یہوواہ اور مسیح اولین رابطہدان
”یقیناً [مطلقالعنان حاکم یہوواہ] کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمتگزار نبیوں پر پہلے آشکارا نہ کر دے۔“—عاموس ۳:۷۔
۱. آجکل مواصلات کے کونسے طریقے استعمال ہوتے ہیں؟
آجکل سلسلئہمواصلات کروڑوں ڈالر کا کاروبار ہے۔ شائع ہونے والی تمام کتابیں، تمام اخبارات اور باقاعدگی کے ساتھ چھپنے والے رسائل، ریڈیو اور ٹیلیویژن کے تمام پروگرام جو نشر کیے جاتے ہیں، نیز تمام فلمیں اور سٹیج ڈرامے، اور مواصلاتی کاوشیں ہیں۔ لکھے جانے اور ڈاک میں ڈالے جانے والے تمام خطوط اور تمام فونکالوں کی بابت بھی یہی درست ہے۔ یہ تمام مواصلاتی کاوشیں ہیں۔
۲. رابطے کے تکنیکی پہلوؤں میں انسانوں نے جو ترقیاں کی ہیں، ان کی بعض مثالیں کیا ہیں؟
۲ سلسلہءمواصلات کے تکنیکی پہلوؤں میں انسان نے جو ترقیاں کی ہیں وہ بوکھلا دینے والی ہیں۔ مثال کے طور پر، فائبر آپٹک کیبلز، کاپر کیبلز پر ایک بڑی ترقی ہے، جو کہ ایک ہی وقت میں ٹیلیفون پر لاکھوں پیغامات کو پہنچا سکتے ہیں۔ پھر مواصلاتی سیارے ہیں، جو خلا میں زمین کے مدار پر چکر لگاتے ہیں اور اشاروں کے ذریعے ٹیلیویژن، ریڈیو، ٹیلیگراف، ٹیلیفون پر پیغامات نشر کرنے کے لیے سازوسامان سے لیس ہیں۔ اس طرح کا ایک سیارہ ایک ہی وقت میں ٹیلیفون کے ۳۰،۰۰۰ پیغامات حاصل کر سکتا ہے!
۳. جب رابطے کے خلا موجود ہوں تو کیا واقع ہوتا ہے؟
۳ لیکن ان تمام مواصلاتی ذرائع کے باوجود، اشخاص کے مابین رابطے کی کمی کی وجہ سے دنیا میں بڑی خستہحالی ہے۔ پس، ہمیں بتایا گیا ہے کہ ”حاکم محکوم کے درمیان ایک بڑھتی ہوئی خلیج ایک پھیلتا ہوا ”رابطوں کا خلا“ ہے۔“ اور یہ نامنہاد نسلی خلا والدین اور ان کے بچوں میں ایک دوسرے سے کامیابی کے ساتھ رابطے کی ناکامی کے سوا اور کیا ہے؟ میرج کونسلر رپورٹ دیتے ہیں کہ شادی میں سب سے بڑا مسئلہ شوہر اور بیوی کے درمیان رابطے کی ناکامی ہے۔ مناسب رابطے کی کمی موت بھی واقع کر سکتی ہے۔ ۱۹۹۰ کے اوائل میں ۷۳ اشخاص نے ہوائی جہاز کے ایک حادثے میں اپنی زندگیاں ضائع کر دیں، ظاہری طور پر اس حادثے کا سبب بننے والا عنصر گراؤنڈ کنٹرول اور پائلٹ کے درمیان رابطے کی ناکامی تھی۔ ایک اخبار کی بڑی سرخی نے بیان کیا: ”رابطے میں غیرمتوقع رکاوٹ حادثے کا سبب بنی۔“
۴. (ا)”رابطے“ سے کیا مراد ہے؟ (ب) مسیحی رابطے کا نصبالعین کیا ہے؟
۴ مسیحی نقطہءنظر میں رابطہ کیا ہے؟ ایک ڈکشنری کے مطابق، ”رابطے“ کا مطلب ”معلومات، خیال، یا احساس کو منتقل کرنا ہے تاکہ اسے تسلیبخش طریقے سے وصول کیا جائے یا سمجھا جا ئے۔“ ایک اور ڈکشنری ”مؤثر طور پر خیالات کا اظہار کرنے کی تکنیک“ کے طور پر اس کی تعریف کرتی ہے۔ غور کریں، ”مؤثر طور پر خیالات کا اظہار کرنا۔“ مسیحی رابطے کو خاص طور پر مؤثر ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا مقصد خدا کے کلام سے سچائی کے ساتھ لوگوں کے دلوں تک پہنچنا ہے تاکہ ممکن ہے کہ وہ جو کچھ سیکھتے ہیں اس پر عمل کریں۔ بیمثل طور پر، یہ بےغرضی سے، محبت سے تحریک پاتا ہے۔
یہوواہ بطور رابطہدان
۵. پہلے طریقوں میں سے ایک کونسا ہے جس کے ذریعے یہوواہ خدا نے آدمی کے ساتھ رابطہ قائم کیا؟
۵ یہوواہ خدا یقیناً ایک عظیم رابطہدان ہے۔ چونکہ اس نے ہم کو اپنی صورت اور شبیہ پر خلق کیا ہے، اس لیے وہ ہمارے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے قابل ہے، اور ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ اس کی بابت دوسروں سے باتچیت کریں۔ انسان کی تخلیق سے لیکر، یہوواہ نے اپنی زمینی خلائق کے ساتھ اپنی بابت باتچیت کی ہے۔ ایک طریقے سے اس نے یہ اپنی دیدنی تخلیق کے ذریعے کیا ہے۔ لہذا، زبورنویس ہمیں بتاتا ہے: ”آسمان خدا کا جلال ظاہر [کرتے ہیں] اور فضا اس کی دستکاری دکھاتی ہے۔ دن سے دن بات کرتا ہے، اور رات کو رات حکمت سکھاتی ہے۔“ (زبور ۱۹:۱، ۲) اور رومیوں ۱:۲۰ ہمیں بتاتی ہے کہ خدا کی ”اندیکھی صفتیں دنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔“ ”صاف نظر آنا“ مؤثر رابطے کو ظاہر کرتا ہے!
۶. یہوواہ نے اپنی زمینی خلائق سے کیا باتچیت کی جبکہ وہ باغعدن میں تھے؟
۶ خدا اور اس کے الہیٰ مکاشفے پر ایمان نہ رکھنے والے ہمیں باور کرائیں گے کہ آدمی کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے اپنے ہی وسائل پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ کیوں موجود ہے۔ لیکن خدا کا کلام اسے واضح کرتا ہے کہ خدا نے شروع ہی سے انسان کے ساتھ رابطہ رکھا ہے۔ یوں، خدا نے پہلے مرد اور عورت کو افزائشنسل کا حکم دیا: ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور و محکوم کرو اور کل جانوروں پر . . . اختیار رکھو۔“ خدا نے انہیں باغ کے تمام پھلوں کو جی بھر کر کھانے کی بھی اجازت دے دی ماسوائے ایک پھل کے۔ پھر، جب آدم اور حوا نے نافرمانی کی تو بنیآدم کو امید کی ایک کرن دیتے ہوئے، یہوواہ نے پہلے مسیحائی وعدے کی خبر دی: ”اور میں تیرے [سانپ] اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر پر ضرب لگائے گا اور تو اس کی ایڑی پر ضرب لگائے گا۔“ پیدایش ۱:۲۸، ۲:۱۶، ۱۷، ۳:۱۵، NW۔
۷. اپنے خادموں کے ساتھ یہوواہ کے رابطے کی بابت پیدایش کی کتاب کیا ظاہر کرتی ہے؟
۷ جب آدم کا بیٹا قائن قاتلانہ حسد سے پر تھا تو یہوواہ خدا نے عملاً یہ کہتے ہوئے، اس سے رابطہ قائم کیا: ”دھیان کر! تو مصیبت کی طرف جا رہا ہے!“ لیکن قائن نے آگاہی پر دھیان دینے سے انکار کر دیا اور اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔ (پیدایش ۴:۶-۸، NW) بعدازاں، جب زمین ظلم اور بدکاری سے بھر گئی تو یہوواہ نے راستباز آدمی نوح سے زمین کو گندہ کرنے والی تمام گندگی سے صاف کرنے کے لیے اپنا مقصد بیان کیا۔ (پیدایش ۶:۱۳-۷:۵) طوفان کے بعد، جب نوح اور اسکا خاندان کشتی سے باہر آیا تو یہوواہ نے زندگی اور خون کے تقدس کی بابت اپنے مقصد کو ان سے بیان کیا، اور قوسقزح کے ذریعے اس نے یقیندہانی کرائی کہ وہ تمام زندہ چیزوں کو آئندہ کبھی طوفان سے ہلاک نہیں کرے گا۔ کچھ صدیوں کے بعد، یہوواہ نے ابراہام سے بنیآدم کے تمام خاندانوں کا ابراہام کی نسل کے ذریعے برکت پانے کے لیے اپنا مقصد بیان کیا۔ (پیدایش ۹:۱-۱۷، ۱۲:۱-۳، ۲۲:۱۱، ۱۲، ۱۶-۱۸) اور جب خدا نے فرمان جاری کیا کہ وہ سدوم اور عمورہ کے کجرو لوگوں کو ہلاک کرے گا تو اس نے پرمحبت طور پر اس حقیقت کو ابراہام سے یہ کہتے ہوئے بیان کیا: ”جو کچھ میں کرنے کو ہوں کیا اسے ابراہام سے پوشیدہ رکھوں؟“ پیدایش ۱۸:۱۷۔
۸. یہوواہ نے زمین پر اپنے خادموں کے ساتھ کن چار طریقوں سے رابطہ قائم کیا ہے؟
۸ موسیٰ سے ابتدا کرتے ہوئے، یہوواہ نے اسرائیل کے ساتھ رابطہ رکھنے کے لیے نبیوں کے ایک طویل سلسلے کو استعمال کیا۔ (عبرانیوں ۱:۱) بعض اوقات اس نے زبانی ہدایت کو استعمال کیا، جیسے کہ جب اس نے موسیٰ کو بتایا: ”تو اپنے لیے ان باتوں کو لکھ لے۔“ (خروج ۳۴:۲۷، NW) یہوواہ نے اور زیادہ کثرت سے اپنے نمائندوں کے ساتھ رویتوں کے ذریعے رابطہ رکھا، جیسے کہ ابراہام سے پہلے ہی کر چکا تھا۔a یہوواہ نے انسان کے ساتھ رابطے کے لیے خوابوں کا بھی استعمال کیا، نہ صرف اپنے خادموں کے ساتھ ہی، بلکہ ان کے ساتھ بھی جو اس کے خادموں کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر، یہوواہ نے یوسف کے دو ساتھی قیدیوں کو خواب دکھائے، جن کی یوسف نے ان کے لیے تعبیر بیان کی۔ یہوواہ نے فرعون اور نبوکدنضر کو بھی خواب دکھائے جن کی اس کے خادموں یوسف اور دانیایل نے ان کے لیے تعبیر کی۔ (پیدایش ۴۰:۸-۴۱:۳۲، دانیایل ۲ اور ۴ ابواب) اس کے علاوہ، بہت سے موقعوں پر یہوواہ نے اپنے خادموں کے ساتھ رابطے کے لیے ملکوتی پیامبروں کو استعمال کیا۔ خروج ۳:۲، قضاہ ۶:۱۱، متی ۱:۲۰، لوقا ۱:۲۶۔
۹. کس چیز نے یہوواہ کو اپنی امت اسرائیل کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی تحریک دی، جیسے کہ اس کے کن اظہارات سے دیکھا جا سکتا ہے؟
۹ اپنے نبیوں کے ذریعے یہوواہ کے اس تمام رابطے نے اس کی امت اسرائیل کے لیے اس کی محبت کو ظاہر کیا۔ لہذا، اس نے اپنے نبی حزقیایل کے ذریعے بیان کیا: ”شریر کے مرنے میں مجھے کچھ خوشی نہیں بلکہ اس میں ہے کہ شریر اپنی راہ سے باز آئے اور زندہ ر ہے۔ اے بنی اسرائیل باز آؤ۔ تم اپنی بری روش سے باز آؤ۔ تم کیوں مروگے؟“ (حزقیایل ۳۳:۱۱) یہوواہ اپنی قدیم سرکش امت کے ساتھ ایک متحمل اور صابر رابطہدان تھا، جیسے کہ ۲-تواریخ ۳۶:۱۵، ۱۶ سے دیکھا جا سکتا ہے: ”[یہوواہ] ان کے باپ دادا کے خدا نے اپنے پیغمبروں کو ان کے پاس بروقت بھیج بھیج کر پیغام بھیجا کیونکہ اسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر ترس آتا تھا۔ لیکن انہوں نے . . . اسکی باتوں کو ناچیز جانا اور اس کے نبیوں کی ہنسی اڑائی . . . یہاں تک کہ کوئی چارہ نہ رہا۔“
۱۰. آجکل یہوواہ اپنے لوگوں کے ساتھ کیسے رابطہ رکھتا ہے، اور کس حد تک وہ رابطہ رکھنے والا خدا ہے؟
۱۰ آجکل، ہمارے پاس خدا کا الہامی کلام، مقدس بائبل ہے، جس کے ذریعے یہوواہ ہمارے ساتھ اپنی ذات، اپنے مقاصد، اور اپنی مرضی کے متعلق معلومات کو بیان کرتا ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) درحقیقت، افضل رابطہدان کے طور پر، یہوواہ، بیان کرتا ہے: ”[مطلقالعنان حاکم یہوواہ] کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمتگزار نبیوں پر پہلے آشکارا نہ کرے۔“ (عاموس ۳:۷) جو کچھ وہ کرنے کا قصد کرتا ہے اسے وہ اپنے خادموں پر ظاہر کرتا ہے۔
خدا کا بیٹا بطور رابطہدان
۱۱. انسان کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں یہوواہ کا اولین آلہءکار کون ہے، اور اس کا لقب ”کلام“ کیوں موزوں ہے؟
۱۱ اپنی مرضی کو بیان کرنے کے لیے یہوواہ نے جتنے بھی کارکنوں کو استعمال کیا ہے، ان میں سے اولین کلام ہے، یعنی لوگوس، جو یسوع مسیح بنا۔ اس کے کلام، یا لوگوس، کہلائے جانے کیا مطلب ہے؟ یہ کہ وہ یہوواہ کا اعلیٰ نمائندہ ہے۔ اور نمائندہ کیا ہوتا ہے؟ وہ جو کسی دوسرے نے جو کچھ بتانا ہوتا ہے اسے بیان کرتا ہے۔ پس لوگوس یہوواہ خدا کے کلام کو اس کی ذہین زمینی مخلوق سے بیان کرنے والا بنا۔ وہ کردار اتنا اہم ہے کہ وہ کلام کہلاتا ہے۔ یوحنا ۱:۱، ۲، ۱۴۔
۱۲. (ا)یسوع زمین پر کس مقصد کے لیے آیا تھا؟ (ب) اس مقصد کو اس کے وفاداری سے پورا کرنے کی تصدیق کونسی چیز کرتی ہے؟
۱۲ خود یسوع نے پنطس پیلاطس کو بتایا کہ زمین پر اس کے آنے کا سب سے اہم مقصد بنیآدم سے سچائی بیان کرنا تھا: ”میں اس لیے پیدا ہوا اور اس واسطے دنیا میں آیا ہوں کہ حق پر گواہی دوں۔“ (یوحنا ۱۸:۳۷) اور اناجیل کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس نے اس تفویض کو عمدگی سے پورا کیا۔ اس کے پہاڑی وعظ کو عظیم وعظ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس کی پہلے کسی آدمی نے منادی کی ہو۔ اس نے اس وعظ کے ذریعے کتنا عمدہ رابطہ قائم کیا تھا! ”ایسا ہوا کہ بھیڑ [جس نے وعظ کو سنا] اس کی تعلیم سے حیران ہوئی۔“ (متی ۷:۲۸) ایک اور موقع کی بابت، ہم پڑھتے ہیں: ”وہ بڑیبھیڑ خوشی سے اس کی بات سن رہی تھی۔“ (مرقس ۱۲:۳۷، NW) جب بعض پیادوں کو یسوع کو پکڑنے کے لیے بھیجا گیا تو وہ اس کو پکڑے بغیر ہی آ گئے۔ کیوں؟ انہوں نے فریسیوں کو جواب دیا: ”انسان نے کبھی ایسا کلام نہیں کیا۔“ یوحنا ۷:۴۶۔
مسیح کے شاگردوں کو رابطہدان ہونے کا حکم دیا گیا
۱۳. کیا ظاہر کرتا ہے کہ مسیح تنہا رابطہدان کے طور پر رہنے پر قانع نہ تھا؟
۱۳ تنہا رابطہدان رہنے پر قانع نہ رہتے ہوئے، یسوع نے پہلے ۱۲ رسولوں کو اور بعد میں ۷۰ مبشروں کو بادشاہتی رابطہدانوں کے طور پر حکم دے کر بھیجا۔ (لوقا ۹:۱، ۱۰:۱) اسکے بعد اپنے آسمان پر جانے سے تھوڑا پہلے، اس نے اپنے شاگردوں کو ایک خاص کام کرنے کا حکم دیا۔ کونسا کام؟ جیسے کہ ہم متی ۲۸:۱۹، ۲۰ میں پڑھتے ہیں، اس نے انہیں رابطہدان ہونے کا حکم دیا، اور انہیں بھی اور لوگوں کو تعلیم دینی تھی تاکہ وہ بھی رابطہدان بنیں۔
۱۴. ابتدائی مسیحی رابطہدان کتنے مؤثر تھے؟
۱۴ کیا شاگرد مؤثر رابطہدان تھے؟ یقیناً وہ تھے! ۳۳ س۔ع۔ میں پنتکست کے دن پر ان کی منادی کے نتیجے میں ۳۰۰۰ جانوں کا نئی بننے والی مسیحی کلیسیا میں اضافہ ہوا تھا۔ فوراً ہی تعداد ۵۰۰۰ اشخاص تک بڑھ گئی۔ (اعمال ۲:۴۱، ۴:۴) کوئی تعجب نہیں کہ ان کے یہودی دشمنوں نے ان پر تمام یروشلیم میں اپنی تعلیم پھیلانے کا الزام لگایا اور بعد میں یہ شکایت کی کہ انہوں نے اپنی منادی سے جہان کو باغی کر دیا ہے! اعمال ۵:۲۸، ۱۷:۶۔
۱۵. جدید زمانے میں انسانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے یہوواہ نے کس آلہءکار کو استعمال کیا ہے؟
۱۵ جدید زمانے کی بابت کیا ہے؟ جیسے کہ متی ۲۴:۳، ۴۵-۴۷، میں پہلے سے بتایا گیا ہے، آقا، یسوع مسیح نے، ممسوح مسیحیوں پر مشتمل، ”دیانتدار اور عقلمند خادم“ کو مقرر کیا ہے، تاکہ اس زمانے میں اس کی موجودگی کے دوران زمین پر اس کے تمام مال کی دیکھ بھال کرے۔ اس دیانتدار اور عقلمند خادم کی نمائندگی آجکل یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے ذریعے ہوتی ہے، جس کے پاس نشرواشاعت کے ایجنٹ کے طور پر واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی ہے۔ نہایت موزوں طور پر، یہ دیانتدار اور عقلمند خادم خدا کے رابطے کا سلسلہ بھی کہلاتا ہے۔ اس کے بعد اچھے رابطہدان بننے کے لیے، یہ ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے۔ درحقیقت، زائنز واچ ٹاور اینڈ ہیرلڈ آف کرائسٹس پریزینس کے پہلے ہی شمارے نے اپنے قارئین کو مشورہ دیا: ”اگر آپ کا کوئی پڑوسی یا دوست ہے جسے آپ خیال کرتے ہیں کہ دلچسپی رکھے گا یا [اس رسالے] کی ہدایات سے فائدہ اٹھائے گا تو آپ اسے ان کی توجہ میں لا سکتے ہیں، اور یوں جہاں تک آپ کے پاس موقع ہے آپ کلام کی منادی کریں اور تمام آدمیوں کے ساتھ نیکی کریں۔“
۱۶. کیا ظاہر کرتا ہے کہ خدا کو اپنے زمینی خادموں کے ساتھ مؤثر طور پر رابطہ قائم کرنے کے لیے صرف بائبل سے زیادہ کچھ درکار ہے؟
۱۶ تاہم، اس صحیح علم حاصل کرنے کے لیے جو کسی کو زندگی کی راہ پر ڈالتا ہے صرف خدا کے کلام تک دسترس رکھنا اور اسے ذاتی طور پر پڑھنا ہی کافی نہیں ہے۔ حبشہ کی حکومت کے وزیر کو یاد رکھیں جو یسعیاہ کی پیشینگوئی کو پڑھ رہا تھا لیکن سمجھتا نہ تھا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ مبشر فلپس نے اسے پیشینگوئی سمجھائی، جس کے بعد وہ مسیح کے شاگرد کے طور پر بپتسمہ پانے کے لیے تیار تھا۔ (اعمال ۸:۲۷-۳۸) افسیوں ۴:۱۱-۱۳ سے دیکھا جاسکتا ہے کہ کسی کے صرف بائبل پڑھنے سے زیادہ کچھ درکار ہے، جہاں پر کہ پولس ظاہر کرتا ہے کہ مسیح نے بعض کو نہ صرف بطور الہامی رسولوں اور نبیوں کے دے دیا بلکہ اس نے ”بعض کو مبشر اور بعض کو چرواہا اور استاد بنا کر دے دیا تاکہ مقدس لوگ کامل بنیں اور خدمتگزاری کا کام کیا جائے اور مسیح کا بدن ترقی پائے جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اسکی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں۔“
۱۷. کن شناختی نشانوں کے ذریعے سے ہم اس ایجنسی کی شناخت کر سکتے ہیں جسے یہوواہ آجکل بنیآدم کو اپنے مقاصد بتانے کے لیے استعمال کر رہا ہے؟
۱۷ ہم ان کی شناخت کیسے کر سکتے ہیں جنہیں یہوواہ خدا اور یسوع مسیح ان لوگوں کی مدد کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو پورے قد کے اندازہ تک پہنچنے والے مسیحی ہوں گے؟ یسوع کے مطابق، شناختی نشانوں میں سے ایک یہ ہو گا کہ وہ ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے جیسے یسوع نے اپنے شاگردوں سے محبت رکھی تھی۔ (یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵) ایک اور شناختی نشان: وہ دنیا کا حصہ نہ ہوں گے، جیسے یسوع بھی دنیا کا حصہ نہ تھا۔ (یوحنا ۱۵:۱۹، ۱۷:۱۶، NW) اس کے علاوہ، ایک اور نشان یہ ہوگا کہ وہ خدا کے کلام کو بطور سچائی تسلیم کرتے ہیں، جیسے یسوع نے مسلسل اس کے اختیار کی طرف توجہ دلا کر کیا۔ (متی ۲۲:۲۹، یوحنا ۱۷:۱۷) خدا کے نام کو نمایاں کرنا، جیسے یسوع نے کیا، ایک اور نشان ہوگا۔ (متی ۶:۹، یوحنا ۱۷:۶) اور ایک اور نشان یسوع کی پیروی میں خدا کی بادشاہت کی منادی کرنا ہوگا۔ (متی ۴:۱۷، ۲۴:۱۴) صرف ایک ہی گروپ ہے جو ان تقاضوں پر پورا اترتا ہے، یعنی بینالاقوامی رابطہدان جو یہوواہ کے مسیحی گواہوں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
۱۸. اگلے مضامین رابطے کے کن تین پہلوؤں پر بحث کریں گے؟
۱۸ تاہم، رابطہ، دوسروں کے سلسلے میں ذمہداری کا مفہوم رکھتا ہے۔ مسیحی کن کے ساتھ رابطہ رکھنے کے لیے ذمہدار ہیں؟ بنیادی طور پر، تین حلقے ہیں جہاں پر مسیحیوں کو رابطے کے سلسلے کو کھلا رکھنا چاہیے: خاندانی دائرہ، مسیحی کلیسیا، اور مسیحی میدانی خدمتگزاری۔ ہمارے مضمون کے ان پہلوؤں کی بابت اگلے مضامین بات چیت کریں گے۔ (۱۵ ۹/۱ w۹۱)
[فٹنوٹ]
a دیکھیں پیدایش ۱۵:۱، ۴۶:۲، گنتی ۸:۴، ۲-سموئیل ۷:۱۷، ۲-تواریخ ۹:۲۹، یسعیاہ ۱:۱، حزقیایل ۱۱:۲۴، دانیایل ۲:۱۹، عبدیاہ ۱، ناحوم ۱:۱، اعمال ۱۶:۹، مکاشفہ ۹:۱۷۔
آپ کیسے جواب دیں گے؟
▫ رابطے کی کمی کسں نقصان پر منتج ہو سکتی ہے؟
▫ دو اولین رابطہدان کون ہیں؟
▫ آدمی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے خدا نے کن مختلف ذرائع کو استعمال کیا ہے؟
▫ یسوع رابطہدان کے طور پر کیسے سبقت لے گیا؟
▫ ابتدائی مسیحی رابطہ رکھنے میں کتنے کامیاب تھے؟
[تصویر]
اپنے آسمانی باپ کی طرح، یسوع ایک ہمدرد رابطہدان تھا