خدا کا صبر کب تک جاری رہے گا؟
کوئی ۳،۰۰۰ ہزار سال پہلے، ایک دانشور آدمی نے لکھا: ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کر کے اپنے اوپر بلا لاتا ہے۔“ (واعظ ۸:۹) اس کے اس مشاہدے کے وقت سے لیکر، حالتیں بہتر نہیں ہوئیں۔ تاریخ کے ہر دور میں، افراد یا گروہوں نے یکے بعد دیگرے دوسرے انسانوں پر غلبہ یا تسلط رکھنے، اور ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے، زبردستی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہوواہ خدا نے صبر سے اس کو برداشت کیا ہے۔
یہوواہ صابر رہا ہے جبکہ حکومتوں نے لاکھوں کو جنگ میں موت کے گھاٹ اتارا ہے، اور سخت معاشی ناانصافیوں کی اجازت دی ہے۔ آجکل بھی، وہ ابھی تک صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ انسان اوزون کی پرت کو تباہ، اور فضا اور سمندر کو آلودہ کرتے ہیں۔ اچھی پیداوار دینے والی زمین کی بربادی اور جنگلات اور حیوانات کی بلاوجہ تباہی کو دیکھنا اسے کسقدر تکلیف دیتا ہو گا!
خدا کیوں اتنا صابر ہے؟
شاید ایک سادہ سی مثال ہمیں اس سوال کا جواب دینے میں مدد دے۔ ایک ملازم کے متواتر دیر سے پہنچنے سے کاروبار پر جو اثر پڑتا ہے ذرا اس پر غور کریں۔ مالک کو کیا کرنا چاہیے؟ مطلق انصاف شاید یہ تقاضا کرے کہ وہ اپنے ملازم کو فوراً برطرف کر دے۔ لیکن شاید وہ بائبل کی اس امثال کو یاد رکھے: ”جو قہر کرنے میں دھیما ہے بڑا عقلمند ہے پر وہ جو [بے صبر] ہے حماقت کو بڑھاتا ہے۔“ (امثال ۱۴:۲۹) بصیرت شاید کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اسے سوچنے کی ترغیب دے۔ شاید وہ یہ فیصلہ کرے کہ اسے اس کی جگہ پر دوسرے آدمی کو تربیت پانے کے لیے وقت دینا چاہیے تاکہ کاروبار مزید خراب نہ ہو۔
ساتھی انسانوں کے لیے احساس بھی شاید اس سے کچھ دیر انتظار کرنے کا تقاضا کرے۔ اس لاپرواہ ملازم کو آگاہی دینے کی بابت کیا ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا وہ اپنے طورطریقے تبدیل کر لے گا؟ کیوں نہ اس سے گفتگو کرکے دیکھا جائے کہ آیا اسکا عادتاً دیر سے آنا کسی ایسے مسئلے کی وجہ سے ہے جس کو حل کیا جا سکتا ہے یا یہ لاعلاج برے رجحان کی وجہ سے ہے؟ اگرچہ کاروبار کا مالک یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ مزید صبر کرے گا، تاہم، اس کا صبر غیرمحدود نہیں۔ ملازم کو یا تو اپنی اصلاح کرنی پڑے گی یا پھر انجامکار اسے برطرف کر دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ نہ صرف کاروبار کے ساتھ ہی بلکہ ان تمام ملازمین کے ساتھ بھی انصاف ہو گا جو اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔
کچھ اسی طرح سے، یہوواہ خدا بھی غلط کاری کے معاملے میں صبر کا مظاہرہ کرتا ہے تاکہ مختلف مسائل کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے وقت دیا جا سکے۔ مزیدبرآں، اس کا صبر غلط کاری کرنے والوں کو بھی موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے اطوار کو تبدیل کر سکیں اور دائمی فوائد حاصل کر سکیں۔ پس، بائبل ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے کہ خدا کے صبر سے ناخوش نہ ہوں۔ بلکہ، یہ کہتی ہے: ”ہمارے خداوند کے تحمل کو نجات سمجھو۔“ ۲-پطرس ۳:۱۵۔
خدا کے صبر کی ایک مثال
یہوواہ خدا نوح کے دنوں کے بڑے سیلاب سے پہلے بھی صبر کیے ہوئے تھا۔ اس وقت کی دنیا ظلموتشدد سے بھری ہوئی تھی اور بہت بدکار تھی۔ ہم پڑھتے ہیں: ”[یہوواہ] نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی... اور [یہوواہ] نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا رو ئےزمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔“ (پیدایش ۶:۵، ۷) جیہاں، اس وقت وہاں اس بدکاری کے مسئلے کو حل کرنے کا آخری حل خدا کے ذہن میں تھا: بدکار انسانوں کا خاتمہ۔ لیکن اس نے فوری عمل نہیں کیا۔ کیوں نہیں؟
کیونکہ ہر شخص بدکار نہیں تھا۔ نوح اور اس کا خاندان یہوواہ کی نظر میں راستباز تھے۔ پس ان کی خاطر، یہوواہ نے صبر سے انتظار کیا تاکہ ان چند راستباز افراد کو نجات کے لیے تیاری کرنے کا موقع مل جا ئے۔ مزیدبرآں، اس طویل انتظار نے نوح کے لیے یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ”راستبازی کا مناد“ بن سکے، اور یوں ان بدکار لوگوں کو اپنے اطوار بدلنے کا موقع بھی مل گیا۔ بائبل کہتی ہے: ”جب خدا نوح کے وقت میں [صبر] کرکے ٹھہرا رہا تھا اور وہ کشتی تیار ہو رہی تھی جس پر سوار ہو کر تھوڑے سے آدمی یعنی آٹھ جانیں پانی کے وسیلہ سے بچیں۔“ ۲-پطرس ۲:۵، ۱-پطرس ۳:۲۰۔
خدا اب کیوں صابر ہے
آجکل بھی، حالت بالکل ویسی ہی ہے۔ ایک بار پھر دنیا ظلموتشدد سے پر ہے۔ جیسا کہ نوح کے دنوں میں تھا، خدا نے اس دنیا کی عدالت پہلے ہی سے کر دی ہے، جسکی بابت، بائبل کہتی ہے، کہ وہ ”بےدین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہیں گے۔“ (۲-پطرس ۳:۷) جب یہ ہو جائے گا تو مزید ماحول کی بربادی، کمزوروں کا استبداد، یا طاقت کا ناجائز استعمال باقی نہ رہے گا۔
تو پھر، کیوں، خدا نے بہت پہلے ہی بےدین آدمیوں کو ختم نہ کر دیا؟ کیونکہ طے کرنے کے لیے مسائل اور فیصل کرنے کے لیے معاملات موجود رہے ہیں۔ بلاشبہ، یہوواہ بدکاری کے اس مسئلے کے مستقل حل کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں راستدل انسانوں کو بیماری اور موت کی غلامی سے چھڑانے کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں۔
موخرالذکر انجام کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یہوواہ نے ایک نجاتدہندہ مہیا کرنے کا ارادہ کیا جو ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرے گا۔ اس کی بابت بائبل کہتی ہے: ”خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پا ئے۔“ (یوحنا ۳:۱۶) یسوع کے آنے اور بنیآدم کے لیے اپنی زندگی قربان کرنے کے لیے راہ تیار کرنے میں کئی ہزاروں سال لگ گئے۔ ان تمام سالوں کے دوران، یہوواہ مشفقانہ طور پر صابر رہا ہے۔ لیکن کیا اس طرح کا اہتمام درحقیقت انتظار کا مستحق نہ تھا؟
یسوع نے تقریباً دو ہزار سال پہلے بنیآدم کے لیے فدیہ مہیا کر دیا۔ تو پھر، کیوں، خدا ابھی تک صبر کیے ہوئے ہے؟ ایک بات تو یہ ہے، کہ یسوع کی موت نے ایک تعلیمی مہم کی ابتدا کو نمایاں کیا۔ بنیآدم کو اس پرمحبت بندوبست کی بابت سیکھنا تھا اور اسے قبول کرنے یا اسے رد کرنے کا موقع دیا جانا تھا۔ اس میں وقت تو لگے گا، لیکن یہ وقت کا بہترین استعمال ہوگا۔ بائبل کہتی ہے: ”[یہوواہ] اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں [صبر] کرتا ہے اس لیے کہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ ۲-پطرس ۳:۹۔
حکومت کا مسئلہ
ایک اور اہم مسئلے کے لیے بھی وقت درکار ہوگا۔ بنیآدم کی حکومت کے مسئلے کو بھی حل کیے جانے کی ضرورت تھی۔ بہت شروع میں، انسان الہی حکومت کے تحت تھا۔ لیکن باغعدن میں، ہمارے پہلے والدین نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اپنے اوپر خود ہی حکمرانی کرنے کی خواہش رکھتے ہوئے انہوں نے خدا سے آزاد ہونے کا انتخاب کیا۔ (پیدایش ۳:۱-۵) تاہم، درحقیقت، انسان کو اپنے اوپر حکمرانی کے لیے خلق نہیں کیا گیا تھا۔ یرمیاہ نبی نے لکھا: ”اے [یہوواہ] میں جانتا ہوں کہ انسان کی راہ اس کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ یرمیاہ ۱۰:۲۳، امثال ۲۰:۲۴۔
علاوہازیں، چونکہ حکومت کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا، اس لیے یہوواہ خدا نے بڑے صبر سے اسے حل کرنے کے لیے وقت دیاہے۔ واقعی، اس نے انسان کو ہر طرح کی قابلتصور حکومت کو آزمانے کے لیے بڑی فراخدلی سے ہزاروں سالوں کا وقت دیا ہے۔ کس نتیجے کے ساتھ؟ یہ واضح ہو گیا ہے کہ کوئی انسانی حکومت استبداد، ناانصافی، یا ناخوش کرنے والے دیگر اسباب کو ختم نہیں کر سکتی۔
بلاشبہ، انسانی تاریخ کے پیشنظر، کیا کوئی درحقیقت یہ کہہ سکتا ہے کہ خدا تمام انسانی حکومتوں کو ختم کرنے اور ان کی جگہ اپنی حکومت قائم کرنے سے کسی بھی طرح سے ناانصافی کر رہا ہے؟ یقیناً نہیں! ہم مثبت طور پر بائبل کی اس پیشینگوئی کی تکمیل کا خیرمقدم کرتے ہیں: ”ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تاابد نیست نہ ہو گی اور اس کی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائے گی بلکہ وہ ان تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی ابد تک قائم رہے گی۔“ دانیایل ۲:۴۴۔
اس بادشاہت کا آسمانی بادشاہ قیامتیافتہ یسوع ہے۔ اسے اس مرتبے کے لیے تیار کرنے میں اور اسکے ساتھ ساتھ انسانوں میں سے اسکے ساتھی حکمرانوں کا انتخاب کرنے میں وقت لگا ہے۔ اس تمام عرصہ کے دوران، خدا نے صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
اب خدا کے صبر سے فائدے حاصل کرو
آج کل، ۲۱۲ سے زائد ممالک کے اندر لاکھوں افراد خدا کے اس صبر سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ خدا کی فرمانبرداری کرنے اور اس کی آسمانی حکومت کی خدمت کر نے کی اپنی خواہش میں متحد ہو گئے ہیں۔ جب وہ اپنے کنگڈم ہالوں میں جمع ہوتے ہیں، تو وہ یہ سیکھتے ہیں کہ بائبل اصولوں کو اپنی زندگیوں میں عائد کرنا کتنا مفید ہے۔ وہ اس دنیا کی منقسم کرنے والی سیاست میں حصہ نہیں لیتے، اگرچہ وہ اس وقت تک خود کو انسانی حکومتوں کے تابع کیے ہوئے ہیں جب تک کہ خدا بڑے صبر سے انہیں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ متی ۲۲:۲۱، رومیوں ۱۳:۱-۵۔
اتنے زیادہ لوگوں کے درمیان ایسا تعاون یہوواہ کی بابت یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے درمیان جو اپنے دل کی خوشی سے اس سے محبت کرنا سیکھ لیتے ہیں اور جو اس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، ہمآہنگی پیدا کر سکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ایسے لوگوں سے ملے ہوں گے جبکہ وہ اسی کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا آغاز خود یسوع نے کیا، یعنی خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی نشرواشاعت۔ یسوع نے اس کام کے عروج کی اس وقت پیشینگوئی کی جب اس نے کہا: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام آبادشدہ زمین پر ہو گی تاکہ سب قوموں کے لیے گواہی ہو، تب خاتمہ آ جائے گا۔“ متی ۲۴:۱۴، NW۔
مزید دیر نہیں!
دیدنی شہادت ثابت کرتی ہے کہ زمین کی عمومی حکمرانی کا کام سنبھالنے کے لیے خدا کی راست حکومت کے انتظامات تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔ انسانی حکومت کی ناکامی کے ان واقعی خراب نتائج کو بیان کرنے کے بعد جنہیں ہم نے اس صدی کے دوران دیکھا ہے، یسوع نے کہا: ”جب تم ان باتوں کو ہوتے دیکھو تو جان لو کہ خدا کی بادشاہی نزدیک ہے۔“ لوقا ۲۱:۱۰، ۱۱، ۳۱۔
جلد ہی، خدا بدکاروں کو اس زمینی منظر سے ہٹا دے گا۔ زبورنویس کے ان الفاظ کی حقیقی تکمیل ہو جائے گی: ”بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے... تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا پر وہ نہ ہو گا۔“ (زبور ۳۷:۹، ۱۰) کیا آپ ایک ایسی دنیا کا تصور کر سکتے ہیں جو بدکاری سے پاک ہو؟ اس وقت کون معاملات کو سنبھالے گا؟ بائبل کہتی ہے: ”ایک بادشاہ [آسمانوں میں تختنشین یسوع مسیح] صداقت سے سلطنت کرے گا اور شہزادے [زمین پر اس کے مقررکردہ وفادار لوگ] عدالت سے حکمرانی کریں گے۔ اور صداقت کا انجام صلح ہو گا اور صداقت کا پھل ابدی آرامواطمینان ہوگا۔ اور میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بےخطرگھروں میں اور آسودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہیں گے۔“ یسعیاہ ۳۲:۱، ۱۷، ۱۸۔
پس، خدا کی آسمانی حکومت انسان کی غلط کاری کے تمام برے اثرات کو ختم کر دے گی اور جو اس پر توکل کرتے ہیں انہیں ایک ہمآہنگ انسانی معاشرے میں منظم کر دے گی۔ اس ہمآہنگی کو بیان کرتے ہوئے، بائبل کہتی ہے: ”بھیڑیا برہ کے ساتھ رہے گا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑا اور شیربچہ اور پلا ہوا بیل ملجل کر رہیں گے اور ننھا بچہ ان کی پیشروی کرے گا... وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین [یہوواہ] کے عرفان سے معمور ہو گی۔“ یسعیاہ ۱۱:۶-۹۔
خدا کے صبر دکھانے کا کیا ہی شاندار نتیجہ! پس، اس کی شکایت کرنے کی بجائے کہ خدا نے بہت زیادہ انتظار کیا ہے، کیوں نہ اس کے صبر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو اس کی بادشاہت کے مطیع کر دیں؟ بائبل میں سے اس کے معیاروں کو سیکھیں اور ان پر عمل کریں۔ دیگر ایسے لوگوں کے ساتھ رفاقت رکھیں جو ہمآہنگی سے اس کے تابع ہیں۔ تب، خدا کا صبر آپ کے لیے ابدی برکات پر منتج ہو گا۔ (۴ ۱۰/۱ w۹۱)