے علاوہ، یہ جاننا بھی خوشی کا باعث ہوتا ہے کہ آپ کا خدا کے ساتھ ایک اچھا رشتہ ہے۔ امثال ۱۶:‏۲۰ کہتی ہے، ”‏مبارک ہے وہ جس کا توکل [‏یہوواہ]‏ پر ہے۔“‏

خدا کی بادشاہی کے تحت بحال‌کردہ فردوس میں، ہمیں پھر کبھی وقت اور حادثے سے خوفزدہ نہیں ہونا پڑے گا۔ بیشک، خدا ان تمام موجودہ چیزوں کو ختم کر دے گا جو انسانی خوشی کو خراب کرتی ہیں۔ ”‏وہ [‏ہماری]‏ آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا اس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ ونالہ نہ درد“‏ بائبل وعدہ کرتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۴‏)‏ حادثات کے شکار بیشمار لوگوں کو قیامت کا تجربہ ہو گا۔ یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

کیا آپ اس شاندار مستقبل کے وارث ہوں گے؟ جب اسرائیلی ملک موعود میں داخل ہونے کو تھے تو موسیٰ نے انھیں بتایا:‏ ”‏میں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تو زندگی کو اختیار کر تاکہ تو بھی جیتا رہے اور تیری اولاد بھی اور تو [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے محبت رکھے اور اس کی بات سنے اور اسی سے لپٹا رہے کیونکہ وہی تیری زندگی اور تیری عمر کی درازی ہے۔“‏ استثنا ۳۰:‏۱۹، ۲۰۔‏

نہیں، ہم بے‌رحم تقدیر کے ہاتھوں میں بے‌یارومددگار کٹ‌پتلیاں نہیں ہیں۔ آپ کی مستقبل کی خوشی، بلا‌شبہ آپ کا دائمی مستقبل، آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ ہم آپ کو زندگی کا انتخاب کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ (‏۵ ۱۰/۱۵ w۹۱)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ایسے مطالعہ کا بندوبست اس رسالے کے پبلشروں کو خط لکھ کر کیا جا سکتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ 5 پر عبارت]‏

برگشتہ اسرائیل جنہوں نے قسمت کی بابت غیرقوم نظریہ اپنا لیا ان کو خدا کی طرف سے سخت مذمت کی گئی تھی۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں