کیا آپ صبر کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟
یہوؔواہ نے اؔبرام کو بتایا: ”تُو اپنے وطن . . . سے نکل کر اُس ملک کو جا جو میں تجھے دکھاؤنگا۔ اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤنگا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔“ (پیدایش ۱۲:۱، ۲) اُسوقت اؔبرام ۷۵ برس کا تھا۔ اُس نے فرمانبرداری کی اور یہوؔواہ کا انتظار کرتے ہوئے اپنی باقی زندگی میں دانشمندی کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کیا۔
انجامکار، خدا نے صابر ابرؔہام (اؔبرام) کے ساتھ یہ وعدہ کیا: ”یقیناً میں تجھے برکتوں پر برکتیں بخشونگا اور تیری اَولاد کو بہت بڑھاؤنگا۔“ پولسؔ رسول نے مزید کہا: ”اِس طرح صبر کرکے اُس نے وعدہ کی ہوئی چیز کو حاصل کیا۔“—عبرانیوں ۶:۱۳-۱۵۔
صبر کیا ہے؟ لغات اس کی تعریف ”خاموشی سے کسی چیز کا انتظار کرنے“ کی لیاقت یا ”اشتعال یا کھچاؤ کے تحت برداشت“ کا مظاہرہ کرنے کے طور پر کرتی ہیں۔ یوں آپ کے صبر کا امتحان اُسوقت ہوتا ہے جب آپ کو کسی چیز یا کسی شخص کا انتظار کرنا پڑتا ہے یا جب آپ اشتعال میں یا دباؤ کے تحت ہیں۔ ایسی حالتوں میں صابر شخص اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے؛ ایک بےصبر شخص جلدباز اور چڑچڑا ہو جاتا ہے۔
ہماری بےصبر جدید دنیا
بالخصوص بہت سے شہری علاقوں میں، زیادہ زور صبر پر نہیں بلکہ رفتار پر دیا جاتا ہے۔ گنجان آباد شہروں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لئے ہر دن کی شروعات صبح کا الارم بجنے سے ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کسی جگہ پہنچنے، کسی سے ملاقات کرنے، کوئی چیز حاصل کرنے کی بدحواس دوڑ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ کیا اس میں کوئی حیرانی کی بات ہے کہ بہتیرے لوگ پریشان اور بےصبر ہیں؟
کیا دوسروں کی خطاؤں کا سامنا کرتے وقت آپ جھنجھلا جاتے ہیں؟ البرؔٹ کہتا ہے ”پابندیِوقت کی کمی مجھے پسند نہیں۔“ زیادہتر لوگ اس بات سے اتفاق کرینگے کہ کسی ایسے شخص کا انتظار کرنا پریشانکن ہوتا ہے جس کو آنے میں دیر ہو گئی ہے، خاص طور پر جب کوئی حد مقرر کر دی جاتی ہے۔ ۱۸ویں صدی کے ایک برطانوی سیاستدان، نیوکیسلؔ کے ڈیوک کے متعلق یہ کہا گیا تھا: ’وہ صبح کے وقت آدھا گھنٹہ ضائع کر دیتا ہے، جس کے پیچھے پھر وہ باقی سارا دن بھاگتا رہتا ہے لیکن کبھی بھی اُسے پورا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔‘ اگر آپ کو روزبروز کسی ایسے ہی شخص پر انحصار کرنا پڑے تو کیا آپ صابر رہینگے؟
گاڑی چلاتے وقت، کیا آپ جلدی سے مضطرب ہو جاتے، انتظار کرنے سے ہچکچاتے، یا پھر بہت تیز سفر کرنے کی آزمائش میں پڑ جاتے ہیں؟ ایسے حالات میں، بےصبری کا نتیجہ اکثر تباہی ہوتا ہے۔ ۱۹۸۹ کے دوران، اُس وقت کے مغربی جرمنی میں ۴،۰۰،۰۰۰ سے زائد شاہراہ پر کے حادثات زخمی ہونے یا موت واقع ہونے پر منتج ہوئے۔ ان میں، ۳ میں سے ۱ بہت زیادہ تیز رفتاری یا اگلی گاڑی کے بہت زیادہ نزدیک ہو کر گاڑی چلانے کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس لئے، کمازکم کسی حد تک، بےصبر ہونا ۱،۳۷،۰۰۰ سے زائد اشخاص کے زخمی ہونے یا موت واقع ہونے کا ذمہدار تھا۔ بےصبر ہونے کے لئے کیا ہی قیمت ادا کرنا پڑی!
اینؔ شکایت کرتی ہے ”مجھے اُسوقت صابر رہنا بڑا مشکل لگتا ہے جب کوئی سارا وقت مداخلت کرتا رہتا ہے یا جب کوئی بہت زیادہ شیخی بگھارتا ہے۔“ کاؔرل ہرمن تسلیم کرتا ہے کہ ایسے ”نوجوان لوگ جو عمررسیدہ لوگوں کے لئے کوئی احترام نہیں رکھتے“ اُس کے صبر کو للکارتے ہیں۔
یہ یا دیگر ایسی حالتیں آپ کو بےصبر بنا سکتی ہیں۔ تو پھر، آپ اور زیادہ صبر کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟
یہوؔواہ آپ کے صبر کو مستحکم کر سکتا ہے
بہتیرے لوگ سوچتے ہیں کہ صبر تذبذب میں ہونے یا کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، یہوؔواہ کے نزدیک یہ طاقت کا نشان ہے۔ وہ خود بھی ”تحمل کرتا ہے اِس لئے کہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ (۲-پطرس ۳:۹) اِس لئے اپنی ذاتی برداشت کو مستحکم کرنے کے لئے، یہوؔواہ کی قربت میں رہیں اور اپنے سارے دل سے اُس پر توکل کریں۔ خدا کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرنا ہی صابر مزاج کو فروغ دینے کی جانب ایک اہمترین قدم ہے۔
مزیدبرآں، زمین اور نوعِانسانی کے لئے یہوؔواہ کے مقاصد کو جاننا بھی نہایت اہم ہے۔ ابرؔہام ”اُس پایدار شہر [خدا کی بادشاہت] کا اُمیدوار تھا جسکا معمار اور بنانے والا خدا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱۰) بالکل اسی طرح، الہٰی وعدوں کی بابت واضح نظریہ رکھنا اور یہوؔواہ کی آس لگائے رہنے سے مطمئن ہونا فائدہمند ہوگا۔ پھر آپ جانینگے کہ تذبذب ظاہر کرنے سے کہیں بعید، حقیقت میں صبر لوگوں کو سچی پرستش کی طرف مائل کرتا ہے۔ پس، ”ہمارے خداوند کے تحمل کو نجات سمجھو۔“—۲-پطرس ۳:۱۵۔
کیا ہو اگر آپ کے اپنے ذاتی حالات ناقابلِبرداشت حد تک آپ کے صبر کا امتحان لیں؟ کیا بےایمان اشخاص آپ کو غصہ دلانے والے کھچاؤ میں ڈال دیتے ہیں؟ کیا آپ ایک اُکتا دینے والی حد تک طویل مدت سے علیل ہیں؟ ایسی حالت میں، جو کچھ شاگرد یعقوب نے لکھا اُس پر دل لگائیں۔ صبر کا مظاہرہ کرنے میں نبیوں کے مہیاکردہ نمونے کا حوالہ دینے کے بعد، اس نے شدید دباؤ کے تحت پُرسکون رہنے کے راز کو افشا کیا۔ یعقوب نے کہا: ”اگر تم میں کوئی مصیبتزدہ ہو تو دعا کرے۔“—یعقوب ۵:۱۰، ۱۳۔
اپنے صبر کو مستحکم کرنے اور آزمائش کے تحت اپنی ہمت کو بحال رکھنے کے لئے اپنی مدد کی خاطر دعا میں سنجیدگی کے ساتھ خدا سے التجا کریں۔ بار بار یہوؔواہ کی طرف رجوع ہوں، اور وہ ایسے حالات یا دوسروں کی ایسی عادات کی شناخت کرنے میں آپ کی مدد کریگا جو آپ کے اطمینان کے لئے ایک خاص خطرے کا باعث بنتی ہیں۔ امکانی صبرآزما حالتوں کی بابت پیشازوقت دعا کرنا پُرسکون رہنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔
اپنی ذات اور دوسروں کی بابت ایک صحیح نظریہ
متحمل مزاج رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود پر اور دوسروں پر موزوں طریقے سے غور کریں۔ بائبل کے مطالعے کے ذریعے ایسا کرنا ممکن ہے، کیونکہ یہ واضح کرتی ہے کہ ہر ایک نے ناکاملیتیں ورثے میں پائی ہیں اور اس لئے اُن میں عیب ہیں۔ مزیدبرآں، بائبل کا علم محبت میں ترقی کرنے کے لئے بھی آپ کی مدد کریگا۔ دوسروں کے لئے صبر کا مظاہرہ کرنے میں یہ خوبی بہت لازمی ہے۔—یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵؛ رومیوں ۵:۱۲؛ فلپیوں ۱:۹۔
جب آپ مضطرب ہوتے ہیں تو محبت اور معاف کرنے کا اشتیاق آپ کے غصے کو کم کر سکتا ہے۔ اگر کسی کی ایسی عادات ہیں جو آپ کو غصہ دلاتی ہیں تو محبت آپ کو یاد دلائے گی کہ وہ شخص نہیں بلکہ یہ عادات ہیں جو آپ کو ناگوار لگتی ہیں۔ ذرا سوچیں کہ کتنی بار آپ کی اپنی کمزوریاں ضرور خدا کے صبر کا امتحان لیتی ہیں اور لازماً دوسروں کو اشتعال دلاتی ہیں۔
اپنی ذات کی بابت ایک صحیح نظریہ صبر سے انتظار کرنے میں بھی آپ کی مدد کرے گا۔ مثال کے طور پر، کیا آپ مایوسکن انجام کے ساتھ یہوؔواہ کی خدمت میں استحقاقات حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتے رہے ہیں؟ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے؟ اگر ایسا ہے تو یاد رکھیں کہ زیادہتر بےصبری کی جڑ تکبّر ہوتا ہے۔ ”بردبار متکبر مزاج سے اچھا ہے،“ سلیماؔن نے کہا۔ (واعظ ۷:۸) جیہاں، صبر کو پیدا کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تکبّر ہے۔ کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ فروتن شخص خاموشی سے انتظار کرنے کو زیادہ آسان پاتا ہے؟ اس لئے، فروتنی کو پیدا کریں، یوں آپ ذہنی سکون کے ساتھ تاخیر کو قبول کرنے کے لئے زیادہ بہتر حالت میں ہونگے۔—امثال ۱۵:۳۳۔
صبر بکثرت اجر دیتا ہے
ابرؔہام اولین طور پر اپنے ایمان کی وجہ سے مشہور ہے۔ (رومیوں ۴:۱۱) تاہم، صبر نے اُس کے ایمان کو پایدار بنا دیا تھا۔ یہوؔواہ کا منتظر ہونے کے لئے اُسکا اجر کیا تھا؟
ابرؔہام کو یہوؔواہ کے بڑھتے ہوئے اعتماد سے نوازا گیا تھا۔ اسطرح ابرؔہام کا نام مشہور ہو گیا اور اُس کی اولاد ایک زبردست قوم بن گئی۔ زمین کی سب قومیں اُس کی نسل کے وسیلہ سے برکت پا سکتی ہیں۔ ابرؔہام نے خدا کے ترجمان اور خالق کے نمونے کے طور پر بھی کام کیا۔ کیا ابرؔہام کے ایمان اور صبر کے لئے اس سے بڑھکر کوئی اور اجر ہو سکتا تھا؟
ایسے مسیحیوں کے لئے ”یہوؔواہ محبت دکھانے میں بہت شفیق ہے“ جو صبر کے ساتھ آزمائشوں کی برداشت کرتے ہیں۔ (یعقوب ۵:۱۰، ۱۱، اینڈبلیو) ایسے اشخاص اُس کی مرضی کو بجا لانے کے باعث ایک صاف ضمیر سے لطف اُٹھاتے ہیں۔ تو پھر، آپ کے معاملے میں، اگر آپ یہوؔواہ کا انتظار کریں اور صبر کے ساتھ آزمائشوں کی برداشت کریں تو آپ کی برداشت یہوؔواہ کی پسندیدگی اور برکت پر منتج ہوگی۔
صبر زندگی کے ہر پہلو میں خدا کے لوگوں کے بہت کام آتا ہے۔ یہوؔواہ کے خادموں میں سے دو نے، جن کے نام کریسٹکُتوکُتا اور ایگنس تھے، اُسوقت یہ بات دریافت کی جب اُنہوں نے منگنی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُنہوں نے کریسٹکُتوکُتا کے والدین کے لئے احتراماً منگنی کو ملتوی کر دیا، جنکو ایگنس کو جاننے کے لئے وقت درکار تھا۔ اس معنیخیز طرزِعمل کا کیا اثر ہوا؟
”بعد میں ہمیں احساس ہوا کہ ہمارا صبر میرے والدین کے لئے کتنا اہم تھا،“ کریسٹکُتوکُتا وضاحت کرتا ہے۔ ”ہمارے صبر سے انتظار کرنے سے میری بیوی اور میرے درمیان رشتہ ختم نہ ہوا۔ بلکہ یہ میرے والدین کے ساتھ ہمارے تعلقات میں تعمیر کرنے والی پہلی اینٹ تھا۔“ جیہاں، صبر بکثرت فائدے دیتا ہے۔
صبر صلح کو بھی ترقی دیتا ہے۔ خاندان اور دوستواحباب خوش ہونگے کہ آپ اُن کی ہر چھوٹی سی غلطی کا پہاڑ نہیں بنا لیتے۔ جب دوسرے غلطیاں کرتے ہیں تو آپ کی خاموشی اور سمجھداری پریشانکن حالات سے بچائے گی۔ ایک چینیؔ کہاوت کہتی ہے: ”غصے کے وقت صبر آپ کو سو دنوں کی ذہنی کوفت سے بچائے گا۔“
دراصل آپ کی دیگر عمدہ خوبیوں کی اچھی حالت کو برقرار رکھنے میں آپ کی مدد کرنے سے صبر آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ یہ آپ کے ایمان کو مضبوط، آپ کی صلح کو دیرپا، اور آپ کی محبت کو غیرمتزلزل بناتا ہے۔ صابر ہونا شفقت، نیکی، اور حلم کو عمل میں لاتے ہوئے شادمان رہنے میں آپ کی مدد کریگا۔ صبر کا مظاہرہ کرنا تحمل اور ضبطِنفس کو فروغ دینے کے لئے درکار قوت کو بڑھاتا ہے۔
تو پھر، یہوؔواہ کے وعدوں کی تکمیل کا صبر سے انتظار کریں، اور آپ کو ایک شاندار مستقبل کی یقیندہانی کرائی جاتی ہے۔ ابرؔہام کی طرح، دعا ہے کہ آپ ”اِیمان اور تحمل کے باعث وعدوں کے وارث“ بنیں۔—عبرانیوں ۶:۱۲۔ (۲۱ ۵/۱۵ w۹۴)
[تصویر]
یہوؔواہ کے ساتھ ایک قریبی رشتہ صبر کا مظاہرہ کر نے میں آپکی مدد کریگا، جیسا کہ ابرؔہام نے کیا